Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin NovelR50792 Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Episode02
Rate this Novel
Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Episode02
Hai Ab Iqrar Ka Mosam by Hamna Mohsin Episode02
ہادی تم اپنے کار میں اس طرف جاؤ. میں اس طرف اپنی بائیک پر جاکر ماہم کو ڈھونڈتا ہوں. عمیر نے پریشانی سے کہا.
.
ارے ارے رکو ہادی, مجھے بھی ساتھ جانا ہے. فوزیہ بھی کار میں بیٹھ گئ.
عمیر اور ہادی دونوں اپنے اپنے طور پر ماہم کو ڈھونڈنے لگے.
…….,, ,,,…._______….____ ..
ماہم بچی کو اٹھا کر جتنا تیز چل سکتی تھی. چل رہی تھی. مگر اب اس کا سانس پھول رہا تھا.
نہ اس کے پاس پیسے تھے. نہ موبائل. اس نے ایک بڑی چادر سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا.
.
یہ ایک لمبی سڑک تھی. ماہم کو دور سے ہادی کی کار آتی دکھائ دی. وہ بڑی طرح ڈر گئ. جانتی تھی کہ ہادی اسے عمیر کے حوالے کر دے گا. اور پھر عمیر اسے اور اس کی بچی کو اذیت دے دے کر مار دے گا.
اس نے چھپنے کی کوشش کی مگر فوزیہ اسے دیکھ چکی تھی.
.
وہ رہی ماہم, فوزیہ چلائ.
.
ہادی نے ماہم کے پاس لا کر کار روکی , ہادی اور فوزیہ کار سے اترے اور ماہم کے پاس پہنچے.
.
چلہیں بھابھی, کار میں بیٹھیں, عمیر کو اپنی غلطی کا احساس ہو ………. ہادی کچھ کہنا چاہتا تھا مگر ماہم پہلے ہی رونے لگی.
.
نہیں ہادی بھائ نہیں, مجھے جانے دیں, پلیز وہ مجھے اور میری بچی کو مار دے گا. سچ میں وہ بہت خطرناک ہے. میرا یقین کریں. وہ نہیں چھوڑے گا مجھے. ماہم چلائ
.
بھابھی, ایسا کچھ نہیں, عمیر کو اس کی امی ……. ہادی ماہم کو بتانا چاہتا تھا مگر ماہم کچھ نہیں سن رہی تھی.
ہادی بھائ نہیں پلیز نہیں, آپ نہیں جانتے اسے. پلیز ہادی بھائ. مجھے جانے دیں. ماہم اپنی ضد پر قائم تھی
.
مگر بھابھی……. ہادی نے کچھ کہنا چاہا مگر اب کی بار فوزیہ بولی.
.
ایک منٹ ہادی, فوزیہ بولی, عمیر بھائ نے جو بھی کیا اس کی سزا انہیں ملنی چاہیے.
.
اور پھر ہادی اور فوزیہ ماہم کو کچھ سوچ کر اپنے گھر لے گئے.
,,,,,,……,,,,,,……,,,,,,……,,,,,,…….,,,
رات کے آٹھ بجے عمیر کی کال آئ.
.
ہیلو ہادی. ماہم کا کچھ پتا چلا¿ عمیر کافی پریشان تھا.
نہیں یار, بھابھی کا کچھ نہیں پتا. میں تو خود تجھے فون کرنے والا تھا کہ شاید تجھے بھابھی مل گئ ہوں. ہادی نے جھوٹ بولتے ہوۓ کہا.
.
نہیں ہادی اس کا کچھ پتا نہیں, وہ اہک بار ملے تو میں اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگ لوں گا. میں اس پر کیے گئے ہر ظلم کا حساب دوں گا. میں اس کی زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا. بس ایک بار, بس ایک بار وہ مل جاۓتو …… عمیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.
……,,,,,,,,, …..,,,,,,……,,,,,……,,,___.
فوزیہ, عمیر بہت پریشان ہے. ہادی سے اپنے دوست کی حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی.
.
تو¿ فوزیہ نے اطمینان سے پوچھا.
تو ہمیں اسے ماہم بھابھی کے بارے میں بتا دینا چاہیے. ہادی نے کہا.
.
ارے واہ¡ عمیر بھائ کا اتنا خیال¿ ماہم کا کیا. اس نے ایک سال تک جو ظلم برداشت کیے, وہ میں سوچتی بھی ہوں تو روح کانپ جاتی ہے. ماہم نے یہ سب سہا کیسے ہوگا. کتنی اذیت برداشت کی اس نے. میں بھی عورت ہوں. میں یہ سب سن کر ہی کانپ جاتی ہوں. اس پر تو ظلم کی انتہا…….. فوزیہ سے آگے بولا نہ گیا. وہ منہ چھپا کر رونے لگے.
.
ارے ارے مائ ڈئیر وائف, پلیز رونا مت, ٹھیک ہے جب تک تم اور ماہم بھابھی نہیں چاہتے. میں عمیر کو کچھ نہیں بتاؤں گا. ہادی نے فوزیہ کو چپ کرواتے ہوۓکہا.
.,,,,……,,,, …______…..______…__.
رات کے بارہ بج رہے تھے. عمیر سٹور روم میں کھڑا تھا. یہ وہ جگہ تھی جہاں ماہم کو روز رات گزارنی پڑتی تھی. آنسو عمیر کی آنکھوں سے رواں تھے. کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں ¿ کہاں ہو تم¿ پلیز ماہم ایسی سزا مت دو مجھے, پلیز واپس أجاؤ. ماہم پلیز. عمیر شدت غم سے سٹور روم میں زمین پر بیٹھ کر رونے لگا..
.ایک ہفتہ گزر چکا تھا مگر ماہم کا کچھ پتا نہیں تھا.
آج صبح عمیر دفتر آیا تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا. دل ہی نہیں لگ رہا تھا کسی کام میں. بس ہر لمحہ ماہم یاد آ رہی تھی. ایک سال اس نے اس کے ساتھ گزارا تھا. چاہے جو بھی تھا وہ اس کے سامنے تو رہتی تھی.
اپنی بیٹی بھی اسے بہت یاد آ رہی تھی. پتا نہیں اس کی شکل کس پر ہو گی. کیا نام رکھا ہو گا اس کا¿ تنگ کرتی ہو گی نا ماہم کو¿
انہی سوچوں میں گم تھا وہ سامنے سے ہادی آتا دکھائ دیا. ہادی اور عمیر ایک ہی دفتر میں کام کرتت تھے.
ارے عمیر کیسے ہو¿ ہادی نے پوچھا
تو جانتا ہی میں کیسا ہوں, عمیر نے بھرائ ہوئ آواز میں جواب دیا.
اسی وقت سامنے سے ان کے کولیگ اشفاق صاحب آ رہے تھے جو ہادی کے پڑوسی بھی تھے
ارے, اشفاق صاحب جیسے ہیں آپ¿
ہادی نے پوچھا.
میں تو ٹھیک ہوں, آپ سنائیں. اشفاق صاحب نے مسکراتے ہوۓکہا.
ارے یاد آیا وہ کل میری بیٹی آپ کے گھر آئ تھی وہ بتا رہی تھی کہ وہ آپ کے گھر جو مہمان آۓ ہوۓ نا . ان کی بیٹی بہت پیاری ہے. ابھی ایک مہینے کی ہے مگر بہت کیوٹ ہے. اشفاق صاحب نے ہنستے ہوۓکہا.
جج جی جی . ہادی نے گڑبڑا کر کہا.
ارے آج پھر آۓ گی میری بیٹی اس ننھی پری سے کھیلنے آۓ گی. اشفاق صاحب نے مسکراتے ہوۓکہا.
یہ سننا تھا کہ عمیر آپے سے باہر ہو گیا.
کہاں ہے میری بیٹی ¿ کہاں ہے ماہم¿ عمیر نے ہادی کا گریبان پکڑ کر اس کو جھٹکا دیا.
دد دیکھ عمیر مجھے نہیں پتا کہ ……. ہادی نے عمیر کو سمجھانے کی کوشش کی مگر عمیر اب کچھ سننے والا نہیں تھا.
…….._______………._________
ڈور بیل بجی تو فوزیہ دروازہ کھولنے گئ. سامنے عمیر کھڑا تھا.
عم عمیر بھائ کوئ کام تھا کیا. ہادی تو آفس گۓ ہیں. فوزیہ گھبرا گئ.
میں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں. ماہم, ماہم, عمیر ماہم کو آوازیں دینے لگا.
بھائ, مم ماہم یہاں نہیں. فوزیہ نے ڈرتے ہوۓکہا.
اچانک ہی ایک کمرے سےبچی کے رونے کی آوازیں آنے لگیں.
. عمیر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا . غصے سے لات مار کر دروازہ کھولا.
سامنے ہی ڈری سہمی ماہم بچی کو سینے سے لگاۓ کھڑی تھی.
اتنے میں ہادی اندر آیا اور عمیر کو سمجھانے لگا.
یار عمیر, میری بات سن, ہم آرام سے بیٹھ کر ……. ہادی عمیر کا کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کرنے لگا.
جسٹ شٹ اپ, تو میرا دوست ہے.¿ یہ تھی تیری دوستی ¿ تو تو جانتا تھا نا میری حالت پھر بھی تو نے….. عمیر ہادی کی طرف دیکھ کر غصے سے کہا.
عمیر پلیز یار, میں تجھے بتانے….. ہادی بے بسی سے بولا.
او جسٹ سٹاپ اٹ. عمیر کو شدید غصہ آ رہا تھا.اس کو سب دھوکے باز لگ رہے تھے.
اور تم, عمیر ماہم کی طرف غصے سے دیکھ کر بولا.
ماہم مزید سہم گئ.
کیا کہا تھا میں نے تم سے کہ کوئ چالاکی مت کرنا. کہا تھا کہ نہیں. بولو¿ عمیر ماہم کی طرف قدم بڑھانے لگا.
نہ نہ نہیں عمیر مم میں ……. ماہم بری طرح ڈر گئ تھی. وہ جانتی تھی کا اب عمیر کچھ نہیں سنے گا.
عمیر ماہم کی طرف مزید بڑھا.
نہیں رہنا چاہتی نا میرے ساتھ. نہیں رہنا نا¿ بولو. عمیر چلایا.
میں وہ وہ عمیر میں وہ …….. ماہم کو سمجھ نہیں آرہی تھی.
کیا میں وہ میں وہ لگا رکھی ہے¿ گھر چلو ابھی.
عمیر اس وقت شدید غصے میں تھا. جس کو وہ روز یاد کرتا رہا, جس کے لیے وہ روز تڑپتا رہا, روتا رہا, وہ اتنے مزے سے اس کے دوست کے گھر رہ رہی تھی. یہ بات اس کو مزید تپا رہی تھی.
میں نے کہا گھر چلو ابھی. عمیر چلایا.
ماہم مزید سہم گئ مگر ٹس سے مس نہ ہوئ.
عمیر بھائ ہم بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں. یہ کوئ طریقہ نہیں اپنی بیوی سے بات کرنے کا. فوزیہ نے عمیر کو سمجھانے کی کوشش کی.
واہ بھابھی, جو میں کر رہا ہوں وہ صحیح نہیں. کسی کی بیوی, بیٹی کو ایک ہفتے تک گھر میں چپھا کر رکھنا, کسی کو بیوی کو بھڑکانا, اس کے شوہر کے خلاف بدگمان کرنا, وہ سب صحیح ہے کیا¿ عمیر کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا.
عمیر دیکھ یار, ہم نے بھابھی کو نہیں ……… ہادی نے کچھ کہنا چاہا.
مگر عمیر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کر دیا. بس ہادی بس. ایک لفظ اور نہیں. تم لوگوں پر تو سیدھا سیدھا کیس کروں گا میں کہ تم لوگوں نے میری بیوی اور بیٹی کو مجھ سے چھپا کر رکھا. دیکھنا تم. عمیر نے انگلی اٹھا کر ہادی کو وارن کیا.
فوزیہ صوفے پر سر پکڑےبیٹھی تھی.
لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں, گھر چلو گی یا نہیں. عمیر نے ماہم کو بازو سے پکڑ کر پوچھا.
نن نن نہیں, ماہم نے ڈرتے ڈرتے کہا.
اوکے فائن, عمیر نے پلک جھپکتے ہی ماہم سے بچی لے لی.
نہیں نہیں عمیر میری بیٹی دے دو عمیر. مت کرو ایسے. ماہم رونے لگی.
تمہاری بیٹی کو لے کر جا رہا ہوں. ملنے کا شوق ہوا تو گھر آ جانا. یاد رکھنا, تمہارا بیٹی میرے پاس ہے. عمیر نے لفظ تمہاری بیٹی کو چبا چبا کر بولا. اور باہر جانے لگا.
نہ نہیں عمیر پلیز عمیر میری بات سنو عمیر نہیں, ماہم گڑگڑاتی ہوئ عمیر کے پیچھے بھاگی.
عمیر بچی کو لے کر گاڑی میں بیٹھا.
چلو ڈرائیور.عمیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا.
ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی.
ماہم گاڑی تک پہنچی.
نن نہیں عمیر پلیز میری بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے. وہ نہیں رہ سکتی میرے بغیر. پلیز اسے مجھے دے دو. عمیر پلیز, ماہم نے تڑپ کر کہا.
عمیر نے ایک نظر ماہم پر ڈالی. دل چاہا کہ وہ ماہم کے سامنے سرنڈر کر دے مگر اسے کچھ بھی کر کے ماہم کو گھر بلانا تھا. سو اس نے دل کو سمجھایا.
چلو ڈرائیور, عمیر نے سختی سے کہا اور ڈرائیور نے گاڑی چلا دی.
نہیں نہیں عمیر نہیں عمیر میری بچی کو دے دو عمیر پلیز. ماہم کی چیخیں عمیر کو دور تک سنائ دیں. عمیر نے آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو مشکل سے ضبط کیا.
آئ ایم سوری ماہم مگر تمہیں واپس لانے کے لیے اور کوئ آپشن نہیں تھا. عمیر نے سوچا اور مسکرا کر بیٹی کو چوم لیا.
__…..______…..____…._____
فوزیہ پلیز مجھے میری بچی لا دو پلیز وہ مار دے گا اسے وہ مار دے گا.. ماہم نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا.
کچھ نہیں ہو گا بھابھی, میرا یقین کریں. ہادی نے کہا. مگر ماہم کی چیخ و پکار کم نہیں ہو رہی تھی.
…..,__……______……___ , ….
ابھی عمیر کو گھر پہنچے 5 منٹ نہیں ہوۓ تھے کہ ڈور بیل بجی.
. عمیر اطمینان سے چلتا ہوا آیا اور دروازہ کھولا. توقع کے عین مطابق سامنے ماہم کھڑی تھی.
جی¿ فرمائیے¿ عمیر نے اطمینان سے پوچھا.
وہ میری بیٹی کہاں ہے¿ ماہم نے بے چینی سے پوچھا.
تمہاری بیٹی اس کمرے میں ہے. عمیر نے اپنے بیڈروم کی طرف اشارہ کیا.
ماہم دوڑ کر کمرے تک گئی. مگر اندر جانے کی ہمت نہ ہوئ. ماہم کو یاد تھا کہ اس گھر میں اس کو صرف سٹورروم میں رہنا تھا. عمیر کے بیڈروم میں جانے کی اجازت نہیں تھی اسے.
عمیر جانتا تھا کہ ماہم ڈر رہی ہے.
وہ آپ پلیز میری بیٹی کو باہر لے آئیں. ماہم نے التجا کی.
کیوں, نوکر ہوں تمہارا¿ عمیر نے مسکراہٹ دباتے ہوۓکہا.
بچی نے رونا شروع کر دیا تھا.
عمیر وہ رو رہی ہے پلیز. ماہم نے بے بسی سے کہا.
تو¿ عمیر نے انجان بنتے ہوۓکہا
ماہم نے ایک نظر عمیر کو دیکھا اور دوڑ کر اندر جا کر بچی کو اٹھا لیا.
عمیر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی.
ماہم بچی کو لے کر جانے لگی.
عمیر راستے میں آ گیا.
کہاں لے کر جا رہی ہو اپنی بیٹی کو¿ عمیر نے پوچھا.
آ آ آپ ہہ ہٹ ج جائیں. پلیز مجھے جانے دیں. ماہم ابھی بھی ڈر رہی تھی.
تو جاؤ نا¿ کس نے روکا مگر بچی کا فیصلہ کورٹ کرے گا کہ اسے کس سے پاس رہنا ہے. تو جب تک بچی میرے پاس رہے گی. تم جا سکتی ہو. عمیر نے اطمینان سے کہا.
وہ جانتا تھا کہ ماہم کبھی بھی بچی کو نہیں چھوڑ سکتی اور وہ یہی چاہتا تھا کہ ماہم اب کہیں نہ جاۓ.
تم بیڈ پر بیٹھ سکتی ہو. یہ کاٹے گا نہیں. عمیر نے ہنستے ہوۓکہا.
ماہم نے عمیر کو حیران ہو کر دیکھا. وہ اس سے دوستانہ لہجے میں بات کر رہا تھا.
رات کے آٹھ بجے عمیر نے کھانا آرڈر کروایا.
ماہم آؤ کھانا کھا ئیں. عمیر بولا
نہ نہ نہیں, مجھے بھوک نہیں. ماہم نے کہا.
ضد مت کرو ماہم. پلیز تھوڑا سا کھا لو. عمیر نے کہا.
نن نہیں پلیز مجھے جانے دو. ماہم کو عمیر کی نرمی کوئ چال لگ رہی تھی.
تم کھاؤ گی یا نہیں ¿ عمیر نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا.
ماہم ڈر کے مارے اٹھی اور روتے ہوۓ کھانا کھانے لگی.
____……_____……,____ ……..
رات کے دس بج رہے تھے. بچی سو چکی تھی. ماہم سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے. اتنے میں عمیر کمرے میں داخل ہوا.
ماہم چلو. عمیر نے آتے ہی کہا.
کک کہاں, ماہم نے گھبراتے ہوۓکہا.
سٹور روم میں. عمیر نے اطمینان سے کہا.
کک کک کیوں, ماہم نے ڈرتےتے ہوۓ پوچھا.
کچھ نہیں, کچھ پرانے حساب اتارنے ہیں. عمیر نے کہا اور ساتھ ہی ماہم کو کھینچتے ہوۓ سٹور روم لے گیا.
ماہم نے نظریں اٹھا کر دیکھا. تو کانپ کر رہ گئی. عمیر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی.
نہیں نہیں عمیر پلیز میری بات سنو, میں فوزیہ کے گھر آئندہ نہیں جاؤں گی. پلیز مجھے مت مارو, عمیر نن نہیں مارنا مجھے پلیز. ماہم چلائ.
مگر عمیر اطمینان سے کھڑا ماہم کو دیکھ رہا تھا. اس کے ہاتھ میں بیلٹ موجود تھا.
ماہم جانتی تھی کہ اب اسے کوئ نہیں بچا سکتا
ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ . ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭗ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ . ﻋﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻠﭧ ﺗﮭﯽ .
ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻤﯿﺮ ﭘﻠﯿﺰ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﻮ , ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺯﯾﮧ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ . ﭘﻠﯿﺰ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺖ ﻣﺎﺭﻭ , ﻋﻤﯿﺮ ﻧﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻠﯿﺰ . ﻣﺎﮨﻢ ﭼﻼﺉ .
ﻣﮕﺮ ﻋﻤﯿﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻣﺎﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻠﭧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ .
ﻣﺎﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺉ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ.
اس سے پہلے کہ عمیر کچھ کہتا, عمیر کا موبائل بجا, ہادی کے نمبر سے فون آرہا تھا.
عمیر کو غصہ آنے لگا. اس نے کال کاٹ دی مگر کال پھر آرہی تھی.
لو تمہارے رشتے داروں کا فون ہے. بات کرو. عمیر نے ماہم کو فون پکڑاتے ہوۓکہا.
ماہم نے کانپتے ہاتھوں سے فون پکڑا.
ہ ہ ہیلو, ماہم نے ڈرتے ڈرتے کہا. اس کی نظریں ابھی بھی عمیر کے ہاتھ میں موجود بیلٹ پر تھیں..
ماہم, ہادی کی طبعیت بہت خراب ہے. وہ مجھ سے ناراض ہیں کہ میری وجہ سے عمیر بھائ ان سے ناراض ہوۓ. وہ نہ کچھ کھا رہے ہیں, نہ میڈیسن لے رہے ہیں. تم لوگ آ جاؤ پلیز. فوزیہ بہت رو رہی تھی.
اب ماہم اسے کیا بتاتی کہ وہ اس وقت خود کتنی مصیبت میں ہے. ماہم کا دل چاہا کہ وہ فوزیہ کو کہے کہ وہ آکر اس ظالم انسان سے اسے بچا لے.
اس سے پہلے کہ ماہم کچھ بولتی. عمیر نے اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر اپنے کان سے لگایا.
فوزیہ رو رہی تھی
جی بھابھی میں بس ابھی آ رہا ہوں.
عمیر تیزی سے نکلا.
______……______…….________
ہادی بس کر نا یار, چل اٹھ کھانا کھا لے. عمیر ہادی کو منا رہا تھا.
ہادی اس وقت تیز بخار میں پھنک رہا تھا.
تو ناراض ہے نا مجھ سے. یقین کرو. ہم نے ماہم بھابھی کو صرف …… ہادی نے کچھ کہنا چاہا.
میں تجھ سے ناراض کیسے رہ سکتا ہوں. تو میرا دوست نہیں, بھائ ہے, اب اٹھ, کھانا کھا, معاف کر دے مجھے ورنہ تو پٹے گا اب, عمیر نے کہا.
عمیر نے ہادی کو کھانا کھلایا اور دوائ کھلائ. اور اس سے باتیں کرنے لگا.
…. ,….,,,,,….,,,,,…..,,,,,……_____
ماہم تیزی سے سٹور روم سے نکلی. اس نے بچی کو اٹھایا اور گیٹ کی طرف بڑھی.
عمیر جانتا تھا کہ ماہم ضرور بھاگنے کی کوشش کرے گی اس لیے وہ گیٹ کو باہر سے لاک کر گیا تھا.
ماہم کو گیٹ لاک دیکھ کر مایوسی ہوئ. اس کو جلد سے جلد یہاں سے بھاگنا تھا.
………,……….,…….,,, ……………..
رات کے بارہ بجے عمیر نے ہادی اور فوزیہ سے اجازت لی اور گھر کی طرف چلا.
گھر میں داخل ہو کر اس نے گیٹ اندر سے گیٹ لاک کیا اور پیچھے مڑا تو حیران رہ گیا.
ماہم کے ہاتھ میں عمیر کی پسٹل تھی.
گیٹ کھولو, ماہم نے کہا.
عمیر نے مسکراہٹ کے ساتھ ماہم کو دیکھا اور دو قدم آگے بڑھاۓ.
مم میں کہتی ہوں , گیٹ کھولو. ماہم کے ہاتھ اور آواز دونوں کپکپا رہے تھے.
گن مجھے دو, عمیر نے آگے بڑھتے ہوۓکہا.
نہ نہ نہیں, جلدی گیٹ کھولو, ورنہ میں گ گگ گولی چلا دوں گی. ماہم نے پیچھے ہٹتے ہوۓکہا.
جاری ہے
