Atish E Ishq By Syeda Readelle50263

Atish E Ishq By Syeda Readelle50263

Last updated:

1.0(1 ratings)
Episodes
15
Views
85.1K
Status
—

About this novel

Atish E Ishq By Syeda

کون سا پولیس والا تھا۔۔۔۔۔خان بابا تھانے میں تھے بیا بھی انکے ساتھ تھی لیکن وه انکے پیچھے چھپ کر کھڑی تھی۔۔۔۔خان بابا نے تھانے میں ادھر ادھر کام کرتے پولیس والوں کو دیکھتے ہوۓ بیا سے پوچھا۔۔۔۔۔
وه ہے۔۔۔۔جو وہاں چیر پہ بیٹھا فائل پڑھ رہا ہے بیا نے فائل میں مصروف ورقہ کو دیکھتے ہوۓ کہا
بیا بی بی یہ تو دیکھنے میں اتنا ہٹاکٹا لگ رہا ہے میں کیا بولوں گا۔۔۔۔نہیں نہیں میں نہیں کر سکتا بات جا رہا ہوں خان واپس ڈر کر پلٹنے لگے
کیا کر رہیں بائیک نہیں لینی۔۔۔بیا نے واپس انکو پکڑ کے آگے دہکیلا۔۔۔۔
اگر مجھے کچھ ہوا نہ تو آپ ذمدار ہونگی۔۔۔۔
ارے آپ کیوں مجھے ڈرا رہیں چلیں نہ بیا نے رونے والا منہ بنا کر کہا
دونوں ورقہ کے قریب آے بیا ابھی بھی خان بابا کے پیچھے ہی تھی
السلام علیکم!خان بابا نے ورقہ کو سلام کیا جو فائل میں میں مصروف تھا خان بابا کی آواز پہ انکی طرف مخاطب ہوا
وعلیکم السلام۔۔۔جی بولیں
سر وه صبح آپ نے بائیک۔۔۔۔۔۔خان بابا سے آگے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا
جی بائیک۔۔۔۔۔ورقہ نے انکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
وه۔۔۔سر وه۔۔۔۔ارے ہٹیں آپ سے کچھ ہوتا بیا بلکول اچانک پیچھے سے نکلی ۔۔۔۔
ورقہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا
دیکھیں سر۔۔۔مجھے سے غلطی ہوگی۔۔۔بائیک خان بابا کی تھی میں شوق میں لے کر نکل گئی پلز واپس دے دیں بائیک۔۔۔۔۔بیا نے معصومیت سے کہا
دیکھیں آپ چچا۔۔۔۔۔آپ کو خیال ہونا چاہیے۔۔۔۔اگر میری گاڑی کے بجاے یہ کسی اور کی گاڑی ٹھوک دیتی تو کیا ہوتا آپ کو اندازہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
جی سر میں جانتا اب میں کیا کروں انکا سنتی نہیں ہیں۔۔۔۔
توبہ توبہ!خان بابا آپ یہاں بھی شروع ہوگے بیا نے کمر پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
دیکھائیں بی بی پولیس سٹیشن ہے یہ۔۔۔۔۔ورقہ نے تھوڑی سختی سے کہا
کیا ہوگیا ورقہ صاحب۔۔۔۔بیا کچھ کہتی اس سے پہلے بیا کو اپنے پیچھے سے آواز آئی
کچھ نہیں ہوا ملک صاحب آپ جا سکھتے ہیں۔۔۔۔۔ورقہ نے خشک لہجے میں کہا
آپ بتائیں کیا ہوا مس۔۔۔۔۔وه بیا کے قریب آکر عجیب انداز میں پوچھنے لگا
وه بیا کے اور قریب آتا اس سے پہلے ورقہ نے بیا کا ہاتھ پکڑ کے پیچھے کیا اور خود اسکی جگہ پر کھڑا ہوگیا
ملک تجھے بہت دفع کہا ہے پھر کہہ رہا ہوں میرے معاملے میں مت ٹانگ اڑایا کر ورقہ نے دانت پیستے ہوۓ غصہ سے کہا
احمد!۔۔۔احمد۔۔۔ورقہ نے احمد کو آواز دی احمد بھاگتے ہوۓ آیا
احمد انکی بائیک دو اور جب تک یہ چلے نہ جائیں انکو دیکھنا۔۔۔۔۔وه دیکھ ملک کی طرف رہا تھا لیکن بول احمد سے رہا تھا
جی سر۔۔۔میڈم چلیں بیا جاتے جاتے بھی موڑ کر ورقہ کو دیکھ رہی تھی
______________

Episodes

Atish E Ishq (Episode 01)

Atish E Ishq By Syeda

پتا نہیں آغاجان مانیں گے کے نہیں وه پریشانی میں ادھر ادھر ٹھل رہی تھی۔۔۔۔۔۔تبھی کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔۔

لالا! کیا ہوا۔۔۔۔وه بھاگتی ہوئی بھائی کے پاس گئی۔۔۔۔

ارے سانسوں تو لینے دو۔۔۔۔!!!

آپ کی سانسوں لینے تک میری سانسیں چلی جائیں گی بولیں نہ۔۔۔۔۔!!!!

ارے میری!بہن۔۔۔۔ایسا ہو سکتا ہے تم نہیں اپنے لالا سے کچھ کہا ہو اور وه پورا نہ کرے۔۔۔۔!روحان نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ پیار سے کہا

مجھے پتا ہے بھائی اس پورے جہاں میں ایک آپ ہی ہیں جو میری بات کا مان رکھتے ہیں ۔۔۔۔

ہاں تو میری پیاری سی حفصہ آغا جان تمہارے کراچی جانے پہ مان گئیں ہیں۔۔۔۔۔

کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں ہائے! میرا آگے پڑھنے کا خواب پورا ہو گیا۔۔۔۔۔وه خوشی سے اچھلنے لگی

ارے بات تو پوری سنوں میری۔۔۔بیٹھو ادھر۔۔۔۔روحان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے واپس بیٹھایا۔۔۔۔

تم اس حویلی کی قانون اور آغا جان سے واقف ہو تم جانتی ہو تمھیں کراچی پڑھنے بھیجنے کے حق میں میرے اور مور (امی) کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔آغا جان نے اجازت دے تو ہے لیکن یاد رکھنا تمہاری ذرا سی غلطی پہ کیا ہوگا۔۔۔۔اس کا تمھیں پتا ہے۔۔۔۔روحان نے فکر بھرے لہجے میں کہا

لالا میں جانتی ہو۔۔۔۔میں ایسا کوئی کام نہیں کرونگی جس کی وجہ سے آغا جان کا غضب مجھے دیکھنا پڑے۔۔۔۔

مجھے یقین ہے تم پہ اب جاؤں تیاری کرو ہم شام تک نکلے گئیں۔۔۔۔روحان کہہ کر چلا گیا

______________

لگتا ہے آج تو یہ گیا۔۔۔۔احمد اپنے تھانے کے دوسرے کانسٹیبل کے ساتھ اندر سے آنے والی چیخوں پہ تبصرہ کر رہا تھا

مجھے بھی یہی لگتا ہے یا تو سر اس کی زبان کھلوئیں گے یا تو بیچارہ زبان سے محروم ہو جائے گا۔۔۔۔

چپ ہو جاؤ سر آرہے ہیں۔۔۔۔احمد نے ساتھ کھڑے خلیل کو آنکھ دیکھا کر چپ کروایا۔۔۔۔

احمد پانی دو۔۔۔وه حکم دے کر اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔

سر یہ لیں احمد نے جلدی سے ٹھنڈا پانی اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔سر میں اےسی چلاتا ہوں۔۔۔۔۔

ہاں چلا دو ویسی بہت گرمی لگ رہی ہے اس ذلیل کی وجہ سے بہت ڈھیٹ ہے اتنی مار کے بعد زبان کھولی اپنی۔۔۔۔۔اس نے گلاس رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

لیکن سر۔۔۔ہم سب کو پتا تھا جتنا ڈھیٹ انسان کیوں نہ ہو آپ زبان کھلوانا جانتے ہیں۔۔۔۔۔

ہاں پتا ہے مجھے۔۔۔۔اب یہ بتاؤ وه۔۔۔ بے حیا آدمی کہاں ہیں۔۔۔۔؟

سر انکا تو پورے تھانے کو پتا ہے۔۔۔مصروف ہونگے کسی کے ساتھ۔۔۔۔

ہاں میرا بس چلے تو سب سے پہلے اسی کو پکڑوں۔۔۔۔اور الٹا لٹکا کر ماروں۔۔۔۔۔اسنے دانت پسیتے ہوۓ کہا

سر وه دن بھی آے گا۔۔۔۔!!!

إنشاءاللّه ۔۔۔۔احمد چلو ذرا گشت کر کے آتے ہیں وه کہہ کر باہر گاڑی کے جانب چلا گیا۔۔۔۔۔۔

____________

آغا جان دیکھ لیں آپ روحان کے کہنے پہ بھیج رہے ہیں اگر کوئی مسلہ ہوا تو برادری میں ہمارا نام خراب ہوگا۔۔۔۔

تمھیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔میں ایسی ہی نام خراب ہونے دونگا اپنا اگر لڑکی نے کچھ بھی ایسا کیا جس سے میری عزت اور نام کو خطرہ ہو میں گولی نہیں مار دونگا اسے۔۔۔۔۔آغا جان کو اپنے نام اور عزت کے علاوہ کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی

اگر بھائی جان زندہ ہوتے تو وه کبھی اس طرح حفصہ کو پڑھنے جانے نا دیتے اور روحان کی وجہ سے ہم نے اسے بارہ جماعت تک پڑھنے دیا کافی نہیں ہے یہ۔۔۔۔۔نواب خان نے کہا

چچا! میری بہن کو اگر پڑھنے کا شوق ہے تو ضرور پڑھے گی میں نے آغا جان سے بات کر لی ہے آپ کیوں زبردستی انکا فیصلہ بدلنے پہ تولے ہوۓ ہیں۔۔۔۔روحان جو آغا جان سے بات کرنے آرہا تھا اپنے چچا کی بتائیں سن کر انکو جواب دیا۔۔۔۔۔۔

آغا جان شاید روحان بھول گیا ہے کے تمیز سے کیسے بات کرتے ہیں۔۔۔۔ہم نے اسے پڑھنے باہر کیا بھیجا اس کا تو دماغ نہیں ملتا اب۔۔۔۔۔۔نواب خان غصہ سے آنکھیں نکلتے ہوۓ کہا

افسوس۔۔۔۔۔بہت افسوس آپ لوگ نا جانے یہ کیوں سمجھتے ہیں کے زیادہ تعلیم انسان کو بدتمیز بنا دیتی ہوئی۔۔۔تعلیم شعور پیدا کرتی ہے اور جو میں کر رہا ہوں یا بول رہا ہوں یہ سب اس ہی شعور کی وجہ سے ہے۔۔۔۔!

آغا جان دیکھ رہے ہیں یہ کل کا لڑکا ہمیں سکھا رہا ہے۔۔۔۔۔!!!!

جب آپ لوگ کو علم نا ہو تو ہم کل کے ہی لڑکوں کو سیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

روحان۔۔۔۔!!!!تمیز کے دائرے میں رہو آغا جان کی آواز کمرے میں گونجی

روحان بنا کچھ بولے خاموشی سے چلا گیا۔۔۔۔۔!!!

آغا جان لکھ لیں میری بات اپنے غلط کیا ہے۔۔۔۔۔اگر آج وه جا رہی ہے تو کل کو کوئی اور گھر سے لڑکی کھڑی ہو جائے گی۔۔۔۔۔نواب خان کو بلکول برداشت نہیں ہو رہا تھا کے حفصہ کراچی پڑھنے جائے

تم پریشان نا ہو اگر اگلی بار کسی نے جانے کی ضد کی اور روحان نے حمایت کی تو تو چلی تو جائے گی لیکن واپس نہیں آے گی۔۔۔۔۔۔

________________

دیکھ !!!!کیوں تو دشمن بنی ہوئی ہے خود کی جانے دے واپس چل۔۔۔۔۔۔بیچاری ثنا اسکی منتیں کر رہی تھی

لیکن وه بھی کہاں روکنے والی تھی ہاتھ میں راڈ لئے پارکنگ میں گاڑی ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

ابے یار تجھے ہوسٹل میں ہی چھوڑ کر آنا چاہیے تھا. . . . اسکی ہمت کیسے ہوئی میری بے عزتی کرنے کی اب دیکھ۔۔۔۔۔وه کہہ بھی رہی تھی اور گاڑی بھی ڈھونڈ رہی تھی

مل گئی مل گئی چل۔۔۔۔!!!!اسنے ثنا کا ہاتھ پکڑا اور کار کے سامنے روکی۔۔۔۔

دیکھ لے کچھ ہوا نا۔۔۔۔۔ابے تو منہ بند کر ویسی منحوس زبان ہے اب مجھے میرا کام کرنے دے۔۔۔۔۔۔وه آگے بڑھی اور کار کے سارے شیشے تھوڑ دیے

اب پتا چلے گا تجھےکس سے پنگا لیا ہے۔۔۔۔اسنے فخر سے کہا جیسے کتنا بڑا کام کیا ہو

چل اب بھگ اسنے ثنا کا ہاتھ پکڑا اور دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔۔

___________

احمد گاڑی روکو۔۔۔۔۔!!!!ورقہ نے باہر دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

سر آپ اکثر اس یونیورسٹی کا باہر گاڑی کیوں روکوا دیتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!احمد کو بہت تجسّس تھا

احمد۔۔۔۔۔!!!!تم۔ نہیں سمجھو گے۔۔۔۔۔۔نا جانے وه یونیورسٹی کے گیٹ کے جانب دیکھتے ہوۓ کس کا انتظار کر رہا تھا

لگتا جی کوئی بہت خاص رشتہ ہے۔۔۔۔۔

ہم۔۔۔۔۔خاص بہت خاص اتنا خاص کے کبھی بھی آزاد نہیں ہو سکتا میں۔۔۔۔ورقہ نا جانے کس دھن میں کہہ رہا تھا

احمد کے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔۔

چلو۔۔۔۔۔اب۔۔۔اسنے احمد سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 1 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Forced marriageRomantic Urdu NovelsSuspenseUrdu Novels