Ghar Ki Murghi Daal Barabar By Meher Anmol Readelle50331 Ghar Ki Murghi Dal Barabr ( Last Episode )
No Download Link
Rate this Novel
Ghar Ki Murghi Dal Barabr ( Last Episode )
“تجھے تو آج میں بتاتی ہوں منحوس ماری مجھے اگل کروائے گی میرے شوہر سے۔۔۔
زری نے دلاری کو چوٹی سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔۔۔۔
باجی میری بات تو سن لیں میں نے کچھ نہیں کیا۔ ۔
میں سب جانتی ہوں موٹی بھینس جتنی توں زمین کے اوپر ہے اتنی ہی نیچے بھی ہے۔۔۔۔
سمی باجی ذرا ادھر تو آئے۔۔۔
امی عرف مسز نوازا۔۔۔۔
کیا ہوا زری اتنی پریشان کیوں ہو؟؟؟
سمی باجی یہ کاشف کو میرے خلاف زہر اُگل رہی ہے۔۔۔۔۔
اچھا تو اس موٹی چوہیا کی اتنی ہمت ہو گئی رک ابھی سیٹ کرتی ہوں میں اس کو شازیہ کے ڈنڈے سے۔۔۔۔
لو جی شازیہ جی کا ڈنڈا بھی پتہ نہیں کتنوں کی صفائی ستھرائی کا کام کرے گا۔۔۔
میں نے تو پہلے دن ہی کہا کہ اس چڑیل کو اپنے گھر اور شوہر سے دور رکھو۔۔۔۔
سمی باجی اچھی خاصی جان چھوٹ گئی تھی اس بلا سے لیکن وہ اپنے ڈاکٹر صاحب ہے نہ بہت ہی دیالو ہے پھر سے اس چڑیل کو ہمارے سروں پر سوار کر گئے۔۔۔
اللّٰہ پوچھے ڈاکٹر صاحب کو ہونہہہ۔۔۔۔
بہت شوق ہے نہ تجھے کرش کرش کا دیکھ آج بناتی ہوں تیرا کدو کش۔۔۔۔
لو جی کیا دھلائی کی ہے دلاری کی سمی باجی اور زری نے مل کر۔۔۔۔۔
کہ اس کی آنکھیں پھٹے غبارے جیسی اور سر کسی نے بم پھوڑا ہو۔۔۔۔۔
چل نکل اب میرے گھر سے بڑی آئی راج دلاری منحوس ماری۔۔۔۔
“مرشد میرے کو لگ رہا ہے کہ یہ پٹھانی پاگل ہو گئی ہے اس سے پہلے اس کو دورہ پڑے ہم نکل چلتے ہیں۔۔۔
روک کدو کے منہ والی تم کو ہم بتاتا ہے۔۔۔۔
تا سو بی کناہ کری (منہ بند کرو idiot)
مہوش غصے سے لال پیلی ہو گئی تھی۔۔۔۔
بچہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔
بابا جی گھبرائے ہوئے۔۔۔
تا نالیک ( تم لائق ) درنک بابا (ڈھونگی بابا)
ایک ہزار بکرا چاہیے تم کو آج ہم تم کو بکرے کی ران بلکہ ساتھ ہی ساتھ کراچی کا مشہور پان گٹکا بھی کھلائے گا۔۔۔۔۔
تا احمقہ (بے وقوف) زا دہ ستاسو کور ماتوم
(میں تمہارا آستانہ توڑ دوں گی )
بچے ہم کو دھمکی نہ دوں ورنہ بابا کو جلال ا جائے گا۔۔۔
ہم نکلتا ہے تمہارا سارا جلال۔۔۔
اس جھاڑو سے نکلتا ہے نہ تم لوگوں کے جن آج اسی جھاڑو سے نکلے گا ہم تم دونوں گورو چیلی کا سب کس بل۔۔۔۔۔۔
مشی میں تو تمہاری دوست ہوں نہ۔۔۔۔۔
فاطمہ صاحبہ نے بھی اپنا منہ کھولنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
د درامی پاچی (ڈراما کوئین )
تم کو کیا لگا ہم پٹھان ہے تو کو پنجابی اور اردو زبان نہیں آتا ہو گا اور تم دونوں مل کر ہم کو بیوقوف بنا لیتی۔۔۔۔۔
یہ پڑا جھاڑو بابا جی کی پشت مبارک پر۔۔۔۔
اوئی ماں۔۔۔۔
فکر نہ کرو ابھی ہم تم دونوں کو تمہارا نانی دادی سب یاد کروائے گا۔۔۔۔
کیا ہے بھائی ہم بول تو رہا ہے کہ آ رہا ہے۔۔۔۔
رکھے فون ابھی میرا دماغ خراب ہوا پڑا ہے۔۔۔۔
ابھی تو ہم جا رہا ہے لیکن ہم پھر آئے گا جب تک تم دونوں کی ہڈیوں کا سرما بنا کر آنکھوں میں نہیں لگاتا ہم کو ٹھنڈک نہیں پڑے گا۔۔۔۔
” کہاں تھی مہوش سب کب سے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔
وہ لمبائی کہانی ہے بھائی ہم بعد میں بتائیں گا۔۔۔۔
وہ نظر آ رہا ہے مجھے بچے۔۔۔۔
بابا نے تمہارا اور علی کا بات پکی کر دیا ہے۔۔۔۔
کیا سچی بھائی ہم ابھی بابا سے ملاقات کرتا ہے۔۔۔
ایک منٹ اس حلیے میں جاؤ گی اپنی ساس کے سامنے۔۔۔۔
اوہ سوری ہم ابھی آتا ہے تیار ہو کے۔۔۔۔
مہوش کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم
وعلیکم السلام ۔۔۔
صدقے جاؤں کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بہو بلکہ نہیں آج سے مہوش میری بیٹی ہے۔۔۔۔۔
شکریہ انٹی۔۔۔۔
علی نے نظروں ہی نظروں میں مہوش کی نظر اتاری تھی۔۔۔۔
سب بہت خوش تھے علی اور مہوش کی شادی طے کر دی گئی تھی۔۔۔۔
لیکن دوسری طرف بیچارہ شیرو۔۔۔۔
انکل ہمارے خاندان میں ایک رسم ہے جب شادی طے ہو جاتی ہے تو لڑکی کے بھائی مٹھائی کھلا کر اپنے بہن اور بہنوئی کو دعا دیتے ہیں۔۔۔۔
علی یہ کون سی رسم ہے؟؟؟
اماں نے علی کو گھوری ڈالی تھی۔۔۔
کوئی مسئلہ نہیں بچے۔۔۔
وعلی ادھر آؤ رسم کرو۔۔۔
انکل شیرگل بھی تو بھائی ہے نہ مہوش کا اس کو بھی بلائے۔۔۔۔
علی نے پورا انتظام کیا تھا شیرو کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا۔۔۔۔
اور یہ بات سنتے ہی شیرو میاں صدمے سے بے ہوش ہو گئے۔۔۔۔۔۔
بیچارہ شیرو گھر کی مرغی دال برابر بھی نہ رہا۔۔۔۔
لیکن سب بہت خوش اور مطمئن تھے خاص کر مہوش اور علی کیوں کی ان کی ڈوبتی کشتی کو مہوش کے بھائی وعلی نے پار لگا دیا تھا۔۔۔
اور یوں بنا دی فیس بُک نے جوڑی ایک پنجابی اور پٹھانی کی۔۔۔۔
” مرشد اے زخماں تے مرہم پٹی تے سکائی بعد وچ کرنا ایتھوں نکلن والے بنو نہیں تے اوہ بھوکی شیرنی واپس ہی نہ آ جائے۔۔۔۔۔
ہائے فاطمہ بیڑا غرق ہو اس باندری دا سارا آستانے دا خنہ خراب کر گئی تے نال اپنا وی۔۔۔۔
ویسے مرشد اے ساری غلطی تہاڈی اے آج پہلی واری تہاڈے وڈے ٹیڈ دے لالچ دی وجہ توں میڈا چھٹا وی سلامت نہیں رہیا۔۔۔۔
ہون مینوں لگدا کسے نے ضرور اوہ مثال تہاڈے واسطے دیتی اے۔۔۔
کہیڑی۔۔۔۔
پوکھے دی دھی رجی کھے وڈاون لگی۔۔۔۔
اے والی۔۔۔۔
میں فیصلہ کیتا اے اسی لاہور جاواں گے۔۔۔۔
کیوں۔۔۔
کیونکہ کہ وہاں کے لوگ بہت لائی لگ نے اپنے کم آ جان دے۔۔۔
نہیں تے فیر گجراں والا چلے جاواں گے اوتھوں دے لوگ بہت معصوم تے امیر نے۔۔۔۔
جے فیر وی گل نہ بنی تے تہاڈے آبائی شہر بہاولپور چلے جاواں گے چھوٹے موٹے دم شم کر لواں کراں گے۔۔۔۔
جو حکم تہاڈا فاطمہ پیرنی صاحبہ۔۔۔۔۔
تے ہاں مرشد اپنے اوس بھرا کیہ ناں سی۔۔۔۔
حمزہ۔۔۔۔
اس کو بتا دے کہ اگر اب یونی کی فیس یا پیٹرول کے پیسے چاہیے تو کوئی کام کرے ہمارے ساتھ تین چار مریض ہی لے آئے نہیں تے ساڈے ولوں جواب اے۔۔۔۔
صحیح کہا ہے فاطمہ صاحبہ ہون تے اپنے کھان دے لالے پین والے نیں۔۔۔۔۔۔
میں آج ہی فون کرتا ہوں اس کو۔۔۔۔
کام نہ کاج کا دشمن اناج دا۔۔۔
چلو مرشد ایتھوں چلیے۔۔۔۔
لو سفر شروع ہو گیا مرشد اور اس کی چیلی در بدر ہو گیا۔۔۔۔
ختم شدہ۔۔۔۔۔۔
