Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Benaam Rishta By Husny Kanwal

میں بہت نروس ہوگٸ تھی انھیں دیکھ۔۔۔آج تک صرف انھیں دور سے دیکھا تھا۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے بچے آسمان پر ستاروں کو دیکھتےہیں۔۔۔۔وہ ستارے کی مانند ہی تو تھے میرے لیے۔۔۔۔ مگر ان جیسے امیر و کبیر بزنس مین کا رشتہ ہماری محلے کی امبر باجی سے ٹکرایا کیسے ؟؟۔۔میں یہی الجھی ہوٸی تھی۔۔۔ امی نے بتایا تھا کے وہ اچھے کھاتے پیتے گھرانوں کے لڑکوں سے رشتے کراتی ہیں۔۔۔ مگر اتنے اچھے۔۔۔ اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اف۔۔۔میں تو بےہوش ہونے کو تھی۔۔۔ناجانے کیوں میرے قدم ان کے پاس پہنچتے ہی لڑکھڑا گۓ۔۔۔اور میں دھڑام کر کے ان کے قدموں میں گرٸی۔۔۔ ”ششش۔۔۔کرا لی بےعزتی۔۔۔“میں خودی پر غصہ ہوٸی تھی۔۔۔ " لینڈنگ ہو تو ایسی ہو۔۔۔ ڈائریکٹ پاؤوں میں بندے کے۔۔۔" میں جیسے خود پر ہی طنز کر رہی تھی۔۔۔ ”ٹھیک تو ہیں آپ؟؟۔۔“وہ فورا ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر۔۔۔میرے دنوں بازو تھام کر مجھے اٹھانے لگے۔۔۔۔ میں بہت شرمسار ہوگٸ تھی اپنی اس بےوقوفانہ انٹری پر۔۔۔۔ ”ہیلو باس۔۔۔“ٹیبل پر مکمل خاموشی طاری رہی دو تین منٹ تک۔۔۔جس کے سبب میں مزید امبریس فیل کررہی تھی۔۔۔۔سوچا کچھ بات شروع کرٶں۔۔تاکے یہ اکوڈنس تو کم ہو۔۔۔۔اس لیے انھیں رسمی طور پر ہیلو کہا۔۔۔مگر ساتھ ساتھ عادت کے مطابق کم بخت زبان سے باس کا لفظ بھی پھسل گیا۔۔۔ مجھے یقین تھا انھیں تو علم بھی نہیں ہوگا کے میں ان کے کمپنی میں انجینئرنگ ڈیمارٹمنٹ میں کام کرنے والی ورکر ہوں۔۔۔ ”باس؟؟۔۔“ان کی آواز نہایت بھرم دار تھی جیسے ان کی خوبصورت پرسنیلٹی۔۔۔ وہ کالے رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس تھے۔۔۔۔اندر کی شرٹ سفید چمک رہی تھی۔۔۔اس پر کالی ٹاٸی ۔۔۔جسے وہ اپنے نارمل انداز میں ہلکا سہ ڈھیلا کرنے لگے۔۔۔ سفید کلاٸی پر بندھی سلور واچ خاصہ جج رہی تھی۔۔۔۔ ان کے قدموں میں گرنے کے سبب بلیک جوتوں کا بھی دیدار کرلیا تھا میں نے۔۔۔ قریب سے آج پہلی بار دیکھ رہی تھی میں انھیں۔۔۔ وہ یونانی شہزادوں جیسے حسین و جمیل نوجوان تھے۔۔۔ ان کے بولنے کے انداز سے محسوس ہوا جیسے بڑے مغرور ہوں۔۔۔ انھوں نے چھوٹی آنکھیں کر۔۔۔بغور مجھے دیکھ۔۔۔۔الجھے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔ ”وہ ۔۔۔مجھے لگتا ہے شاید آپ غلط ٹیبل پر بیٹھ گٸے ہیں باس۔۔۔“میں نے نظر جھکاکر۔۔۔۔تیزی سے ایک سانس میں کہا۔۔۔۔ ان کی پرسنلٹی بڑی رعبدار تھی حالانکہ ابھی تک انھوں نے کچھ خاص بات بھی نہ کی تھی۔۔۔ پھر بھی میں اپنے ہاتھ اور پاؤں کو کپکپانے سے نہیں روک پا رہی تھی۔۔۔ ”نہیں۔۔۔میں وہیں بیٹھا ہوں مس لاٸبہ جہاں مجھے ہونا چاہیے۔۔۔“خاصہ مطمٸن لہجے میں جواب دیا انھوں نے ۔۔۔ساتھ ساتھ ان کی نگاہیں میرے ہی وجود پر ٹکی تھیں۔۔۔جس کے سبب میں پہلے سے زیادہ نروس ہونے لگی۔۔۔ ان کے نام لینے کے سبب اب مجھے یقین ہوچلا تھا کے ہاں وہ میرے لیے ہی یہاں آۓ ہوۓ ہیں۔۔۔۔ ہمارے درمیان پھر پانچ منٹ کی خاموشی کا سلسلہ چلا۔۔۔۔ یہ کیسا رشتہ طے پارہا تھا ہمارے درمیان۔۔۔جس میں نہ وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے اور نہ میں پوچھنے کی ہمت کر پارہی تھی۔۔۔ ”کیا آپ جانتے ہیں میں آپ کے کمپنی میں جاب کرتی ہوں؟؟۔۔۔“بڑی مشکل سے ہمت کر کے۔۔۔یہ سوال کرہی لیا تھا میں نے۔۔۔ناجانے کیوں بڑا اشتیاق تھا مجھے یہ جاننے کا ۔۔۔کے کیا وہ مجھے جانتے ہیں۔۔۔ کبھی دیکھا ہے انھوں نے مجھے۔۔۔۔ ”بالکل۔۔۔“فقط ایک لفظی جواب اور پھر ماحول پر خاموشی کے ساۓ منڈلانے لگے۔۔۔۔ پھر وہ اپنے سیل میں مگن ہوگٸے۔۔۔اتنی دیر میں ویٹر آرڈر لے آیا۔ شاید پہلے سے آرڈر کررکھا تھا باس نے۔۔۔ باس کو مجھ جیسی عام شکل و صورت کی لڑکی کہاں پسند آۓ گی۔۔یہی سوچ میرا منہ لٹک گیا۔۔۔۔ ویٹرز نے پوری ٹیبل کھانوں سے سجا دی۔۔۔۔ اتنے کھانے۔۔۔۔ ان کا بل کون بھرۓ گا؟؟۔۔میرا ایک ہی میل فرینڈ ہے۔۔۔وہ اور میں جب بھی ساتھ ڈنر یا لنچ کرتے ہیں پیسے آدھے آدھے کرتے ہیں۔۔۔مگر یہاں تو آدھے بھی بھرٶں تو پورے تین ماہ کی سیلری لگ جاۓ گی۔۔۔اتنے تو پیسے بھی نہیں رکھ کر لاٸی میں اپنے ساتھ۔۔۔۔ ”شروع کریں۔۔۔“انھوں نے بڑے مہذب انداز میں کانٹا چمچہ اٹھاتے کہا۔۔۔جب کے میں نے صرف پانی کے گلاس پر اکتفا کرنے کا سوچا۔۔ میری نظریں تو ان ہی پر ٹک گٸیں تھیں۔۔۔ہاۓ کتنی چارمنگ پرسنلٹی تھی ان کی۔۔۔کھانا بھی کتنے سلیقے سے کھا رہے تھے۔۔۔ جبکہ مجھے تو ان کانٹوں چھری سے سوائے لڑنے کے اور کچھ نہیں آتا تھا۔۔۔ میں نے نروس سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ ۔۔پانی کا گلاس اٹھایا۔۔۔مگر ہاۓ رے میری قسمت۔۔۔۔وہ پانی کا گلاس میرے لرزتے ہاتھوں کے سبب۔۔۔ میرے کپڑوں پر گر گیا۔۔۔ ”آہ۔۔۔سوری سوری۔۔“میں فورا معذرت کرتی۔۔۔ کھڑی ہوکر ۔۔اپنی بلیک میکسی پر سے پانی جھاڑنے لگی۔۔ اب تو شدت سے دکھ ہورہا تھا مجھے یہاں آنے پر۔۔۔۔ وہ ضرور دل ہی دل سوچ رہے ہوں گے کے کیا نمونی ہے۔۔۔۔بچی کچی عزت کا بھی فالودہ کرا لیا تھا میں نے۔۔۔۔ ”میں ابھی آتی ہوں۔۔۔“مجھے رونا آنے لگا تھا مارے شرمندگی کے۔۔۔۔فورا ہی ان سے اسکیوز کر کے میں واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔ دل میں بڑی شدت سے خیال آیا کے یہیں سے بھاگ جاٶں۔۔۔ان کے سامنے پھر سے جانے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔۔۔لیکن ایسے بھاگ جانا بھی تو اچھا نہیں لگتا۔۔۔ لہذا بڑی مجبور ہوکر ۔۔۔میں دوبارا ان کے سامنے پہنچی۔۔۔۔ ”آپ نے پڑھاٸی کہاں سے کی ہے؟؟۔۔۔“چلو شکر۔۔۔کوٸی تو بات کی۔۔۔کچھ تو پوچھا میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔میں یہی سوچ تھوڑا نارمل ہوٸی۔۔۔ ”وہ۔۔۔میں۔۔۔۔۔“میں اور نروسنس۔۔۔ان کی آنکھیں مجھ پر ٹکی ہیں۔۔ یہ دیکھ میں اس قدر نروس ہوگٸ کے اپنی ہی یونیورسٹی کا نام بھول بیٹھی۔۔۔ہاۓ کیسی بونگی ہوں میں۔۔۔ اتنا زور دے رہی تھی ذہن پر۔۔۔مگر مجال ہے ذہن کچھ کام کرجاۓ۔۔۔لیکن غلطی میری نہیں۔۔انھیں پتا ہونا چاہیے کتنے ڈیولش ہینڈسم ہیں وہ۔۔۔۔اب اتنا ہینڈسم بندہ اتنے قریب سے بیٹھ کر دیکھے گا تومیں تو کیا۔۔۔ کوٸی بھی گھبرا جاۓ۔۔۔ ”آپ کو میں پسند ہوں؟“مجھے بوکھلاہٹ کا شکار دیکھ۔۔۔انھوں نے سوال بدلا۔۔۔ اگلا سوالا مجھے حیرانگی کی اتہا گہرائیوں میں اتار گیا۔۔۔ایسے پہلی ہی ملاقعات میں کون پوچھتا ہے؟۔۔۔وہ بھی اتنے سنجیدہ لہجے میں۔۔۔ انکے سوال پر جہاں میری آنکھوں میں حیرت ابھری تھی وہیں دوسری جانب گال از خود گلابی گلابی سے ہوگٸے تھے۔۔۔۔میں بلش کرنے لگی۔۔۔ ”تو میں ہاں سمجھوں؟۔۔۔“ایک گہرا سانس لیتے جب وہ بولے۔۔تو مجھے مزید حیرت کے غوطے کھلا گٸے۔۔۔۔ میں تو صرف اس وقت اپنا دل سنبھال رہی تھی۔۔۔جو اتنی زور سے دھڑکا تھا ان کے سوال پر۔۔۔جیسے باہر ہی نکل آۓ گا۔۔ مجھے لگا جیسے وہ بہت جلدبازی کررہے ہوں۔۔۔مگر میں بول نہ سکی۔۔۔ ”چلیں۔۔۔“وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔ مجھے کہہ لینے دیں۔۔۔سب کچھ بہت عجیب تھا۔۔۔اس بندے نے میرے بارے میں ٹھیک سے کچھ پوچھا تک نہیں۔۔ میں کیا کرتی۔۔۔چپ چاپ ان کے ساتھ کھڑی ہوگٸ۔۔۔ ان کے چہرے پر کوٸی تاثر نہ تھا۔۔۔جسے دیکھ محسوس ہو۔۔ کے انھیں میں پسند آٸی ہوں۔۔۔۔ میں چپ چاپ پلٹی ۔۔۔ابھی اپنی سوچوں میں مگن چل رہی تھی کے اچانک میرا سر ریسٹورینٹ کے شیشے کے دروازے سے دھڑام سے ٹکرایا۔۔۔ ”آہ۔۔۔“میں نے اپنا سر مسلتے پیچھے دیکھا کے کسی نے دیکھا تو نہیں۔۔۔شرمندگی مزید بڑھی یہ دیکھ۔۔۔ کے میرے باس پیچھے ہی کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے۔۔۔ ”ڈیمٹ۔۔۔آج کا دن ہی خراب ہے۔۔۔“میں شرمگی سے ہلکا سہ مسکراتی۔۔۔واپس منہ موڑ کر تیزی سے دروازہ کھول کر ریسٹورینٹ سے نکلی۔۔۔ مجھے اس لمحے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔ ہم دونوں اپنی اپنی منزلوں کی جانب چل دیے۔۔۔مجھے پورا اعتماد تھا اپنی پرسنیلٹی پر۔۔۔کے کسی بندے نے پسند کرنا ہی نہیں پھر وہ تو اربوں کھربوں پتی بندہ تھا وہ پسند کرلے مجھے۔۔۔ناممکن۔۔اس لیے میں نے جواب کی بھی کوٸی امید نہ رکھی۔۔۔۔

 

COMPLETE DOWNLOD PDF LINK AVAILABLE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *