Haasil By Umerah Ahmed Readdelle50102 Episode 9 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 Part 2
حاصل
از عمیرہ احمد
قسط 9 پارٹ 2
“آؤ، میں تمہیں اپنے کزنز سے ملواتی ہوں-“
ہیلو ہائے کے بعد اس نے ثانیہ کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے ہوئے کہا تھا- پھر وہ اسے لے کر لان کی مختلف ٹیبلز پر جاتی اور مختلف لڑکیوں اور لڑکوں سے متعارف کرواتی رہی-
“ربیکا! یہ گفٹ تم لے لو-” اس نے ربیکا کے ساتھ چلتے چلتے کہا تھا-
“بھئی، یہ میں کیوں لے لوں، جس کے لیے تم لائی ہو اسی کو دینا- آؤ ڈیوی کے پاس چلتے ہیں-“
ربیکا اسے لے کر گھر کے اندر آ گئی تھی- ڈیوڈ اپنے کمرے سے باہر نکل رہا تھا- ثانیہ کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی- وہ بے اختیار نروس ہو گئی تھی-
“تھینک یو فار بینگ ہیر-” وہ خود ہی ثانیہ اور ربیکا کے پاس آ گیا تھا-
“ہپپی برتھ ڈے-” ثانیہ نے گفٹ اس کی طرف بڑھا دیا تھا-
“تھینک یو-” اس نے مسکراتے ہوئے گفٹ لے لیا تھا-
“آپ گفٹ کے بغیر آتیں تو مجھے خوشی ہوتی لیکن گفٹ کے ساتھ آئی ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوئی ہے-“
ربیکا نے اس کے کندھے پر ایک ہاتھ مارا تھا- وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا-
“آؤ ثانیہ! باہر چلتے ہیں-“
ربیکا اس کا ہاتھ تھام کر واپس مڑ گئی تھی- لاؤنج کے دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے غیر محسوس طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا- وہ اس کا گفٹ ہاتھ میں تھامے وہیں کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا- ثانیہ نے تیزی سے گردن موڑ لی تھی- اس کے دل کی دھڑکن بے اختیار تیز ہو گئی تھی-
برتھ ڈے کا کیک کاٹنے کے بعد ربیکا اور اس کے کزنز نے گٹار اور کی بورڈ پر بہت سے گانے گائے تھے- ڈیوڈ نے بھی گٹار پر ایک دھن بجائی تھی- وہ حیران کن حد تک اچھا گٹار بجا رہا تھا- ثانیہ اس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا سکی-
ربیکا اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی- “ثانیہ! ذرا اس لڑکی کو دیکھو جس نے رائل بلو کلر کا سلک کا چوڑی پاجامہ پہنا ہوا ہے-“
ثانیہ نے اس سمت دیکھا جس طرف وہ اشارہ کر رہی تھی- وہ لڑکی ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئی تھی-
“کیسی ہے؟” ثانیہ نے حیرانی سے اس کو دیکھا تھا-
“بہت خوبصورت ہے مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” اس نے ربیکا سے پوچھا تھا-
“ممی کی بہت نظر ہے اس لڑکی پر، ڈیوڈ کے لیے-“
ثانیہ کا سانس رک گیا تھا- ” ڈیوڈ کے لیے؟”
“ہاں ڈیوڈ کے لیے- شیبا بہت اچھی لڑکی ہے- ڈیڈی کے دوست کی بیٹی ہے- کینیڈا سے آئی ہے چند ہفتے یہاں گزارنے- ممی سوچ رہی ہیں اس کا پرپوزل مانگنے کے لیے-“
ربیکا سرگوشی میں اسے بتا رہی تھی اور ثانیہ کی نظر اس لڑکی کے چہرے پر جمی ہوئی تھی-
“ڈیوڈ انٹرسٹڈ ہے؟” اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی-
“ابھی ممی نے اس سے بات نہیں کی مگر شیبا ایسی لڑکی ہے جسے کوئی بھی ناپسند نہیں کر سکتا-“
اس نے ربیکا کو کہتے سنا تھا- یکدم فنکشن سے اس کا جی اچاٹ ہو گیا تھا- ڈیوڈ ابھی بھی گٹار پر کوئی دھن بجا رہا تھا- مگر وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی-
“مجھے اب بھائی کو فون کرنا چاہیے، بہت دیر ہو گئی ہے-“
اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے ربیکا سے کہا تھا-
“یار! یکدم تمہیں گھر جانے کی کیا پڑ گئی ہے؟” ربیکا کچھ ناراض ہوئی تھی-
“نہیں، امی نے اسی شرط پر آنے دیا تھا کہ میں نو بجے تک آ جاؤں گی-“
اس نے جھوٹ بولا تھا اور پھر اندرلاؤنج میں آ کر گھر فون کر دیا تھا-
گھر آنے کے بعد وہ بےحد ٹینس تھی- “آخر میں چاہتی کیا ہوں؟” اس نے رنجیدگی سے سوچا تھا اور پھر کپڑے تبدیل کیے بغیر بیڈ پر لیٹ گئی تھی- ایک بار پھر ڈیوڈ کا چہرہ اس کے سامنے تھا اور پھر یکدم شیبا بھی اس کے ساتھ آ گئی تھی- وہ بےقرار ہو کر اٹھ گئی- اسے پتا نہیں چلا، کس وقت وہ رونے لگی تھی-
“مجھے رونے کی کیا ضرورت ہے؟میں کیوں جیلس ہو رہی ہوں؟ میں کوئی احمق ہوں؟”
وہ جتنا خود کو دلاسا دینے کی کوشش کر رہی تھی، اس کا دل اتنا ہی بھر رہا تھا- وہ بہت دیر روتی رہی تھی- اس رات اس پر یہ ہولناک انکشاف ہوا تھا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈیوڈ کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے-
“کیا بات ہے ثانیہ؟ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟”
صبح امی نے ناشتے کی میز پر اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر پوچھا تھا- سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے-
“سر میں درد ہو رہا تھا- اس لئے رات کو نیند نہیں آئی-” اس نے بہانہ گھڑا تھا-
“تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا- میں تمہیں کوئی ٹیبلٹ دے دیتی-“
اس کی بھابھی نے اس سے کہا تھا- وہ خاموشی سے چائے پیتی رہی تھی-
“اب طبیعت کیسی ہے؟” اس کے سب سے بڑے بھائی نے پوچھا تھا-
“اب ٹھیک ہوں-” اسے اب ان سب کے سوالوں سے الجھن ہونے لگی تھی-
“آج کالج مت جانا، آرام کرنا-” اس کی امی نے کہا تھا-
“ثانیہ! تم ابھی اپنی امی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی جانا-” اس کے ابو نے کہا تھا- وہ کپ ٹیبل پر پٹخ کر کھڑی ہو گئی تھی-
“سب پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں، سکون سے ناشتہ تک نہیں کرنے دیتے-“
وہ روتے ہوئے ڈائننگ روم سے نکل گئی تھی- ڈائننگ روم میں یکدم خاموشی چھا گئی تھی- سب لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے تھے- ثانیہ نے کبھی اس طرح نہیں کیا تھا-
“مجھے لگتا ہے، اس کی طبیعت زیادہ خراب ہے- تم جاؤ، جا کر دیکھو اسے-” اس کے ابو نے امی سے کہا تھا-
“رات کو میں جب اسے ربیکا کے گھر سے لے کر آیا تھا، تب تو بالکل ٹھیک تھی-” اس کا بڑا بھائی حیران تھا- گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ بہت لاڈلی تھی- ہر ایک کو ہر وقت اس کا خیال رہتا تھا- خود وہ بھی بھائیوں کے ساتھ بہت اٹیچ تھی- اسے خاص حد تک آزادی بھی دی گئی تھی- وہ جس وقت جہاں جانا چاہتی، جا سکتی تھی-کوئی اسے منع نہیں کرتا تھا- اس کی غلطیوں کو بھی سب لوگ ہنس کر ٹال دیتے تھے اور اس لاڈ پیار نے اسے کسی حد تک خود سر بھی بنا دیا تھا-
شام تک وہ خود پر قابو پا چکی تھی- وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی حرکت سے گھر میں کسی کو کوئی شک ہو-
“میں اب ڈیوڈ سے کبھی نہیں ملوں گی- جب میں ربیکا کے گھر نہیں جاؤں گی تو اس سے میرا سامنا بھی نہیں ہو گا اور پھر وہ میرے ذہن سے نکل جائے گا-” اس نے اس رات یہ طے کیا تھا-
ایک ڈیڑھ ہفتہ وہ ربیکا کے گھر نہیں گئی تھی اور نہ ہی اس نے اسے اپنے گھر انوائٹ کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ ڈیوڈ کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پائی تھی- وہ ان تمام دنوں میں اس کی نظروں کے سامنے رہا تھا اور وہ…… وہ شیبا کو بھی اپنے ذہن سے نکال نہیں پائی تھی-
“تم لوگوں نے شیبا کے والدین سے بات کی؟” اس دن اس نے ہمت کر کے ربیکا سے پوچھا تھا-
“ہاں، ممی نے بات کی تھی- وہ لوگ تو پہلے ہی یہ چاہتے تھے- اگلے سال چھٹیوں میں جب وہ لوگ پاکستان آئیں گے تو ہم باقاعدہ ان دونوں کی انگیجمنٹ کر دیں گے- شادی تو خیر ابھی چار پانچ سال بعد ہی ہو گی- کیونکہ ڈیوڈ کو اپنی انجینرنگ مکمل کرنا ہے-
ثانیہ کا دل جیسے ڈوب گیا تھا-
“ڈیوڈ بہت خوش ہو گا؟” وہ پتا نہیں کیا جاننا چاہتی تھی-
“ابھی کون سی انگیجمنٹ ہو گئی ہے جو وہ خوش ہوتا پھرے- ابھی تو صرف بات ہوئی ہے- ممی نے اس سے پوچھا تھا تو اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا- میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ شیبا کو کوئی بھی ناپسند نہیں کر سکتا-“
وہ اسے بتا رہی تھی- ثانیہ نے اپنے اندر یکدم بہت سا سناٹا محسوس کیا تھا-
ثانیہ اور ربیکا کے پروموشن ٹیسٹ شروع ہونے والے تھے- اکنامکس کے ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہوئے کچھ سوالوں میں اسے پرابلم پیش آ رہی تھی-
“میرا خیال ہے، مجھے ربیکا سے مدد لینا چاہیے-“
اس نے سوچا تھا لیکن ریسیور اٹھاتے ہوئے اسے یاد آیا تھا کہ ربیکا کا فون خراب ہے- کچھ دن پہلے بارش کی وجہ سے اس علاقے کی ایکسچینج میں کوئی خرابی ہو گئی تھی اور ربیکا نے اس سے ذکر بھی کیا تھا- وہ کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر امی کو بتا کر ڈرائیور کے ساتھ ربیکا کے گھر چلی گئی تھی- ملازم اسے اندر لے آیا تھا-
“ربیکا بی بی انیتا بی بی کے ساتھ لائبریری گئی ہوئی ہیں- کچھ دیر میں آتی ہی ہوں گی-” ملازم نے اسے بتایا تھا-
“گھر میں اور کوئی نہیں ہے؟” وہ کچھ مایوس ہوئی تھی-
“صرف ڈیوڈ صاحب ہیں- میں انھیں بلاتا ہوں-“
ثانیہ کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی- وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور وہ……
ڈیوڈ ملازم کے ساتھ ہی آ گیا تھا-
“آپ نے تو ہمارے گھر آنا ہی چھوڑ دیا-” وہ کچھ دیر بعد بولا تھا-
ثانیہ نے کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی تھی- ڈیوڈ نے بھی اپنا سوال نہیں دہرایا تھا- کچھ دیر وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے رہے-
“لائیں، آپ کتاب دکھائیں- ہو سکتا ہے، میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں؟” کچھ دیر کے بعد ڈیوڈ نے کہا تھا-
ثانیہ نے ہچکچاتے ہوئے کتاب اس کی طرف بڑھا دی تھی- وہ اس کا بتایا ہوا باب کھول کر بیٹھ گیا- کچھ دیر خاموشی سے وہ کتاب دیکھتا رہا، پھر ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا-
“نو پرابلم- یہ تو بہت آسان ہیں- میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں-“
وہ ایک کرسی اٹھا کر سینٹر ٹیبل کے سامنے لے آیا تھا- ” آپ یہاں آ جائیں-“
اس سے کہتے ہوئے وہ خود اس کے بالمقابل صوفہ پر بیٹھ گیا تھا- کتاب اور نوٹ بک سینٹر ٹیبل پر رکھنے کے بعد اس نے بڑی مہارت سے مختلف فارمولے استعمال کرتے ہوئے سوال حل کرنے شروع کر دیے تھے- وہ آگے کو جھکی نوٹ بک پر روانی سے چلتے ہوئے اس کے ہاتھ کو دیکھتی رہی- اس کے ناخن تراشیدہ اور ہاتھ عام مردانہ ہاتھوں کے برعکس بہت خوبصورت تھے- وہ نوٹ بک پر لکھے ہوئے کسی لفظ کو سمجھ نہیں پا رہی تھی- اس کا ذہن صرف ڈیوڈ میں الجھا ہوا تھا-
“کیا اسے کبھی یہ احساس ہوا ہو گاکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں؟ کیا اس نے کبھی میرے بارے میں سوچا ہے؟”
وہ اس وقت صرف یہی سوچ رہی تھی- وہ مدھم آواز میں نوٹ بک پر سر جھکائے بڑے اچھے طریقے سے کیلکولیشن کر رہا تھا اور تب اچانک ہی نوٹ بک پر چلتا ہوا اس کا ہاتھ رک گیا تھا- نوٹ بک سے کچھ فاصلے پر سینٹر ٹیبل کے شیشے پر پانی کے کچھ قطرے گرے تھے- اس نے حیران ہو کر سر اٹھایا تھا-
“کیا ہوا ثانیہ؟” وہ جیسے ہکا بکا تھا- وہ اب اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ چکی تھی- ڈیوڈ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے- اسے پہلے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا- وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی- پھر ایک جھٹکے سے اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا لیے-
“Do you know how much I love you”
(تمہیں خبر ہے، میں تمہیں کتنا چاہتی ہوں) اس نے روتے ہوئے کہا تھا- وہ دم بخود ہو گیا تھا-
“ثانیہ!”
“میں تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہوں اور تم…… تم شیبا کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہو-“
“ثانیہ! تم ہوش میں تو ہو-“
“نہیں، میں ہوش میں نہیں ہوں- میں نہیں جانتی ڈیوڈ! میں نہیں جانتی یہ سب کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ مگر میں……”
وہ سانس روکے اسے بلکتا ہوا دیکھ رہا تھا-
“اگر تم کسی اور کے ہو گئے تو میں زندہ نہیں رہوں گی- میں خود کشی کر لوں گی- کیا تم کو کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں؟ کیا تمہیں کبھی میرا خیال نہیں آیا؟ کیا شیبا مجھ سے زیادہ اچھی ہے؟”
وہ اس کے سامنے سے اٹھ گیا تھا-
“اندازہ تھا مگر…… مگر یہ سب کچھ بےکار ہے- تمھارے اور میرے درمیان اتنی دیواریں ہیں کہ صرف محبت سے کچھ نہیں ہو سکتا- اپنی اور میری زندگی کو مشکل بنانے کی کوشش مت کرو ثانیہ-“
“ڈیوڈ! اگر تم مسلم ہو جاؤ تو میں اپنے پیرنٹس سے بات کر سکتی ہوں- شاید وہ ہماری شادی پر رضامند ہو جائیں- پھر ہمیں کسی پرابلم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا- “
اس نے ڈرتے ڈرتے ڈیوڈ سے کہا تھا- وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا-
“میں اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتا-“
“مگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو- محبت کی خاطر تو لوگ……”
تم بھی تو محبت کرتی ہو مجھ سے- کیا تم میرے لئے اپنا مذہب چھوڑ سکتی ہو؟” وہ اس کے سوال پر خاموش ہو گئی تھی-
“تم اسلام کا مطالعہ تو کرو پھر……”
“مجھے دلچسپی نہیں ہے تمھارے مذہب میں- تم سمجھتی کیوں نہیں- میں اپنے مذہب سے بہت خوش ہوں-” ڈیوڈ نے اس کی بات کاٹ دی تھی-
“تم عیسائیت کا مطالعہ کرو- شاید تم اپنا مذہب چھوڑ دو-“
وہ ایک بار پھر اس کی بات کے جواب میں خاموش رہی تھی-
“بہتر ہے کہ ہم اب مذہب پہ بات نہ کریں-” ڈیوڈ نے بات ختم کر دی تھی
