Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Last Episode

Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Last Episode

ﮔﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ , ﻋﻤﯿﺮ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﮰﮐﮩﺎ .
.
ﻧﮧ ﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ , ﺟﻠﺪﯼ ﮔﯿﭧ ﮐﮭﻮﻟﻮ , ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮒ ﮔﮓ ﮔﻮﻟﯽ ﭼﻼ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ . ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺘﮯ ﮨﻮﮰﮐﮩﺎ
.
یہ کھیل نہیں ہے. گن دو نا, عمیر مسکراتے ہوۓ آگے بڑھ رہا تھا.
.
مم مم میں کہتی ہوں ک کک کہ گیٹ کھولو, ماہم نے بے بسی سے کہا. وہ مزید پیچھے ہوئ اور دیوار کے ساتھ لگ گئ.
.
عمیر مزید آگے آیا اور ماہم سے گن لے لی.
.
اب گن عمیر کے ہاتھ میں تھی. ماہم خوف سے تھر تھر کا نپنے لگی. اس نے سختی سے آنکھیں بند کر لیں.
.
عمیر اسے دیکھتا رہا.
.
آئندہ ایسا استقبال کرنا ہو تو بتا دینا. میں بھی تیاری کر کے آؤں گا. عمیر نے مسکراہٹ سجاۓ کہا.
.
بچی کے رونے کی آواز آئ
.
ووہ وہ رو رہی ہے. ماہم نے آنکھیں بند کیے ہی کہا.
.
کون¿ عمیر نے اسے تنگ کرنے کے لیے پوچھا.
.
ززز زویا, ماہم نے گھبراتے ہوۓکہا.
.
اوہ ویسے یہ ززز زویا کچھ زیادہ لمبا نام نہیں. آئ تھنک اگر تم اس کا نام زویا رکھتی تب بھی ٹھیک تھا. عمیر ابھی بھی مسکرا رہا تھا.
.
ماہم بھاگ کر بیڈ روم میں چلی گئی اور زویا کو چپ کروانے لگی.
_______…….______…..______…
عمیر روم میں آیا تو زویا اور ماہم سے بیڈ پر سو رہے تھے. عمیر آہستگی سے صوفے پر لیٹ گیا.
______……______,,,,,…….,………
صبح پانچ بجے ماہم کی آنکھ کھلی . اسے یاد تھا کہ اسے اب سارا دن کام کرنا ہے. اس نے جھاڑو اٹھائ اور لگانی شروع کر دی. ساتھ ساتھ آنسو بھی رواں تھے. ابھی وہ ایک کمرے میں جھاڑو لگا کر ہی نکلی تھی کہ وہاں عمیر آگیا.
.
اس نے جھٹکے سے ماہم سے جھاڑو چھینا اور دور پھینک دیا.
.
تم پاگل ہو, باہر کتنی سردی ہے اور تم ….. چلو جا کر سو جاؤ. عمیر نے غصے سے کہا.
.
ماہم عمیر کو دیکھتی رہی اور اندر چلی گئ.
,,,,,,,……..,,,,,,,,…….______……….
عمیر کا رویہ بہت بدل رہا تھا. وہ ماہم کو روز کھانا کھانے پر مجبور کرتا. گھر کے کاموں کے لیے میڈ آتی تھی. عمیر, زویا سے خوب کھیلتا. مگر ماہم اب بھی اس سے ڈرتی تھی. عمیر اب بھی دفتر جاتے ہوۓگیٹ لاک کر کے جاتا تھا. اور نہ ہی ماہم کو اس نے موبائل لے کر دیا تھا. وہ ماہم کو کھونے سے ڈرتا تھا.
……______…….______……_____
آج عمیر بہت خوش تھا. اس کا پروموشن ہوا تھا. گھر آتے ہی اس نے زویا کو اٹھایا اور ماہم اور زویا کو شاپنگ پر لے گیا.
.
ماہم اور زویا کی لیے خوب چیزیں خریدیں. وہ کار میں بیٹھے.
.
ماہم تم اور زویا کار میں بیٹھو, میں ذرا رات کا کھانا پیک کروا کر آتا ہوں. عمیر نے کہا. وہ شاید بھول گیا تھا کہ ماہم نے اب بھی اس پر اعتبار نہیں کیا تھا.
.
یہی موقع ماہم کو مناسب لگا. عمیر کے جاتے ہی وہ زویا کو لے کر کار سے نکل کر بھاگ گئ.
یہی موقع ماہم کو مناسب لگا. عمیر کے جاتے ہی وہ زویا کو لے کر کار سے نکل کر بھاگ گئ.
.
ماہم, ماہم, عمیر نے آوازیں دیں مگر وہ آس پاس کہیں نہیں تھی.
.
اب تم بھگتو گی ماہم اب تم بھگتو گی. عمیر نے غصے سے کہا.
.
عمیر بازار میں گیا. کچھ دور کافی لوگ جمع تھے. وہاں سے ماہم کے رونےکی آوازیں آ رہی تھیں.
.
پلیز مجھے بچا لیں. وہ مجھے مار دے گا.ماہم لوگوں سے درخواست کر رہی تھی.
.
بازار میں تماشا لگ چکا تھا.
.
عمیر کو شدید غصہ آیا مگر وہ جانتا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے
——-,,,,,,——/////——-____ ___
کچھ ہی دیر میں کچھ لوگ ماہم کو پولیس اسٹیشن لے آۓ.
.
سر مجھے اور میری بچی کو اس درندے سے بچا لیں. میں اس کی قید میں نہیں رہنا چاہتی. ماہم نے روتے روتے نظریں اٹھائیں تو شاکڈ رہ گئ. سامنے ایک کرسی پر عمیر بیٹھا تھا.
.
سر, یہی ہے وہ عورت جو میری بیٹی کو لے کر بھاگی ہے. عمیر چلایا.
.
نہیں سر. یہ میری بیٹی کو مار دے گا. ماہم چلائ.
.
میں بچی کا باپ ہوں, مجھے میری بیٹی چاہیے. عمیر بھی زور سے چلایا.
.
اوۓ کیا تماشا لگایا ہوا ہے تم لوگوں نے, انسپکٹر بولا.
.
اوۓ محسن, اس بچی کو لے جا کر چایلڈ پروٹکشن کے ادارے کے حوالے کرو. جب تک کورٹ کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک بچی سرکاری تحویل میں رہے گی. انسپکٹر نے فیصلہ سنایا.
.
نہ نہ نہیں, میری بیٹی کسی کو نہیں دوں گی. یہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی. ماہم چیخی.
.
او بی بی یہ فیصلے جذبات کے مطابق نہیں ہوتے. او لے کر جاؤ بچی کو. انسپکٹر نے اہلکار کو اشارہ کیا.
.
زویا کو ماہم کی گود سے لے لیا گیا تو زویا نے رونا شروع کر دیا.
.
نہیں نہیں میری بیٹی کو دے دو پلیز. ماہم چلائ م
.
او بی بی باہر جا کر ہنگامہ کرو. تماشا مت لگاؤ یہاں. انسپکٹر نے ڈپٹ کر کہا.
.
عمیر عمیر وہ میری بیٹی کو لے گئے, عمیر پلیز کچھ کرو نا عمیر پلیز, ماہم نے عمیر کو گریبان سے پکڑ ا اور چیخی
.
عمیر نے ایک جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑوایا اور باہر نکل گیا.
_____………_______……_____.
عمیر بھائ, ماہم کی طرف سے ہم معافی مانگ رہے ہیں. پلیز آپ دونوں صلح کر لیں. فوزیہ نے عمیر کو سمجھانے کی کوشش کی.
.
فوزیہ, ہادی اور ماہم, عمیر کے گھر آۓ تھے مگر اب عمیر کی ضد تھی کہ اسے بھی ماہم کے ساتھ نہیں رہنا.
.
ماہم کب سے زویا کا سوچ سوچ کر نڈھال ہو رہی تھی.
.
عمیر پلیز زویا بہت چھوٹی ہے. وہ رو رہی ہو گی نا, وہ نہیں رہتی میرے بغیر, ماہم گڑگڑائ. آئ ایم سوری پلیز اسے واپس لا دیں.
.
سوری مس ماہم, اب جو بھی بات ہوگی. وکیل کے تھرو ہو گی. عمیر کہتے ہی اٹھ کھڑا ہوا.
.
عمیر, میری بات سن, ہادی نے کہا.
.
اب بات کے لیے کچھ نہیں بچا ہادی, مجھے وکیل سے ملنے جانا ہے. سو پلیز. … عمیر اب ضد پر اڑا تھا.
عمیر کمرے سے باہر جانے لگا تو ماہم اس کے پیچھے دوڑی. اسے شرٹ سے پکڑ کر کھینچ کر جھٹکا دیا.
.
میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑو ں گی. ماہم نے عمیر پر تھپڑوں کی بارش کر دی.
.
ہادی نے ماہم کو روکنے کی کوشش کی مگر عمیر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا.
.
ماہم پاگلوں کی طرح عمیر کو مار رہی تھی. عمیر چپ چاپ اس کے سامنے کھڑا تھا. ماہم کا سارا خوف ختم ہو گیا تھا.
.
تم ظالم ہو¿ ظالم, نفرت کے قابل بھی نہیں ہو تم. ماہم چیخی
.
کیا کیا سمجھتے ہو تم خود کو کیا¿
ماہم چلائ.
.
مجھے میری بیٹی چاہیے, سنا تم نے. ماہم نے عمیر کو دھکا دیتے ہوۓکہا.
.
وہ اب منہ چھپا کر رونے لگی.
.
بس ماہم ہو گیا ¿ یا ابھی اور مارنا ہے مجھے¿ عمیر کی آواز پر ماہم نے نظریں اٹھا کر عمیر کو دیکھا.
.
ہوئ نا تکلیف¿ ہوا نا درد¿ ابھی زویا کو دور گۓ صرف چار گھنٹے ہوۓ ہیں اور تم پاگل ہو گئ . میرا سوچو, میں اپنے ذہن سے کیسے وہ دس سال نکال دیتا جو سب میں نے اپنی ماں کے ساتھ ہوتا ہوا دیکھا. عمیر کپکپاتی آواز میں بولا.
.
ماہم چپ چاپ اسے دیکھے گئ.
.
پتا ہے زویا, یہ ماں اور اولاد کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے. جب جب کسی کی ماں یا اولاد کو چوٹ پہنچے نا تو انسان پاگل ہو جاتا ہے. عمیر کی آنکھ سے آنسو گرا.
.
ہماری زندگی کی کہانیاں سننے والے کہانی کا ایک رخ دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ فلاں شخص ظالم ہے. جانتی ہو کیوں¿ کیونکہ انہوں نے اس ظالم شخص کی زندگی کا وہ دور نہیں سنا ہوتا جب وہ ظلم کا شکار رہا. عمیر بول رہاتھا.
.
میں مانتا ہوں کہ میں نے غلط کیا. مجھے معافی بھی مانگنی چاہیے تھی. مگر تم یقین کرو میں اس حد تک شرمندہ تھا کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ معافی کہاں سے مانگوں کس کس بات کی کس کس ظلم کی معافی مانگوں. عمیر کی آنکھیں آنسوؤں میں ڈوبی ہوئ تھیں.
.
پلیز مجھے معاف کر دو. کرو گی نا¿
عمیر نے ہاتھ جوڑتے ہوۓکہا.
.
,,,,,,…..______…..________……..
پانچ سال بعد
.
دیکھو نا بابا, آیان نے مجھے مارا. پانچ سالہ زویا نے اپنے چار سالہ بھائ کی شکایت لگاتے ہوۓ کہا.
.
بابا , میں نے کچھ بھی نہیں کہا. یہ ہر بات پر رو کیوں پڑتی ہے¿ آیان نے معصومیت سے کہا
.
بیٹا زویا آپ کی ماما پر گئ ہے نا اس لیے. عمیر نے ماہم کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا.
.
ماہم مسکرا دی.
.
.
یہ مسکراہٹیں ان کے گھر میں اب ہر سو تھیں.
…….
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *