You Are Mine By Zeenia Sharjeel Readelle 50388 You Are Mine (Episode 28)
Rate this Novel
You Are Mine (Episode 28)
You Are Mine By Zeenia Sharjeel
“تو بس مجھے ایک دفعہ بتا دے تجھے آنا ہے یا نہیں آنا”
ارتضیٰ نے کال ریسیو کی تو آریش کی آواز سنائی دی
“نکاح تیرا کل ہے اور تو مجھے آج بلانے کی بات کر رہا ہے وہ بھی دو گھنٹے پہلے”
ارتضیٰ نے اس کو گھرکا
“یار یہ ماہرہ کا کچھ سمجھ میں نہیں آتا پتہ نہیں کون سے ارمان نکالنے ہیں اسے اپنے اکلوتے بھائی کے۔۔۔ اپنی نند اور سہیلیوں کو لے کر آئی ہوئی ہے خوب ڈھول پیٹا جارہا ہے گانے گائے جارہے ہیں مہندیاں لگ رہی ہیں پتہ نہیں میرے گھر کو کیا چڑیا گھر بنایا ہوا ہے”
اریش کی نفاست پسند طبعیت پر یہ سب گراں گزر رہا تھا،، مگر وہ ماہرہ کی خوشی دیکھ کر چپ تھا
“سڑے ہوئے انسان یہی تو یادگار لمحات ہوتے ہیں جن کو ساری عمر سوچ کر بندہ خوش ہوتا ہے۔۔۔ اور بیٹا ڈھول کی تو، تو ٹینشن نہیں لے۔۔۔۔ وہ تو ہانی کی مما روز بچایا کرے گی اب دن رات تیرے سر پر”
ارتضیٰ نے ہنستے ہوئے اریش کو چھیڑا
“شرم کر وہ ہونے والی بھابھی ہے وہ تیری”
اریش کو خود بھی اس کی بات پر ہنسی آئی لیکن اسے شرم دلانا فرض سمجھا
“اوکے ہانی کے ابا تیرے کہنے پر میں تھوڑی سی شرم کر لیتا ہوں”
ارتضیٰ نے اس پر احسان کرنے والے انداز میں کہا
“تو یہ بتا آرہا ہے کہ نہیں”
اریش نے دوبارہ پوچھا جب کہ وہ جانتا تھا اس کے لیے اس وقت آنا تھوڑا مشکل ہوگا
“انتظار مت کرنا پکا نہیں ہے کوشش کرتا ہوں”
ارتضیٰ کی طرف سے جواب آیا
“کل میں تیرا انتظار کروں گا تجھے کوشش نہیں کرنی ہے پکا آنا ہے”
اریش سمجھ گیا اس کا آنا مشکل ہے اس لئے خدا حافظ کہہ کر فون بند کیا اور موبائل پاکٹ میں رکھا
“ڈیڈ یہ ہانی کے گھر میں کیا ہو رہا ہے،، سب آنٹیاں ڈرونی آواز میں زور سے رو رہی ہیں ہانی کو ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ ایک آنٹی بیٹھی ہوئی سب کے ہاتھ بھی گندے کر رہی ہیں اور ہانی کی مما کے ہاتھ بھی گندے کر دیے اب ہانی کیا کرے”
ہانی نے باہر کی پوری رپورٹ اریش کو دی
“میری جان آپ کچھ نہیں کریں بس اپنے ڈیڈ کے پاس بیٹھے رہے۔۔۔۔ وہ سب خوش ہو رہی ہیں رو نہیں رہیں بلکہ گانے گا رہی ہیں اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے،،، اور وہ آنٹی ہاتھ گندے نہیں کر رہی ہیں بلکہ مہندی لگا رہی ہیں مہندی بھی جبھی لگاتے ہیں جب کوئی بہت خوش ہوتا ہے”
اریش نے حیران پریشان ہانی کو اس کی سوچ کے مطابق سمجھانا چاہا
“تو ڈیڈ ہم دونوں بھی خوش ہیں چلیں ہم دونوں بھی گانے گاتے ہیں اور مہندی لگواتے ہیں”
ہانی کی بات پر اریش کو ہنسی آگئی
“نہیں چندا اس طرح صرف لڑکیاں خوش ہوتی ہیں ہم دونوں بوائز ہیں اور بوائز مہندی نہیں لگاتے”
اریش نے ہانی کو سمجھایا
“ڈیڈ ہانی اپکو ایک سیکرٹ بتائے”
ہانی نے راز دارانہ طریقے سے اریش کو کہا تو اریش نے اس کو گود میں اٹھایا
“جلدی سے بتاو”
ہانی سے بھی زیادہ رازدارانہ طریقے سے اریش نے اس سے کہا
“یہ مہندی کی اسمیل بہت بری ہوتی ہے جو کہ ہانی کی مما کے پاس سے آ رہی ہے اس لئے آج ہانی اپنی مما کے پاس نہیں سوئے گا بلکہ ہانی آپ کے پاس ہوئے گا”
ہانی نے اریش کے کان میں اپنا سیکرٹ بتایا
“اب ایک سکریٹ میں ہانی کو بتاؤ”
اریش نے اس کے گال چومتے ہوئے کہا جس پر ہانی نے آئی برو اچکا کر بڑے اسٹائل سے سوالیہ انداز میں اس سے پوچھا
“اب ہانی ڈیلی ڈیڈ کے پاس سویا کرے گا”
اریش نے ہانی کے کان میں بتایا
“پھر ہانی کی مما کا کیا ہوگا انہیں اکیلے ڈر لگے گا”
ہانی کو اب مشعل کی فکر ہونے لگی
“ہم دونوں ہانی کی مما کو بھی اسی بیڈ روم میں اپنے پاس سلا لیا کرے گے”
اریش کے مسئلہ حل کرنے پر ہانی خوش ہو گیا اور ایسے ہی باتیں کرتے کرتے سو گیا
اریش نے اس کو بیڈ پر لٹایا اب اس کا مشعل کو دیکھنے کا دل کرنے لگا مگر مسئلہ یہ تھا کہ ماہرہ نے بڑی اماں دادی بن کر ولن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے24 گھنٹے کے لئے مشعل کا اس سے پردہ کرا دیا تھا
اور اس ظلم پر اکا نے مائرہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔ اریش کو ایک ترکیب سوجھی اس نے سیل فون سے مشعل کا نمبر ملایا
****
مشعل جو کہ کافی دیر سے پیلے جوڑے میں ہاتھوں پر مہندی لگائے مایوں کی دلہن بنی بیٹھی تھی اس کے نہ نہ کرنے پر بھی ماہرہ نے اس کی ایک نہیں سنی تھی بلکہ اس کے لیے مایوں کا ڈریس بھی خود لے کر آئی تھی،،، اور مشعل کے منع کرنے کے باوجود اس کے دونوں ہاتھوں پر بھر بھر کر مہندی بھی لگوائی تھی ہال میں آٹھ 10 لڑکیاں موجود تھی جو کہ گانے گانوں میں اور مہندی لگوانے میں مصروف تھی سعیدہ (نوکرانی) کچن کا کام چھوڑ کر ان کی خوشیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے خود بھی مہندی لگوانے بیٹھ گئی تھی جس پر اکا اسے گھور کر رہ گئیں
مگر آج وہ بہت خوش تھیں اس لیے کسی نوکر کی شامت نہیں آرہی تھی ایک خوشی تو یہ تھی کہ ان کی بہن کی بیٹی جس کو انہوں نے ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا کل وہ اپنے گھر کی ہو جائے گی
اریش نے مشعل کا انتخاب کیا تھا۔۔۔ اور مشعل نے مشکل سے ہی سہی اریش کے حق میں رضا مندی دی وہ مشعل کے اس فیصلے سے خوش تھی اور دوسری خوشی اکا کو اس بات کی تھی آج تین سال بعد فرید (اکا کا بیٹا) دبئی سے پاکستان ان کے پاس آیا تھا فرید کو دیکھ کر مشعل بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔ فرید نے بھی پرانے سارے گلے شکوے بھلا کر بڑے بھائیوں کی طرح مشعل کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں
مشعل لڑکیوں میں گھری ہوئی بیٹھی تھی اس کا موبائل بجنے لگا۔۔ ہاتھوں میں لگی ہوئی مہندی اب سوکھ چکی تھی اس لیے کال ریسیو کر کے وہ اٹھ کر گھر کے اس کونے میں چلی گئی جہاں گانے اور شور کی آواز نہیں آرہی تھی تاکہ وہ اریش کی بات سن سکے پتہ نہیں کیا مسلہ ہوگیا تھا جو وہ کال کر رہا تھا
“ہیلو اریش خیریت ہے”
کال ریسیو کرتے ہی مشعل نے پوچھا
“آپ کو کچھ یاد بھی ہے کہ آپ کا ایک عدد بیٹا بھی ہے۔۔۔ چلیں شوہر تو میں آپکا کل بنوں گا تو کل سے ہی آپ پر میری ڈیوٹی مسلط ہوگی مگر آپ کو ہانی کی فکر ہے کہ اس نے کھانا کھایا کہ نہیں کھایا بس آپ اپنے انجوائمنٹ میں لگی ہیں”
اریش اسے سخت لہجے میں سنا رہا تھا جس پر مشعل کا دل ڈوبے جا رہا تھا
“آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں اریش ماہرہ مجھے اٹھنے نہیں دے رہی تھی اور ہانی مجھے کافی دیر سے نظر نہیں آرہا میں اس کا سوچ رہی تھی کہ وہ کہاں گیا”
مشعل فوراً اپنی صفائی دیتی ہوئے اریش کو بتانے لگی
“آپ اسی وقت میرے بیڈروم میں آئے”
مشعل کو اریش کی غصے میں بھری آواز سنائی دی
“مگر اریش وہ اکا اور ماہرہ۔۔۔ “
اریش کا غصے بھرا لہجہ دیکھ کر وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکی
“ٹھیک ہے آپ وہی رکیں میں آتا ہوں آپ کے پاس”
اریش کی دھمکی سن کر وہ گھبرا گئی اس لئے فورا بول اٹھی
“نہیں پلیز میں آ رہی ہوں”
کال کاٹ کر وہ اریش کے کمرے میں جانے لگی
****
اریش نے مسکرا کر سیل فون ٹیبل پر رکھا اور اپنی ایکٹنگ پر خود کو داد دی۔۔۔۔ کمرے کا دروازہ ہلکے سے ناک ہوا تو اریش نے اپنے فیس ایکسپریشن سنجیدہ کرلیے اور روم کا دروازہ کھولا تو سامنے مشعل کو کھڑا پایا ایک لمحے کے لیے اریش مشعل کو دیکھ کر مہبوت سا ہو گیا پیلے رنگ کے جوڑے میک اپ سے عاری چہرہ،،، وہ ہمیشہ سادہ رہتی تھی مگر آج سادگی نے بھی اس کا حسن آریش کے دل پر قیامت ڈھا رہا تھا
“اتنی زور سے دروازہ ناک کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہیں اندر آئیں”
مشعل اریش کو حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ آج اسے ہوا کیا ہے اس نے تو دروازہ بہت ہلکے سے ناک کیا تھا۔۔۔ چپ کر کے چلتی ہوئی مشعل روم کے اندر آئی
“یہ دروازہ کون بند کرے گا کیا پوری دنیا کو تماشا دکھانا ہے آپ نے”
اریش کی بات پر دوبارہ مشعل نے اریش کو ایک نظر دیکھا اور مڑ کر دوبارہ گئی اور دروازہ بند کر کے اس کے پاس آئی
“آپ کو اتنا غصہ کیوں آرہا ہے اریش مجھ پر”
سوتے ہوۓ ہانی پر مشعل نے ایک نظر ڈال کر اریش سے پوچھا
“غصہ نہیں کرو تو کیا پیار کروں آپ سے۔۔۔۔ کوئی فکر ہے کوئی احساس ہے آپ کو۔۔۔ دوسروں کے آنے پر بالکل لاپروا بنی ہوئی ہیں آپ،،، میں یہاں پر اتنی دیر سے بھوکا بیٹھا ہوں ہانی مما کو یاد کر کے بھوکا سوگیا ہے مگر مما کو تو فرصت ہی نہیں ہے ڈھول تماشوں سے اور مہندی لگوانے سے”
اریش کے ڈانٹنے کی دیر تھی مشعل نے مہندی والے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا جس پر ایک لمحے کے لیے اریش بوکھلا گیا
“مشعل مشعل۔۔ آئی ایم سوری میں مذاق کر رہا تھا اس طرح سے مت روئے پلیز”
وہ اس کے دونوں ہاتھ چہرے پر سے ہٹاتے ہوئے کہنے لگا
“ماہرہ اور اکا بالکل بھی نہیں اٹھنے دے رہی تھی کہہ رہی تھی کہ مایوں کی دل دلہن ہو آج کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاؤ۔۔۔ میں سمجھی آپ نے اور ہانی نے کھانا کھا لیا ہوگا”
مشعل اب سسکتے ہوئے اپنی صفائیاں دے رہی تھی جس پر اریش کو اپنے اوپر ہی غصہ آنے لگا وہ سامنے رکھے ٹشو سے مشعل کا چہرہ صاف کرنے لگا
“کھانا میں اور ہانی دونوں کھا چکے ہیں آپ کا دل تو بالکل ننھی چڑیا جیسا ہے میں مذاق کر رہا تھا آپ سے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ میرے اس طرح کرنے پر رو جائے گی۔۔۔۔ بالکل گدھا ہوں میں جو اپنی اتنی پیاری سی مایوں کی دلہن کو رولا دیا آئی ایم سوری”
وہ مشعل کے دونوں کندھے تھامے نرمی سے بول رہا تھا
“آپ بار بار سوری نہیں بولیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا”
دوسری بار اریش کے سوری کہنے پر مشعل بول اٹھی
“اور آپ مجھے بہت اچھی لگ رہی ہیں”
اریش اس کا منفرد سا حسن اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے بے ساختہ بولا جس پر نظر اٹھا کر مشعل نے ایک دم اس کو دیکھا
“میرا مطلب ہے اچھی تو شروع دن سے ہی لگی تھی مگر آج اور زیادہ لگ رہی ہیں”
مشعل کے ایک دم دیکھنے پر وہ وضاحت دیتے ہوئے بولا۔۔۔ جس پر مشعل کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی اور اریش مسکرا دیا
“ابھی کوئی بھی آسکتا ہے اب مجھے جانا چاہیے”
مشعل کہتے ہوئے دروازے کی بجائے ہانی کی طرف بڑھی
“ہانی کو آج یہی سونے دیں میرے پاس”
مشعل کا ارادہ بھانپ کر اریش ایک دم بولا
“ہانی سوتے میں آپ کو پریشان کرے گا اور مجھے اس کے بناء نیند نہیں آئے گی”
دوسرا جملہ بول کر اس کا دل ڈرا کہیں اریش کو کچھ برا ہی نہ لگ جائے
“اوکے پھر آپ ہانی کو اپنے پاس سلا لیں تاکہ آج آپ کی نیند پوری ہو جائے”
اریش کو بولنے پر مشعل کا دل زور سے دھڑکا وہ ہانی کو گود میں اٹھا کر بناء کچھ کہے اریش کے روم سے چلی گئی
