Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Nadan (Episode 23)

Dill e Nadan by Khanzadi

یہ سامان میں لے آوں گی آپ جائیں۔۔۔۔جیسے ہی گھر پہنچے ذمل گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے بولی۔

کیوں؟

میں لے جاوں گا۔۔۔۔

تم چاہتی ہو اب مجھے ڈیڈ سے اس بات پر بھی ڈانٹ ملے؟

نہی۔۔۔۔ذمل نے سر نفی میں ہلایا۔

تم بس ایک کام کرو،یہ گاڑی کی کیز ڈیڈ کو دے آو باقی میں مینیج کر لوں گا۔

اور ہاں۔۔۔۔۔مسز خان کے منہ لگنے کی ضرورت نہی۔

ڈیڈ کو کیز دو اور جلدی اوپر آ جاو۔

ذمل افسردگی میں سر ہلاتے ہوئے اندر چلی گئی۔

اسلام و علیکم۔۔۔۔ذمل جیسے ہی اندر آئی مسز خان سامنے ہی بیٹھی تھیں ٹی وی لاونج میں۔

مجبوراً ذمل کو ان کا سامنا کرنا ہی پڑا۔

وعلیکم اسلام۔۔۔۔مسز خان نے سلام کا جواب دیا۔

Good job!

وہ طنزیہ تالی بجاتے ہوئی ذمل کے پاس آ رکیں۔

بہت خوب۔۔۔۔۔

تم نے وہ کر دکھایا جس کی امید بھی نہی تھی۔

کتنے اچھے انداز میں موسیٰ پر اپنے حکم چلا رہی ہو،واہ۔۔۔۔

کتنی جلدی تمہیں بیوی مان لیا اس نے۔۔۔خوب سلیقہ مند ہو۔

چند دنوں میں اتنا پیار بڑھ گیا ہے کہ ہنی مون پر جا رہے ہو۔

خوب فائدہ اٹھایا ہے تم نے ہماری ہمدردی کا۔

تمہارے ماں باپ کی عزت بچانے کی خاطر خان صاحب نے تمہارے سر پر ہاتھ کیا رکھا تم تو ہمارے سر پر ہی چڑھنے لگی ہو۔

اڑ لو جتنا اڑنا ہے ہواوں میں مگر یاد رکھنا آنا تو زمین پر ہی ہے۔

اپنی اوقات مت بھولنا کیونکہ جس کے دم پر تم اڑ رہی ہو ناں وہ ایک سیکنڈ نہی لگائے گا تمہیں زمین پر پھینکنے میں۔

جاو اب یہاں سے۔۔۔۔۔اور یہ چابی دو مجھے کوئی ضروت نہی خان صاحب کے کمرے میں جانے کی۔

مسز خان نے ذمل کے ہاتھ سے گاڑی کی کیز کھینچ لیں۔

ذمل شرمندگی سے سر جھکائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

اپنے کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہانے لگی۔۔۔۔تب ہی موسیٰ کمرے میں آیا۔

ذمل جلدی سے الماری کی طرف بڑھی اور آنسو پونچھنے لگی۔

بیگ میرے کمرے میں ہے۔۔۔۔لے لینا اور صبح تک پیکنگ کر لینا۔

ورنہ مجھے۔۔۔۔موسیٰ بات کرتے کرتے رکا اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔

کمرے کا دروازہ لاک کیا اور تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھا،جیسے ہی پردہ ہٹایا آنکھیں غصے سے سرخ ہونے لگیں۔

کیوں آئی ہو یہاں؟

منع کیا تھا میں نے کہ میں اکیلا نہی ہوں اب،میری شادی ہو چکی ہے۔۔ذمل ہے میرے ساتھ۔

رمشا تم سمجھتی کیوں نہی ہو؟

کیوں اپنی زندگی برباد کر رہی ہو؟

Because I love you….

وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔

اور میں تم سے نفرت۔۔۔۔

اب تم یہ غلط فہمی اپنے دل سے نکال دو کہ میری شادی تم سے ہو گی۔۔۔ایسا کسی صورت ممکن نہی ہے۔

ذمل میری بیوی بن چکی ہے۔

تم اپنا دل کسی اور سے لگاو۔۔۔۔اور کہہ دو ممانی جان کو کہ ان کی یہ دلی خواہش کبھی پوری نہی ہو سکتی۔

یہ لاسٹ وارننگ ہے تمہیں۔۔۔۔آئیندہ اس کمرے میں مت آنا رمشا۔۔۔۔۔ورنہ اب کی بار میں معاف نہی کروں گا۔

ماموں جان کو تمہاری ساری حرکتوں کا بتا دوں گا۔

اوہو موسیٰ پلیز۔۔۔۔۔

مجھے بار بار ڈیڈ کی دھمکی مت دیا کرو۔

اور رہی بات تمہاری بیوی کی تو وہ تو مجھے اچھی طرح نظر آ رہا ہے کہ تم اسے کس حد تک بیوی مان چکے ہو۔

اگر تم اسے بیوی مان چکے ہوتے تو تم دونوں کے کمرے الگ نہ ہوتے۔۔۔۔۔

تو تم مجھے پاگل بنانا بند کر دو یار۔۔۔

میں جانتی ہوں ذمل کو زبردستی تمہارے گلے باندھا گیا ہے ورنہ کہاں تم اور کہاں وہ۔۔۔۔۔

اس کی اوقات نہی تمہاری بیوی بننے کی۔

Shut up…..

موسیٰ غصے سے اس کی طرف بڑھا۔

ذمل کے بارے میں ایک بھی لفظ برداشت نہی کروں گا میں۔۔۔۔۔

وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔کم ازکم تمہارے جیسی تو بلکل بھی نہی ہے جو ہر رات نامحرم کے کمرے میں گزارتی ہے۔

وہ تو میرا ظرف ہے جو تمہاری جانب قدم نہی بڑھایا ورنہ تم بے حیائی کی ساری حدیں پار کر چکی ہو۔

اب چلی جاو یہاں سے ورنہ اچھا نہی ہو گا۔۔۔۔

اوہ۔۔۔۔میرا معصوم بچہ۔۔۔۔۔اتنے معصوم ہو نہی تم جتنے بن رہے ہو۔

لگتا ہے بھول گئے وہ رات۔۔۔۔۔وہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔

چلو میں یاد دلا دیتی ہوں۔

یہ دیکھو وہ تصویریں جب تم میری قربت میں تھے۔

دکھاوں یہ سب پھوپھا جان کو؟

اور تمہاری پیاری بیوی کو؟

موسی نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچ لیا اور ساری تصویریں ڈیلیٹ کر دیں۔

چچچچچچچ۔۔۔۔۔یہاں سے تو کر دی ختم مگر میرے پاس تو سیو ہیں۔۔۔۔۔

یہ تصویریں تم نے دھوکے سے بنائی تھیں اور اس وقت میں ہوش میں نہی تھا۔

ان تصویروں میں کوئی سچائی نہی ہے رمشا۔۔۔تم مجھے بلیک میل کرنا بند کر دو۔

جس کو بھی دکھانی ہیں دکھا دو۔۔۔۔۔

I don’t care….

لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہو گا اس میں۔

باقی تم سمجھدار ہو۔۔۔۔

یہ اپنا فون لو اور دفعہ ہو جاو یہاں سے،آئیندہ اپنی شکل مت دکھانا مجھے۔۔۔۔۔۔

یہ تو نا ممکن ہے موسیٰ۔۔۔میں تمہارا پیچھا اتنی آسانی سے نہی چھوڑنے والی۔

تم اتنی آسانی سے مجھے راستے سے نہی ہٹا سکتے۔

اگر کوئی راستے سے ہٹے گا تو وہ ہے ذمل۔۔۔جو ہمارے درمیان آئی ہے۔

پھوپھا جان نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر تو سائن نہی کیے تھے نکاح نامے پر۔۔

تم مجھے بے وقوف بنانا بند کرو اب!

اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات اتنی آسانی سے مان جاوں گی تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔

رمشا خان نام ہے میرا،یاد رکھنا۔

نانی نہ یاد کرا دی تو پھر کہنا۔۔۔۔

ہاں نانی سے یاد آیا۔۔۔۔آپ کی پیاری نانو اور میری دادو بہت شدت سے آپ کو یاد کر رہی ہیں،کوشش کرو کہ جلدی ان سے ملاقات کر لو تا کہ اسی بہانے مجھے بھی چند لمحے آپ کے پہلو میں گزارنے کا شرف حاصل ہو جائے۔

کیا خیال ہے؟

ہے نہ گڈ آئیڈیا؟

تھک گئی ہوں میں یوں چھپ چھپ کر مل کر،مجھ سے نہی ہوتا اب یہ۔

میں آزادی چاہتی ہوں۔۔۔۔

ایسی آزادی جس میں تم میری محبت میں قید ہو کر خود کو میرے نام کر دو۔

کسی کا ڈر نہ ہو،اور نہ ہی ہمارے درمیان کوئی دیوار ہو۔۔۔۔۔

میں کھل کر سانس لینا چاہتی ہوں۔

سب کے سامنے تمہارا ہاتھ تھامنا چاہتی ہوں،بتانا چاہتی ہوں سب کو کہ تم میرے لیے کیا ہو۔۔۔۔۔

اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتی ہوں،پوری دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ تم بس میرے ہو۔۔۔۔

تو کب آ رہے ہو تم گھر۔۔۔۔۔؟

“میرے پاس وقت نہی ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔میں م۔۔۔۔

موسی کہنے ہی والا تھا کہ مری جا رہا ہوں مگر اسی پل خیال آیا نہی۔۔۔اسے نہی بتانا ورنہ یہ وہاں بھی پہنچ جائے گی۔

نانو سے کہہ دو آوں گا میں بہت جلد۔۔۔۔

اب تم جاو یہاں سے پلیز۔۔۔۔۔

ابھی موسیٰ بولا ہی تھا کہ دروازہ بجا۔

اس نے گھبرا کر رمشا کی طرف دیکھا۔

بدلے میں رمشا مسکرا دی،جا رہی ہوں۔۔۔آنکھ دبا کر ٹیرس والے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

ٹیرس کی پچھلی سائیڈ پر سیڑھیاں تھیں جو گھر کی پچھلی سائیڈ پر موجود خوبصورت پھولوں کی کیاریوں کے درمیان اترتی تھیں اور وہی پر گھر کا پچھلا گیٹ تھا جو رمشا کے آنے جانے کا زریعہ تھا۔

رمشا نے اچھی طرح ادھر ادھر دیکھا اور گیٹ سے باہر نکل گئی۔

جیسے ہی رمشا کمرے سے باہر نکلی موسیٰ خود کو ریلیکس کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

سامنے ذمل کھڑی تھی۔

اس وقت دروازہ بند کیوں کیا آپ نے؟

یہ بھی کوئی وقت ہے سونے کا؟

نہی میں سو نہی رہا تھا بس یونہی۔۔۔۔شاید غلطی سے لاک کر دیا تھا۔

کسی سے بات کر رہے تھے آپ۔۔۔؟؟؟

نننہہی۔۔۔۔نہی تو۔۔۔میں تو کسی سے بات نہی کر رہا تھا۔

کیوں کیا ہوا؟

کچھ نہی میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی آپ کی آواز آ رہی تھی تو مجھے لگا شاید آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے کمرے میں،میرا مطلب مجھے لگا آپ کے کوئی دوست وغیرہ آئیں ہیں تو سوچا آپ سے کھانے کا پوچھ لوں۔۔۔۔

میرے دوست یہاں کیوں آئیں گے؟

اور اگر آ بھی جائیں تو تمہیں کیا ضروت پڑی ہے کہ ان کے لیے کھانا بناو؟

اپنے کام سے کام رکھا کرو تم!

دفع ہو جاو اپنے کمرے میں۔۔۔۔اور یاد رکھنا دوبارہ اگر میرے کمرے کا دروازہ بند ہو تو ناک کرنے کی ضرورت نہی ہے۔

ذمل تو بس اس کا منہ دیکھتی رہ گئی،ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے جو ان کو اتنا غصہ آ گیا۔

وہ آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھتی ہوئی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

دروازہ بند کر کے آنسو بہانے لگی۔

پہلے مسز خان اور اب موسیٰ دونوں نے کوئی کثر نہی چھوڑی اس کی عزتِ نفس مجروح کرنے میں۔

وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی،دل چاہ رہا تھا کہ یہاں سے کہی دور چلی جائے جہاں بس وہ ہو اور اس کی تنہائی ہو۔

“سسرال میں بیوی کی عزت شوہر کے دم سے ہوتی ہے،اسی کے سہارے وہ سب کے تلخ لہجے مسکرا کر برداشت کر لیتی ہے مگر جب شوہر خود بیوی کی عزت نفس مجروح کر دے تو وہ ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور خود کو بہت بے بس محسوس کرنے لگتی ہے،،

ایسے میں اگر اسے کوئی سنبھال سکتا ہے تو وہ “اللہ” کی ذات ہے۔

“اللہ” ہی اسے ایسے حالات میں اسے خود کو سنبھالنے اور حالات سے نمٹنے کی ہمت دیتی ہے اور وہ صبر کا دامن تھام لیتی ہے تو اور بے شک

“اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”

بیوی کا صبر آہستہ آہستہ اس کے شوہر کے دل میں محبت کی صورت اختیار کرتا رہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *