Ghar Ki Murghi Daal Barabar By Meher Anmol Readelle50331 Ghar Ki Murghi Dal Barabar ( Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Ghar Ki Murghi Dal Barabar ( Episode 8)
“یار کاشف بھائی کیا مسئلہ ہے آپ کو ایک تو میں اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر آپ کے مسئلے کو حل کرنے لگا ہوا ہوں اور اپ ہے کہ کچھ سمجھ ہی نہیں رہے۔۔۔
پتہ ہے مجھے کون سے کام کاج کرتا ہے توں سارا دن دوسروں کی فیس بُک آئی ڈی پر چھاپے مارتا رہتا ہے وہ تو پتہ نہیں ان کی قسمت اچھی ہے یا پھر تیری بری جو ٹھاہ کر کے تیرے منہ پر تالا لگتا ہے جو ان کی آئی ڈی پر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اگر میری تعریف ہو گئی ہو تو آپ بتائیں گے کہ آپ کو بابا جی سے کیا مسئلہ ہے؟؟؟؟
کوئی ایک مسئلہ ہو تو بتاؤ۔۔۔
توں نے سنا نہیں اس کا منتر یہ بابا ہے یا کوئی بانڈ۔۔۔۔۔
میں اس چڑیل سے جان چھڑانے چاہتا ہوں اور وہ کمینا بابا مجھے کہتا ہے یہ منتر پڑھ کر اس چڑیل کو بلانا پھر میں وہ سرائیکی زبان میں ایک منتر پڑھ کر اس چڑیل کو قید کر لو گا۔۔۔۔۔۔۔
کیا تھا وہ دوسرا منتر لٹ جان نہ ساڈا۔۔۔۔
ارے نہیں کاشف بھائی میں بتاتا ہوں آپ کو۔۔۔
لٹ دل نہ ساڈا خوابیں وچ،
ھک واری ڈھول جگا کے لٹ.
ساکوں ڈس کے لٹ، کھل ھنس کے لٹ،
لا ہتھ مہندی، اکھیں پا کجلا،
ول زلف دے جوڑ ٹھہا کے لٹ.
لٹ شاکر ساکوں بیشک لٹ،
پر اپنڑاں یار بنڑا کے لٹ.
ہاں یہی اب توں خود ہی بتا اس کی ان حرکتوں سے یہ بابا کم اور بانڈ میراثی بلکہ ٹھرکی زیادہ لگتا ہے مطلب چڑیل کو بھی پٹانے کے چکر میں ہے۔۔۔۔
یہی تو بابا جی کی خوبی ہے کہ وہ ہر بلا خود پر لے لیتے ہیں اسی لیے تو ان کو لوگ نظرانے کے طور پر گائے بھینس بکریاں سب دے جاتے ہیں۔۔۔۔
اور آپ کو پتہ ہے بابا جی کے جانوروں کے دودھ میں اتنی طاقت ہے کہ جو بھی پیتا ہے طاقتور ہو جاتا ہے خاص کر بچے۔۔۔۔
وہ اپنے ڈاکٹر صاحب جورو کے غلام ان کے منے کا دودھ بھی یہاں سے جاتا ہے۔۔۔۔
وہ مس منہا ان کی بچیوں نے کلاس میں ٹاپ کیا ہے اور وجہ بابا جی کے جانوروں کا دودھ۔۔۔۔
جو بھی ہو مجھے نہیں کوئی کام کروانا اس بابے سے۔۔۔۔
ایک وہ چودھری کی بیٹی میری بیوی جان کھا لی ہے اپر سے آئے دن وہ مسز نوازا اس کو شوہر کو قابو کرنے کے نے نئے ہتھکنڈے بتاتی رہتی ہے۔۔۔۔۔
اس پر یہ خوابوں والی خوبصورت چڑیل بھی مجھے چمٹ گئی۔۔۔۔
اور اب سونے پے سہاگہ تو مجھے اس بابے کے پاس لے ایا۔۔۔۔
اس سے توو بہتر ہے میں اس چڑیل کے ساتھ گزارا کر لو۔۔۔۔
یہی سمجھ لو گا کہ گھر کی مرغی دال برابر ہے۔۔۔۔
چل اب یہاں سے۔۔۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔
“وعلی بچے اگر تم یہاں اپنی بہن کا حمایتی بن کر آیا ہے تو چلا جاؤ ہم فیصلہ کر چکا ہے کہ مہوش کا شادی اب شیرگل سے ہو گا۔۔۔۔۔
بابا آپ کا ہر فیصلہ سرآنکھوں پر۔۔۔
لیکن آپ ایک بار میری بات تو سن لیں اپنی رائے دینے کا حق تو سب کو ہے نہ۔۔۔۔۔
بولو۔۔۔ ۔
بابا ہمارا مہوش بہت معصوم ہے ہمیں لگتا ہے کہ اس لڑکے نے ضرور کوئی تعویذ گنڈے کیا ہے ہمارا مہوش پر۔۔۔۔
وعلی تم ان باتوں پر یقین رکھتا ہے؟؟؟
بابا ہم مسلمان ہیں ان سب چیزوں پر اور ایک اللہ پر یقین رکھتا ہے۔۔۔
آپ نے نہیں دیکھا کبھی کیسے مہوش پل میں اداس ہو جاتا ہے پل میں ہسنے لگتا ہے اور پل میں چڑچڑا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
ورنہ پہلے تو ہمارا مہوش ایسی نہیں تھی۔۔۔۔
ضرور اس لڑکے نے تعویذ کیا ہے۔۔۔۔
میں تو کہتا ہوں کہ آپ اس لڑکے کو بلائے اور پھر اس کا مرمت کرئے اگر اس سب کے بعد بھی وہ مہوش سے شادی کے لیے تیار ہے تو انعام کے طور پر اس کا شادی ہماری مہوش سے کر دے۔۔۔۔
پھر مہوش سب سنبھال لے گا۔۔۔۔۔
وعلی یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔
یہی تو بابا جب ہمارے اللّٰہ نے مہوش کو حق دیا ہے اپنی مرضی کا تو پھر ہم کیوں اللہ کے گناہگار بنے ۔۔۔۔
میری اس بات کو سوچے بابا ذات پات رنگ روپ نسل سب بے وقعت ہیں ہماری مہوش کی خوشیوں کے اگے۔۔۔۔
وعلی خان بابا کو سوچوں میں ڈوبا چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔ ۔
“کیا ہوا مشو تم اتنی پریشان کیوں ہو؟؟؟؟
یار فاطمی بابا ہمارا شادی شیرو سے کرنا چاہتا ہے اور ہم کو اس چوہے سے شادی نہیں کرنا۔۔۔۔۔
توں پریشان نہ ہو مشو میں تجھے ایک پتہ بھیجاتی ہوں توں وہاں آ جا سارے مسئلے حل کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہم ا جائے گا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
