95.3K
3

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(aam larki) last episode

سویرا نے مدد کرنے کی نیت سے سر اثابت میں ہلایا اور اندر جا کر اس کی بہن کو بلا لائی۔ روحیل نے بڑی سی مسکان کے ساتھ سویرا کا شکریہ ادا کیا۔ سویرا اپنے جانب اس کی بڑھتی دلچسپی جانچ گئی پر بظاہر انجان بنی رہی۔ لاشعوری طور پر سویرا اس کے جانب اٹریکٹ ہونے لگی اور روز گیٹ کے پاس کھڑی ہوجایا کرتی۔ روحیل نے جب سویرا کی یہ ادا نوٹ کی تو ہاں کا اشارہ سمجھ کر اسے دوستی کی آفر دی جس پر سویرا انکار نہیں کر پائی۔ سویرا کی صبح روحیل کے میسج سے شروع ہوتی اور رات اس سے بات کرتے ڈھلتی۔ وہ روحیل کے ساتھ محبت کے نئے رنگوں سے روشناس ہونے لگی۔ یہ کچھ عرصہ سویرا اب تک کے عمر کے حسین لمحات میں سے تھا۔ گھر کے مکینوں کی بے توجہی سے اکتا کر اس نے نامحرم سے جوشی منسوب کر لی۔ وہ اپنے دکھ پریشانیوں کے ازالے روحیل کو پا کر تصور کرنے لگی تھی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں توجہ صرف لڑکوں کو دی جاتی ہے۔ بیٹے کی پڑھائی بیٹے کی پوشاک اس کے دوست و احباب بیٹے کی نوکری اور رہن سہن۔ بیٹی کو کیوں پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا اس کے جذبات نہیں ہوتے؟؟ کیا اسے توجہ کی اچھے تعلیم اور فیملی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی؟؟ پر افسوس ہمارے معاشرے میں بیٹے کو توجہ کئی گنا زیادہ دی جاتی ہے بہ نسبت بیٹی کے۔ اپنی ساری محرومیاں فراموش کر کے سویرا دن سے رات روحیل کی یادوں میں کھوئی رہتی۔ روحیل نے اول تو اس کے مزاج اچھے سے معائنے کئے اور پھر ایک دن محتاط انداز میں سویرا سے تصویر طلب کی۔ وہ متذبذب سی ہوگئی اور اسے انکار کرنے لگی۔
“ضد نہ کریں روحیل۔۔۔۔ میں بالکل خوبصورت نہیں ہوں۔۔۔۔” سویرا نے دل گرفتگی سے میسج بھیجا تھا۔
“میری جان تم میرے لیے سب سے زیادہ خوبصورت ہو ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔۔ پلیزز مجھے تمہیں دیکھنا ہے۔۔۔۔ تم جیسی بھی ہو بہت پیاری ہو۔۔۔۔” روحیل کا جوابی میسج پڑھ کر سویرا کی ہمت بندھ گئی اور اس نے جھجھکتے ہوئے بال سوار کر ڈوپٹہ سر پر لیے مسکراتے ہوئے پک لی اور لب بھینجے روحیل کو پک وٹس اپ کر دی۔
کچھ دیر بعد اس کا ریپلائے آیا اور وہ ڈوپٹہ سر پر سے ہٹانے کی ریکویسٹ پر اڑ گیا تھا۔ سویرا نے بہت منع کیا پر وہ ناراضگی اختیار کر کے بیٹھ گیا۔ سویرا نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی ریکویسٹ مان لی۔ اس کا نفس اسے ملامت کرنے لگا لیکن روحیل کے چھوڑ جانے کے خوف سے وہ اس کی ریکویسٹ ماننے پر راضی ہوگئی۔ روحیل کی یہ ضد صرف یہی تک محدود نہیں رہی کچھ عرصہ بعد وہ اس سے بے لباس تصاویر کی مانگ کر بیٹھا جس پر سویرا کا دل خنجر سے چیر دینے کے مانند لہو لہان ہوگیا۔ اس نے محبت کے آگے اپنے عزت نفس کی دیوار کھڑی کر کے اس فرمائش کی تردد کی۔ روحیل کی محبت اس کی عزت سے بڑھ کر تو نہیں تھی۔ وہ دہل کر رہ گئی پر اس حد تک بڑھ جانے پر راضی نہ ہوئی جس پر روحیل اور سویرا کا جاصا جھگڑا بھی ہوا اور روحیل نے اسے بلاک کر دیا۔ سویرا کی روح تک نشتر سے چیر دی گئی تھی۔ کیا یہ محبت ہوتی ہے؟؟ کیا اسے پیار کہتے ہیں؟؟ محبت میں پہلی شرط تو اس کی عزت کرنا اسے تحفظ دینا ہوتا ہے پھر یہ کیسی محبت تھی جو خود اس کی عزت پامال کرنے پر تلا ہوا تھا۔ ایسے ہزار سوال اس کے دماغ میں گھر کرنے لگے۔ پیار یہ تو نہیں ہوتا۔ محبت میں تو عزت کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے۔ عورت کے مرضی کے بغیر اس کے پاس جانا تو قرآن کریم میں بھی منع فرمایا گیا ہے پھر یہ کہاں کی ریت تھی۔ یہ کونسی محبت تھی جس کا آغاز ہی رسوائی سے ہو۔ تین سے چار دن تک بلاک رہ کر تو سویرا نے صبر کر لیا تھا پر مزید اسے روحیل کی یاد بے قرار کرنے لگی وہ گھٹ گھٹ کر جینے لگی صبح شام اس کے دماغ پر روحیل سوار رہتا اس کے میسج کے انتظار میں وہ ایک ایک سیکنڈ بعد موبائل اٹھا کر دیکھتی اور نا امید ہو کر واپس رکھ دیتی۔ سویرا کا نہ گھر کے کاموں میں دل لگ رہا تھا نہ پڑھائی میں۔ بالآخر ایک ہفتے کی ناراضگی کے بعد روحیل کا میسج موصول ہوا۔ سویرا کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس سے بات کرتے وہ جذباتی ہو کر رو پڑی تھی۔
“پلیز روحیل مجھے چھوڑ کر مت جانا میں جی نہیں پاوں گی۔۔۔۔ یہ ایک ہفتہ میں نے کس اذیت میں گزارا ہے یہ صرف میں جانتی ہوں۔۔۔۔ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔” وہ کال پر روتے ہوئے اپنے پیار کی دہائیاں دیتی رہی اور روحیل معذرت خواہاں انداز میں مناتا رہا۔
زندگی پھر سے اسی معمول پر لوٹتی نظر آرہی تھی۔ رشتہ تو ایک آدھ اس کے گھر آجاتا تھا کچھ کو بابا جان انکار کر دیتے تو کچھ پہلی ہی ملاقات میں سویرا کو دیکھ کر دوبارہ اس دہلیز کا رخ نہ کرتے۔ ولیجہ بھابھی کے لیے سویرا اپنے راستے کا کانٹا بننے لگی تھی۔ ان کی خواہش تھی بدر اس کے میکے کے قریب الگ گھر لیں دے پر بدر کا کہنا ہوتا کہ ماں باپ اور کنواری بہن کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا اور پھر سویرا کا جہیز بھی بنانا ہے۔ ولیجہ اس بات پر ہر وقت منہ بنائے بے مروتی کا مظاہرہ کرتی اور سویرا یہ کڑوا گھونٹ پی کر رہ جاتی۔ چوبیس کا ہونے پر سویرا کا ایم اے مکمل ہوگیا اور اگلے دن اس نے یونیورسٹی میں روحیل سے ملنے کا پلان بنایا۔ روحیل آ تو گیا لیکن بے باکی سے رخ پھیرے بیٹھا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اس کے دوست اسے کسی نقاب پوش لڑکی کے ساتھ دیکھ کر سوال کرے۔ روحیل کی اس فرمائش پر سویرا نے ملاقات مختصر کر کے سیدھے مدعے کی بات شروع کی۔
“دو سال ہوگئے ہیں ہمارے ریلیشن کو۔۔۔۔ اب تو میری پڑھائی بھی مکمل ہوگئی ہے روحیل۔۔۔۔ آپ رشتہ کب بھیج رہے ہیں۔۔۔۔” سویرا نے پر امید نگاہوں سے روحیل کو دیکھا تھا جس کے تاثرات رشتے کی بات پر بگڑ گئے تھے۔
“سویرا۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ میری فیملی نہیں مانے گی۔۔۔۔” روحیل نے دھیمی آواز میں جواب دیا پر یہ دھیمی آواز بھی سویرا کے دماغ پر بڑے دھماکے کر گیا تھا۔ وہ ہکا بکا رہ گئی تھی۔ اس کی ساری امیدیں سارے خواب طوفان کی زد میں آکر بکھر گئے تھے۔
“اس بات کا آپ کو اب۔۔۔۔ دو سال میرے ساتھ پیار محبت کا دعوہ کرنے کے بعد خیال آرہا ہے۔۔۔۔” اس نے رندھی ہوئی آواز میں گلا گیا۔
“میں کوشش کروں گا۔۔۔۔ سویرا۔۔۔ بات میری ہوتی تو میں تم سے ابھی شادی کر لیتا پر۔۔۔۔ فیملی اس رشتے پر راضی نہیں ہوگی۔۔۔۔” روحیل نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی پر سویرا کو جھٹکے پر جھٹکا لگتا گیا۔
“ابھی کوشش کریں۔۔۔۔ اٹھائیں موبائل اور کال کریں اپنی ماما کو۔۔۔۔” سویرا مضطرب ہوتی اٹھ گئی۔
“یار تم اتنا ہائپر کیوں ہورہی ہو۔۔۔۔۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔ مجھ سے بڑے بھائی کی سترہ سالہ خوبصورت لڑکی سے رشتہ ہوا ہے۔۔۔۔ میں ایسے کیسے انہیں تمہارے بارے میں بتاوں۔۔۔۔ اور فرض کرو میں بتا بھی دوں اور وہ تمہیں دیکھنے بھی آجائے تو بھی تمہیں پسند نہیں کریں گے۔۔۔۔” روحیل زچ ہو کر بولا۔
سویرا کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ وہ آنکھیں بڑی کر کے سامنے کھڑے اپنے محبت کے دعوے دار کو تکتی رہی۔
“آپ نے کہا تھا میں آپ کے لیے سب سے خوبصورت ہوں۔۔۔۔ آپ مجھ سے بے تحاشہ محبت کرتے ہیں۔۔۔۔” سویرا نے اسے لا تعداد وعدوں میں سے ایک وعدہ یاد کروایا۔
“ہاں میں کرتا ہوں تم سے پیار۔۔۔۔ پر میرے پیار کرنے سے کیا ہوجائے گا۔۔۔۔ رہنا تو تمہیں میری فیملی کے ساتھ ہے۔۔۔۔ اور میں روز روز ان کے طعنے برداشت نہیں کر سکتا کہ یہ کیا پسند کر کے لایا ہوں۔۔۔۔” روحیل نے سر جھٹکا اور سویرا کے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔
“صحیح کہا۔۔۔۔ مجھ سے شادی کرنے والے کو زندگی بھر طعنے ہی ملیں گے۔۔۔۔ غلطی میری ہے۔۔۔۔ میں بھول گئی تھی کہ میں کیا ہوں۔۔۔۔ میرے نصیب میں پیار محبت۔۔۔۔ شادی۔۔۔ فیملی بنانے جیسی خوشیاں ہے ہی نہیں۔۔۔۔” آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ رکی نہیں اور اپنے آنسو چھپاتی تیز تیز فٹ پاتھ پر چلتی وہاں سے چلی گئی۔ روحیل نے ایک مرتبہ اسے پکارا ضرور تھا پر روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
سویرا گھر پہنچی تو بھائی جان اور بھابھی کے الگ جھگڑے چل رہے تھے۔ اسے نا گھر کے باہر سکون نصیب تھا اور نہ گھر کے اندر۔ تیز دھوپ کے باوجود وہ لاونج سے آتے شور کو نظر انداز کر کے چھت پر آگئی اور زمین پر بیٹھ کر سر اوپر کے جانب اٹھا کر آنکھیں بند کر دی۔ یا اللہ۔۔۔ سر آسمان کے جانب اٹھائے اس کے زبان کے ساتھ ساتھ دل سے بھی یہ کراہ نکلی تھی۔ دو دن تک وہ کبھی بیٹھے بیٹھے روحیل کی یاد میں رونے لگتی تو کبھی دل میں اٹھتی ٹیس کو برداشت کرنے آنکھیں سختی سے میچ کر لبوں کو کاٹنے لگی۔ اس کے ڈپریشن کا دورا جو کئی سال پہلے اسے بہنوئی کے ہراساں کرنے پر آیا تھا؛ آج اپنے عروج پر تھا۔ رات دیر گئے تک اس نے پلک تک نہ جھپکی اور درد و ملال کی کیفیت میں زور زور سے ہاتھ کی مٹی بنا کر دیوار پر ضرب لگانے لگی۔ اس کے ہاتھ کی سکن چھیل گئی پر دل میں اٹھتا درد کم نہ ہوا۔
انسان کو اللہ نے جتنا باشعور بنایا ہے اکثر اوقات وہ اتنی ہی بے وقوفی کر جاتا ہے۔ سویرا نے دنیا والوں کے ہاتھوں دھوکے بٹور کر آسمانوں پر موجود رب کائنات سے رابطے مضبوط کرنے کا ارادہ بنایا۔ آخری ملاقات کے تین دن بعد جب روحیل نے کال کیا تو دل پر پتھر رکھ کر ہمت جوڑتے اس نے روحیل کا نمبر ہر جگہ سے بلاک کر دیا۔ وہ جان چکی تھی یہ فانی دنیا صرف تماشا دیکھنے کے لیے حاضر رہتی ہیں انسان کے ٹکڑوں کو بٹورنے نہیں۔ روحیل کے دھوکے کا دکھ حد سے بڑھ کر تکلیف دینے لگا تو سویرا نے عبادات کا دورانیہ بڑھا دیا۔ اس کے سجدے طویل ہونے لگے اور دعائیں لمبی ہوتی گئیں۔ دعاوں میں بھی صرف ہدایات اور اللہ کی رضا کی فریاد ہوتی۔
“اللہ مجھے معاف فرما دے۔۔۔۔ میرے گناہ بخش دے۔۔۔۔ تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوں۔۔۔۔ بس بھٹک گئی تھی۔۔۔۔ مجھے راہ راست پر لا۔۔۔۔ مجھے سکون عطا فرما۔۔۔ میرے دل میں صبر ڈال دے۔۔۔۔۔” اس کی دعاوں میں یہی الفاظ شامل ہوتے اور وقت نے اس کے زخموں پر مرہم لگانے کا کام شروع کیا۔
ⓅⒶⓁⓌⒶⓈⒽⒶ ⓈⒶⒻⒾ
روحیل سے رابطہ ختم کرنے کے چھہ ماہ بعد اس رات سویرا اس کی امی اور ولیجہ بھابھی ان کے کسی دور کی کزن کی شادی میں گئی تھی۔ ایسی عالی شان شادی، شاہی کھانا، ہینڈسم دولہا اور بے انتہا کی حسین دولہن کو دیکھ کر ایک پل کو سویرا کو حسد اور جلن نے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ دلہن کی دودھیاں رنگت بھورے گھنے بال نیلی آنکھیں عنابی ہونٹ اور ستواں ناک پر شان سے بیٹھا نتھ ہال کی روشنیوں کو مزید بڑھا گیا تھا۔ ولیجہ بھابھی تو آتے ہی اپنے میکے کے گھیرے میں مشغول ہوگئی اور سویرا حسرتی نظروں سے اس شادی کی چکا چوند اور دلہن کی خوبصورتی دیکھتی رہی۔
سویرا کی نظروں کو کئی دنوں تک اس شادی کے دھند نے خیرہ کر رکھا تھا۔ غیر محسوس انداز میں اس کے دل میں ارمان اٹھنے لگتے پر کاش کا لفظ وہ زبان پر آنے نہ دیتی۔ اس کی زندگی تو گھر کے کام اور اپنے عبادات تک محدود ہوگئی تھی۔ اسے اکثر بھابھی کے زبانی یہ القابات سننے کو ملتے کہ ملانی جی مصلے سے فرصت مل گئی ہو تو میری کچن میں مدد کر دو۔ حالانکہ کام کی نوبت ولیجہ بھابھی کی ہی ہوتی پھر بھی سویرا ان کے حصے کے کام بھی کر دیا کرتی تھی۔
ستائس سال کی ہونے تک سویرا اپنے ہونے کا اصل مطلب سمجھ گئی تھی۔ اس نے اپنا آپ صرف اللہ اور اس کے راستے سے جوڑ لیا تھا۔ کہتے ہیں دوسرا دروازہ کھلنے سے قبل پہلا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی انسان کے برداشت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ زندگی کا سفر اپنے پٹری پر لوٹ آیا تھا۔ دو سال گنوا کر اس نے جہاں سے شروع کیا تھا گھوم کر واپس اسی موڑ پر آگئی تھی۔ ایک ایک کر کے اس کی ہم عمر کزنز اور فرینڈز شادی کر کے گھر بسا گئی۔
“سویرا۔۔۔ تمہیں بھی اب شادی کر لینی چاہیئے۔۔۔۔۔ ستائس سال تک بٹھائے رکھنا۔۔۔۔۔ انکل آنٹی کو اس بارے میں سوچنا چاہیئے۔۔۔۔ کسی رشتے والی بیورو سے بات کر لیں۔۔۔۔” اپنی فرینڈ کے جانب سے ملتے اس تبصرے پر سویرا محض مسکرا دیتی۔ اس کے گروپ میں اب وہ ہی سنگل بچی تھی اس لیے جو بھی اس سے ملتا یہی مشورے دے جاتا۔
سویرا کے اندر چاہے کتنے ہی طوفان گردش میں ہوتے پر بظاہر وہ خاموش اور پر سکون رہتی۔ اس کا دل موم جیسا نازک ہوگیا تھا۔ اپنے بھانجے بھتیجو کے ساتھ کارٹون دیکھتے ہوئے بھی کسی سیڈ سین پر وہ رو پڑتی پر اپنے رنگ روپ اور دل شکنی کا ماتم منانا چھوڑ دیا تھا۔ شیطان جتنا بھی ورغلاتا پر اس کا توکل نہیں ڈگمگایا۔ اس نے صبر اور شکر کا دامن یوں مضبوطی سے تھام لیا تھا کہ وہ اداس ہونے کے باوجود بھی نا امید اور مایوس نہ ہوتی۔ سویرا اس دن عصر کی نماز پڑھ کر کمرے سے باہر آئی تو امی اور بھابھی کسی موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے محو گفتگو تھیں۔ سویرا کے غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ولیجہ بھابھی کی جس کزن کی شادی کے مناظر کئی دنوں تک اس کے ذہن کو بھٹکاتے رہے تھے، جس کی خوبصورتی کو سویرا بھی سراہے بغیر نہ رہ پائی تھی، وہ دوشیزہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی باپ کے دہلیز پر لوٹ آئی ہے۔ وجہ جان کر کیا ہوتا سویرا کو دکھ تو اس بات کا تھا کہ نصیب کے آگے اس کی خوبصورتی بھی ساتھ نہ دیں سکی۔ تقدیر کے لکھے کو اتنا جہیز اور شان و شوکت کی شادی بھی نہ بدل سکی۔ اسی لیے امید صرف اللہ سے ہونی چاہیئے۔ نصیب میں جب آزمائش ہو تو وہ رنگ روپ اسٹیٹس نہیں دیکھتے اور اگر اللہ نے نوازنا ہو تو کون خوبصورت کون نیک کون کافر۔ وہ پاک ذات تو ان سب دنیاوی صفات سے بے نیاز ہے وہ تو بس بندے کا دل دیکھتا ہے۔ اپنے بندے کے دل میں اپنا مقام جانچتا ہے اور ایک اشارے پر اس پر رحمت کی نوازش کر دیتا ہے۔
اپنی گہری رنگت اور داغ دھبوں کے ساتھ ہی اس نے جینا سیکھ لیا تھا اور اس کی حوصلہ افزائی قرآن پاک کی چند آیاتیں کرتیں تھیں
“کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے” (سورہ التین)
“اور بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے” (سورہ الشرح)
“اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے” (سورہ النساء)
جب جب وہ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھتی اس کا دل اپنے ماضی کے مایوسی پر پچھتانے لگتا اور وہ اللہ کے حضور معذرت خواہ ہوتی۔
صرف شادی ہی تو زندگی کا واحد مقصد نہیں۔ یہ تو بس فطری ضرورت ہیں یہ سوچ کر سویرا نے کیرئیر پر دھیان دیا اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر کے نوکری کرنے کا فیصلہ کیا پر زندگی کی بھاگ دوڑ سنبھالے ستر سال کے ذوالقرنین صاحب کو فالج کا حملہ ہوا اور وہ بستر کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی ہر طرح کی خدمت گزاری سویرا پر آگئی تھی اس لیے اسے اپنے نوکری کرنے کے فیصلے سے دست بردار ہونا پڑا۔ اس نئی آزمائش کو سویرا نے صبر سے گزارا۔ اسی میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔ جب بھی کوئی اس سے ہمدردی جتاتا تو وہ یہی جواب دیا کرتی تھی۔ چار سال تک بستر کے ہو کر ذوالقرنین صاحب خالق حقیقی سے جا ملے۔ بیچاری، بدبخت اور بد نصیب جیسے کئی صفات سویرا کے نام کے ساتھ جڑے تو تھے ہی باپ کا سایہ نہ رہنے کے بعد یتیم بھی ہوگئی۔
تیس سال کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز ہوا۔ سویرا اپنے غلطیوں سے سیکھتی گئی اور تجربہ کار ہوتی گئی۔ سویرا نے کئی سرکاری اور نیجی دفاتر میں نوکری کے لیے انٹرویوز دیئے۔ اکثر جگہوں پر اس کی تجربہ ناکافی قرار دے کر رد کر دیا جاتا اور کچھ کسی اعلی آفسر کی سفارش یا رشوت طلب کرتے۔ ایک جگہ وہ انٹرویو دینے گئی تو اس آفسر کے الفاظ سن کر سویرا دنگ رہ گئی تھی۔
“میں کسی کی سفارش اور رشوت نہیں مانگوں گا۔۔۔۔ مجھے کچھ اور چاہیئے۔۔۔۔ اس سے اوپر والی پوسٹ اور ڈبل تنخواہ ملے گی۔۔۔۔” آفسر نے معنی خیز نظروں سے سر تا پیر گھورا تھا۔ سویرا ان کے ڈھکے چپے لفظوں میں اس کی بات کا مطلب سمجھ گئی اور اپنی ڈگریاں جمع کر کے مضطرب سی اٹھ کر جانے لگی۔
جب اس سماج میں مظلوم کا حق چھینا جائے گا۔ مسکین و یتیم کو پیروں تلے روندا جائے گا تو کوئی شک نہیں کہ عذاب الہی نازل نہ ہو۔ ہر جگہ ریجیکشن کا سامنا کر کے بھی سویرا نے ہمت نہیں ہاری اور ایک پرائویٹ این جی او کے ساتھ بطور اسپیکر منسلک ہوگئی۔ الگ الگ اداروں میں وہ این جی او کے ہمراہ جا کر لڑکیوں میں نئی امید اجاگر کرتی تھی۔ اپنی زندگی سے اس نے جو تجربات حاصل کئے تھے وہ نو عمر لڑکیوں کو بتاتی تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور وہ کبھی اس دور سے نا گزریں جس سے سویرا گزری تھی۔
“بادشاہ ہو یا گدا۔۔۔۔ سب ہی انسانوں کو مٹی سے بنایا گیا اور ایک دن سب نے مر کر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے پھر یہ ابتری اور برتری کیوں۔۔۔۔ کیوں خود کو دوسروں سے بالا تر سمجھ کر ہم ان کی ذات کو مذاق بنائے۔۔۔۔ کیوں ان کی دل آزاری کریں۔۔۔۔ اس دنیا میں ہر بشر کے اپنے دکھ ہیں۔۔۔۔ مزید کسی کی تکلیف کی وجہ بن کر کیا مل جائے گا۔۔۔۔ یہ دنیا فانی ہے اور ایک دن ختم ہوجائے گی۔۔۔۔ یہاں ہر وجود اس پاک رب کی راہ پر چلنے کے لیے بنایا گیا ہے۔۔۔۔ انسان کو چاہیئے اپنے لیے بھی آخرت کو آسان بنائے اور نیکی کر کے دوسروں کو بھی سکون بخشے۔۔۔۔” جوائنگ کے پہلے سیشن میں ہی اس کی باتوں نے نئی کل کے دل میں جگہ بنا لی تھی اور یہی سویرا کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔
اکتیس کی ہو کر اس نے اپنے دل کو دنیاوی باتوں سے دور کر کے دین کی راہ میں لگا دیا تھا۔ ہر جگہ نیکی کا درس دینا اس کی اولین ترجیح تھی۔
موسم سرما کی ایک شام بڑی پھوپھو ملنے آئیں۔ رشتے میں وہ ذوالقرنین صاحب کی کزن تھی پر سویرا اور اس کے بھائی بہن بڑی پھوپھو کہا کرتے تھے۔ بڑی پھوپھو کو لاؤنج میں بٹھا کر سویرا ان کے لیے چائے بنانے صحن سے منسلک کچن میں آگئی۔
“بھائی صاحب نہیں رہیں تو کیا ہوا۔۔۔۔ میرا اس گھر سے تعلق ختم تھوڑی ہوگیا۔۔۔۔ مجھے تو اب بھی آپ کی اور سویرا کی فکر لگی رہتی ہیں۔۔۔۔” بڑی پھوپھو نے امی سے ہمدردانہ انداز میں کہا۔
“بدر کو تو چھوڑے۔۔۔۔ وہ تو رن مرید بن گیا ہے۔۔۔۔ ہمیں ہی اپنی بیٹی کا سوچنا چاہیئے بھابھی۔۔۔۔ آج بھائی صاحب چلیں گئے۔۔۔۔ کل کو میں اور آپ بھی رخصت ہوجائیں گے۔۔۔۔ تو کیا سویرا بھائی کے در پر بیٹھی بھابھی کے طعنے سنتی رہے گی۔۔۔۔۔” بڑی پھوپھو کی بات پر امی نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا وہیں کچن میں چائے کے لوازمات تیار کرتی سویرا کے ہاتھ ایک پل کو رکے تھے۔ اس نے اپنا دھیان بٹانا چاہا پر غیر محسوس انداز میں اس کے کان بڑی پھوپھو کی آواز کے ساتھ جڑ گئے تھے۔
“آپا۔۔۔۔ میں تو دن رات اس کے نصیب کھلنے کی دعائیں کرتی ہوں۔۔۔۔ بھلا کونسی ماں اپنی بیٹی کو باپ کے گھر پر عمر رسیدہ ہوتے دیکھنا چاہے گی۔۔۔۔” امی نے آہ بھری۔
“اسی لیے میں ایک رشتہ دیکھ کر آئی ہوں۔۔۔۔ چار بندوں کی چھوٹی سی فیملی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر ہے۔۔۔۔ اچھا خاصا سلجھا ہوا۔۔۔ دنیا کی تمام برائیوں سے دور دین دوست مرد ہے۔۔۔۔” بڑی پھوپھو بولتی گئی اور سویرا کی دھڑکن بڑھنے لگی۔ امی بغور ان کی معلومات سننے لگی تھی
“پہلی بیوی کا کچھ سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔۔۔۔ بس ایک چھ سال کا بیٹا ہے۔۔۔۔ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا اس لیے اتنے سالوں تک دوسری شادی نہیں کی۔۔۔۔ پر اب اس کی ماں بھی برزگ عمر ہوگئی ہیں کب تک اس کے بیٹے کو سنبھالے گی اس لیے اب جا کر شادی کرنے کو مانا ہے۔۔۔۔” بڑی پھوپھو ٹھہر ٹھہر کر ساری سچائی بتاتی گئی۔ سویرا نے پھیکا مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔ واہ رے قسمت، پہلے کھل کے نہیں دے رہی تھی اور اب ملا تو بھی وہ جس کے دل میں کوئی اور بسی ہے۔ سویرا نے افسوس سے سر جھکا لیا تھا۔
“آپا۔۔۔۔ ڈاکٹر ہے۔۔۔۔ ایک بچے کا باپ ہے۔۔۔۔ تو عمر کتنی ہوگی۔۔۔۔” امی نے تجسس سے پوچھا۔
“ہممم یہی کوئی اڑتیس سال ہوگی۔۔۔۔۔ اور آپ عمر کیوں دیکھتی ہیں بھابھی۔۔۔۔ فیملی دیکھیں اتنے اچھے لوگ ہیں اور زیادہ کوئی ڈیمانڈ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ جہیز لینے کے صاف خلاف ہیں۔۔۔ بلکہ ڈاکٹر صاحب کی تو درخواست تھی کہ کوئی تیس تک کی میچیور لڑکی ہو۔۔۔۔ جو ان کو سمجھ سکیں۔۔۔۔ ان کے بیٹے کو ماں کی طرح پیار دے۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔ سویرا بھی تو اکتیس پار کر گئی ہے۔۔۔۔ آپ یہ بھی تو دیکھیں۔۔۔۔” بڑی پھوپھو نے آخری فقرہ سنبھل کر دھیمی آواز میں کہا تھا۔
امی سوچ میں پڑھ گئی تھی انہوں نے بڑی پھوپھو کو انکار کرنا چاہا پر اسی وقت سویرا چائے کی ٹرے اٹھائے لاؤنج میں آئی اور خود بڑی پھوپھو کو شادی کی رضامندی دے دی۔ امی اس کے فیصلے پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہی تو کہا بڑی پھوپھو نے۔۔۔۔ اکتیس سے اوپر کی ہوگئی ہوں۔۔۔۔ اب اس عمر میں میرے لیے کوئی پچس سال کے جوان کنوارے کا رشتہ تو آئے گا نہیں۔۔۔۔ ایک دو بچوں کے باپ کا ہی آئے گا۔۔۔۔ اور پھر فیملی اچھی لگ رہی ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر کو بھی تیس تک کی میچور لڑکی چاہیئے۔۔۔۔ میرے حساب سے یہ رشتہ بہت مناسب ہے۔۔۔۔ بڑی پھوپھو آپ ان کو بلا لیں۔۔۔” سویرا نے رسانیت سے جواب دیا۔ امی سویرا کے فیصلے سے متفق نہیں ہوسکی۔
“امی۔۔۔۔ جب تک بابا جان حیات تھے۔۔۔۔ میں نے یہ فیصلہ ان کے ذمے کیا ہوا تھا۔۔۔۔ پر اب میں خود اتنی میچور تو ہوگئی ہوں کہ اپنے لیے رشتے کا انتخاب کر سکوں۔۔۔۔ اور بھرے گھر میں دیورانی جھیٹانی کے بیچ رہنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں بچا۔۔۔۔ نئے سرے سے طنز اور طعنے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔۔۔۔۔ کیا گارنٹی ہے کہ اگر کسی سنگل کا رشتہ آئے تو میں خوش رہوں گی۔۔۔۔۔ یہ سب تو قسمت میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔” سویرا نے انہیں قائل کیا اور بڑی پھوپھو اُن ماں بیٹی کی رضامندی لیں کر روانہ ہوگئی۔
چند دن بعد بڑی پھوپھو ڈاکٹر لقمان احمد کی ممی کے ہمراہ تشریف فرما تھی۔ سویرا جھجکتے ہوئے ان سے ملی اور بہت اعتماد سے ان کے ہر سوال کا جواب دیتی رہی۔ سویرا سے مل کر ڈاکٹر لقمان کی ممی گھر گئی اور جوں کہ توں ساری رو داد لقمان کو سنائی۔ لقمان با شعور اور سمجھدار شخصیت تھے اڑتیس کے ہو کر بھی صحت کا بھرپور خیال رکھنے، چست جسامت اور کالے بالوں سے وہ جوان اور پر کشش لگتے البتہ پیشانی پر سے بال کم تھے اور آنکھوں پر لگے گلاسس سے ان کے پیشے کا اندازہ ہوجاتا۔ سویرا کے متعلق سن کر وہ اس رشتے پر راضی ہوگئے تھے۔
ⓅⒶⓁⓌⒶⓈⒽⒶ ⓈⒶⒻⒾ
جاری ہے۔