Ve Main Teri Hogai Aan Season 2 by Rabia Bukhari NovelR50597 Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 08)
Rate this Novel
Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 08)
Ve Main Teri Hogai Aan Season 2 by Rabia Bukhari
سمر اور شیریں بی بی پریشانی سے دروازے پر کھڑی راستے پر نظر جمائے تھی۔۔۔
کہ تبھی زراب انا کو گود میں اٹھائے اندر کی جانب بڑھا جو اس وقت اپنے ہوش سے بے خبر اس کی بانہوں میں جھول رہی تھی۔۔۔
اللّٰہ۔۔۔۔
اللّٰہ میری بچی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میری بچی کو؟؟؟
کس کا بری نظر کھا گیا اس کی خوشیاں؟؟؟
شیریں بی بی روتی پیٹتی ہوئی انا کو یوں مدہوش دیکھتے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔۔۔
جبکہ سمر بھی ایک دم دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے صدمے سے دوچار چونک سی گئی۔۔۔
یا میرے اللّٰہ۔۔۔۔
انا۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اسے؟؟؟
شیریں بی بی انا کے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے پریشانی سے بولی۔۔۔۔
ہاں کیا ہوا ہے؟؟؟
اور۔۔
اور وہ آبان بھائی؟؟؟
سمر تذبذلی سے گیٹ کی جانب نظر دوڑاتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ چلا گیا ہے۔۔۔
انا کو چھوڑ کر۔۔۔۔
زراب سخت دبدبے لہجے سے انا کو ترس بھری نظروں سے دیکھتے بولا۔۔۔۔
اچھا چلو چلو اسے اندر لے کر۔۔۔۔
آرام چاہیے میرے بچی کو۔۔۔
اللّٰہ جانے کس کی نظر کھا گیا ان دونوں کی محبت کو؟؟؟
شیریں بی بی اونچی آواز سے دہائیاں بھرتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔
اماں بس صبر کریں۔۔۔۔
میں اسے اندر لے کر جاتا ہوں اور آپ دونوں اس کے پاس رکیں۔۔۔
زراب کہتے ساتھ ہی اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
جبکہ سمر اور شیریں بی بی دونوں ہی ان کے پیچھے چل پڑی۔۔۔۔
زراب نے انا کو بستر پر لٹایا تو سمر بیڈ پر چڑھ کر اس کی مدد کو بڑھی۔۔۔۔
شیریں بی بی انا کو اس حالت میں دیکھ کر مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
زراب اب شیریں بی بی کی جانب بڑھا۔۔۔۔
اماں بس بھی مت روئیے۔۔۔۔
سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔
زراب نے شیریں بی بی کو خود سے لگایا اور حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیسا سب ٹھیک ہوگا؟؟؟؟
ابھی تو ان کی زندگی کا صیحح آغاز بھی نہ ہوا تھا اور طلاق؟؟؟؟
شیریں بی بی نے روتے ہوئے اپنا چہرہ زراب کے سینے میں چھپا لیا۔۔۔۔
سمر جو انا کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھے سہلا رہی تھی شیریں بی بی کو یوں روتے دیکھ کر بہت پریشان ہوگئی ۔۔
اگر آپ بہتر سمجھیں تو میں کروں آبان بھائی سے بات؟؟؟؟
وہ میری بات بخوبی سمجھیں گے۔۔۔۔
اور مانیں گے بھی۔۔۔۔
سمر بیڈ سے اترتے ہوئے زراب کے سامنے روبرو ہو کر بولی۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
تم نہیں میں بات کرونگا اس سے۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔
زراب گہری سوچ میں گم سنجیدگی چہرے پر سجائے سمر کے چہرے کو دیکھتے بولا۔۔۔۔
کیا بات؟؟؟
سمر سوالی نظروں سے دیکھتے بولی۔۔۔۔
ابھی امی کو سنبھال لوں پھر کرتا ہوں بات۔۔۔۔
تم انا کے پاس بیٹھو میں امی کو لے کر جاتا ہوں۔۔۔۔
اور اسے ہوش دلاؤ۔۔۔۔
زراب شیریں بی بی کو خود سے لگائے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
جبکہ سمر زراب کی کی جانے والی بات کو سوچ میں لیے واپس انا کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔۔
عائز اب اٹھ چکا تھا۔۔۔۔
اور انا کو اپنے پاس نہ پا کر زاروقطار رو رہا تھا۔۔۔۔
آبان بالاکوٹ سے نکل چکا تھا۔۔۔۔۔
اور راولپنڈی کے ہی کسی ہوٹل میں کمرہ لے رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
ریسپشنسٹ سے بات کر کے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو عائز کو بیڈ پر بیٹھے پایا جو اس کو دیکھ کر مزید شدت اختیار کیے گلہ پھاڑ کر رونے لگ گیا۔۔۔۔۔
ارے ارے عائز بابا کیوں رو رہے ہو اتنا؟؟؟؟
کیا ہوا ہے بابا کی جان کو؟؟؟
آبان عائز کو گود میں اٹھائے اس کو اپنےساتھ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
آبان اسے سہلا رہا تھا کہ تبھی اسے محسوس ہوا کہ عائز بول رہا ہے۔۔۔۔
آبان نے اس کا چہرہ اپنی جانب کیا تو وہ روتے ہوئے ۔۔۔۔
ان ۔۔۔۔۔
ان۔۔۔۔۔
پکار رہا تھا ۔۔۔۔
آبان نے عائز کے منہ سے انا کے نام کے ٹوٹے الفاظ سنے تو اس کی آنکھوں میں آنسوں ابھر آئے۔۔۔۔
مت بولو ۔۔۔۔۔
مت بولو انا ۔۔۔۔۔۔
بہت گندی بچی ہے انا ۔۔۔۔۔
بابا کا دل دکھا دیا اس نے۔۔۔۔
توڑ دیا میرا غرور میرا اعتبار۔۔۔۔
آبان عائز کو خود سے ایک طرف خوشی سے چہک رہا تھا کہ عائز نے بولنے کی کوشش کی اور دوسری جانب وہ غمزدہ تھا کہ جس کا پہلا نام اس نے بولا وہ انا کا نام تھا جسے وہ اب بے وفا قرار دے چکا تھا۔۔۔۔۔
آبان ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ تبھی اس کا فون جو اس کی جیب میں تھا وائیبریٹ کرنے لگا۔۔۔
بس بھی عائز کیا ہوگیا ہے کیوں رو رہے ہو اتنا؟؟؟؟
ایک جانب وہ عائز کو سہلا رہا تھا تو دوسری جانب فون نکالے وہ دیکھنے لگا۔۔۔۔
انا…….
انا کا نام فون کی سکرین پر چمکتا دیکھ کر آبان کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔۔
دل تو چاھا کہ جھٹ سے فون اٹھائے اور اسے بتائے کہ وہ کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔
لیکن آنکھوں کے سامنے کا منظر دل کی زبان کو لبوں میں سیے بیٹھا تھا۔۔۔۔
فون پر ایک نظر ڈالی۔۔۔
آنکھ میں آنسو ابھرا۔۔۔
فون پر اپنی ایک انگلی پھیری اور بےدردی سے کال کاٹ دی۔۔۔۔
کوئی بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔۔۔
سمجھ رہی ہو ناں تم ۔۔۔
بہت دور جاؤں گا تم سے اب۔۔۔۔
بہت دور ۔۔۔۔۔۔
آبان کی آنکھ سے آنسو بہا جسے اس نے صاف کیے بناء عائز کو خود سے لگا لیا۔۔۔۔
جو کہ پہلے ہی انا کی جدائی سے رو رو پگلایا ہوا تھا۔۔۔۔
ایک بار پھر سے فون بجا۔۔۔
جس کو آبان نے اگنور کیا اور عائز کو لے کر کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔
سمر ہاتھ میں کھانے کی ٹرے سجائے اندر کی جانب بڑھی۔۔۔
تو انا کو کان پر فون لگائے کمرے میں ٹہلتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔
جو بہت ہی پریشانی سے عنقریب بھاگ رہی تھی۔۔۔
انا بھائی نہیں اٹھا رہے فون کیا؟؟؟؟
سمر آگے بڑھتے ہوئے کھانے کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے بولی۔۔۔۔
انا جو فون میں گھسی ہوئی تھی سمر کی آواز سن کر چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔
اور اس کے سوال پر روہانسی شکل بناتے ہوئے انکاری ہوئی۔۔۔۔
اچھا ادھر آؤ۔۔۔۔۔
سمر نے انا کو اپنے پاس آنے کا کہا۔۔۔۔
انا وہی کھڑی اسے چپ چاپ دیکھتی رہی۔۔۔۔
سمر خود اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
ادھر آؤ میرے ساتھ بیٹھو۔۔۔۔
سمر اسے اپنے ساتھ بیڈ پر لے گئی۔۔۔۔
اور بیٹھا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔
بہت مشکل وقت ہے تمہارے لیے انا۔۔۔۔
جانتی ہوں میں ۔۔۔۔۔
لیکن حوصلے کے علاؤہ میں اور کچھ نہیں دے سکتی۔۔۔۔
سمر اس کی اداس نظروں کو دیکھتے بولی۔۔۔۔۔
سمر وہ مجھے چھوڑ دے گا۔۔۔۔
وہ مجھے چھوڑ دے گا۔۔۔۔
انا روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی۔۔۔۔
میں کیا کرونگی۔۔۔۔
میں تو مر جاؤں گی۔۔۔
میں کیسے جی پاؤں گی آبان اور عائز کے علاؤہ۔۔۔۔
نہیں نہیں انا ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
ایسا مت سوچو ۔۔۔۔۔
ہم ہیں ناں وہاں تک نوبت نہیں آئے گی۔۔۔
وہ تو بس غصہ ہیں ناراض ہیں اس لیے۔۔۔۔
سمر انا کو خود سے لگائے اس کو سمجھاتے بولی۔۔۔۔
نہیں سمر۔۔۔۔
وہ چلا جائے گا۔۔۔۔
وہ جیسی لڑکی مجھے سمجھ رہا ہے ناں۔۔۔
عائز کو بھی لے جائے گا۔۔۔۔
انا اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔
سمر کو کچھ نہ سوجھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ اب اس کو حوصلہ دینے کی سکت میں نہ تھی۔۔۔۔
اچھا اچھا بس۔۔۔۔
کچھ کھا لو پہلے۔۔۔۔
صبح سے بھوکی ہو ۔۔۔۔
کچھ نہیں کھایا تم نے اب تک کچھ کھا لو۔۔۔۔
سمر نے چھوٹا سا نوالہ بنایا اور انا کے منہ کے قریب کیا۔۔۔۔
جس پر انا نے نفی میں سر ہلایا۔۔
نہیں کھایا جائے گا ۔۔۔
کچھ نہیں کھایا جائے گا۔۔۔۔
وہ میرا فون بھی نہیں اٹھا رہا۔۔۔۔
باخدا وہ ایک بار میرا فون سن لے میں سب سمجھاؤ گی اسے ۔۔۔۔
میں بہت پیار دونگی اسے۔۔۔۔۔
میں سب ٹھیک کر لونگی۔۔۔۔
انا اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے بولی اور رونے لگ گئی۔۔۔۔
سمر مزید اسے یوں دیکھ نہ سکی اور خود بھی آبدیدہ ہوتے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
کمرے سے باہر نکلی تو سامنے زراب کو کھڑا پایا جس کے چہرے پر افسردگی کے تاثرات عیاں تھے۔۔۔۔
سمر اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اور وہ یونہی بناء کچھ کہے اندر کمرے کی جانب بڑھ گیا اور انا کے سامنے جا بیٹھا۔۔۔۔
سمر باہر کھڑی یونہی سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
زراب نے کچھ باتیں انا سے بولی اور پھر جب نوالہ بنا کر اس کے منہ کے قریب کیا تو انا نے بناء کچھ کہے اس کے بڑھائے ہوئے نوالے کو کھا لیا ۔۔۔
صبح کی نیلی چادر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔
ہر طرف سورج کی پیلی کرنیں پھوٹ کر اپنا سر پھیلا رہی تھی۔۔۔۔
سمر باہر کھڑی موسم سے لطف اندوز ہورہی تھی۔۔۔
کہ تبھی اسے پیچھے کسی کے چاپوں کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
مڑ کر دیکھا تو زراب کو اپنی طرف آتے پایا۔۔۔۔
السلام وعلیکم گڈ مارننگ۔۔۔۔۔
زراب نے مسکرا کر سمر سے کہا جس پر سمر نے بھی بھرپور انداز سے جواب دیا۔۔۔۔
زراب اب سمر کے ساتھ کھڑا اگتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہلکی ہلکی ہوا میں سمر کے بھورے بال مسلسل ہوا میں لہرا رہے تھے۔۔۔
جس کو وہ ہاتھوں کی نازک انگلیوں سے مسلسل سمیٹ رہی تھی۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے؟؟؟
سمر نے بالوں کو بمشکل سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔
زراب نے بناء دیکھے حامی میں سر ہلایا۔۔۔۔
جی پوچھیے؟؟
کیا آپ ابھی بھی انا سے محبت؟؟؟؟
سمر نے بمشکل اپنے دل میں چھپے تحفظات کو دھیمے لہجے سے زراب کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
زراب نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
سمر نے اس کی نظروں کو خود پر بھرتے ہوئے دیکھا تو فورا نظریں جھکا لی۔۔۔۔
سوری میں نے بس یونہی۔۔۔۔
یہ آپکا پرسنل میٹر ہے ۔۔۔۔۔
سو سوری۔۔۔۔۔
سمر اداسی بھرے لہجے سے وہاں سے جانے کو ہوئی کہ زراب نے جاتی سمر کو اپنی آواز کے سحر سے روک دیا۔۔۔۔
محبت تو کرتا ہوں ۔۔۔۔۔
ہاں کرتا ہوں۔۔۔۔
زراب نے سمر کی جانب دیکھا جو اس کے الفاظ سن کر سکتے میں آگئی تھی۔۔۔۔
اور اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
لیکن انا سے نہیں تم سے۔۔۔۔
زراب مسکرا کر سمر کے قریب آتے بولا۔۔۔۔
جو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
مجھ سے؟؟؟؟
سمر نے حیرانگی سے خود کو اشارہ دیتے کہا۔۔۔۔
زراب نے مسکرا کر حامی۔ میں سر ہلایا۔۔۔۔
لیکن وہ انا سے ؟؟؟؟
سمر ابھی بھی تذبذب کا شکار تھی۔۔۔۔
ادھر آؤ یہاں بیٹھو ۔۔۔
سمر کا ہاتھ تھامے وہ وہاں موجود کرسیوں پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اب سنو۔۔۔۔۔
زراب نے اس کو دیکھتے کہا۔۔۔۔
مانتا ہوں مجھے محبت تھی انا سے شاید شدت سے بڑھ کر
۔۔۔۔
خود سے بڑھ کر۔۔۔۔
لیکن جب وہ کسی کے نکاح میں گئی اور باؤ جی کی ڈیتھ ہوئی۔۔۔۔
اس نے مجھے بہت کچھ سیکھا دیا۔۔۔۔
سمر مسلسل زراب کے چہرے پر بدلتے تاثرات کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
لازم نہیں صرف پانا ہی سب کچھ ہو۔۔۔
کبھی کبھی کھو کر بھی پایا جاسکتا ہے۔۔۔
اور میں نے اپنے باؤ جی کو کھو دیا ۔۔۔۔
لیکن انا کی خوشی پا لی۔۔۔۔
اور اس کی خوشی میں ہی خوش ہوں میں۔۔۔۔
اور اب بس اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
زراب نے اپنی بات مکمل کرتے سمر کی جانب دیکھا۔۔۔۔
جو اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟؟؟؟
زراب نے اس کو یوں خود کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نہیں وہ بس ۔۔۔۔
میں نے انا کو کھانا کھلایا وہ نہیں کھا رہی تھی آپ نے کھلایا تو کھا لیا کیسے؟؟؟
سمر نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔۔
وہ!!!!!!!!!
زراب نے مسکرا کر دیکھتے کہا۔۔۔
میں نے اسے آبان کی قسم دی تھی تبھی اس نے بناء کچھ کہے کھانا کھالیا۔۔۔۔
سمر نے بات سنی تو جیسے چہرے پر اطمینان ہی چھا گیا ہو۔۔۔
جبکہ زراب اس کو بس دیکھ کر مسکراتا جارہا تھا۔۔۔
