Dill e Nadan by Khanzadi NovelR50483

Dill e Nadan by Khanzadi NovelR50483 Last updated: 28 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill e Nadan by Khanzadi

Novel code: NovelR50483

"لڑکی۔۔۔۔اور وہ بھی میرے کمرے میں؟
موسیٰ نے جیسے خود سے ہی سوال کیا۔
کون ہو تم؟
وہ پیچھے ہٹا اور ذمل کا بازو کھینچ کر اسے بٹھا دیا۔
ذمل اس آفت پر تڑپ کر رہ رہ گئی اور اپنا بازو مسلنے لگی۔
بہری ہو کیا'میں نے پوچھا کون ہو تم؟
اب کی بار موسیٰ کی آواز تھوڑی اونچی تھی۔
ذمل ڈر کر پیچھے ہٹی اور بیڈ سے نیچے اتر کر دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔
موسیٰ اس کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے دروازے پر موجود تھا۔
چچچچچوررررررر۔۔۔۔۔۔۔ذمل نے چلانا چاہا مگر چلا نہ سکی۔
کیا کہا تم نے؟
میں تمہیں چور نظر آتا ہوں؟
اس نے غصے سے ذمل کا بازو تھام کر اپنی طرف کھینچا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ذمل اس کے سینے سے جا لگی۔
خود کو سنبھالتی ہوئی پیچھے ہٹی اور اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگے۔
مجھے جانے دیں۔۔۔میں نے کچھ نہی کیا۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے آنسو بہاتے ہوئے بولی۔
تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں ایسے ہی جانے دوں گا؟؟؟
نہی۔۔۔۔جب تک تم مجھے بتا نہی دیتی اپنے یہاں آنے کا مقصد،تب تک یہاں سے نہی جا سکتی۔
کیا چرانے آئی تھی یہاں؟
کککچھ نہی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
"غلط فہمی اور وہ بھی مجھے!
موسیٰ خان کوئی سکول جانے والا بچہ نہی جو تمہاری ایسی بات پر یقین کر لے گا۔
موسیٰ خان کے نام پر ذمل نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
اسے یاد آیا کہ میرا آج نکاح ہوا ہے موسیٰ سے مگر اس کا اپنے ساتھ رویہ دیکھ کر اسے بہت افسوس ہوا۔
ذمل نے ایک ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کیا۔
"میں آپ کی زبرستی کی بیوی ذمل ہوں'آج آپ کا نکاح جس بدقسمت سے ہوا وہ میں ہی ہو۔۔۔اتنا بول کر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے لگی۔
کون بیوی؟
موسیٰ کے سوال پر ذمل کو جیسے کرنٹ لگا وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
وہ بڑے غرور سے اپنی بات بول کر بیڈ کی طرف بڑھا اپنی شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔
Get out!
ذمل اپنی جگہ پر کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
I say Get out from my room...
وہ غصے سے ذمل کی طرف پلٹا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے دروزے تک لے گیا۔
اسے کمرے سے باہر نکالا مگر پھر رک گیا اور اسے بازو سے کھینچتے ہوئے آگے بڑھا۔
اسے سیڑھیوں کی طرف دھکیل کر پورشن کا دروازہ لاک کر دیا۔
شرٹ اتار کر ٹی وی لاونج کے صوفے پر پھینکی اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
لائٹ آف کی اور آرام سے بیڈ پر لیٹ گیا۔
ذمل بے یقینی سے بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔
چند پل لگے اسے سنبھلنے میں کہ اس کے شوہر نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا ہے۔
وہ بے بس سی وہی سیڑھیوں پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی دیوار سے ٹیک لگائے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔

Genre

  • Romantic Fiction

  • Emotional Romance

  • Social Issues

  • Drama

Urdu Romantic Novel

Summary

Dil-e-Nadan by Khanzadi is a deeply emotional Urdu romantic novel that explores innocent love, misunderstandings, and the harsh realities of society. The story revolves around sensitive hearts who love purely but are tested by fate, family pressure, and painful circumstances. As emotions clash with ego and trust is shaken, the novel beautifully portrays sacrifice, regret, and the true meaning of love. With strong emotional depth and relatable characters, Dil-e-Nadan captures the journey of a naive heart learning life’s hardest lessons.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *