Haasil By Umerah Ahmed Readdelle50102 Episode 11 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11 Part 1
حاصل
از عمیرہ احمد
سکینڈ لاسٹ قسط 11 پارٹ 1
وہ اس کی زندگی کے ہولناک ترین دن تھے- گھر سے بےگھر اور بےنام ہونا اگر تکلیف دہ تھا تو مذہب سے بالکل کٹ کر رہ جانا ایک عذاب تھا- مگر ان دنوں اسے احساس نہیں تھا کہ وہ کسی تکلیف سے ہی نہیں، عذاب سے بھی گزر رہی تھی- تب وہ کچھ سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں تھی- وہ وہی سوچتی تھی جو اس سے کہا جاتا تھا اور وہ اسے ہی ٹھیک سمجھتی تھی- وہ ان باتوں کو جج نہیں کر پاتی تھی-
سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا تھا- اس بات کا احساس اسے پہلی بار تب ہوا تھا جب اس سے ملنے آنے والے کچھ غیر ملکی ننوں نے اسے بائبل کے حوالے سے کچھ مذھبی مواد پڑھنے کے لیے دیا تھا- وہ اس مواد کو پڑھنے کے بعد یکدم بے چین ہو گئی تھی- اسے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ ‘کون ہے’ اور ‘کیا’ کر رہی ہے- اسے یاد آیا تھا کہ بچپن میں وہ قرآن پڑھتی رہی تھی- ترجمے سے اپنی کتاب کو نہ پڑھنے کے باوجود اسے اس کتاب سے محبت تھی، انس تھا، عقیدت تھی اور اب…… اب وہ لوگ اس سے کیا چاہتے ہیں- پہلی بار اسے ان لوگوں کے درمیان خوف آنے لگا تھا-
پھر اسے مذھبی لٹریچر باقاعدگی سے دیا جانے لگا تھا- اسے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ کسی ایسے گرداب میں پھنس گئی ہے جہاں سے نکلنے کے بعد بھی اس کے ارد گرد پانی ہی پانی ہو گا، زمین نہیں- ہر بار ان ننوں سے وہ کتابیں لینے کے بعد اس کے دل میں اپنی کتاب کو ایک بار پھر سے دیکھنے، ایک بار پھر سے چھونے، ایک بار پھر سے پڑھنے کی خواہش اور شدید ہو جاتی-
وہ ان کتابوں کو لینے کے بعد رکھ دیتی- وہ انہیں پڑھنا نہیں چاہتی تھی- وہ پڑھنا چاہتی بھی تو اسکے لیے یہ ممکن نہیں تھا- وہ سارا میٹریل اس کے لیے نامانوس تھا، اجنبی تھا- وہ لفظ سمجھنا اس کے لیے مشکل تھا- وہ ساری رات جاگ جاگ کر ان چھوٹی چھوٹی آیات اور دعاؤں کو یاد کرنے کی کوشش کرتی رہتی جو بچپن میں کبھی اس کی امی نے اسے سکھائی تھیں- مگر کچھ بھی یاد نہیں آتا تھا-
اس کے ذہن سے جیسے سب کچھ مٹ چکا تھا- اس کا خوف اور وحشت بڑھتی جا رہی تھی- اسے چھوٹے سے چھوٹا درود پاک دہرانے میں بھی مشکل ہوتی- وہ رات کو کئی کئی گھنٹے درود کے اگلے لفظ کو یاد کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح کمرے کے چکر کاٹتی رہتی- بعض دفعہ لفظ یاد آ جاتا، اسے کچھ سکون مل جاتا- جب اگلا لفظ یاد نہ آتا تو وہ تکیے میں منہ چھپا کر کتنی کتنی دیر روتی رہتی-
کچھ عرصے کے بعد اسے ایک چرچ کے ساتھ منسلک کانونٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا- وہ پہلی رات وہاں آنے کے بعد سو نہیں سکی تھی- “یہاں سے جب میں نکلوں گی تو میں کیا ہوں گی- کیا میں کبھی یہاں سے نکل بھی سکوں گی یا نہیں-” وہ ساری رات ایک ہی جگہ بیٹھی سوچتی رہتی تھی- پھر یہ سب کئی راتوں تک ہوتا رہا تھا- وہ ان لوگوں کو یہ بتانے کی ہمت نہیں رکھتی تھی کہ وہ ان کے مذہب میں دلچسپی نہیں رکھتی- اسے ان کی کتابیں نہیں پڑھنا ہے- اسے ان کی باتوں سے بھی دلچسپی نہیں ہے- وہ ان کے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتی-
مگر پھر…… پھر وہ کہاں جائے گی- یہ سب کچھ بتانے اور کہنے کے بعد وہ لوگ اگر اسے چھوڑ دیں تو وہ کیا کرے گی- باہر اس کے خاندان والے تھے، وہ ان سے چھپ نہیں سکتی تھی- وہ ان کے پاس جا بھی نہیں سکتی تھی- وہ مکڑی کے ایک ایسے جال میں پھنس چکی تھی جہاں ہر روز اس کے گرد ایک تار کا اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور اس جال میں وہ اپنی مرضی سے آئی تھی-
صبح ناشتے، لنچ اور ڈنر سے پہلے ڈائننگ ٹیبل کے اردگرد تمام سسٹرز کھڑی ہو کر کھانے سے پہلے کی دعا کرتیں- جس میں وہ اس کھانے کو اس تک پہنچانے کا ذمہ دار یسوع مسیح کو قرار دیتیں اور اس کے لیے کھانا کھانا مشکل ہو جاتا- ان سب کے ساتھ آنکھیں بند کیے وہ وحشت کے عالم میں دہراتی رہتی-
“یسوع مسیح! میں آپ کی عزت کرتی ہوں- میں آپ کا احترام کرتی ہوں- کیونکہ آپ بھی پیغمبر ہیں مگر یہ کھانا مجھے الله دے رہا ہے- الله کے سوا کوئی نہیں اور میرے پیغمبر محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلم ہیں اور میں ان ہی کی پیروکار ہوں-“
یہ سب کہنے کے باوجود اس کی وحشت میں کمی نہیں ہوتی تھی-
اور پھر رات کے پچھلے پہر مایوسی کی انتہاء پر پہنچ کر اس نے خود کشی کا فیصلہ کر لیا تھا- “میں جانتی ہوں، میں جو کر رہی ہوں وہ سب سے غلط کام ہے مگر میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے- میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا- صرف اپنا دین رہ گیا ہے اور میں اسے کھونا نہیں چاہتی- میں اب تک ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرتی آ رہی ہوں اور اب میں سب سے بڑا گناہ کرنے جا رہی ہوں مگر یہ گناہ کم از کم مجھے ایک مسلمان کے طور پر مرنے تو دے گا، چاہے یہ موت حرام ہی سہی- جو کچھ میں کر چکی ہوں وہ سب کرنے کے بعد، میں اس کی مستحق نہیں ہوں کہ مجھے معاف کر دیا جائے مگر پھر بھی میں تم سے ریکویسٹ کرتی ہوں کہ مجھے معاف کر دو-” وہ اس رات کے آخری پہر بہت دیر تک الله سے باتیں کرتے ہوئے روتی رہی تھی-
اگلے دن صبح سب کے ساتھ ڈائننگ روم میں ناشتہ کرنے کے بعد وہ کچن میں گئی تھی اور وہاں سے چوری چھپے ایک چھری اپنے کمرے میں لے آئی تھی- وہ اپنے ہاتھوں کی کلائیوں کی رگیں کاٹنا چاہتی تھی مگر دن کے وقت کوئی نہ کوئی اسکے کمرے میں آتا رہتا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ قدم اٹھانے کے بعد بھی وہ بچ جائے- اس لیے یہ سب کچھ رات کو کرنا چاہتی تھی-
اسی دن سہ پہر کو اسے کانونٹ میں موجود لائبریری جانے کا اتفاق ہوا تھا- ایک چھوٹے سے کمرے میں ریکس پر کتابوں کے ڈھیر موجود تھے- اس کے ساتھ ایک دو دوسری سسٹرز بھی تھیں- وہ خالی الذہنی کے عالم میں ان کے ساتھ ان کتابوں کے ریکس اور شیلف کے سامنے سے گزرتی رہی اور پھر اچانک اس کی نظر ایک شیلف پر پڑی تھی اور اس کا دل ایک لمحے کے لیے جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا-
وہاں چند دوسرے مذاہب کی کتابوں کیساتھ قرآن پاک کا ایک انگلش ترجمہ بھی موجود تھا- اس نے اپنے ہاتھوں میں لرزش محسوس کی تھی- وہ وہاں سے ہلنے کے قابل نہیں رہی تھی- اسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ یہاں سے کہیں جائے گی تو اس کی اپنی کتاب اسے دوبارہ نظر نہیں آ سکے گی- دوسری سسٹرز نے کچھ کتابیں نکال لی تھیں- وہ وہاں سے چلی گئی تھیں- اس نے ان سے کچھ دیر بعد آنے کا بہانہ لگایا تھا- ان کے جانے کے بعد بے اختیار وہ اس شیلف کی طرف آئی تھی اور اس نے کانپتے ہاتھوں سے قرآن پاک کو نکال لیا تھا-
اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ لوگوں کو جب خزانے ملتے ہیں تو ان کا کیا حال ہوتا ہے- دونوں ہاتھوں سے قرآن پاک کو سینے سے لگائے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے وہ بےتحاشا روتی رہی تھی- یہ وہ کتاب تھی جس کو دیکھنے کے لئے، جسے چھونے کے لیے وہ پچھلے کئی ماہ سے ترس رہی تھی- بہت دیر بعد برستی آنکھوں کے ساتھ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے قرآن پاک کو کھول لیا تھا اور لرزتی ہوئی آواز میں تلاوت کرنے لگی تھی- دھند چھٹنے لگی تھی- اس کے پیروں کے نیچے گردش کرنے والی زمین تھم گئی تھی- ہر چیز ایک بار پھر جیسے اپنی جگہ پر آنے لگی تھی-
“مجھے مرنا نہیں ہے، زندہ رہنا ہے- اگر گناہ کیا ہے تو اس کی سزا پانی ہے مگر خود کشی نہیں کرنی-“
اس رات اپنے کمرے میں چھری کو ہاتھ میں لے کر اس نے سوچا تھا- “اور اب…… اب مجھے انکار کرنا سیکھنا ہے- ہر اس چیز سے جو میرے اللہ کو پسند نہیں ہے- مجھے ایک بار پھر اس راستے کو ڈھونڈنا ہے جس سے میں بھٹک گئی ہوں-” اس رات اس نے اپنی زندگی کے نئے ضابطے طے کیے تھے-
اس رات تہجد پڑھتے وقت اسے وہ ساری آیات یاد آنے لگی تھیں جنہیں یاد کرتے ہوئے اسے گھنٹوں لگ جاتے تھے- اس رات اسے ان آیات میں سے کوئی آیت بھی نہیں بھولی تھی-
“مجھے اب صرف ایک چیز چاہیے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں- میں چاہتی ہوں میرا ایمان باقی رہے- میں مرتے وقت بھی مسلمان رہوں اور اس ایک چیزکے لیے میں باقی ہر چیز چھوڑنے کو تیار ہوں- تم چاہے تو مجھے زندگی میں اور کچھ مت دو مگر مسلمان رہنے دو-“
اس رات دعا کرتے ہوئے اس نے الله سے یہ دعا بھی کی تھی-
اگلے کئی دن وہ خاموشی سے لائبریری میں چلی جاتی اور وہاں قرآن پاک کو ترجمے سے پڑھتی رہتی، اسکے کے وجود پر چھایا ہوا جنون اور وحشت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی تھی-
اس دن سہ پہر کو وہ سب سسٹرز کے ساتھ سیر کے لیے پارک میں گئی تھی- بہت عرصے کے بعد اس نے باہر کی دنیا کو دیکھا تھا اور وہیں اس نے حدید کو بھی دیکھا تھا- وہ اس کی بات سن کر خوفزدہ ہو گئی تھی- کیا یہ جانتا ہے کہ یہ کیا کرنا چاہتا ہے- کیا اس کے علاوہ بھی ایسے لوگ ہیں جو……؟
وہ اسے تلاش کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح بھاگی تھی- وہ چاہتی تھی وہ اسے اس کام سے روک دے جو وہ کرنا چاہتا تھا اور وہ اسے تلاش نہیں کر پائی تھی-
پاؤں میں آنے والے زخم کی وجہ سے کئی دن تک وہ چل نہیں سکی تھی مگر ہر بار پاؤں میں ٹیس اٹھنے پر اسے حدید ہی کا خیال آتا تھا-
“میں الله کی نظروں میں اتنی گر گئی ہوں کہ وہ اب مجھے کوئی موقع بھی دینا نہیں چاہتا-” وہ بار بار یہی سوچتی تھی-
مگر پھر سال کی آخری رات کو چرچ میں اس نے ایک بار پھر حدید کو دیکھا تھا اور وہ بے اختیار اس کی طرف گئی تھی-
جب حدید نے اس کے پوچھنے پر اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا تو وہ جان گئی تھی اسے کس طرح حدید کو کنوینس کرنا ہے- اسے حدید سے محبت کا ڈرامہ کرنا ہے- تا کہ وہ اس کی بات سننے پر تیار ہو تا کہ وہ اسے اپنا ہمدرد سمجھے اور اس نے حدید سے محبت کا اظہار کیا تھا-
حدید کو اس کی بات پر یقین آیا تھا یا نہیں، مگر وہ خاموشی سے اس کی ہر بات سنتا اور مانتا رہا تھا- وہ جانتی تھی وہ اس سے جھوٹ بول رہی ہے، اسے ٹریپ کر رہی ہے مگر اس کے علاوہ اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا- اس وقت اسے یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ جب اس کا یہ جھوٹ کھلے گا تو کیا ہو گا-
وہ جھوٹ بول کر بہت دن حدید سے ملنے چرچ جاتی رہی تھی- اس وقت اسے یہ خوف نہیں آتا تھا کہ اگر اس کی فیملی میں سے کسی نے اسے دیکھ لیا تو کیا ہو گا- اس وقت اس کے دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار تھی- اسے حدید کو گڑھے میں گرنے سے بچانا تھا- شاید یہ نیکی اس کے اپنے گناہ کو معاف کروا دے-
پھر ایک دن حدید نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ اب اسے کیا کرنا تھا- وہ حدید کو اب کسی انتظار میں مبتلا کرنا نہیں چاہتی تھی- وہ آہستہ آہستہ اس سے اپنے رابطے ختم کرنے لگی تھی- وہ جانتی تھی کہ اب وہ کسی بھی شاک کا سامنا کرنے کے قابل ہو چکا ہے- اب پہلے کی طرح وہ مایوسی کا شکار نہیں ہو گا-
ان ہی دنوں اس کے بھائی کو عمر قیدکی سزا سنا دی گئی تھی اور اس کے کچھ عرصہ بعد ای سی ایل میں سے اس کا نام ہٹا دیا گیا تھا- باہر جانے سے پہلے اس نے بردار مالکم کو حدید کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا تھا- “اگر یہ میرے بارے میں آپ سے رابطہ قائم کرے تو آپ اس سے کہہ دیجئے گا کہ میں مر چکی ہوں-“
بردار مالکم کو اس نے حدید کے بارے میں صرف یہ بتایا تھا کہ وہ ایک دوست تھا جسے وہ بہت عرصے سے جانتی تھی مگر اب وہ اس سے کوئی رابطہ رکھنا نہیں چاہتی-
وہ یکدم حدید سے خط و کتابت کا سلسلہ ترک نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس صورت میں وہ پریشان ہو کر واپس آ سکتا تھا- امریکہ جانے کے بعد بھی وہ وہاں سے اپنی ایک دوست کو حدید کے نام کبھی کبھار کوئی خط بجھوا دیتی اور اس کی وہ دوست اس خط کو پاکستان سے پوسٹ کر دیتی-
“میں نہیں جانتی، میں نے یہ سب کیوں کیا- مجھے یہ سب کرنا چاہیے تھا یا نہیں- لیکن شاید ان دنوں میں اتنے پچھتاووں کا شکار تھی کہ بس کسی طرح…… کسی بھی قیمت پر وہ سب حاصل کر لینا چاہتی تھی جو میں نے کھو دیا تھا- ایک دن میں مسلم تھی- اگلے دن میں کچھ بھی نہیں تھی- کچھ ہونے سے کچھ نہ ہونے تک کا سفر میں نے اپنی مرضی سے طے کیا تھا- کہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی- واپسی کا سفر میں نے کانٹوں پر طے کیا ہے- واپس وہیں تک پہنچنے کے لیے مجھے کئی سال لگ گئے اور میں آج بھی یہ نہیں جانتی کہ خدا کے نزدیک میں کہاں کھڑی ہوں- جب میں نے تم کو بھی اپنا مذہب چھوڑنے کا ارادہ کرتے دیکھا تو میں نے سوچا، اگر میں تمہیں اس کام سے روک لوں تو شاید الله میرے گناہ معاف کر دے- شاید وہ میری زندگی آسان کر دے- شاید وہ…… میں مانتی ہوں اس وقت میں نے خود غرضی دکھائی تھی- میں نے سوچا تھا الله نیکی کا اجر ضرور دیتا ہے- یہاں بھی…… اور وہاں بھی- میں نے سوچا اگر میں نیکی کروں تو…… میں مانتی ہوں میں نے اس وقت بھی صرف اپنا سوچا تھا- میں یہ سب اپنے لیے کرنا چاہتی تھی، تمہارے لیے نہیں- اپنا مذہب چھوڑ کر میں جنت سے نکل آئی تھی- واپس جنت میں جانے کے لیے مجھے نیکیوں کے سہارے کی ضرورت تھی- میں نے تم سے محبت کا اظہار اس لئے کیا تھا تا کہ تم مجھ پر اعتماد کرنے لاگو، تا کہ تم یہ سمجھ لو کہ میں تمہاری محبت میں گرفتار ہوں اور اس لئے تمہیں اپنے مذہب پر قائم دیکھنا چاہتی ہوں- مجھے اس وقت تم سے محبت نہیں تھی- میں اس وقت محبت کرنے کے قابل ہی نہیں
پارک میں پھیلتی ہوئی تاریکی میں حدید نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی تھی- باغی، گناہ گار، معصوم…… یا مسیحا- اس نے اندازہ لگانا چاہا تھا
Continue…
