Aam Larki By Palwasha Safi Readelle50269

Last updated: 25 September 2025

95.3K
3

Aam Larki

By Palwasha Safi

“رنگ روپ کا تو خیر ہے کمپرومائز کر لیں گے لقمان۔۔۔۔ پر عمر۔۔۔۔ کم سے کم پچس کی تو ہوتی۔۔۔۔” ممی نے دلیل دینا چاہی۔ اس بیچ لقمان کے پاپا خاموش بیٹھے رہے۔
“میری عمر دیکھی ہے آپ نے ممی۔۔۔۔ آپ کی ضد نا ہوتی تو میں شادی پر راضی بھی نا ہوتا۔۔۔۔ اور پھر اکتیس میرے عمر کے حساب سے بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔” لقمان نے اپنے بیٹے کے ساتھ ڈرائنگ بک پر کلر کرتے ہوئے جواب دیا۔
“مجھے تمہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ تم خود ڈاکٹر ہو۔۔۔ ان سب مسائل کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔۔۔۔ تیس پینتیس کے بعد عورتوں میں پیچیدگیاں آجاتی ہیں۔۔۔۔ ان کے لیے ماں بننا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔ ” ممی نے دوسری دلیل پیش کی پر لقمان ان کی بات پر سر جھٹکتا رہ گیا۔
“حرا تو تئیس کی تھی۔۔۔ پھر کیوں ڈلیوری کے دوران بچ نہ سکی۔۔۔۔” لقمان نے پہلی بیوی کا حوالہ دیا اور مزید بولے۔ “ممی۔۔۔ اولاد کا ہونا نہ ہونا مرد کے نصیب میں ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر میرے نصیب میں حنزال کے علاوہ اور اولاد لکھی تھی تو وہ ضرور ہوگی۔۔۔۔” ان کے اعتماد کو مد نظر رکھتے ہوئے ممی نے خاموشی اختیار کر لی۔ اپنا نام لیے جانے پر بک پر جھکے حنزال نے سر اٹھا کر اپنے پاپا کو دیکھا تھا۔ لمبی خاموشی کے بعد احمد صاحب نے ماحول کا سناٹا توڑا اور اپنی بیگم کو سمجھا کر رشتے کی رضامندی سنا دی۔
دو ماہ کے اندر اندر ہی سویرا کی قسمت پلٹ گئی وہ ڈاکٹر لقمان احمد کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بندھ کر رخصت کر دی گئی۔ یہ لقمان کی ہی خواہش تھی کہ شادی قریبی رشتہ داروں کے موجودگی میں سادگی سے ہو۔ انہیں بہت زیادہ جشن اور شوخیاں نہیں پسند اور سویرا نے خوش دلی سے ان کی خواہش مان لی تھی کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ ساتھ لقمان کی شخصیت بھی تضحیک کا نشانہ بنے۔ شادی میں شریک رشتہ دار بظاہر تو تعریف کرتے۔ سویرا کی حوصلہ افزائی کرتے کہ اچھا گھر ہے ڈاکٹر ہے ایک ہی بچہ ہے وہ بھی چھوٹا۔ سویرا بہ آسانی ایڈجسٹ کر لے گی لیکن پیٹھ پیچھے یہی رشتہ دار افسوس کے گھیرے میں کھڑے رہتے کہ ملا تو بھی ایسا شوہر چچ چچ۔ اللہ بھی کیسے کیسے آزماتا ہے۔
سرخ جوڑے میں سجی سویرا نے شرماتے ہوئے نئے دیلیز پر قدم رکھے۔ لقمان کا گھر اس کے گھر سے بڑا اور ہر آسائش سے بھرپور تھا۔ سب سے پہلا ردعمل جو سویرا کو فیس کرنا پڑا وہ لقمان کے بیٹے حنزال کا تھا۔ اسے اپنے پاپا کے ساتھ کسی غیر عورت کا گھر میں داخل ہونا پسند نہیں آیا اور منہ بھسورتے ہوئے سویرا کا اس کے پاپا کے کمرے میں جانے پر انکاری ہوا۔ لقمان اور احمد صاحب اسے سمجھاتے بجھاتے دوسرے کمرے میں سلانے لیں گئے اور کافی دیر وہیں رہیں۔ وہی دوسری جانب ممی، سویرا کو اس کے سیج پر بیٹھا کر دعائیں دیتی چلی گئی۔ سویرا کی سر اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیتے سامنے فریم شدہ خوبصورت جوان لڑکی کی تصویر پر پڑی تو دہل گئی۔ وہ خوبصورت سی نازک لڑکی ایک ہاتھ باندھے ہوئے دوسرا گال کے نیچے رکھے ہوئے سر ہلکا سا جھکائے مسکرا رہی تھی۔ یقیناً وہ حرا تھی اور تصویر لقمان نے لی تھی اس لیے وہ اتنے اچھے انداز میں پوز بنائے کھڑی تھی۔ سویرا نے تیزی سے دوسرے سمت نظریں گھما لی۔ اس کے دل کی عجیب کیفیت ہونے لگی تھی۔ اسے آج اپنی شادی کے دن بھی لقمان کے کمرے میں حرا کی تصویر دیکھ کر غیر محسوس انداز میں جلن ہونے لگی۔ اپنے شوہر کے دل میں، اس کی یادوں میں کسی دوسری عورت کا راج محسوس کر کے ہر عام و خاص لڑکی کی طرح فطری طور پر سویرا کو برا لگا تھا۔ جلن کے ساتھ ساتھ دوسری کیفیت جو اس نے محسوس کی وہ لقمان کے دکھ کی تھی۔ اس دنیا میں صرف وہ ہی آزمائشوں میں گھری نہیں تھی بلکہ ہر کسی کے اپنے اپنے دکھ تھے۔ اللہ تعالی کبھی دے کر آزماتا ہے تو کبھی لے کر۔ ڈاکٹر لقمان کے پاس دولت شہرت عزت سب کچھ تھا پھر بھی ان کا ہنستا بستا گھرانہ اجڑ گیا تھا اور اس خالی پن کو بھرنے اللہ نے سویرا کا انتخاب کیا تھا۔ کیا وہ واقعی لقمان کی ادھوری زندگی مکمل کر پائے گی اس کا اندازہ سویرا کو جلد ہونے والا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آہٹ پر سویرا خیالوں کی دنیا سے حقیقت میں لوٹ آئی اور سر جھکا کر اپنے اضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ لقمان سست روی سے چلتے بیڈ کے سرہانے بیٹھے۔ کچھ پل خاموشی سے سرکے اور پھر وہ کنکارے۔
“یہ شادی میں نے ممی کے خواہش پر کی ہے۔۔۔۔ میرا بیٹا حنزال۔۔۔ بہت حساس مزاج ہے۔۔۔۔ اور میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔۔ میرے لیے وہ میری دنیا ہے۔۔۔۔ اور اب اس دنیا کو سنوارنے یا اجاڑنے کی چابی آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔ بطور شوہر میں اپنی ہر ذمہ داری نبھاوں گا۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ پیار نہیں دے سکوں گا۔۔۔۔ کیونکہ پیار میں نے صرف حرا سے کیا ہے۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کر کے وہ ڈریسنگ روم میں چلے گئے۔ سویرا کا دل کرچی کرچی ہو گیا تھا آنسو ٹپ ٹپ کر کے گرتے گئے پر انہیں صاف کرنے کوئی ہاتھ نہ اٹھا۔
ایسا کیا گناہ کیا تھا اس نے جو ہر موڑ پر نئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا۔ کیا قصور تھا اس کا صرف اتنا کہ وہ عام لڑکی تھی۔ جو سب کے جیسے جینا چاہتی تھی۔ اس کے بھی ارمان تھے خواب تھے جذبات تھے احساسات تھے پر سمجھنے والا کوئی نا تھا۔ اپنے دل کے درد کو آنسو کے ذریعے بہا کر اس نے خود کو اس امتحان کے لیے تیار کر دیا۔ زندگی سے خوش تو وہ پہلے بھی نہیں تھی اور بچی کچی امید لقمان کے لفظوں نے توڑ دی تھی۔ سویرا جس مقصد کے لیے بیاہ کر اس گھر میں لائی گئی تھی وہ ساری ذمہ داریاں اس نے بخوبی سنبھال لی۔ فجر کے ساتھ ہی اٹھ کر ممی پاپا کے لیے ناشتہ تیار کرنا، گھر کے بڑے کام جیسے لانڈری کرنا استری کرنا چھاڑو پونچھے کے لیے ملازمہ موجود تھی صرف کھانے پینے کی ذمہ داری سویرا پر تھی پر اس کے باوجود بھی وہ اپنے خوش اخلاقی سے ملازمہ کی مدد کر دیا کرتی۔ لقمان صبح ہسپتال چلے جاتے اور شام کو کلینک۔ رات گئے دیر سے لوٹتے تو سویرا ان کی منتظر رہتی۔ اس نے اپنے اور ان کے مابین کسی بھی قسم کی خلش کی شکایت نہیں کی اور پورے دل سے اس گھر کی بہو اور لقمان کی بیوی ہونے کے فرائض سرانجام دیتی رہی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Innocent Heroine Love Story Based Romance Romantic Urdu Novel urdu novels
Tags: cute love story Innocent Heroine love story based Romantic Love Story Romantic Urdu Novels