212.8K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ghar Ki Murghi Dal Barabar (Episode 9)

“مورے کچھ کرے مورے۔۔۔۔
ورنہ ماموں جان مہوش جی کا شادی اس سیالکوٹی لونڈے سے کر دے گا۔۔۔۔
مورے ہمارا شادی کروا دو مہوش جی سے۔۔ ۔
ایک تو ہم کو سمجھ نہیں آتا کہ تم کو کیا نظر آتا ہے اس مہوش چڑیل میں۔۔۔۔۔
چھوڑ دوں اس مہوش کا پیچھا
ہم تم کو اس سے بھی اچھا لڑکی لا کے دے گا۔۔۔
مورے ہم اب بچہ تو نہیں جو ایک گم ہو گیا تو آپ نیا لا دے گا۔۔۔۔
اور ویسے بھی یہاں وہ وعلی ہمارا شادی ہونے نہیں دے رہا اور کوئی اور ہم کو لڑکی دے گا نہیں۔۔۔۔۔
مورے کچھ کرے۔۔۔
کیا کرے ہم؟؟؟
جادو تعویذ گنڈے یا کسی بابے کے پاس جائے لیکن کچھ کرے ہم مہوش جی شادی منانا ہے۔۔۔۔
بس شیرگل مرد بناؤ کیا مہوش جی مہوش جی کی رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔۔۔


“بہو اری اوہ بہو بیگم کہاں ہو؟؟؟
“ضرور گیند سی فیس بُک سے چپکی ہو گی اس کی فیس بُک کا بھی کچھ کرنا ہی پڑے گا۔۔۔۔۔
اس بار اماں حضور کے ارادے بہت خطرناک تھے لیکن بہو بیگم بھی کسی سے کم نہیں تھیں۔۔۔۔
جی فرمایئے کیا کام ہے آپ کو ماں جی۔۔۔
منہا بیگم متے پر بل ڈالے حاضر ہوئی۔۔۔۔
“وہ بہو میں کہہ رہی تھی آج نہ کچھ اچھا سا بنا لینا۔۔۔
وجہ؟؟؟
وہ اصل میں نہ تیری نند اور میری بھانجی انگوری آ رہی ہے۔ابھی تھوڑی دیر پہلے بتایا اس نے مجھے۔۔۔
لو جی ایک آپ کم تھی جو اب وہ لنگوری بھی آ رہی ہے۔۔۔۔
بہو بیگم میری بھانجی کو کچھ نہ کہنا مانا کبھی کبھی تھوڑی سائکو ہو جاتی لیکن اتنی بھی بری نہیں ہے تیری تو اتنی بڑی فین ہے وہ تجھ سے سچی محبت کرتی ہے اس لیے تو جہاں بھی ہو جیسی بھی ہو وہ تیری فیس بُک پر تجھ سے محبت جتانے آ ہی جاتی ہے۔۔۔۔
جی جی سب جانتی ہوں اس لنگوری کے ڈرامے دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔۔۔۔
لیکن فکر نہیں کرے بہت اچھے سے خاطر داری کروں گی آپ کی اس لنگوری مطلب انگوری کی۔۔۔
منہا بیگم ہنستے ہوئے چلی گئی۔۔۔۔۔
ہونہہ بڑی آئی خاطر داری کرنے والی تیری ساس میں ہوں توں نہیں۔۔۔۔


“علی علییییییییییییی
” جی اماں حضور غلام حاضر ہے۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے کسی نئے نمبر سے وعلی نامی لڑکے کا فون آیا ہے۔۔۔۔
تو پھر؟؟؟؟؟
تو پھر یہ کہ وہ مہوش کا بھائی تھا۔۔۔۔۔
کیا سچی اماں؟؟؟؟
بلکل مچی۔۔۔
مہوش کے بابا نے ہمیں اپنے گھر کراچی بلوایا ہے کچھ بات چیت کرنے کے لیے۔۔۔۔۔
یس یس۔۔۔۔
علی ماں کی بات سن کر بندروں کے جیسے اچھل رہا تھا۔۔۔۔
اتنا شوخا نہ بنو بیٹے ابھی تو اس انھوں نے ملنے کے لیے بلایا ہے رشتہ نہیں دے رہے تجھے۔۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا اماں آپ کے بیٹے میں کوئی کمی ہے جو وہ مجھے رشتہ نہیں دے گے؟؟؟؟
علی شیشے میں اپنی شکل دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
دیکھوں بیٹا جی تم میری اولاد ہو ہو تم میں سو کمیاں بھی ہو تو بھی میں تمہیں نہیں بتا سکتی میں ماں ہوں تمہاری۔۔۔۔
ہاں ایک کمی بتا سکتی ہوں اور وہ ہے عقل کی کمی۔۔۔۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بیٹی کے باپ ہیں جب تک تسلی نہیں کر لیتے ہر طرف سے تب تک میں بھی کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔۔
علی کا چہرہ کسی مرجھائے ہوئے بیگن جیسا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔


“مرشد اگر تہاڈیاں ڈرامے بازیاں ختم ہو گئیں ہون تے میری گل سن لو۔۔۔۔
ارشاد کرے فاطمہ صاحبہ۔۔۔۔
میری اک سہیلی آ رہی اے تہاڈے آستانے تے بہت ہی امیر ترین اے بس تسی اوس نوں گلاں وچ والیٹنا اے۔۔۔۔۔
اوہ فکر دی کوئی گل ہی نہیں میں ایسا چونا لانا کہ اوہ پان وچ وی چونا لاوان تو ڈرے گی۔۔۔۔
مرشد زیادہ شودے نہ بنو اوہ وی بہت وڈی شہ اے۔۔۔۔
بس فاطمی اب تم بابا جی حماد شاہ رئیس کو ہلکے میں لے رہی ہو۔۔۔۔
نہ مرشد نہ تہانوں ہلکے وچ تے میں خواب وچ وی نہیں لے سکدی ماشاءاللہ تہاڈی صحت سب کچھ ظاہر کر دینی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔