Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin NovelR50792
Last updated: 17 July 2026
Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin
ماہم نے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی. مگر دروازہ باہر سے لاک تھا. کمرے سے فرار کا کوئ راستہ نہیں تھا. اس نے اپنے پرس میں موبائل ڈھونڈا مگر شاید عمیر جاتے ہوۓ اس کا موبائل بھی ساتھ لے گیا تھا.
کوئ ہے¿ پلیز دروازہ کھولو, پلیز ہیلپ می, ماہم نے دروازہ پیٹتے ہوۓ کہا.
رات کے ایک بجے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئ. ماہم فیصلہ کر چکی تھی کہ اسے یہاں نہیں رہنا. دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی ماہم نے تیزی سے کمرے سے بھاگنے کی کوشش کی. مگر آنے والا عمیر تھا. ماہم کی ہر ہر کوشش کو ناکام بنانے والا.
ماہم جیسے ہی باہر کو بھاگی, عمیر نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اس کو اندر کی طرف کھینچا اور فرش پر دھکا دیا.
بہت شوق ہے نا تجھے بھاگنے کا. اب دیکھ. کیسے بھگاتا ہوں تجھے, عمیر نے غصے سے کہا
ماہم نے فرش پر جھکے ہی پیچھے دیکھا تو اس کی جان نکل گئی.
عمیر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی.
نہیں عمیر پلیز میں نے کچھ نہیں ..
اس سے پہلے کہ ماہم کچھ بولتی, عمیر نے ہاتھ کو اوپر کر کے زوردار طریقے سے بیلٹ ماہم کی کمر میں دے ماری.
ماہم کی فلک شگاف چیخیں پورے گھر میں گونجیں.
نہ نہ میری جان, نہ نہ , چیخنا مت. عمیر, ماہم پر جھکتا ہوا بولا, جانتی ہو میری ماں نے بہت کچھ برداشت کیا, بہت کچھ, اب تمہاری باری
ماہم کی درد کے مارے جان نکل رہی تھی. اس کی سسکیاں ابھی تک جاری تھیں. کمر پر زخم کی ایک لائن بن چکی تھی. اس زخم میں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا.
کیا ہوا جانم, بہت درد ہو رہا ہے¿ عمیر ماہم کی کمر کے زخم پر ہاتھ رکھتا ہو بولا .
آہ آہ, افف , پپ پلیز ع عم عمیر , ماہم درد سی سسکتے ہوۓبولی.
ارے بے بی, یہ تو شادی کی پہلی رات کا تحفہ ہے. یاد رہے گا تمہیں. اگر آئندہ بھاگنے کا موڈ بنا تو بتانا, یہ زخم گہرا کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مجھے. عمیر ماہم کی کمر کے زخم کو دباتا ہوا بولا.
ماہم اپنی سسکیاں دبانے لگی.
اوہ نو بے بی, یاد آیا, میں نے سنا ہے کہ بڑے لوگوں کو بڑے بڑے کمروں میں اکیلے رہنے کی عادت ہوتی ہے. آؤ تمہیں تمہارا کمرا دکھاؤں. یہ کہتے ہی عمیر ماہم کو گھسیٹتا ہوا سٹور روم تک لے گیا. ماہم کمر پر شدید چوٹ کے باعث کھڑی بھی نہ ہو پائ اور عمیر کے ساتھ گھسیٹتی چلی گئ.
سٹور روم لاک تھا, عمیر نے اطمینان سے دروازہ کھولا اور ماہم کو اندر دھکا دیا. گڈ نائٹ بے بی, پانی کا گلاس وہاں کونے میں رکھا ہے. کھانا کب, کتنا اور کیا دینا ہے, وہ میں کل فیصلہ کروں گا. ابھی ٹیک کئیر. آئ ہوپ انجواۓ کرو گی تم یہاں.
نن نہیں عمیر, مم میری بات ....... ماہم چلائ مگر عمیر دروازہ لاک کر کے جا چکا تھا.
صبح کے پانچ بج چکے تھے. ماہم ساری رات سٹور روم میں زمین پر ایک کونے میں بیٹھی سردی سے ٹھٹھرتی اور روتی رہی. سٹور روم میں سارا کاٹھ کباڑ اور فالتو سامان پڑا تھا.
بھوک بھی زوروں کی لگ رہی تھی. مگر پانی کے ایک گلاس کے علاوہ کچھ نہیں کھا پی سکی تھی وہ.
کمر میں لگی چوٹ کا درد سردی کی وجہ سے بڑھ رہا تھا.
صبح کے چھ بجے عمیر نے لات مار کر دروازہ کھولا. ماہم ایک کونے میں بیٹھی سردی سے کانپ رہی تھی.
گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ. کیسی گزری رات.¿ عمیر نے سفاکیت سے مسکراتے ہوۓکہا
وہ میں کچھ _........ ماہم کچھ کہنا چاہتی تھی مگر عمیر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی.
شش شششش, چپ, ایک دم چپ , میری ماں تو نوکروں کی طرح تم لوگوں کے کام کرتی تھی. وہ تو کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہ لائ. پھر تم کیوں, ...... تم کیوں بکواس کر رہی ہو. عمیر نے ماہم کے بال پکڑ کر سر کو ایک جھٹکا دیا.
