Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Episode01

Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Episode01

شادی کی پہلی رات تھی. ماہم حسین خواب آنکھوں میں سجاۓ عمیر کی منتظر تھی.
کمرے کا دروازہ کھلا. عمیر اندر داخل ہوا. بیڈ کے پاس آیا. ایک جھٹکے سے ماہم کا گھونگٹ ا ٹھایا.
چٹاخ, ایک زورردار تھپڑ ماہم کے چہرے پر رسید کیا گیا. مارنے والا کوئ اور نہیں. اس کا یونیورسٹی کلاس فیلو عمیر تھا جس سے اس نے اپنی اور اپنے گھر والوں کی مرضی سے پسند کی شادی کی تھی.
ماہم پھٹی پھٹی نظروں سے عمیر کی طرف دیکھ رہی تھی.
عمیر , تتم تم یہ کیا ………, ماہم اب تک شاکڈ تھی.
آں آں صرف عمیر نہیں, عمیر آفندی. تمہارے ماموں کا بیٹا. یاد آیا کچھ¿¿¿ اوہ تمہیں کیسے یاد ہو گا. تم تو اس وقت ایک سال کی تھی مگر میں اس وقت پانچ سال کا تھا. یاد ہے مجھے کہ کس طرح ابو کے ہارٹ اٹیک سے انتقال کے بعد تمہارا ماں یعنی میری سو کالڈ پھپھو نے میری اور میری ماں کی زندگی اجیرن کی. سب یاد ہے مجھے, عمیر نے میز سے گلدان اٹھا کر زمین پر مارا, وہ کرچی کرچی ہو گیا.
ماہم سہم کر رہ گئی. عمیر چلتا ہوا ماہم کے پاس آیا. اس کے بال اپنی مٹھی میں جکڑ لیے.
آآہ, ماہم درد سے کر اہی.
اب دیکھنا, کس طرح میں تمہاری زندگی جہنم بناؤں گا. اپنی ماں پر کیے گئے ایک ایک ظلم کا حساب تم سے لوں گا. تمہاری ماں اسی طرح تڑپے گی, اسی طرح سسکے گی جس طرح میری ماں کو اس عورت نے تڑپایا تھا. عمیر غصے سے چیخا. اس نے ماہم کو ایک اور زوردار تھپڑ رسید کیا اور باہر نکل گیا.
—-_____——_____—-______
کمال ہے عمیر, آج تیری شادی ہوئ ہے اور تو بے مجھے ہوٹل میں کافی پینے بلوا لیا. ہادی (جو عمیر کا بہترین دوست تھا ) نے کہا.
شادی نہیں, ماہم کی بربادی کا آغاز ہوا ہے. عمیر نے غصے سے کہا
جا نتا ہے ہادی, اپنی زندگی کے دس سال میں نے ایسے گھر میں گزارے جہاں میں روز اپنی ماں کو اپنی پھپھو کے ہاتھوں ذلیل ہوتے, آنسو بہاتے دیکھتا, جانتا ہے میری ماں کا قصور کیا تھا, میرے باپ سے پسند کی شادی. دادی جب تک زندہ رہیں, میری ماں کو انہوں نے کبھی بہو تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ ان کے سٹینڈرڈ کی نہیں تھیں. دادی کی وفات کے بعد میری بیوہ پھپھو اپنی ایک سالہ بیٹی کو اٹھاۓ ہمارے گھر آ گئیں. ہمارا سکون برباد ہو کر رہ گیا. میرے باپ کو میری ماں سے اس حد تک بدگمان کیا گیا کہ وہ میری ماں کی شکل دیکھنے کو تیار نہ تھا. باپ کے انتقال کے بعد پھپھو نے دھوکے سے گھر اپنے نام کروا لیا. میری ماں کو ذلیل کر کے اس گھر سے نکالا گیا. میری ماں کو ……. عمیر سے مزید بولا نہ گیا. وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.
—-;—____________________
ماہم نے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی. مگر دروازہ باہر سے لاک تھا. کمرے سے فرار کا کوئ راستہ نہیں تھا. اس نے اپنے پرس میں موبائل ڈھونڈا مگر شاید عمیر جاتے ہوۓ اس کا موبائل بھی ساتھ لے گیا تھا.
کوئ ہے¿ پلیز دروازہ کھولو, پلیز ہیلپ می, ماہم نے دروازہ پیٹتے ہوۓ کہا.
رات کے ایک بجے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئ. ماہم فیصلہ کر چکی تھی کہ اسے یہاں نہیں رہنا. دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی ماہم نے تیزی سے کمرے سے بھاگنے کی کوشش کی. مگر آنے والا عمیر تھا. ماہم کی ہر ہر کوشش کو ناکام بنانے والا.
ماہم جیسے ہی باہر کو بھاگی, عمیر نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اس کو اندر کی طرف کھینچا اور فرش پر دھکا دیا.
بہت شوق ہے نا تجھے بھاگنے کا. اب دیکھ. کیسے بھگاتا ہوں تجھے, عمیر نے غصے سے کہا
ماہم نے فرش پر جھکے ہی پیچھے دیکھا تو اس کی جان نکل گئی.
عمیر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی.
نہیں عمیر پلیز میں نے کچھ نہیں ..
اس سے پہلے کہ ماہم کچھ بولتی, عمیر نے ہاتھ کو اوپر کر کے زوردار طریقے سے بیلٹ ماہم کی کمر میں دے ماری.
ماہم کی فلک شگاف چیخیں پورے گھر میں گونجیں.
نہ نہ میری جان, نہ نہ , چیخنا مت. عمیر, ماہم پر جھکتا ہوا بولا, جانتی ہو میری ماں نے بہت کچھ برداشت کیا, بہت کچھ, اب تمہاری باری
ماہم کی درد کے مارے جان نکل رہی تھی. اس کی سسکیاں ابھی تک جاری تھیں. کمر پر زخم کی ایک لائن بن چکی تھی. اس زخم میں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا.
کیا ہوا جانم, بہت درد ہو رہا ہے¿ عمیر ماہم کی کمر کے زخم پر ہاتھ رکھتا ہو بولا .
آہ آہ, افف , پپ پلیز ع عم عمیر , ماہم درد سی سسکتے ہوۓبولی.
ارے بے بی, یہ تو شادی کی پہلی رات کا تحفہ ہے. یاد رہے گا تمہیں. اگر آئندہ بھاگنے کا موڈ بنا تو بتانا, یہ زخم گہرا کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مجھے. عمیر ماہم کی کمر کے زخم کو دباتا ہوا بولا.
ماہم اپنی سسکیاں دبانے لگی.
اوہ نو بے بی, یاد آیا, میں نے سنا ہے کہ بڑے لوگوں کو بڑے بڑے کمروں میں اکیلے رہنے کی عادت ہوتی ہے. آؤ تمہیں تمہارا کمرا دکھاؤں. یہ کہتے ہی عمیر ماہم کو گھسیٹتا ہوا سٹور روم تک لے گیا. ماہم کمر پر شدید چوٹ کے باعث کھڑی بھی نہ ہو پائ اور عمیر کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ.
سٹور روم لاک تھا, عمیر نے اطمینان سے دروازہ کھولا اور ماہم کو اندر دھکا دیا. گڈ نائٹ بے بی, پانی کا گلاس وہاں کونے میں رکھا ہے. کھانا کب, کتنا اور کیا دینا ہے, وہ میں کل فیصلہ کروں گا. ابھی ٹیک کئیر. آئ ہوپ انجواۓ کرو گی تم یہاں.
نن نہیں عمیر, مم میری بات ……. ماہم چلائ مگر عمیر دروازہ لاک کر کے جا چکا تھا.
صبح کے پانچ بج چکے تھے. ماہم ساری رات سٹور روم میں زمین پر ایک کونے میں بیٹھی سردی سے ٹھٹھرتی اور روتی رہی. سٹور روم میں سارا کاٹھ کباڑ اور فالتو سامان پڑا تھا.
بھوک بھی زوروں کی لگ رہی تھی. مگر پانی کے ایک گلاس کے علاوہ کچھ نہیں کھا پی سکی تھی وہ.
کمر میں لگی چوٹ کا درد سردی کی وجہ سے بڑھ رہا تھا.
صبح کے چھ بجے عمیر نے لات مار کر دروازہ کھولا. ماہم ایک کونے میں بیٹھی سردی سے کانپ رہی تھی.
گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ. کیسی گزری رات.¿ عمیر نے سفاکیت سے مسکراتے ہوۓکہا
وہ میں کچھ _…….. ماہم کچھ کہنا چاہتی تھی مگر عمیر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی.
شش شششش, چپ, ایک دم چپ , میری ماں تو نوکروں کی طرح تم لوگوں کے کام کرتی تھی. وہ تو کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہ لائ. پھر تم کیوں, …… تم کیوں بکواس کر رہی ہو. عمیر نے ماہم کے بال پکڑ کر سر کو ایک جھٹکا دیا.
اوہ یاد آیا, تم میری بیوی ہو. تو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ ایک بیوی کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں. آؤ تمہیں تمہاری ذمہ داریاں بتاؤں. عمیر اسے کھینچ کر باہر لے گیا.
یہ ایک پانچ مرلہ مکان تھا. دو کمرے, کچن, باتھ اور سٹور روم اور ایک چھوٹا سا برآمدہ.
عمیر نے اسے گھر دکھا کر کہا, دیکھو, سویٹ ہارٹ, گھر کتنا گندا پڑا ہے. اسے صاف کون کرے گا¿ وہ رہی جھاڑو اور وہ رہا پونچھا, ایک گھنٹے میں صفائ چاہیے مجھے. میری ماں تمہارے عالی شان محل کو دو گھنٹے میں صاف کرتی تھی. یہ چھوٹا سا گھر چمکانے کا ٹائم صرف ایک گھنٹا ہے. ایک منٹ بھی اوپر ہوا تو …… عمیر اپنی بیلٹ پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا.
ماہم کانپ کر رہ گئی. ماہم نے صفائ کرنا شروع کر دی. وہ جان چکی تھی کہ اس پاگل شخص کی بات نہ ماننا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے.
—–_______——-__________—-
صبح کےنو بج رہے تھے. عمیر کے موبائل پر ماہم کی امی کی کال آ رہی تھی.
اوہو, ساسو ماں کا فون ہے. عمیر نےمسکراتے ہوۓ ماہم دیکھ کر کہا. ماہم کے سامنے اس نے اپنی الماری کے سب کپڑے لا کر رکھ دیے تھے کہ یہ سب آج ہی پریس کر کے ہینگ کرے. بھوک, درد, ذلت کے احساس کے باعث اس کا برا حال تھا. اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے. جو عمیر کو دلی سکون دے رہے تھے. وہ یہی چاہتا تھا کی ماہم پل پل اذیت کا شکار رہے.
ہیلو آنٹی , عمیر نے فون کان سے لگاکر کہا.
کیسے ہو عمیر بیٹا¿ ماہم کی ماں نے پوچھا.
میں بہت خوش ہوں. آپ نے اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا. آپ کا احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا. عمیر نے ایک ایک لفظ چباتے ہوۓکہا.
ارے بیٹا, بس میری تو یہ دعا ہے کہ تم دونوں خوش رہو. ماہم کہاں ہے. اس کا نمبر بھی بند ہے. ماہم کی امی نے پوچھا
جی جی آنٹی, دراصل ماہم ابھی تک سو رہی ہے. میں اپنی بیوی کی نیند خراب کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا. اٹھتی ہے تو بات کرواؤں گا. عمیر نے کہا.
بیٹا وہ ناشتے کی رسم کا پوچھنا تھا. تم لوگ یہاں آکر ناشتہ کرو گے یا ہم ناشتہ وہاں لے کر آئیں? ماہم کی امی نے پوچھا.
ارے آنٹی, ماہم نے مجھے رات ہی کہا تھا کہ صبح ہم ناشتہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں کریں گے سو آج ماہم اور آپ لوگ شام کو ولیمے کے ٹائم ہی مل سکیں گے. عمیر نے چالاکی سے کہا.
چلو بیٹا, ٹھیک ہے. جیسے تم لوگ خوش. شام کو ملتے ہیں. آنٹی نے خوشی سے کہا اور فون رکھ دیا.
ماہم کے رونے میں مزید تیزی آ گئی تھی. اسے شام کا انتظار تھا جب وہ سب کچھ اپنی ماں کو بتا کر یہ رشتہ ختم کرے گی.
نہ نہ سویٹ ہارٹ, رونا نہیں, یو نو تمہارا رونا مجھے میری ماں کے آنسوؤں کی یاد دلاتا ہے. سو تم مت رویا کرو ورنہ جب جب مجھے میری ماں کے آنسو یاد آتے ہیں تب تب دل کرتا ہے کہ تمہیں جان سے مار دوں. عمیر غصے سے چلایا.
ابھی تو تمہیں سہنا ہے, بہت کچھ, اتنی آسانی سے مرنے نہیں دوں گا تمہیں. سمجھی تم. عمیر , ماہم کو بالوں سے کھینچتا ہوا سٹورروم میں بند کر چکا تھا.
______…….______…….._______
پھر تو نے اب کیا سوچا ہے¿ ہادی نے عمیر سے پوچھا
سوچنا کیا ہے¿ عمیر نے کہا
شام کو تیرا ولیمہ ہے, اگر بھابھی نے اپنے گھر والوں کو بتا دیا …….. ہادی نے پوچھا
تو نے مجھے اتنا بے وقوف سمجھا ہے کیا کہ وہ سب کچھ بتا دے گی اور میں چپ چاپ دیکھوں گا. ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے عمیر آفندی, عمیر نے سوچ کر کہا.
عمیر یار, تجھے نہیں لگتا, تو غلط کر رہا ہے بھابھی کے ساتھ, دیکھ تو اگر …….. ہادی عمیر کو سمجھایا
ہادی, اگر تو چاہتا ہے کہ ہماری دوستی قائم رہے تو آئندہ کم سے کم اس معاملے پر سمجھانے کی کوشش مت کرنا مجھے. چل ناشتہ کر. عمیر نے کہا اور خود بھی ناشتہ کرنے لگا.
صبح کے گیارہ بجے سٹور روم کا دروازہ کھلا. عمیر اندر آیا. ماہم اس کو دیکھ کر ڈر گئ. اس کے ہاتھ میں لوہے کا پائپ تھا. ماہم کی جان نکلنے لگی.
عم عم عمیر میں سچ میں آج نہیں بھاگی. میں کہیں نہیں جاؤں گی. پلیز مجھے مت مارو, پلیز عمیر جو تم کہو گے وہ کروں گی. پل پلیز عمیر, ماہم خوف سے کانپ رہی تھی.
نہنہ سویٹ ہارٹ, کل مجھے بالکل مزہ نہیں آیا. تمہاری کوئ ہڈی ٹوٹے تو دل کو چین آۓ. ویسے بھی آج ہمارا ولیمہ ہے. تم جاؤ گی تو سب کو بتاؤ گی کہ شادی کی پہلی رات تمہیں کیا تحفہ ملا. سوچو اگر ہڈی ٹوٹے تو تم کیسے ولیمے میں شامل ہو سکو گی¿¿ سو بتاؤ¿ کونسی ہڈی توڑوں, بازو کی یا ٹانگوں کی, عمیر ماہم کے کندھوں پر پائپ رکھتا ہوا بولا.
نہیں نہیں پلیز عمیر نہیں. مم مم میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی. سچ میں میں کچھ نہیں کہوں گی. ماہم ہچکیوں سے رونے لگی.
آں آں یہ میرے سوال کا جواب نہیں. میں نے پوچھا کون سی ہڈی توڑوں. عمیر نے زوردار لہجے میں کہا.
نہیں عمیر پلیز پلیز بلیومی. میں کچھ نہیں کہوں گی. ماہم, عمیر کے پاؤں پکڑ کر رونے گی.
اوکے , ایک چانس دیا تمہیں, مگر یاد رکھنا کوئ چالاکی کی تو ایک ایک ہڈی چن کے توڑوں گا. ایک ایک, عمیر پائپ کو ماہم کے ہاتھ پر رکھتا ہوا بولا.
———________——_______—–
ولیمے کا فنکشن سکون سے گزرا. ماہم نے کسی کو کچھ نہیں بتایا. وہ بری طرح ڈر گئ تھی. ولیمے کا کھانا ماہم نے ڈٹ کر کھایا. کل سے بھوکی تھی اور اس بےرحم انسان کا کچھ بھروسا نہیں تھا, شاید بھوکا ہی مار دے.
——–_______——-______———
دن گزرتے گۓ. ماہم کے دن کام میں گزرتے اور رات سٹور روم میں, عمیر ماہم سے سارا دن کام لیتا رہتا. ذرا سی کوتاہی پر اس پر تھپڑوں کی بارش کر دیتا. سارا دن میں صرف ایک روٹی ملتی جس پر تھوڑی سی چٹنی رکھی ہوتی . پانی کا گلاس صرف رات کو ملتا. ماہم کسی قیدی سے بھی بد تر زندگی گزار رہی تھی.
————_______———-_______
شادی کو پندرہ دن گزر گۓ تھے. ماہم سارا کام ختم کر کے خود ہی سٹور روم جانے لگی. رات کے گیارہ بجے عمیر غصے سے سٹور روم میں داخل ہوا اور ماہم کو کھینچتا ہوا بیڈ روم میں لے گیا. اس نے زبردستی اپنے شوہر ہونے کا حق وصولا اور ماہم کو دوبارہ سٹور روم میں بند کر دیا. پھر تقر یبا روز یہ ہونے لگا. عمیر ماہم سے اپنا حق وصولتا اور سٹور روم میں بند کر دیتا.
_______……______………____
ایک دن ماہم کے بے ہوش ہونے پر ماہم کو ہسپتال لے کر آیا تو پتا چلا ماہم پریگنینٹ ہے.
چلو مبارک ہو. میرا مقصد پورا ہوا. بچے کی پیدائش کے فورا بعد تمہیں دھکے مار کر گھر سے نکالوں گا. جس طرح مجھے اور میری ماں کو نکالا گیا. تمہاری خوراک آج سے دو روٹیاں کر ریا ہوں. یاد رکھنا میرا احسان. عمیر سفاکیت سے مسکرایا.
—-;-_____——______—–_____-
ماہم کو کراچی میں ہسپتال میں ایڈمٹ کر لیا گیا. آج اس کی ڈلیوری تھی. عمیر کی ماں لاہور کے ہسپتال میں ایڈمٹ تھی. لاہور سے فون آیا کہ عمیر کی ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں.
ہیلو ہادی, عمیر نے ہادی کو فون ملایا..
ہاں عمیر بول. ہادی بولا.
امی کی طبعیت بہت خراب ہے. تم اور فوزیہ بھابھی ماہم کے پاس آ جاؤ. میں لاہور جا رہا ہوں.
——,_____——-______+-______
امی کی طبعیت کافی خراب تھی. عمیر بہت پریشان تھا. دعائیں رنگ لائیں اور عمیر کی والدہ بہتر ہونے لگیں.
_____……_____……___….____..
امی, عمیر نے اپنی ماں کو ہولے سے پکارا.
امی نے عمیر کا ماتھا پیار سے چوما.
امی آج آپ کو ایک خوشخبری سناؤں¿ عمیر بہت خوش تھا. وہ ماں کو بتانا چاہتا تھا کہ اس نے اپنے دشمنوں سے بدلا لے لیا ہے.
ہاں ہاں بیٹا سناؤ. امی نے مسکراتے ہوۓکہا
امی آپ کو ماہم یاد ہے¿¿ عمیر نے جوش سے پوچھا
ہاں بیٹا بالکل یاد ہے, وہ بیچاری بن ماں باپ کی بچی. تمہاری پھپھو نے یتیم خانے سے لیا تھا اسے مگر اس بیچاری کے ساتھ بہت ظلم کیا گیا. تمہاری پھپھو جلاد جیسا سلوک کرتی تھیں اس کے ساتھ. میری بہت خواہش تھی کہ اس بچی کو اپنے گھر لے آؤں مگر تمہاری پھپھو . بس چھوڑو پرانی باتوں میں کیا رکھا ہے.
عمیر کے چہرے کے تاثرات بدلے.
کک ککک کیا, ماہم پھپھو کی سگی بیٹی نہیں ¿ آآ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا¿¿
بیٹا تم اس وقت چھوٹے تھے. جب بڑے ہوۓ تب کبھی ماہم کا ذکر ہی نہیں ہوا.
اوہ نو, یہ میں نے کیا کر دیا. اس لڑکی کے ساتھ, عمیر بڑبڑایا.
عمیر کی ماں کی طبعیت بہتر ہوئ تو وہ کراچی جانے کی تیاری کر نے لگا.
ہیلوہادی. عمیر نے ہادی کو فون کیا.
عمیر یار, ماہم بھابھی کی بیٹی ہوئ ہے. ہادی نے کہا
.
کیا مطلب ماہم کی بیٹی, وہ میری بھی بیٹی ہے. عمیر نے غصے سے کہا.
تو نے ہی تو کہا تھا کہ تو ماہم بھابھی اور ان کی اولاد کو دھکے. ……. ہادی نے عمیر کو یاد دلانا چاہا.
او سٹاپ اٹ یار, ماہم کیسی ہے¿ عمیر نے بے چینی سے کہا.
ماہم بھابھی کو میں اور فوزیہ اپنے گھر لے آۓ ہیں. ایک بات مانے گا¿ ہادی نے درخواست کی.
پلیز یار کچھ دن کے لیے بھابھی اور ان کی بیٹی کو سکون سے رہنے دے. تو بعد میں سارے بدلے لے لینا. ابھی تو ان دونوں کو سکون سے ہمارے گھر رہنے دے. بھابھی بہت ڈری سہمی ہوئ ہیں. تجھے بھابھی کو دھکے مارنے ہیں نا تو میں بھابھی اور ان کی بیٹی کو دارالامان ….
ہادی نے کہا
جسٹ شٹ اپ یار, مجھے پتا ہے کہ کیا کرنا ہے مجھے. آ کر بات کرتا ہوں. عمیر نے غصے سے فون رکھا.
___——____’_——____—-____–
پلیز ہادی بھائ مجھے یہاں سے جانے دیں. میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے آگے. میں اس گھر میں نہیں جانا چاہتی. میں مر جاؤں گی وہاں. ماہم کا رو رو کر برا حال تھا.
ماہم میں سمجھاؤں گا عمیر کو, اس نے سختی سے منع کیا ہے کہ تمہیں کہیں نہ جانے دوں, میں مجبور ہوں. ہادی کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے.
———-______——–____——–_
عمیر ہادی کے گھر پہنچا.
ہادی میں تجھ سے بعد میں ملوں گا, پہلے مجھے میری بیٹی سے ملنا ہے.
عمیر دیکھ, ماہم بھابھی کی سزا اب ختم کر دے یار, بھابھی بہت پریشان ہیں. ہادی بولا.
اور میں اس سے زیادہ پریشان ہوں. یہ کہتے ہی عمیر نے ہادی کو ساری داستان سنائ. اب مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ پھپھو نے ولیمے کی بعد ایک دن بھی ماہم کی خبر کیوں نہ لی. وہ تو خوش ہوں گی کہ ماہم سے جان چھوٹی. میں بہت شرمندہ ہوں ماہم سے. میں کیا کروں, عمیر کی آواز بھرا گئ.
تو نے واقعی بہت برا کیا ہے بھابھی کے ساتھ, اب کیا کرے گا تو¿ ہادی نے پریشانی سے پوچھا.
میں خود نہیں جانتا. عمیر کے آنسو رواں تھے.
بھابھی اور گڑیا اس کمرے میں ہیں. ہادی نے کمرے کی طرف اشارہ کیا.
.
عمیر کمرے میں داخل ہوا. وہ ماہم کو دیکھنا چاہتا تھا. اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ گڑیا کا نام کیا ہے. وہ اپنی بیٹی کو جی بھر کر پیار کرنا چاہتا تھا.
اندر کمرے میں کوئ نہیں تھا. .. ماہم بچی کو لے کر جا چکی تھی.
ماہم, ماہم, عمیر نے آواز دی.
ماہم , کہاں ہو تم ¿ ماہم, عمیر دیوانہ وار چلایا.
یہ کیا مذاق ہے¿ کہاں چھپایا ہے تو نے میری بیوی اور بچی کو¿ بول. عمیر نے ہادی کو گریبان سے پکڑ لیا.
عمیر تو پاگل ہے کیا¿ میں سچ میں نہیں جانتا کہ وہ دونوں کہاں ہیں ¿ ہادی نے گریبان چھڑواتے ہوۓکہا.
بھابھی بہت ڈری ہوئیں تھیں کہ تم کہیں بچی کو کوئ نقصان نہ پہنچا دو. انہوں نے ہسپتال سے بھی بچی کو لے کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی مگرکامیاب نہ ہو سکیں. ہادی بولا
عمیر کا سر چکرانے لگا.
چلو آؤ, بھابھی کو ڈھونڈیں. آئ ہوپ, زیادہ دور نہیں گئ ہوں گی وہ.
ہادی کار کی کیز اٹھاتا ہوا بولا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *