You Are Mine By Zeenia Sharjeel Readelle 50388

You Are Mine By Zeenia Sharjeel Readelle 50388 Last updated: 22 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You Are Mine By Zeenia Sharjeel

"ہیلو کون" تابی نے پوچھا "ایک رات نہیں آسکا تمہارے پاس تو تم ایک دن میں ہی مجھے بھول گئی۔۔۔ تم تو بہت ہی بے وفا ہو اسنو وائٹ" موبائل میں سے جو آواز ابھری اس کی آواز سن کر تابی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔ اسے چند دن پہلے والا وہ ہیولا یاد آیا جو رات کو اس کے کمرے میں موجود تھا مگر تابی کا دماغ اس کی بات پر الجھ گیا "تم وہی ہو نا جو اس رات میرے بیڈ روم میں موجود تھے۔۔ کیوں آئے تھے تم اور کیا چاہتے ہو" تابی نے اس سے اپنی بات کی تصدیق چاہی اور ساتھ ہی سوال کیا "اس رات تو تم نے مجھے دیکھ لیا تھا۔۔۔ اس رات ہی نہیں میں تو ہر رات تمہارے بیڈروم میں آتا ہوں۔۔۔ تاکہ تمہاری صورت دیکھ کر میرے پورے دن کا آغاز اچھا ہو سکے۔۔۔ کل رات سے میں شہر سے باہر ہو یقین مانو صبح کا آغاز بالکل اچھا نہیں ہوا،، اس لئے آج کال کر رہا ہوں۔۔۔ دیدار یار نہ سہی کم ازکم یار کی آواز سن کر ہی گزارا کر لو" اس کے لہجے میں ہلکی ہلکی شوخی کی رمق موجود تھی جیسے وہ تابی سے بات کر کے بہت انجوائے کر رہا ہو "کیا بکواس کر رہے ہو تم، ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ تم ہر رات کیسے آسکتے ہو میرے بیڈروم میں" خوف سے تابی کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اس نے بے یقینی کی کیفیت میں اس سے پوچھا "یقین نہیں آرہا تمہیں میری بات کا اسنووائٹ،، ویسے تمہیں یقین بھی کیسے آئے گا تم تو سوتی کی اتنی گہری نیند میں ہوں کہ تمہیں کچھ بھی پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔ ورنہ میں تو ہر رات تمہارے پاس آ کر کافی دیر تک تمہیں دیکھتا ہوں اور جانے سے پہلے تمہاری سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں منتقل کر کے جاتا ہوں یہی ڈوس تو میرے لیے پورے دن انرجی کا کام کرتی ہے" خمار آلود لہجے میں بولتا ہوا وہ تابی کے چاروں طباق روشن کر گیا "شٹ اپ تمہیں شرم آنی چاہیے کسی لڑکی سے اس طرح فضول گفتگو کرتے ہوئے" تعبیر کو اس کی بات پر ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں آیا اس کی نیند اتنی بھی پکی نہیں دی کہ کوئی اتنی بڑی جسارت کرے اور اس کی آنکھ نہ کھلے "شرم کیسی میری جان، کسی غیر سے تھوڑی ایسی باتیں کر رہا ہوں جو شرم آئے۔۔۔ تم تو میری ہو نا اس دن باور کروا کر تو گیا تھا تمہیں یو آر ماین" تعبیر کو چند دن پہلے اپنے کان میں کی جانے والی سرگوشی یاد آئی اس نے فورا کال کاٹ دی پسینے سے نم ہوتی ہوئی ہاتھ کی ہتھیلیوں کو اپنی شرٹ سے رگڑا ریموٹ اٹھا کر ایل ای ڈی پر سیکیورٹی کیمرہ آن کیا ہفتے پہلے کی رات کے 12 بجے کے بعد ویڈیو لگائی۔۔۔۔ وہ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے مسلسل ناخن چبائے جا رہی تھی اور بے چینی سے جہاں جہاں کیمرے نسب تھے اسکرین پر ان جگہوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ٹھیک رات کے تین بجے کے ٹائم کے بعد تین بج کے بیس منٹ کا ٹائم شو ہو رہا تھا یعنی بیس منٹ کے لیے سارے کیمرے بن کئے گئے تھے "یعنی وہ پورے بیس منٹ میرے روم میں موجود تھا" یہ سوچ آتے ہی تابی کا دل زور سے دھڑکنے لگا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ریمور اٹھا کر اس نے اگلے دن رات کے تین بجے کی ویڈیو لگائیں مگر 2.55 کے بعد سوا تین بجے کا ٹائم شو ہو رہا تھا خوف سے اس کا وجود کاںنپنے لگا "کوئی اتنی سکیورٹی کے باوجود میرے روم میں اس طرح کیسے آ سکتا ہے اور وہ یہاں آکر کیا کرتا ہے" وہ یہ سوچ کر مزید خوفزدہ ہو گئی

***