Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Part 2

حاصل

از عمیرہ احمد
قسط 8 پارٹ 2

“اور اب یہ کیا کہے گا؟” ثانیہ نے سر جھکائے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی-
“پچھلے چھ سال میں جس چہرے کو دیکھنے کی میں نے سب سے زیادہ خواہش کی تھی، وہ تمہارا چہرہ تھا اور آج یہاں تمہیں دیکھنے کے بعد جس چہرے کو میں کبھی دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتا، وہ بھی تمہارا چہرہ ہے- عجیب بات ہے نا-“
“ہاں ٹھیک ہے، مجھے یقین تھا یہ ایسی ہی کوئی بات کہے گا-” ثانیہ نے سوچا- “پچھلے چھ سال میں جس چہرے کو میں کبھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی، وہ تمہارا چہرہ تھا اور آج یہاں اس کمرے میں تمہیں دیکھنے کے بعد جس چہرے کو میں دوبارہ کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہتی، وہ بھی تمہارا ہی چہرہ ہے- عجیب بات ہے نا-“
اس نے سوچا تھا- اپنے اندازے کے صحیح ہونے پر اسے جیسے ایک عجیب سی خوشی ہوئی تھی- وہ اب بھی بول رہا تھا- اسی پختہ اور سرد آواز میں-
“میں لوگوں کو کبھی سمجھ نہیں سکتا اور عورت کو تو شاید بالکل بھی نہیں- میں نہیں جانتا، ہر ایک مجھے ہی دھوکا کیوں دینا چاہتا ہے- میں نے تو کبھی کسی کے لیے برا سوچا ہے نہ برا چاہا- پھر بھی…… پھر بھی پتا نہیں لوگ میرے ساتھ یہ سب کیوں کرتے ہیں-“
اپنی گود میں رکھے ہوئے دائیں ہاتھ کی پشت پر اس نے پانی کے چند قطرے گرتے دیکھے تھے اور پھر ہاتھ دھندلا گیا تھا- اس نے سر نہیں اٹھایا- اس کی آواز اب ابھی کمرے میں گونج رہی تھی-
“تمہیں یہاں اس کمرے میں دیکھنےکے بعد مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں پھر وہیں پہنچ گیا ہوں، جہاں چھ سال پہلے کھڑا تھا-“
“اور میں آج تک وہیں کھڑی ہو جہاں چھ سال پہلے تھی-“
“چھ سال پہلے تم سے ملنے کے بعد میں نے سوچا تھا، دنیا میں ابھی بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو خود غرض نہیں ہیں- جنہیں دوسروں کی پرواہ ہے- چھ سال پہلے میں نے تمہیں آئیڈیلائز کیا تھا- میں نے سوچا تھا مجھے زندگی میں تمھارے جیسا بننا ہے- آج یہاں اس کمرے میں بیٹھا میں سوچ رہا ہوں، کیا دنیا میں مجھ سے زیادہ بیوقوف کوئی اور ہو گا-“
اس کی آواز میں رنجیدگی تھی- ثانیہ کے ہاتھ پر گرنے والے پانی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا-
“پانچ سال پہلے جب میں نے واپس جا کر تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی اور مجھے پتا چلا تھا کہ تم مر چکی ہو تو میں بہت رویا تھا- مجھے لگا تھا ایک بار پھر میری دنیا ختم ہو گئی- آج تمہیں یہاں دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا تو آج ختم ہوئی ہے- میں نہیں جانتا، اس کمرے سے نکلنے کے بعد میں کیا کروں گا- میں دوبارہ کسی عورت پر اعتبار کر بھی پاؤں گا یا نہیں- تم تو بہت باتیں کیا کرتی تھی، آج خاموش کیوں ہو، کچھ کہو-“
وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا-
“تمہیں آنسوؤں جیسے ہتھیار سے سہارا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- تم تو اس کے بغیر بھی دوسروں کو منہ کے بل گرانے میں ماہر ہو-“
وہ شاید اس کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ چکا تھا- ثانیہ نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا تھا-
“میں تمہاری زندگی کی پوری کہانی میں اپنا رول سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں- تمھارے لیے میں کیا تھا، ایک Filler ایک سپورٹ یا کچھ بھی نہیں- میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم کو مجھ سے کیا چاہیے تھا- کون سی چیز تمہیں میری جانب کھینچ کر لائی تھی؟ تم نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟”
اس کے پاس سوالوں کا انبار تھا اور ثانیہ کے پاس جوابات نہیں تھے- اپنی گود میں رکھا ہوا بیگ اٹھا کر وہ کھڑی ہو گئی تھی- وہ اس کا ارادہ بھانپ گیا تھا-
“تم کہاں جا رہی ہو؟” اس نے تیزی سے پوچھا تھا.-
کرسی دھکیل کر وہ دروازے کی طرف مڑ گئی تھی- وہ لپکتا ہوا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا تھا-
“میرے سوالوں کا جواب دیے بغیر تم کیسے جا سکتی ہو؟ تم اس طرح کیسے جا سکتی ہو؟”
وہ خاموش رہی تھی-
“تم جانتی ہو، تم نے مجھے کتنا بڑا دھوکا دیا ہے؟” وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا کہہ رہا تھا-
ثانیہ نے اس کا چہرہ دیکھنے کو کوشش نہیں کی تھی- وہ اس کی جیکٹ کے کالر کو دیکھتی رہی- وہ کہہ رہا تھا-
“تم ایک بہت بڑا فراڈ ہو-” اس نے جیکٹ کے بٹن گننا شروع کر دیے تھے- “اس طرح چپ رہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم؟ ڈرامہ کا کون سا ایکٹ رہ گیا ہے جسے اب پرفارم کرنا چاہتی ہو؟”
وہ بٹن گن چکی تھی- اب دوبارہ کالرز دیکھ رہی تھی-
“کیا تم بول نہیں سکتی ہو؟” وہ اب چلا رہا تھا-
اس نے اب شرٹ کے بٹن گننے شروع کر دیے تھے اور تب اچانک اس نے اپنے دائیں بازو پر اس کے ہاتھ کی گرفت محسوس کی تھی- وہ اسے جنجھوڑ رہا تھا- بے اختیار اس نے سختی سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا دیا تھا-
“مجھے ہاتھ مت لگاؤ حدید!” اس نے بلآخر اپنی خاموشی توڑ دی تھی- حدید کا چہرہ اس کے جملے پر سرخ ہو گیا تھا-
“تمہارا وجود واقعی اتنا گندا ہے کہ میرے جیسے شخص کو ہاتھ تو کیا، اسے دیکھنا تک نہیں چاہیے-“
ثانیہ نے ایک بار پھر سر جھکا لیا تھا-
“آج ہاتھ لگانے پر اعتراض ہوا ہے، چھ سال پہلے تو……”
“چھ سال پہلے کا ذکر مت کرو- تب اور بات تھی-” ثانیہ نے اس کی بات کاٹ کر رہا تھا-
“میں جاننا چاہتا ہوں وہ ‘اور بات’ کیا تھا جس کے لئے تم نے مجھے استعمال کیا-“
“آئی ایم سوری- اگر تم میری کسی بات سے کبھی ہرٹ ہوئے تو- اب میرا راستہ چھوڑ دو، مجھے جانا ہے-“
وہ اس کی بات پر جیسے ہکا بکا رہ گیا تھا-
“تمھارے لئے یہ سب کرنا کتنا آسان ہے- آئی ایم سوری- اگر تم میری کسی بات سے کبھی ہرٹ ہوئے تو- تم نے میری زندگی کے چھ سال برباد کر دیے ہیں اور تم صرف ایک جملہ بول کر سب کی تلافی کرنا چاہتی ہو، صرف ایک جملہ بول کر- تم کیسی انسان ہو؟ تم کیسی عورت ہو؟”
ثانیہ نے سر اٹھا کر پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا- حدید کو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرتے ہوئے نظر آئے تھے-
“میں نے کب کہا کہ میں انسان ہو؟ میں نے کب کہا کہ میں عورت ہوں؟ میں تو تماشا ہوں- اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی- تماشا بننے اور دیکھنے کے لیے بڑی ہمت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں الله نے میرے مقدر میں لکھ دی ہیں- کچھ لوگوں کو الله دل آباد کرنے کے لیے بناتا ہے- کچھ کو زندگیاں برباد کرنے کے لیے- مجھے الله نے دوسرے کام کے لیے بنایا ہے- جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں، ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوئے ہوتے ہیں- وہ چاہیں یا نہ چاہیں، ان کے وجود کو کانٹا ہی بننا ہوتا ہے- وہ پھول نہیں بن سکتے- تم میرے لئے چھ سال روئے ہو، آج ایک بار اور رو لو، پھر سوچ لینا کہ میں واقعی ہی مر گئی- ساری دنیا تمھارے آگے کھلی پڑی ہے- تمھارے لیے بھی کوئی نہ کوئی ہو گا- ہر عورت میرے جیسی نہیں ہوتی اور جو ہوتی ہے اسے…… اسے حدید نہیں ملتا-“
اس نے ایک بار پھر سر جھکا لیا تھا- حدید نے اپنی پشت پر دروازہ کھلنے کی آواز سنی تھی- پروفیسر عبدالکریم اندر آ گئے تھے اور کمرے کے نظارے نے انہیں ہکا بکا کر دیا تھا- دونوں کے چہرے کے تاثرات اور ثانیہ کا بھیگا ہوا چہرہ انہیں پریشان کرنے کے لیے کافی تھا- ثانیہ بھیگی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی طرف بڑھی تھی-
“میں آپ کی مشکور ہوں- آپ نے میرے لئے بہت کچھ کیا مگر ہم ہر بار اپنی قسمت نہیں بدل سکتے- آپ نے ہمیں جس کام کے لئے ملوایا تھا وہ نہیں ہو سکتا پھر…… پھر بھی آپ کا شکریہ-“
وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی-
“زندگی اچھی چیز ہے- کیونکہ بس ایک بار ہی ملتی ہے- بار بار اس عذاب سے گزرنا نہیں پڑتا-” اس نے باہر آ کر سوچا تھا- “اور میں اگر یہ بات پہلے جان جاتی کہ یہ تیسرا شخص حدید ہے تو شاید آج کی ملاقات کی نوبت ہی نہ آتی-“
اس کو خیال آیا- پروفیسر عبدالکریم نے اسے حدید کا نام بتایا تھا لیکن ان کی انگلش میں عربی لہجہ اسے بہت سے لفظوں اور ناموں کی شناخت میں الجھن سے دوچار کر دیتا تھا- حدید کا نام بھی انہوں نے اس طرح لیا تھا کہ وہ نام کے صحیح سپیلنگ اور تلفظ کے معاملے میں کنفیوزڈ ہی رہی تھی-
اسلامک سینٹر سے باہر آنے کے بعد فٹ پاتھ پر چند قدم چلتے ہی اس نے اپنی پشت پر ایک شناسا آواز سنی تھی- وہ حدید تھا-
“میں تم سے صرف ایک بات جاننا چاہتا ہوں، صرف ایک بات-” وہ اس کے قریب آ گیا تھا-
“چھ سال پہلے میرے پاس آنے کی وجہ میری محبت تو نہیں ہو گی- تمہیں کوئی اور چیز میرے پاس لائی تھی- محبت نہیں…… ہے نا؟”
ثانیہ نے اسے دیکھا تھا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا- پوری زندگی میں اس نے کبھی کسی کے چہرے کو دن کی روشنی میں اس طرح تاریک ہوتے نہیں دیکھا تھا، جس طرح حدید کا چہرہ ہوا تھا- وہ بالکل گم صم ہو گیا تھا-
“اور مجھے یہ خوش فہمی تھی کہ…… تم مجھے صرف ایک بار یہ بتا دو کہ تم میرے پاس کس لئے آئی تھیں- تمہیں کیا چاہیے تھا- پلیز مجھے بتا دو-“
اس کے لہجے میں اب صرف افسردگی تھی، رنجیدگی تھی، التجاء تھی- پہلے والا اشتعال ختم ہو چکا تھا- ثانیہ نے کچھ کہنا چاہا پھر سر جھکا لیا-
“یار! تم کبھی ہمارے گھر بھی آ جایا کرو- دیکھو میں اتنے چکر لگا چکی ہوں تمھارے گھر کے-“
ربیکا اس دن پھر ثانیہ سے اصرار کر رہی تھی-
“ڈونٹ وری ربیکا! میں اس ویک اینڈ پر تمہاری طرف آؤں گی- میں خود بھی بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں- یہ بس اتفاق کی بات ہے کہ کوئی نہ کوئی کام پڑ جاتا ہے-” ثانیہ نے معذرت کی تھی-
“بس تو پھر طے ہے کہ اس ویک اینڈ پر تم ہماری طرف آ رہی ہو-“
ربیکا نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا تھا- “ڈیوڈ مجھے لینے کے لیے آ گیا ہے- میں جا رہی ہوں-“
اس نے کالج گیٹ کے باہر جھانکتے ہوئے کہا تھا- ثانیہ نے ربیکا کو جاتے ہوئے دیکھا تھا-
وہ دونوں کانونٹ میں اکھٹی پڑھتی تھیں مگر اس وقت دونوں الگ سیکشنز میں تھیں اور دونوں کی دوستی الگ الگ لڑکیوں سے تھی- میٹرک کرنے کے بعد جب ربیکا نے کنیئرڈ کالج میں ایڈمیشن لیا تو اس کی دو بہترین دوستوں کو اپنے پیرنٹس کے ساتھ ملک چھوڑ کر جانا پڑا- ایک اور دوست کے والد کی ٹرانسفر دوسرے شہر ہو گئی- کنیئرڈ میں غیر محسوس طور پر وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئیں- دونوں کے سبجیکٹس ایک ہی تھے اور ربیکا بہت ملنسار تھی- شروع میں ربیکا کے گروپ میں کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں مگر آہستہ آہستہ ان دونوں کی دوستی اتنی گہری ہو گئی کہ وہ دونوں ہر وقت ساتھ رہنے لگیں-
ثانیہ تین بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی- جبکہ ربیکا کی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا اور وہ دوسرے نمبر پر تھی- سب سے بڑا اس کا بھائی تھا- ربیکا کے والد ایک این جی او کے لیے کام کرتے تھے- جبکہ ثانیہ کے والد ایک نامور بزنس مین تھے- ثانیہ کی ایک بڑی بہن اور بھائی کی شادی ہو چکی تھی اور ان دنوں اس کے لئے رشتہ تلاش کیا جا رہا تھا- ان کے خاندان میں لڑکیوں کی شادی بہت جلدی کر دی جاتی تھی- ثانیہ بھی جانتی تھی کہ انٹر کرنے کے بعد اس کی شادی بھی کر دی جائے گی-
ویک اینڈ پر وہ ربیکا کے گھر گئی تھی- اسے اس کے گھر کا ماحول بہت اچھا لگا تھا- ربیکا کی ماں، باپ اور بہن بھائی سب آپس میں بہت فرینک تھے- اس نے کبھی ماں باپ اور بچوں کے درمیان اتنی دوستی نہیں دیکھی تھی- خود اس کے گھر میں بھی دوستانہ ماحول تھا مگر پھر بھی اس کے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ ویسے تعلقات نہیں تھے جیسے ربیکا کے اپنے گھر والوں کے ساتھ تھے- لاشعوری طور پر وہ سارا وقت ربیکا اور اپنے گھر والوں کا موازنہ کرتی رہی- لنچ اس نے ربیکا اور اس کی فیملی کے ساتھ کیا تھا اور ڈائننگ ٹیبل پر ایک خاص قسم کی بے تکلفی تھی-
ربیکا کے والد فرانس جوئیل بہت اچھی طبیعت کے مالک تھے- وہ لنچ کے دوران چھوٹے موٹے لطیفے سناتے رہے-
“ڈیڈی! میں کیرل کو دوبارہ گھر چھوڑنے نہیں جاؤں گا- اس کے گرینڈ فادر بہت لمبی چوڑی انویسٹی گیشن شروع کر دیتے ہیں-” لنچ پر باتیں کرتے کرتے اچانک ڈیوڈ نے اپنے باپ سے کہا تھا-
“ٹھیک ہے- کیرل کو چھوڑنے مت جانا مگر آج میرے ساتھ ثانیہ کو تو چھوڑنے جانا ہی ہو گا-” ربیکا نے اسکی بات کے جواب میں کہا تھا-
“ویسے کیرل کے دادا اتنے بھی برے نہیں ہیں- مجھے تو بہت اچھے لگتے ہیں-“
“میں نے کب کہا کہ وہ برے ہیں- پندرہ منٹ میں، میں کیرل کو گھر چھوڑتا ہوں اور اس کے دادا سے جان چھڑانے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے- میں شاید دسویں بار کیرل کو چھوڑنے گیا تھا مگر وہ ہر بار انٹرویو کا آغاز میرے نام سے کرتے ہیں اور پھر پورا بائیو ڈیٹا لینے بیٹھ جاتے ہیں- باپ اور ماں کا نام، بہن بھائیوں کی تعداد اور ان کے نام، تعلیم اور ہابیز، میرا نام، کوالیفیکیشن اور ہابیز- حتی کہ دوستوں کے نام بھی-“
وہ منہ بناتے ہوئے کہہ رہا تھا۔