Ghar Ki Murghi Daal Barabar By Meher Anmol Readelle50331 Ghar Ki Murghi Dal Baraabar ( Epsiode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Ghar Ki Murghi Dal Baraabar ( Epsiode 11)
“اماں مجھے نہیں کرنی کوئی شادی اس بندر سے۔۔۔۔
پتہ ہے اگر ان دو چڑیلوں بیا اور حیا نے اس بندر کی شکل دیکھ لی تو مزاق اڑا اڑا کر میرا جینا حرام کر دے گی دونوں چڑیل۔۔۔۔
ویسے بھی اب مجھے پڑھنا ہے اور بہت کچھ کرنا ہے اس لیے فلحال ہاتھ پیلے کرنے کا پروگرام کینسل۔۔۔۔۔
بینی جا چکی تھی اور اماں جی نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
یا اللہ شکر ہے تیرا جان بچی لاکھوں پائے لوٹ بدھو گھر کو آئے۔۔۔۔
چلو کم سے کم کسی جگہ تو یہ گھر کی مرغی دال برابر میرے کام بھی آئی اور میری بینی کو عقل آ گئی ورنہ ہر وقت شادی کا بھوت سوار رہتا تھا نعمان سے۔۔۔۔
ویسے بات تو صحیح ہے بینی کی ہے تو بندر سا میں تو کبھی نہ کرو اپنی بیٹی کی شادی اس شاپر کے ٹیڈ والے سے۔۔۔۔
” کاشف۔۔۔
سونی۔۔۔۔
کاشفففففففففففف۔۔۔۔۔۔
کک کک کون ہے کیا ہوا؟؟؟
زا زری تم۔۔۔
ہاں میں یہ خواب میں کس سونی کو پاگل بنا رہے ہیں؟؟؟
یار زری سونی نہیں سوہنی بولا ہے وہ بھی تمہیں۔۔۔
پکا سونی نہیں سوہنی بولا ہے آپ نے۔۔۔
ہاں میری ماں سوہنی ہی بولا ہے۔۔۔۔
اور ویسے بھی میں تمہیں کیوں دھوکا دوں گا یار تمہارے پیچھے کتنے پاپڑ بیلے ہیں میں نے۔۔۔۔
یہاں تک کہ تمہارے ابا کے آدمیوں سے کٹ بھی کھا چکا ہوں۔۔۔
ہاں تو میں نے تھوڑی کہا تھا کہ ڈنر پر مدعو کرے مجھے آپ کو ہی بہت شوق تھا پنڈ کے چودھری کی بیٹی سے عشق لڑانے کا اور ڈیٹ مارنے کا۔۔۔
اور تم پھر بھی میری محبت پر شک کر رہی ہو زری؟؟!
شک آپ کی محبت پر نہیں البتہ آپ کی نیت پر ضرور ہے جو کبھی بھی کہیں بھی پھسل جاتی ہے کسی کار کی فیل بریک کے جیسے۔۔۔۔
خیر آپ آرام کرے میں ذرا اس دلاری کی خاطر داری کر لوں۔۔۔
اچھا تو یہ ساری کارستانی اس دلاری بندریا کی ہے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے زری یہ دلاری مجھے کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔
کاشف نے موقعے پر چوکا مارا تھا اور اپنی باتوں سے زری کے غصے کو ہوا دے کر آتش فشاں بنا دیا۔۔۔۔
اس کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔
لوں جی اب جو دلاری کے ساتھ ہونے والا تھا اس کے لیے ایک کہاوت یوں ہے۔۔۔
“دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔۔۔۔”
چلو آج تو بال بال بچ گیا زری سے لیکن سونی کے ساتھ برگر کھانے کا مزہ بہت آیا بھلے ہی خواب میں۔۔۔۔۔۔۔
“منہا بیگم میری بات تو سنے۔۔
مجھے آپ کی کوئی بات نہیں کرنی سرتاج جائے اور کرے اپنی اس انگوری لنگوری کے ساتھ۔۔۔۔
منہااااا۔۔۔۔۔
منہا کچن میں آ گئی تھی جہاں پہلے سے لنگوری مطلب انگوری موجود دی تھی۔۔۔
اوہ منہا چائے پیو گی۔۔۔
تم اپنا سامان باندھوں اور اپنی شکل گم کروں میرے گھر سے ورنہ گردن توڑ دوں گی میں تیری نفسیاتی عورت۔۔۔
تم شاید بھول رہی ہو منہا صاحبہ یہ گھر میری پیاری خالہ اور ان کے بیٹے ببلو کا ہے اور خالہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے تو اس لحاظ سے تم بہت جلد اس گھر سے نکلنے والی ہو۔۔۔۔
بیچاری منہا آنکھوں میں آنسوں بھرے ٹوٹے دل کے ساتھ لان میں چلی گئی۔۔۔
لیکن اماں حضور یہ ساری باتیں سن چکی تھیں۔۔۔
ارے خالہ اپ کچھ چاہیے تو مجھے آواز دے دیتی چائے بناؤ آپ کے لیے۔۔۔۔
بیٹا چائے تو تجھے میں پلاؤ گی وہ بھی ایسی کہ توں یاد کرے گی۔۔ ۔
خالہ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں نہ اس جھاڑو کو رکھ دے۔۔۔۔
نہ کلموہی تیری اتنی جرات کہ توں میری بہو کو گھر سے نکلنے کی دھمکی دے۔۔
توں لے گی میری چاند جیسی بہو کی جگہ۔۔۔
ہاں شکل دیکھی توں نے اپنی لنگور کے منہ والی۔۔۔
خالہ میں تو مزاق کر رہی تھی۔۔
ہائے ہائے خالہ۔۔۔۔
لیجیے خالہ نے شروع کر دی بھانجی کی صفائی ستھرائی وہ بابا جی کے چمتکاری جھاڑو سے۔۔۔۔
چل نکل میرے گھر سے باہر بڑی آئی میری بہو بیگم کو رولانے والی۔۔۔۔
نفسیاتی عورت ہونہہ۔۔۔۔
منہا بہو۔۔۔
جی ماں جی۔۔۔
بہو دھکے دے کر نکلو اس چڑیل کو ہمارے گھر سے۔۔۔۔
اگر اب میرے گھر میں واپس آئی نہ تو تیری آنکھیں نکال کر کنچے کھیلوں گی اپنی ارحا کے ساتھ۔۔۔
لنگوری مطلب انگوری صاحبہ کے بالوں ماں جی نے ایسا بم پھوڑا ہوا تھا کہ سر کم چڑیا کا گھونسلا زیادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔
منہا بیگم نے بھی اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی تھی لنگوری پر۔۔۔۔
ماں جی آپ مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں کہ اپنی بھانجی کا چھٹا پوٹ دیا۔۔
اس سے بھی زیادہ بہو بیگم۔۔۔۔
وہ بات الگ ہے کہ تو آج بھی مجھے گیند جیسی گول مٹول لگتی ہے۔۔۔۔😜
ماں جی۔۔۔۔
دونوں ساس بہو نے ایک دوسرے کو گلے سے لگا لیا تھا۔۔
اور یہ معجزہ دیکھ کر ببلو صاحب کی حالت غیر ہو رہی تھی کیوں کی یہ محبت کچھ ہی گھنٹوں کے لیے تھی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد۔۔۔۔
ببلو بیٹے۔۔ ۔
سرتاج۔۔۔۔۔۔
ببلو صاحب ابھی ہی لیٹے تھے کہ جنگ عظیم شروع بھی ہو گئی۔۔۔
یہ ساس بہو نہیں سدھر سکتی۔۔
لوگ تو پھر بھی گھر کی مرغی کو دال برابر لے لیتے ہیں میں دال کے دانے کے برابر بھی نہیں ان دونوں کے لیے۔۔
ببلو نے سر ہاتھوں میں گرا لیا۔۔ ۔۔۔۔۔
” وعلی مہوش کو بولو وہ باہر نہیں آئے جب تک ہم بات نہیں کر لیتے۔۔۔
بابا آپ فکر نہیں کرے مہوش گھر نہیں ہے اپنی کسی دوست کے گھر گئی ہے۔۔۔
اس سے پہلے کہ آپ کوئی بھی فیصلہ کریں بھائی صاحب مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔
جی بہن بولے۔۔
بھائی میں سمجھ سکتی ہوں کہ ہمارے بچوں سے بہت بڑی غلطی کی ہے اور میں بہت شرمندہ ہوں کیوں کی مجھے لگتا ہے میرے بیٹے کی غلطی زیادہ ہے میں بھی بیٹی والی ہوں۔۔۔۔
بہن آپ کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اس لحاظ سے تو ہم بھی شرمندہ ہے آپ سے۔۔۔۔
بابا آنٹی جب آپ لوگ ایک دوسرے کی بات کو سمجھ رہےہیں تو میرا خیال ہے کہ ہمیں سب باتوں کو بھلا کر ایک نئی شروعات کرنی چاہیے۔۔
اور مہوش اور وعلی کو شادی جیسے خوبصورت بندھن میں بندھ دینا چاہیے۔۔۔۔۔
دور کونے میں کھڑا شیرو عرف شیر گل اپنی قسمت کو کوس رہا تھا۔۔۔۔
کہ کاش وہ کسی بابے کے پاس چلا جاتا تو مہوش اس کی ہوتی۔۔۔۔
سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا اور مہوش اور علی کی بات بھی پکی کر دی گئی تھی۔۔۔
بیٹا مہوش بیٹی کہاں ہے؟؟؟
علی کی ماں نے پوچھا تھا۔۔۔
اصل میں آنٹی مہوش باہر گئی اس کو نہیں پتہ تھا کہ آپ لوگ آج گھر آ رہے ہیں۔۔۔
میں فون کرتا ہوں اس کو۔۔
جی ٹھیک ہے بیٹے۔۔
بیل جا رہی تھی۔۔۔
ہیلو۔۔
کہاں ہو مشی بچے جلدی گھر آؤ۔۔۔
بھائی کیا بات ہے؟؟
بچے گھر پر علی اور اس کی اماں آئی ہیں جلدی گھر آؤ۔۔
کیا سچی بھائی؟؟؟
ہاں نہ سچی۔۔۔
ہم تھوڑی دیر میں آ رہا ہے بھائی لیکن پہلے کسی کے ہوش ٹھکانے لگا لیں۔۔۔
“سچی ایمو ماں جی نے تو میرا دل خوش کر دیا اس بندریا لنگوری کی دھلائی کر کے۔۔۔۔
ہائے کاخ مینو تیری ساس کے جیسے میری اماں بھی میری بھابیوں ہور فاطمہ اور انم بذوئ کی کٹ لگا دے تو مزہ آ جائے۔۔۔۔
اچھا مینو میں بعد میں فون کرتی ہوں بھابھی کی کال آ رہی ہے۔۔۔
ہائے اللہ سچی بھابھی گوچی کی برینڈڈ لان کی سیل لگی ہے۔۔۔
ہاں ایمو تیری قسم۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر بھابھی میں لگاتی ہوں کوئی جگاڑ آپ کی طرف آنے کا۔۔۔۔۔
اس کو کہتے ہے۔۔۔۔
” صرف تند ہی نہیں پوری کی پوری تنی بگڑی ہوئی ہے۔۔۔۔”
پنجابی کی کہاوت ہے۔۔۔۔
