Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Nadan (Episode 03)

ذمل کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں اسے اس حالت میں دیکھ کر اور موسیٰ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

وہ اپنا ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہٹا مگر پھر سے واپس پلٹا۔

ذمل ابھی سنبھل کر اٹھنے ہی والی تھی کہ پھر سے تکیے پر گر گئی۔

“لڑکی۔۔۔۔اور وہ بھی میرے کمرے میں؟

موسیٰ نے جیسے خود سے ہی سوال کیا۔

کون ہو تم؟

وہ پیچھے ہٹا اور ذمل کا بازو کھینچ کر اسے بٹھا دیا۔

ذمل اس آفت پر تڑپ کر رہ رہ گئی اور اپنا بازو مسلنے لگی۔

بہری ہو کیا’میں نے پوچھا کون ہو تم؟

اب کی بار موسیٰ کی آواز تھوڑی اونچی تھی۔

ذمل ڈر کر پیچھے ہٹی اور بیڈ سے نیچے اتر کر دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔

موسیٰ اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے دروازے پر موجود تھا۔

چچچچچوررررررر۔۔۔۔۔۔۔ذمل نے چلانا چاہا مگر چلا نہ سکی۔

کیا کہا تم نے؟

میں تمہیں چور نظر آتا ہوں؟

اس نے غصے سے ذمل کا بازو تھام کر اپنی طرف کھینچا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ذمل اس کے سینے سے جا لگی۔

خود کو سنبھالتی ہوئی پیچھے ہٹی اور اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگے۔

مجھے جانے دیں۔۔۔میں نے کچھ نہی کیا۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے آنسو بہاتے ہوئے بولی۔

تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں ایسے ہی جانے دوں گا؟؟؟

نہی۔۔۔۔جب تک تم مجھے بتا نہی دیتی اپنے یہاں آنے کا مقصد،تب تک یہاں سے نہی جا سکتی۔

کیا چرانے آئی تھی یہاں؟

کککچھ نہی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔

“غلط فہمی اور وہ بھی مجھے!

موسیٰ خان کوئی سکول جانے والا بچہ نہی جو تمہاری ایسی بات پر یقین کر لے گا۔

موسیٰ خان کے نام پر ذمل نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

اسے یاد آیا کہ میرا آج نکاح ہوا ہے موسیٰ سے مگر اس کا اپنے ساتھ رویہ دیکھ کر اسے بہت افسوس ہوا۔

ذمل نے ایک ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کیا۔

“میں آپ کی زبرستی کی بیوی ذمل ہوں’آج آپ کا نکاح جس بدقسمت سے ہوا وہ میں ہی ہو۔۔۔اتنا بول کر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی۔

کون بیوی؟

موسیٰ کے سوال پر ذمل کو جیسے کرنٹ لگا وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگی۔

وہ بڑے غرور سے اپنی بات بول کر بیڈ کی طرف بڑھا اپنی شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔

Get out!

ذمل اپنی جگہ پر کھڑی آنسو بہاتی رہی۔

I say Get out from my room…

وہ غصے سے ذمل کی طرف پلٹا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے دروزے تک لے گیا۔

اسے کمرے سے باہر نکالا مگر پھر رک گیا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے آگے بڑھا۔

اسے سیڑھیوں کی طرف دھکیل کر پورشن کا دروازہ لاک کر دیا۔

شرٹ اتار کر ٹی وی لاونج کے صوفے پر پھینکی اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

لائٹ آف کی اور آرام سے بیڈ پر لیٹ گیا۔

ذمل بے یقینی سے بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔

چند پل لگے اسے سنبھلنے میں کہ اس کے شوہر نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا ہے۔

وہ بے بس سی وہی سیڑھیوں پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی دیوار سے ٹیک لگائے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔

مسز خان نے صبح ہدہ کو ملازمہ کے ساتھ ذمل اور موسیٰ کے لیے ناشتہ دے کر بھیجا،بس شوہر کے سامنے اچھا بننے کے لیے ورنہ تو وہ خان صاحب کی غیر موجودگی میں کبھی موسیٰ کو پانی تک نہی ہوچھتی تھیں۔

مام،ڈیڈ۔۔۔۔جلدی آئیں بھابی سیڑھیوں میں بے ہوش پڑی ہیں۔

ہدہ کی آواز پر وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف دوڑے۔

ذمل سیڑھیوں میں گری ہوئی تھی ہواس سے بیگانی۔

مسز خان نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے ہلایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور سب کو سامنے دیکھ کر چونک گئی۔

یہ تو بلکل ٹھیک ہے مسز شاہ نے کُن اکھیوں سے ہدہ کی طرف دیکھا۔

نہی مام وہ بھابی سیڑھیوں میں لیٹی تھی تو مجھے لگا بے ہوش ہیں۔

ویسے بھی سیڑھیاں سونے کے لیے تھوڑی ہوتی ہیں ہے ناں بھابی؟

جی۔۔۔ذمل نے سر جھکائے مختصر جواب دیا۔

یہ موسیٰ کا کام ہے،خان صاحب آگے بڑھے اور غصے سے دروازہ پیٹنے لگے۔

بدتمیزی کی بھی انتہا کر دی ہے آج اس لڑکے نے۔

نہی انکل ایسی کوئی بات نہی ہے،ذمل پھر بھی اس کے حق میں بول رہی تھی۔

آپ لوگ جائیں نیچے میں آ رہا ہوں۔

خان صاحب کی آواز پر وہ دونوں ماں،بیٹی نیچے چلی گئیں اور ساتھ ملازمہ بھی۔

________________________________________

سورج کی تپش آنکھوں پر پڑی تو کاشف آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور نا چاہتے ہوئے بھی گھر کی طرف چل دیا۔

گھر پہنچا تو ماں اور بہنیں اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔

عائشہ بھی وہی بیٹھی تھی۔

کہاں تھے تم ساری رات؟

اس کی اماں غصے سے بولیں۔

کاشف نے ان کی بات کا کوئی جواب نہی دیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

میری بات کا جواب نہی دیا کاشف؟

وہ غصے سے اس کے پیچھے چل دیں۔

میرے پاس آپ کے کسی سوال کا کوئی جواب نہی ہے اماں،الماری کھول کر اپنے کپڑے نکالتے ہوئے بولا۔

اس کمرے میں سارا سامان ذمل کے جہیز کا تھا وہ الماری کھولتے ہی سوچ میں گُم ہو گیا۔

اس اور ذمل کے کپڑے سامنے تھے جو اس نے ذمل سے ویڈیو کال پر دکھا دکھا کر سیٹ کیے تھے۔

اب ماں کو اس طرح ٹارچر کرو گے تم؟

وہ اپنی ہی یادوں میں پھر سے گُم ہو چکا تھا مگر ماں کی آواز پر الماری بند کر کے واپس پلٹا۔

یہ سارا سامان پیک کروا دیں واپس بھجوانا ہے ذمل کے گھر وہ ماں کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔

بس اس لڑکی کی فکر ہے تمہیں!

ماں کی کوئی قدر نہی ہے،عاشی کا سوچو وہ بیچاری ساری رات نہی سوئی تمہاری فکر میں اور تمہیں ابھی بھی ذمل کی فکر ہے۔

وہ لڑکی تیری قسمت میں تھی ہی نہی اگر ہوتی تو تجھے مل جاتی۔

جو ملی ہے اس کی قدر کرو۔

آپ کی بہو ہے آپ ہیں ناں اس کی قدر کرنے کے لیے۔۔۔۔مجھے اس معاملے میں مت گھسیٹیں۔

عاشی سے میرا رشتہ بس کاغذی ہے میں نے اسے دل سے قبول نہی کیا اور نہ ہی کبھی کر سکوں گا۔

بہتر یہی ہے کہ آپ میرے سامنے عاشی کا ذکر مت کریں اور رہی بات ذمل کی تو اس کے بارے میں ایک بھی لفظ نہی سنوں گا میں۔

میرے اپنے سگے رشتوں نے جو کھیل میرے ساتھ کھیلا ہے یہ میں ساری زندگی نہی بھول سکتا۔

عاشی کو کیسے خوش رکھنا ہے یہ آپ کی زمہ داری ہے میری نہی۔۔۔آپ ہی اسے اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں میں نہی۔

تو اب کریں اپنی بہو کی خدمتیں۔۔۔۔میری خوشیاں تو چھین لیں آپ لوگوں نے مجھ سے۔

اب میرے پاس کچھ نہی آپ لوگوں کو دینے کے لیے،سب ہار چکا ہوں میں۔

میری خوشیاں ہار گئیں اور آپ کی ضد جیت گئی۔

اب مجھے میرے غم پر ماتم کرنے سے مت روکیں۔

وہ ماں کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کاشف کی اماں سر تھام کر بیٹھ گئیں مگر جب ان کی نظر دروازے پر کھڑی عاشی پر پڑی تو جلدی سے اس کی طرف بڑھیں۔

تم فکر مت کرو آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا کاشف،پتہ نہی کیا جادو کیا ہے اس جادوگرنی نے میرے بھولے بھالے بیٹے پر۔

آو تم یہاں بیٹھو۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ کر طرف بڑھیں مگر عاشی نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

نہی خالہ یہ سیج ذمل کے نام کی ہے میری نہی۔۔وہ آنسو بہاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

________________________________________

مسلسل دستک پر آخر کار دروازہ کھل ہی گیا۔موسیٰ آنکھیں مسلتا ہوا دروازہ کھول کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔

آو بیٹا۔۔۔۔۔خان صاحب ذمل کو ساتھ لیے اندر داخل ہوئے۔

کیا ہو گیا ہے آپ کو صبح صبح؟

نیند خراب کر دی ہے میری۔

خان صاحب نے افسردگی سے اس کی طرف دیکھا اور صوفے سے شرٹ اٹھا کر اس کی طرف پھینکی،

شرٹ پہنو۔۔۔۔۔ان کا لہجہ غصے والا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *