Aam Larki By Palwasha Safi Readelle50269 (aam larki) episode 1
Rate this Novel
(aam larki) episode 1
انتباہ: اس کہانی کے کردار اور ان کے نام فرضی ہیں پر کہانی میرے اور آپ جیسی کئی مڈل کلاس گھرانوں کی متواست روپ کی حامل لڑکیوں کی زندگی سے اخذ کی گئی ہے۔ یہ کہانی مجھے کافی حد تک اپنی داستان لگتی ہے اور اسی طرح شاید پڑھنے والوں کو بھی اپنی یا اپنے آس پاس موجود کسی نا کسی کی آپ بیتی لگے۔
اس کہانی سے میرا مقصد اپنے آپ سمیت ان تمام لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ان کی ہمت بندھانا ہے جو معاشرے کے کم ظرفی کے باعث احساس کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر میری اس کہانی سے کسی بہن یا بھائی کی دل آزاری ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔ میں نے صرف وہی حقائق بیان کئے ہیں جو میں خود بھی بچپن سے محسوس کرتی آئی ہوں۔
ⓅⒶⓁⓌⒶⓈⒽⒶ ⓈⒶⒻⒾ
یہ کہانی ایک مڈل کلاس فیملی کے گھر کے اندرونی ماحول سے شروع ہوتی ہے۔ بزرگ عمر بابا جان گدی نشین ہوئے چائے پیتے چھوٹے سے ٹی وی اسکرین پر نیوز چینل دیکھ رہے تھے۔ وہیں امی کچن میں بیٹے کے لیے پراٹھے بنانے میں مصروف نظر آئیں۔
بھابھی ولیجہ کمرے میں لکڑی کے بنے ڈبل بیڈ پر ہی ایک سالہ بیٹے کی صفائی ستھرائی میں مگن تھی جبکہ بھائی جان بدر بیڈ کے ہی میچنگ فرنیچر والی ڈریسنگ الماری کے آئینے کے سامنے کھڑے فیکٹری کے کارکن کا یونیفارم پہنے بال سنوار رہے تھے۔
چار کمروں پر مشتمل اس چھوٹے سے گھر میں ذوالقرنین صاحب ان کی بیگم اور چار بچے مکین تھے۔ ایک ہی لاؤنج میں کھلتے چار کمروں میں سے ایک بھائی جان کا تھا۔ ایک والدین کا، ایک قدرے بڑے کمرے کو مہمان خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا اور آخری چھوٹا کمرا ان تین بہنوں کا تھا جن میں سے ایک ہماری کہانی کا مرکزی کردار سویرا ذوالقرنین تھی۔ اس کے نام کے بر عکس اس کی زندگی اندھیروں میں گھری رہی۔ بڑی دونوں بہنوں کے مقابلے سویرا کا رنگ گہرا سانولے کے زمرے میں آتا تھا اور بلوغت کی سیڑھی پر پیر رکھتے ہی جو اس کے چہرے پر دانوں اور کیل مہاسوں نے اپنا ڈیرا جمایا کہ اڈھیر عمر کی ہونے تک اس کی جان نہ چھوڑی۔
کہنے کو وہ عام سی مڈل کلاس لڑکی تھی جسے زندگی کے ہر قدم پر آزمائشوں کا مقابلہ کرنا تھا پر جذبات اور احساسات بقیہ زندہ نفوس سے یکساں تھے۔
سویرا چھ سال کی عمر میں گھر کے قریب ہی پرائویٹ اسکول میں علم حاصل کرنے جانے لگی۔ بچپن میں وہ بہت شوخ و چنچل مزاج تھی۔ اس کے کھیل کود اس کے خوش دل ہونے کا عملی نمونہ پیش کرتے پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ کھیل کود اور شوخ مزاج سنجیدگی میں بدلتے گئے۔ کچھ ہاتھ ہمارے معاشرتی نظام کا بھی تھا جہاں لڑکوں کو تو کھلی آذادی تھی لیکن لڑکیوں کے لیے کئی سارے حدود بنائے گئے تھے۔ اسلام کے دائرے میں رہتے اُسے ہر قید منظور تھی پر یہ کہاں کا دستور تھا کہ معصوم بچی سے کھیل کود کا حق بھی چھین لیا جائے۔
سختی تو اس کے بڑی بہنوں پر بھی ہوتیں پر سویرا کے نسبت کم ہوتی اور وجہ شاید یہی تھی کہ سویرا گہری سانولی رنگ کی حامل چھوٹی کالی آنکھیں متواست زاوئے کی ناک اور درمیانے ہونٹوں والی عام لڑکی تھی۔ اس کی زندگی کے اندھیرے یہی سے پھیلنے شروع ہوئے۔ آٹھ سال کا ہونے پر اس کا دینی تعلیم کی طرف دھیان ڈلوایا گیا اور اپنے پیدا کرنے والی ذات سے باقاعدہ متعارف کروایا گیا۔ وہ خوشی خوشی دین کے حصول کے لیے تیار ہوئی پر پہلا قدم جو اس نے بڑھایا تو اسے قاری صاحب کے ارادے جانچنے کی نصیحت کی گئی۔ کچی عمر کی اس بچی میں ڈر کا بیج بو دیا گیا۔ بچے بچیوں کو معاشرے میں پھیلی گندگی سے بچانے کے لیے انہیں ذہنی طور پر تیار کرنا بر حق ہے اور والدین کا فرض بھی۔ پر اس فرض کو پیار سے اور نرمی سے سمجھانا بھی تو با عقل ہونے کا ثبوت ہے۔ جس انداز سے سویرا کو سمجھایا گیا تھا اسے قاری صاحب کے پاس بیٹھنے سے بھی خوف آتا اور وہ بہ مشکل ہی مدرسہ جا پاتی۔ باپ سے وہ کبھی اتنی کلوز نہیں تھی۔ بھائی کے غصے کے آگے تو اس کی امی کے زبان پر بھی قفل لگ جاتا کجا کہ وہ بات کر پاتی۔ پھر وہ کس سے اپنے خوف کا اظہار کرتی؟
کہتے ہیں باپ اور بھائی، بہن بیٹی کے محافظ ہوتے ہیں اور درست بھی ہے پر کبھی کبھار ان کے تنے مزاج سے بچیاں انہیں محافظ کے بجائے اپنے لیے سخت پہرے دار تصور کر لیتی ہیں۔ جن سے وہ کھل کر اپنے احساسات کا اظہار بھی نہیں کر پاتی۔ سویرا نے ضد کر کے بِنا کوئی مخصوص وجہ بتائے مدرسہ جانے سے انکار کر دیا۔ ڈانٹ تو بہت پڑی تھی پر کسی برے حادثے کا شکار ہونے سے پہلے اس نے باپ بھائی کی ڈانٹ کو غنیمت سمجھا۔ سویرا کو سپارہ پڑھانے کی ذمہ داری بڑی بہنوں کے ذمے آگئی۔ وقت گزرتا گیا۔ عمر کا سفر اپنے منزل کے جانب رواں دواں تھا۔
تیرا چودا سال کے ہوتے سویرا کا خاصا قد بڑھ گیا اور نین نقش نکھرنے لگے لیکن گہرے رنگ کے ساتھ چہرے پر پمپلز اور بلیک ہیڈ وائٹ ہیڈ کے ڈیرے لگنے لگے۔ امی ان سب سے پریشان ہوگئی تھی۔ بالوں کے نشونما کے لیے سر پر تیل لگانا تو الگ تھا پر اب امی اس کے چہرے پر بھی اپنے دیسی ٹوٹکے آزمانے لگی۔
“آاہہہہہ امی۔۔۔۔ جل رہا ہے بہت۔۔۔۔ میں منہ دھو لوں۔۔۔۔” سویرا نے صحن کے کونے میں لگے سنک کے اوپر لگے آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہاتھوں سے ہوا کرنے کی کوشش کی۔
امی جو ابھی ابھی اس کے پمپلز ختم کرنے کے لیے اس کے چہرے پر بیسن لیمو اور دہی کا پیسٹ تھوپ کر کچن میں گئی تھی، سویرا کی دھائی پر جل بھن گئی۔
“تھوڑی دیر جلن برداشت کر لے۔۔۔۔ اور پیسٹ لگا کر دھوپ میں گئی ہے کمبخت اور جھلس جائے گی۔۔۔۔ چل اندر کمرے میں بیٹھ۔۔۔۔” امی نے صحن میں کھلتے کچن کے جالی دار کھڑکی سے صدا لگائی تھی۔
سویرا اففف اسسسس ااہہہہ کرتے واپس کمرے میں در آئی۔ یہاں سے اس کے اندر احساس کمتری کا احساس پھنپتے لگا۔ پندرہ سے بیس منٹ تک سسکتے ہوئے جب آخر سویرا کو منہ دھونے کا موقع ملا تو بھی امی اس کے سر پر موجود رہی اور خشک شدہ پیسٹ کو اچھے سے ڑگڑتے ہوئے صاف کروایا۔ منہ دھو کر تولیے سے پانی خشک کر کے بھی اس کے دانے اور رنگت جوں کے توں رہی۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی در آئی اور امی الگ اداس ہوتی کمرے میں چلی گئی۔
جیسے تیسے کر کے بڑی بہنوں کی شادی ہوگئی اور بھائی نے بھی گھر بسانے کا فیصلہ کیا۔ سویرا بے حد خوش تھی اکلوتے بھائی کی شادی جو ہونے جا رہی تھی۔ سولہ سال کی سویرا شاپنگ پر گئی تو امی اور بہنیں اس کی پسند یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیتیں کہ وہ رنگ تم پر سوٹ نہیں کرے گا۔ سویرا کا دل بجھنے لگا۔ تو کیا اب اسے اپنے پسند سے کپڑے پہنے کا بھی حق نہیں تھا۔ کیوں ایسا بنایا گیا ہے اسے۔ دل ہی دل وہ اللہ سے شکوہ کرنے لگی۔ شادی کا ماحول تھا خوشیوں کا سماں۔ دور دراز کے کزنز اور رشتہ دار ڈیرا جمانے آن پہنچے تھے۔ بابا جان اور بھائی جان کی محنت دگنی ہوگئی۔ مشکل سے شادی کے اخراجات کا بندوبست ہوا تھا کہ ہفتے بھر پہلے کزنز کی خاطر داری الگ پر چونکہ خوشی کا موقع تھا اس لیے دل گذار ذوالقرنین صاحب نے گھر آئے مہمانوں کی نوازش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ موسم گرما کی اُس رات، سب مہمان اور گھر کے افراد چھت پر در بچھا کر بیٹھے ٹھنڈی ہوا کا مزا لیتے باتوں میں مشغول تھے۔ سویرا ہم عمر کزنز کے ساتھ بیٹھی ہوئی کبھی ان کی باتوں پر ہنس دیتی تو کبھی ایک ایک کزن کے صاف چہرے کو بغور دیکھ کر اپنے چہرے کے داغ دھبے پر مایوس ہوتی سر جھکا دیتی۔
باتوں باتوں میں ماموں جان نے اپنے بیٹے کے لیے سویرا کی رشتے کی بات چھیڑ دی۔ سویرا کی دھڑکن بڑھ گئی تھی اس نے آنکھوں کے گوشے سے قدرے فاصلے پر کھڑے لمبے چوڑے مضبوط جوان کزن کو دیکھا۔ پہلی مرتبہ اس کے دل میں محبت کی دیپ جلی تھی۔ اس نے پیار کے جذبے کو محسوس کیا تھا۔ اس نے اپنے سینے میں دھڑکتے دل کی آواز سنی تھی۔ اس معتبر احساس نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ پلکیں اٹھاتی اور گراتی سویرا نے بڑوں کے بیچ ہوتی گفتگو سے انجان دور بیٹھے کزن کو دیکھ کر شرمانے کی کیفیت کو جانا تھا مگر اس کی یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ممانی جان شوہر کی بات کاٹتی تیزی سے درمیان میں بول پڑی۔
“ارے اس کے لیے تو میری بہن نے اپنی بیٹی کا کہہ دیا ہے اور میں نے زبان بھی دے دی ہے۔۔۔۔۔” غیض و غضب سے سرخ پڑتی آنکھوں سے اپنے میاں کو گھور کر انہوں نے دانت کچکچائے تو ماموں جان خفیف سے ہوگئے اور موضوع گفتگو بدل دیا۔
امی نے اپنی بھابھی کی بات کا بہت برا منایا تھا پر اپنے گھر کے ماحول کا سوچ کر حقیقت کا کڑوا گھونٹ پی کر رہ گئی۔ وہیں سویرا کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تو وہ سر جھکا کر تیز تیز سیڑھیاں اترتے نیچے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر کے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔ گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے ہوئے جانے وہ کتنی دیر احساس کمتری کے سمندر میں ڈوبتی رہی تھی۔ قصور کیا تھا اس کا؟؟ صرف رنگ سانولا ہونا اور چند داغ دھبے جس نے اس کے اندر کی اچھائی اور اس کی سیرت پر کالا پردا ڈال دیا تھا۔ باقی تو وہ ٹھیک ٹھاک ہی تھی قد لمبا اور جسامت بھی اسمارٹ سی بس چہرے نے ہی مات دے رکھی تھی۔
“کیا سوچ کر آپ اس کالی کلوٹن کو میرے بیٹے کے سر تھوپ رہے تھے ہیں۔۔۔۔”؟ رات سونے کے لیے کمرے میں پیر رکھتے ہی ممانی جان اپنے میاں پر غرائی۔
“اچھی بچی ہے۔۔۔۔ دیکھا نہیں کتنے اچھے سے ساری ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔۔۔” ماموں جان نے وہ دیکھا تھا جو آج کل بہت کم لوگ دیکھ پاتے ہیں۔ خوش اخلاقی اور سیرت۔
“اچھائی کا میں نے کیا اچار ڈالنا ہے۔۔۔۔ آج کل لوگ صورت دیکھتے ہیں۔۔۔۔ کیا کہتے لوگ یہ سمیعہ خانم کیسی بہو بیاہ کر لائی ہے۔۔۔۔ اور پھر ہمارے بیٹے کی پرسنلٹی تو دیکھیں۔۔۔۔ کہی کوئی جوڑ نہیں ہے اس سویرا کا ہمارے بیٹے سے۔۔۔ چاند اور گریہن لگتے۔۔۔۔ وہ تو اچھا ہوا میں نے روک لیا ورنہ آپ نے تو رشتہ پکا کر دیا تھا۔۔۔” ممانی بڑبڑاتی رہی اور ماموں جان سر جھکائے سنتے رہے۔
ممانی جان کی باتوں سے سویرا کا دل ٹوٹ تو گیا تھا لیکن پہلی نظر کی پسندیدگی کی لوہ ابھی باقی تھی۔ شادی کے فنکشنز کے دوران بھی کہیں اگر اس کی اپنے کزن پر نظر پڑ جاتی تو اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگتی یا اگر کہیں وہ پاس سے گزرتا تو سویرا نظر ملانے سے کتراتے ہوئے پہلو بدل جاتی۔ ہر وقت سویرا کے ذہن میں اس کا چہرا نقش رہتا۔ پر ہم نے اکثر سنا ہے کہ اولاد والدین کے تربیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ جہاں ممانی جان کو سویرا ایک نظر نہیں بھائی تھی تو ان کے بیٹے میں کونسے نیک اعمال کے کنبے لگے تھے جیسی ماں کی سوچ تھی وہی اثرات بیٹے کی پرورش میں پائے گئے۔ اس نے بھی اتنے دنوں میں سویرا کو ایک نظر مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس بات کی خلش سویرا کی احساس کمتری کو بڑھا دیتی اور وہ اندھیروں میں ڈوب جاتی۔ بھائی جان کی شادی اچھے سے نپٹ گئی اور بھابھی کی آمد سے ان کا گھر آباد ہونے لگا۔ سویرا نے بھابھی کا اپنی نئی سہیلی کے روپ میں استقبال کیا۔ اسے کیا معلوم تھا اِس سمت سے بھی اُسے مایوسی میں دھکیل دیا جائے گا۔
وہ بھابھی سے دوستی بڑھانے کی کوشش کرتی ہر وقت گھر کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتی۔ بھابھی ولیجہ شروع شروع میں تو لحاظ کرتی رہی پر وقت کے ساتھ ساتھ ان کے الگ الگ چہرے نظر آنے لگے۔ ولیجہ پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی تھی اور شادی کے سال بعد ہی اس نے خوبصورت سے بیٹے کو جنم دے کر بدر ذوالقرنین کے دل میں الگ راج جما لیا تھا۔ بیشک ابھی ماں اور باپ حیات تھے لیکن بدر کے لیے ولیجہ کی کہی بات پتھر کی لکیر ہوتی۔ کہی بھائی جان کو کسی بات کی شکایت نہ لگ جائے اس سوچ سے سویرا نے ولیجہ بھابھی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ وہ بہت کم ہی ان کے ساتھ راز دل شریک کرتی۔ وقت تو اپنی رفتار سے گزرتا گیا پر سویرا کی محرومیاں وہی کی وہی رہیں۔ ناجانے اس کی شوخی اور خوش مزاجی کہاں کھو گئی تھی۔ کالج میں بھی اس کی کم ہی سہیلیاں بنی۔ وہ آس پاس کے لوگوں سے کم گھلا ملا کرتی یہی وجہ تھی کہ کوئی اس کی اندورنی کیفیات سمجھ نہیں پاتا۔ سیکنڈ ائیر میں اس کی ہم عمر کزنز آدھی سے زیادہ شادی اور منگنی کے جیسے بندھن میں بندھ گئی پر سویرا کی نگاہیں خالی چھوکٹ پر دھری رہ جاتی اور کوئی اس کے دروازے پر رشتے کی نیت سے دستک نہ دیتا۔ اپنے آپ سے مایوس ہو کر اس نے ڈاکٹر سے رنگ اور داغ دھبوں کا علاج کروانے کا سوچا اور بڑی بہن کے ہاں چند دن کے لیے رہنے دوسرے شہر چلی گئی۔ ڈرمٹالوجسٹ نے دوائیوں اور چہرے پر لگانے والی کریموں کی بھرمار کے ساتھ پرہیز کی لمبی لسٹ تھما دی تھی۔ سویرا نے نئی امید باندھ لی اور مثبت نتائج کی سوچ کے ساتھ ڈاکٹر کے علاج پر عمل پیرا ہونے لگی۔
لڑکی عام ہو یا خاص مرد کو تو ایک ہی ضرورت سے واسطہ ہوتا ہے اور نوجوانی کے دور میں سترہ سال کی سویرا کے چہرے اور رنگت کو چھوڑ کر باقی قد کاٹ مرد کے تسکین کے لیے کافی تھے۔ ہمارے معاشرے میں کزن بہنوئی پھوپھا خالو استاد منہ بولے ڈرائیور انکل وغیرہ، ان جیسے رشتوں کو باپ اور بھائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے پر ہوس کی بھوک بھاری ہونے پر یہ رشتے درندے بن جاتے ہیں، یہ سویرا کو اندازہ نہیں تھا۔
اُس شام سویرا کی بہن اپنے بیٹے کو سویرا کی نگرانی میں سلا کر اپنی ساس کے ساتھ کسی کی عیادت پر اور اس کی چھوٹی نند ٹیوشن پڑھنے گئیں ہوئیں تھیں۔ سسر اور دیور اپنے اپنے کام پر تھے اور اس وقت گھر خالی تھا۔ سویرا کے بہنوئی معمول کے بر عکس کام سے جلدی گھر آگئے تھے۔ منے کے سرہانے بیٹھی سویرا ڈوپٹہ سر پر درست کر کے بہنوئی کو سلام کرتے ہوئے ان کے لیے کچن سے پانی لینے چلی گئی۔ اسے گھر میں اکیلے پا کر بہنوئی کی نیت بگڑنے لگی لیکن معصوم سویرا ان کے غلیظ سوچ سے انجان ہاتھ میں پانی کا گلاس لیئے ان کے سامنے آگئی۔ بہنوئی نے گلاس کے بجائے سویرا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ سویرا کے لیے یہ حرکت غیر متوقع تھی اور وہ گھبرا گئی جس کی وجہ سے گلاس میں سے پانی چھلک کر بہنوئی کے قمیض پر گر پڑا۔ بہنوئی اٹھ کھڑے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے سویرا کے گرفت سے گلاس لے کر ٹیبل پر رکھ دیا البتہ اس کی کلائی جو ان کے دائیں ہاتھ میں تھی؛ اسے آزاد نہ کیا۔
“ججج ۔۔جیجو کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔ چھوڑیں۔۔۔۔۔” سویرا کو لگا وہ من مٹی تلے دب گئی ہے اس سے اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں گیا۔ گھبراہٹ کے مارے اس کی آواز لرز گئی اور خوف و ہراس کے سبب تھر تھر کانپنے لگی۔
اس کی مظلومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہنوئی اس کے قریب ہوئے اور اس کے کمر پر ہاتھ پھیلا کر اپنے جانب کھینچا۔ سویرا کی آنکھیں بھیگ گئی اور وہ ہاتھ جوڑ کر منت کرنے لگی۔ لب مسلسل جنبش میں تھے پر حلق سے آواز نہیں نکل سکی۔ سویرا کا دل کیا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں فنا ہوجائے پر نہ زمین پھٹ کے دے رہی تھی اور نہ بہنوئی کو اس کے آنسوؤں پر رحم آ رہا تھا۔ بڑی مشکل سے ہمت کر کے سویرا نے انہیں خود سے دور کیا اور کمرے میں بھاگ کر دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔ اپنے بہنوئی کے ہاتھوں ہراساں ہو کر وہ رات ڈھلنے تک بند دروازے سے لگی لرزتی رہی۔ گلا صحرا کے مانند خشک ہوگیا پر اس سے اٹھ کر پانی تک نہ پیا جا سکا۔ اپنے ٹریٹمنٹ سے مطمئن ہونے پر جو اعتماد کی کرن اس میں روشن ہونے لگی تھی وہ ایک لمحے میں خاک میں مل گئی۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں روکتی وہ حواس سے بیگانی ہونے تک روتی رہی۔ جب ہوش آیا تو دروازہ بجایا جا رہا تھا۔ اس نے لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو بہن اس کی کیفیت سمجھنے کے بجائے منے کو دوسرے کمرے میں اکیلے چھوڑنے کی غلفت پر ڈپٹ کر غصہ نکالنے لگی۔ سویرا خاموشی سے سر جھکائے ڈانٹ کھاتی رہی اور بہن کے جانے کے بعد پھر سے دروازہ کنڈی کر کے بے دم سی بیٹھ گئی۔ باپ ہو بھائی ہو یا بہن سب غصہ اتار کر چلیں جاتے ہیں۔ وہ کس پر غصہ نکالے؟؟ وہ کسے جلی کٹی سنائے؟؟ وہ کس سے فریاد کرے؟؟ کوئی اور نا ملا تو سویرا نے اپنے آپ پر ہی تھپڑ برسانے شروع کئے۔ ہر اٹھتے ہاتھ کے ساتھ اس کا غصہ اور ملال بڑھ جاتا اور وہ اتنے ہی زور سے اپنے منہ پر تھپڑ مار دیتی۔ وہ اپنا علاج آدھے پر ہی چھوڑ کر بہنوئی کے دوبارہ ہراساں کرنے کے خوف سے واپس اپنے گھر آگئی۔ اس کی غم گساری کرنے کے بجائے امی اور بھابھی اسی کو سنانے لگیں کہ پہلے خود ضد کر کے گئی تھی اور اتنے پیسے ضائع کرا کر علاج آدھے میں چھوڑ کر آگئی۔ سویرا نے بہن کا شادی شدہ گھر ٹوٹنے کے خوف سے اپنے ساتھ ہوئے حادثے کا کسی کو کان و کان خبر نہیں ہونے دی اور لا تعداد رنجشوں کے ساتھ اس غم کو بھی دل میں دفنا دیا تھا۔ اس دن کے بعد بہنوئی نے دوبارہ ایسی کوئی حرکت تو نہیں کی لیکن سویرا کے دل میں ڈر بیٹھ گیا تھا وہ ان کے سامنے آنے سے بھی خوف زدہ ہوجاتی اور دور سے ہی سلام کر کے اپنے کمرے میں بند ہوجاتی پھر جتنا وقت بہن اور بہنوئی رہتے وہ بھوک پیاس کی پروا کئے بغیر اس چار دیواری کی قیدی بنی رہتی۔ کسی نے اس سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی تو سویرا نے بھی سلے لب نہ کھولے اور پل پل اپنے اندر جلتے انگاروں پر ننگے پیر چلتی رہتی۔ اس کی
احساس کمتری آہستہ آہستہ ڈپریشن کا روپ دھارنے لگی۔
رات رات بھر جاگ کر وہ اپنے متعلق سوچتی رہتی۔ اگر کسی کو اس کی ضرورت نہیں تھی تو اسے پیدا ہی کیوں کیا۔ جا جا کر یہ سوال اسے مضطرب کر دیتا۔ رت جگے کے باعث آنکھوں کے گرد ہلکے بن گئے۔ سانولی رنگت پمپلز اور داغ دھبے کے ساتھ ساتھ اب آنکھوں کے گرد ہلکے۔ اس کی سکن بے جان لگنے لگی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئی سوچ اور جذبات بنا کر اس نے خود کو بدلنے کا سوچا اور اسی سال ماموں جان کے بیٹے کا اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی طے ہوئی۔ دل کے پرانے زخم رسنے لگے۔ چار و نا چار اسے فیملی کے ہمراہ شادی پر جانا پڑا۔ اپنی پہلی محبت کو اپنی آنکھوں کے سامنے کسی اور کا ہوتے دیکھنا کیسا ہوتا ہے یہ سویرا نے تب جانا تھا۔ اس کے بدلے مزاج اور خاموش فطرت کا مزاق اڑا کر بقیہ کزنز نے اسے چھوڑ کر اپنی دوسری سہیلیوں کا گھیرا اپنایا۔ اپنا من بہلانے سویرا ان کے مابین بیٹھ تو جاتی پر اپنی ذات کو ان کی تضحیک کا نشانہ بنتے دیکھ وہ واپس اٹھ جاتی۔ اکثر و بیشتر اسے اپنے متعلق یہ سننے کو بھی ملتا کہ وہ مغرور ہے ہم سے بات نہیں کرتی۔ ہم سے بنتی نہیں ہے۔
سویرا سوچ میں پڑ جاتی۔ مغرور، کس لیے اور کس چیز پر جس خوبصورتی پر باقی لڑکیاں اٹھلاتی تھی اس کے پاس تو وہ بھی نہیں تھی۔ وہ چاہے کیسا بھی ہیئر اسٹائل بنا لیں یا جیسا بھی میک اپ کر لیں لیکن دل پر لگے چوٹ اور چہرے پر چھائی اداسی کو چھپا نہیں پاتی۔
“سویرا کے نین نقش اچھے ہیں۔۔۔ بس اس کی رنگت اچھی ہوتی اور سکن صاف ہوتی تو کافی پیاری تھی۔۔۔ چچی۔۔۔۔ آپ اسے ملتانی مٹی کا پیسٹ بنا کر لگا دیا کریں نا۔۔۔” ایک مرتبہ سویرا نے کزن کا تبصرہ سنا تھا۔
ایسے کئی دیسی ٹوٹکے اور علاج کے لیے ڈاکٹرز کے مشورے اسے آئے دن ملتے رہتے کچھ پر وہ عمل کر لیتی اور کچھ کو وہ بے دلی سے نظر انداز کر دیتی۔ بی اے کے بعد سویرا کی زندگی میں روحیل نام کے جگنو کی انٹری ہوئی۔ روحیل یونیورسٹی اسٹوڈنٹ تھا اور بی اے کے امتحانات کے دوران جب وہ اپنی بہن کو لینے آتا، اسی دوران اس کی ایک حجاب پوش لڑکی پر نظر پڑی۔ سویرا کا چہرا تو نقاب میں چھپا رہتا محض آنکھیں منظر میں روشن ہوتی اور روحیل اس کی سیاہ آنکھوں میں مقید ہوگیا۔ ایک دن جب وہ گیٹ کے پاس کھڑی بابا جان کی منتظر تھی تو روحیل بہانے سے اس کے پاس آیا۔
“ایکسیوز می۔۔۔۔ میری بہن ابھی تک باہر نہیں آئی۔۔۔۔ پچھلے بیس منٹ سے ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔ آپ اسے بلا دیں گی۔۔۔۔” روحیل کی جتنی شخصیت جاندار تھی اتنی اس کی آواز پر کشش تھی۔
ⓅⒶⓁⓌⒶⓈⒽⒶ ⓈⒶⒻⒾ
جاری ہے۔
