You Are Mine By Zeenia Sharjeel Readelle 50388 You Are Mine (Episode 29)
Rate this Novel
You Are Mine (Episode 29)
You Are Mine By Zeenia Sharjeel
مزمل اور تابی دونوں ہی ڈرائینگ روم میں موجود تھے دونوں کو ہی وہاج نے وہاں پر بلایا تھا تھوڑی دیر بعد وہاج بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا
“آپ نے بلایا سر” ارتضیٰ نے وہاج کے آنے پر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
“ہاں بیٹھو تم دونوں سے ضروری بات کرنی تھی
وہ اس نے صوفے پر براجمان ہوتے ہوئے کہا وہ دونوں وہاج کے بولنے کا انتظار کرنے لگے
“میں وہ انسان ہوں جو بہت سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرے یا قدم اٹھائے مگر اس اسٹیج پر آکر میں اپنی بیٹی کی وجہ سے بے بس ہوگیا ہوں۔۔۔ مجھے تمھارے اسٹیٹس یا بیک گراؤنڈ سے کوئی سروکار نہیں،، تعبیر میری اکلوتی بیٹی ہے اور مجھے بہت عزیز ہے ایک باپ ہونے کے ناطے میں تم سے امید رکھوں گا تم تعبیر کو اپنے ساتھ آگے زندگی میں خوش رکھو گے”
وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر اپنی بات مکمل کی وہ بیٹی کے آگے اتنا مجبور نہیں تھا کیونکہ اسی میں اس کا بھی فائدہ تھا،،، مزمل اب اس کا رائٹ ہینڈ بن چکا تھا اور کافی شاطر بھی تھا اس کے اصل کاروبار سے جانکاری رکھتا تھا اس لیے اس کو داماد بناتے ہوئے وہاج کو کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوئی
“سر تعبیر کی اہمیت میری زندگی میں بہت معنی رکھتی ہے جیسے آپ کی بیٹی آپ کے لئے عزیز ہے ویسے ہی تعبیر مجھے بھی بہت عزیز ہے آپ اس بات کی طرف سے بے فکر ہو جائیں تعبیر کو میں بہت خوش رکھوں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے”
اس وقت ارتضیٰ جو بھی کچھ کہا تھا وہ مزمل نہیں بلکہ ارتضیٰ بن کر ہی کہا تھا اور سچے دل سے کہا تھا
تعبیر اٹھ کر وہاج صدیقی کے پاس آئی تو اس نے اپنی بیٹی کو گلے لگایا
“تھینکیو بابا”
تعبیر نے وہاج کے گلے لگ کر کہا
“خوش ہوں”
وہاج صدیقی نے اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا جس پر خوشی کے رنگ نمایاں تھے
“بہت زیادہ”
تعبیر کے جواب پر وہاج صدیقی کے دل میں بھی اطمینان ٹھہر گیا اس کی بیٹی بھی خوش تھی اور گھاٹے کا سودا اس نے بھی نہیں کیا تھا
“میرے خیال میں نیکسٹ ویکنٹ انگیجمنٹ کی تقریر رکھ لیتے ہیں اور وہاج صدیقی کی بیٹی کی منگنی تقریب ایسی ہوگی جو دنیا دیکھی ہے”
وہاج صدیقی کے لہجے میں تفکر چھلک رہا تھا اس نے تعبیر کی پیشانی چوم کر کہا۔۔۔ تعبیر نے مسکرا کر وہاج کے بعد مزمل کو دیکھا وہ بھی تعبیر کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا یقینا آج کے دن کا آغاز ان کے لیے اچھا تھا مگر کل رات کیا انجام ہونا ہے اس سے وہ تینوں بے خبر تھے
****
آج اریش اور مشعل کا نکاح تھا۔۔۔ نکاح کی تقریب گھر میں سادگی سے منعقد کی گئی تھی مگر سادگی کے باوجود اریش کی خواہش اور ماہرہ کی ضد پر مشعل لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے پارلر تیار ہونے جانا پڑا جبکہ اریش اپنے اور ہانی کے لئے ایک جیسے ڈیزائن کے سیم کلر کے کرتے لایا تھا دونوں نے وہی زیب تن کیے ہوئے تھے اریش اس کرتے میں جتنا ہیںڈسم لگ رہا تھا ہانی اس کرتے میں اتنا ہی کیوٹ لگ رہا تھا
اریش کی پسند کے ڈریس میں مہارت سے کیے گئے میک اپ نےمشعل کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی اریش کی نگاہیں بار بار بھٹک کر اس کے چہرے پر ٹھہر رہی تھی وہی ہانی کا یہ حال تھا کہ وہ مشعل کے پارلر سے آنے کے بعد ٹکٹکی باندھے مشعل کو ہی دیکھے جارہا تھا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر گلاب کی پتیاں لاکر اس کے اوپر نچھاور کر رہا تھا وہ ماہرہ کے دونوں بیٹوں اور ہر آنے والے مہمان کو فخریہ بتا رہا تھا ہانی کی مما ایک فیری ہیں
“تم نے تو آج باپ بیٹے دونوں کو اپنا دیوانہ کیا ہوا ہے۔۔۔ ہانی کی تو خیر تم ماں ہو ذرا اریش کی حالت دیکھو یہ پانچواں چکر ہے اس کا اس کمرے میں”
ماہرہ نے مشعل کے کان میں سرگوشی کی تو مشعل کا سر اور بھی جھگ گیا
جینٹس ہال میں موجود تھے ان میں زیادہ تر اریش کی آفس کلیکز۔۔۔۔ شیراز (ماہرہ کا شوہر) فرید اور نکاح سے پانچ منٹ پہلے ارتضیٰ آیا تھا وہ زیادہ تر پارٹیز اور ایسے ایونٹ کو ایوائڈ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ ارتضیٰ تو ساہرہ اور ماہرہ کو جانتا تھا مگر وہ دونوں ارتضیٰ کو نہیں جانتی تھی
اریش اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ارتضیٰ نے اس کو گلے لگا کر مبارکباد دی،، ارتضیٰ وہاج سے ضروری کام کا کہہ کر اریش کے پاس آیا تھا
“اب تم بھی اپنی والی کو حقیقت بتا کر میری طرح کارنامہ انجام دے دو”
اریش نے ارتضیٰ کو نیک صلح سے نوازا تو ارتضیٰ نے ایک آئی برو اچھکا کر اس کو دیکھا
“جو کارنامہ تو نے اٹھائیس سالہ بڈھے کھڑے ہو کر انجام دیا ہے وہ میں نو سال کی عمر میں انجام دے چکا ہوں۔۔۔ ویسے بیٹا کیوٹ ہے تیرا ماشاآللہ”
ارتضیٰ نے ماہرہ کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہانی کو دیکھ کر کہا جس پر اریش مسکرایا
“اور اس کی مما بھی بہت کیوٹ ہے آ ملواتا ہوں”
اریش نے اٹھتے ہوئے کہا
“یہ بول تیرا خود کا دل بے قرار ہو رہا ہے ہانی کی مما کو دیکھنے کے لیے”
ارتضیٰ نے اٹھتے ہوئے شرارت سے اریش کو دیکھ کر کہا جس پر اریش ہنسا
“چل اسی بہانے ہی سہی تو میرے کام تو آجا”
ان دونوں نے ڈرائنگ روم کی کی طرف قدم بڑھائے جہاں پر خواتین کے بیچ میں مشعل بیٹھی ہوئی بیٹھی تھی ٹی پنک کلر کے لہنگے میں وہ تھوڑی کنفیوز لگ رہی تھی اریش نے ماہرہ سے کہہ کر اسے اپنے پاس بلوایا
“ان سے ملیں مشعل یہ میرے فرینڈ ہے ارتضیٰ جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا اور ارتضیٰ یہ ہیں ہانی کی مما پلس آریش کی وائف”
اریش کے تعارف پر وہ تینوں مسکرا دیئے
“بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر چند دن پہلے ہی اریش نے آپ کا ذکر کیا تھا”
مشعل نے مسکرا کر کہا
“بہت شکریہ بھابھی آپ سے بھی مل کر بہت اچھا لگا یہ تو جب جب کال کرتا تھا آپ ہی کا ذکر کرتا تھا آپ کے بارے میں جتنا سنا اس سے بڑھ کر آپ کو پایا”
ارتضیٰ کے بولنے پر جہاں اریش نے اس کو گھورا وہی مشعل جھینپ گئی
ارتضیٰ کی نگاہ اچانک سے سامنے آتی ہوئی لڑکی پر پڑی تو اس کی ہنسی وہی تھم گئی
“ایکسکیوز می ایک ارجنٹ کال کرنا ہے مجھے”
ارتضیٰ فوراً مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھر کر اریش کے گھر سے باہر نکل گیا
****
تعبیر آج بہت خوش تھی آج صبح ہی جو خبر اس کو وہاج کی طرف سے ملی تھی اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا اس کو لگتا تھا کہ وہاج کو مزمل کے لئے منانا ایک بہت مشکل مرحلہ ہوگا مگر وہاج کا اتنی جلدی مان جانا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا جو کہ وہ بغیر کسی مشکل کے انجام دے چکی تھی اس کی سوچوں کا محور اچانک موبائل کی بچنے والی بیل نے توڑا تعبیر نے مسکرا کر نشا کی کال ریسیو کی
“کیسی ہو”
تعبیر نے نشا سے پوچھا
“ارے واہ بھائی آج تو بڑی چہکتی ہوئی آواز میں پوچھا جا رہا ہے کیا کوئی خوشخبری ملی ہے آج”
نشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“خوشخبری نہیں بہت بڑی خوشخبری تم بوجھو”
تعبیر نے کھلے ہوئے بالوں کو شولڈر پر ایک طرف ڈالتے ہوئے کہا
“کیا تمہارے بابا مزمل کے لیے آیگری ہوگئے”
نشا نے مذاق میں کہا جس پر تعبیر خود بھی ہنس دی
“بالکل صحیح اندازہ لگایا تم نے”
تعبیر نے مسکراتے ہوئے کہا نشا ہی یونیورسٹی کی اس کی ایک اکلوتی ایسی فرینڈ تھی جس سے اس نے مزمل کے بارے میں شیئر کیا تھا۔۔۔۔ نشا نے اس کو حقیقت کا علم دیا تھا کہ تمہارے بابا کبھی بھی اس رشتے کو ایکسپٹ نہیں کریں گے کیونکہ اسٹیٹس کا فرق بہت معنی رکھتا ہے جس فیملی سے وہ دونوں بیلونگ کرتی تھی۔۔۔ تعبیر کو یہ بات نشا کے سمجھانے سے پہلے بھی پتہ تھی مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی،،، اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتی تھی
“واقعی زبردست یار یہ معجزہ ہوا کیسے آخر”
نشا نے چیخ کر کہا پھر اپنے آمنے سامنے دیکھ کر اپنی ایکسائٹمنٹ کم کردی
“پوری تفصیل بتاؤں گی مگر یونیورسٹی میں آکر یہ بتاؤ تم کہاں پر ہو اتنا شور کیوں ہو رہا ہے”
تابی نے بیک گراونڈ کی آوازوں سے اندازہ لگایا کہ وہ کسی پبلک پلیس میں یا باہر ہے
“ارے یار بتایا تو تھا کل سے شیراز بھائی کے گھر آئی ہوئی ہو کتابوں میں سر دیے ہوئے بے زار ہو رہی تھی تو ماہرہ بھابھی کے ساتھ یہاں آگئی تھی ان کے بھائی کے نکاح میں۔۔۔۔ تعبیر قسم سے یار کیا بتاؤں اتنی پیاری ہے مشعل بھابی لگتا ہی نہیں کہ وہ تین سالہ بچے کی ماں ہیں”
نشا نے ادھر ادھر دیکھ کر آہستہ آواز میں کہا۔۔۔ ویسے ہی تعبیر کے روم کا دروازہ کھلا اور ارتضیٰ تعبیر کے روم میں آیا
“اچھا تم پکس بھیجنا میں بھی دیکھتی ہو کیسی ہیں وہ”
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر نشا سے کہا۔۔۔ ارتضیٰ چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا اور اس کا موبائل کان سے ہٹا کر اسکرین دیکھی کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر پھینکا
“جب مزمل آپ کے پاس ہو تو آپ کا سارا دھیان صرف مزمل پر ہونا چاہیے”
تعبیر کے شولڈر پر بالوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ارتضیٰ نے کہا
“میں بائے ہی کہنے لگی تھی اسے،،، ویسے تم کہاں غائب تھے اتنی دیر سے تعبیر نہ گھور کر اس سے پوچھا
“آپ نے مس کیا مجھے”
ارتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا
“ظاہری بات ہے میں ہی مس کروں گی تم تو کرنے سے رہے” تعبیر اپنی رو میں بولے جا رہی تھی تب ارتضیٰ نے اچانک سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تعبیر بدک کر پیچھے ہٹی
“مزمل”
تعبیر نے جھینپ کر کہا اور روم سے جانے لگی تب ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑا
“کیا ہوا ناراض ہوگئی،،، آپ کے مس کرنے پر میرا کس کرنا تو بنتا تھا نا”
تابی کی نگاہیں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی وہ اس کے ہونٹوں کو دیکھ کر بولا ارتضیٰ کی بات پر دوبارہ تابی نے اس کو گھور کر دیکھا جس پر ارتضیٰ مسکرایا
“آپ پھر سے ناراض ہوگئی تو دوبارہ کس کر کے بنانا پڑے گا مجھے”
ارتضیٰ کے کہنے پر تابی نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر دھکا دیا
“تم دن بدن بہت پھیلتے جا رہے ہو” تعبیر روم سے جانے لگی
“اچھا بات تو سنیں کہا جا رہی ہیں”
تابی کو روم سے نکلتا دیکھ کر ارتضیٰ نے اس سے پوچھا
“ظاہری بعد ہے اتنا ٹائم ہوگیا ہے تم نے تو کھانا کھا لیا ہوگا پر مجھے بھوک لگ رہی ہے”
تابی نے اداس شکل بنا کر اسے دیکھ کر کہا
“آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا اپنے ساتھ میرا بھی کھانا یہی لے آئیں” ارتضیٰ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو تعبیر روم سے چلی گئی۔۔۔ ارتضیٰ نے فورا تعبیر کا موبائل ہاتھ میں لیا اور چیک کرنے لگا
اس وقت اریش اور مشعل سے بات کرتے ہوئے اس نے نشا کو دیکھ لیا تھا وہ تو شکر ہے نشا کی نظر اس پر نہیں پڑی اس لیے وہ آرش کو بغیر کچھ کہے واپس چلا آیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کا موبائل بجنے لگا تو اس نے تعبیر کا موبائل واپس رکھ کر اریش کی کال ریسیو کی
“بہت ہی بے وفا بے مروت قسم کا انسان ہے تو، شرم نہیں آتی تجھے میں بیوی سے باتوں میں مگن کیا ہوا تو بتائے بغیر ہی نکل گیا”
کال ریسیو کرتے اریش کے شکوے شروع ہوگیے
“بیٹا اگر آج میں تیرے گھر سے نہیں نکلتا تو تیرے نکاح والے دن لازمی میرا نکاح ٹوٹ جاتا یہ بتا یہ نشا کون ہے اور وہاں کیا کر رہی تھی”
ارتضیٰ نے بیڈ پر لیٹے ہوئے آریش سے پوچھا جب کہ اس کی نظر سامنے دروازے پر تھی جہاں سے تابی کو واپس آنا تھا
“نشا کو تو کیسے جانتا ہے وہ تو ماہرا کی نند ہے”
آریش نے چونکتے ہوئے پوچھا
“وہ میری والی کی فرینڈ ہے اس لیے میں وہاں سے واپس آ گیا”
ارتضیٰ نے وجہ بتائی
“ارے یار یہ تو پھر بڑی گڑبڑ ہو جاتی تھی”
اریش نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے کہا
“گڑبڑ ابھی بھی ہوسکتی ہے اس لئے اب تجھے احتیاط سے کام لینا ہوگا اور اب فون رکھ ورنہ ہانی کی مما سمجھے گی تو اپنی گرل فرینڈ سے بات کر رہا ہے اتنی رات گئے”
ارتضیٰ نے سیریس انداز میں مزاق کیا جس پر اریش ہنس پڑا
“تو سدھرنے والی چیز نہیں”
اریش نے کہتے ہوئے کال کاٹی اور اپنے روم کی طرف جانے لگا
****
اریش اپنے بیڈ روم میں آیا تو مشعل نکاح والے ڈریس میں ہی سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی مسلسل انگلیوں چٹکھانے میں مصروف تھی۔۔۔ اریش کے بیڈروم میں آج مشعل کے ساتھ ساتھ ایک سنگل چھوٹے سے بیٹھ کا بھی اضافہ ہوا تھا یہ تبدیلی مشعل کی نگاہ سے چھٹی نہیں رہ سکی اریش چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا جس سے تھام کر وہ کھڑی ہو گئی مشعل کے ہاتھ میں ہلکی سی کپکپاہٹ اریش بخوبی محسوس کر سکتا تھا
“ہانی بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا آج ہانی کی مما آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری لگ رہی ہیں” اریش نے مشعل کے سراپے کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا اب کے مشعل نظریں نیچے جھکا گئی
اج اریش فرسٹ ٹائم مشعل کو ہیوی میک اپ اور ہیوی کپڑوں میں دیکھ رہا تھا جب سے وہ اس کے گھر میں شفٹ ہوئی تھی وہ اریش کو ہمیشہ ہی سادہ دیکھی تھی۔ ۔۔ ویسے تو سادگی میں بھی اس کا حسن اریش کے دل پر غصب ہی ڈھاتا تھا مگر آج تو اریش بری طرح گھائل ہو چکا تھا
“پہلے تو یہ بتائیں جناب ہمارا شہزادہ کہاں ہے”
اریش نے روم میں نظر دوڑاتے ہوئے مشعل سے پوچھا
“وہ اکا اسے لے گئی تھیں”
مشعل نے نیچی نظریں جھکائے اریش کو جواب دیا
“مگر کیوں”
اریش کے پوچھنے پر مشعل نے نظریں اٹھا کر اریش کو دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا مشعل نے دوبارہ نظریں جھکالی اریش اس کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ تک لایا
“آپ بیٹھے میں آتا ہوں”
اریش بولتا ہوا روم سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد مشعل کی دھڑکنوں کی روانی میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ اسے واپس آ جانا تھا جب وہ آیا تو ہانی اس کی گود میں اریش نے سوئے ہوئے ہانی کو سنگل بیڈ پر لٹایا۔۔۔ مشعل نے اریش کو دیکھا وہ منہ سے تو کچھ نہیں بولی مگر آنکھوں میں تشکر لیے انداز سے اسے دیکھا۔۔۔۔ اریش چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھا
“مشعل میں نے آپ کو اپنی زندگی میں ہانی کے ساتھ شامل کیا ہے میں ایسا نہیں چاہوں گا کہ آپ ہانی کو میری وجہ سے اگنور کر کے مجھ پر توجہ دیں مجھے آپ کا ہانی کا ساتھ مل گیا اب میرا فرض ہے کہ میں آپ دونوں کو پیار دوں آپ دونوں کا خیال رکھو”
اریش نے مشعل کا ہاتھ تھام کر کہا
“آج ہم اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہے ہیں آپ نے کیسے سوچا کہ یہ شروعات ہم ہانی کے بنا کریں یہ آپ کا اور میرا ہی نہیں ہانی کا بھی بیڈ روم ہے میں نے آپ سے رشتہ اس لیے نہیں جوڑا کے ہانی سے آپ دور ہو جائے”
مشعل آریش کو دیکھے گئی اور سوچ رہی تھی کیا قسمت اس پر اتنی بھی مہربان ہو سکتی ہے
“نروس”
اریش نے مشعل کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جس پر مشعل نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا مشعل نے سوچا تھا وہ اپنے اور آریش کے رشتے کے لئے اس سے کچھ ٹائم مانگے گی مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ اریش اتنا اچھا ہے ٹائم مانگ کر اس کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہیے جب وہ اسکا اور ہانی کا اتنا خیال رکھتا ہے تو پھر مشعل کیو اس کے جائز حق سے اسے محروم کرے مشعل نے اپنا آپ اریش کو سونپنے کا فیصلہ کیا
