Ve Main Teri Hogai Aan Season 2 by Rabia Bukhari NovelR50597
Last updated: 30 March 2026
Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 01)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 02)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 03)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 04)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 05)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 06)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 07)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 08)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 09)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 10)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 11)Ve Main Teri Hogai Aan (Episode 12)Ve Main Teri Hogai Aan (Last Episode)
Ve Main Teri Hogai Aan Season 2 by Rabia Bukhari
تم اٹھ رہے ہو کہ نہیں۔۔۔۔
انا کیچن سے باہر کی جانب بھاگتی چلاتی نکلی۔۔۔
اپنی اسی پنجابی حلیے میں کالے بالوں کو ہلکی سی چٹکی میں سموئے ہاتھ میں انڈے کی پیالی تھامے وہ موجود تھی۔۔۔
کیا مسئلہ ہے انا؟؟؟
آبان نائیٹی ٹراؤزر ٹی شرٹ پہنے عائز کو گود میں اٹھائے کمرے سے باہر کو نکلا۔۔۔
مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی بتاتی ہو تمہیں میں مسئلہ کیا ہے مجھے؟؟؟
انا نے پیالی سلیپ پر رکھی اور ہاتھ میں لکڑی کا بیلن تھامے آبان کی جانب بڑھی۔۔۔
آبان نے انا کو بپھڑتے آتے دیکھا تو فورا عائز کو صوفے پر بیٹھایا۔۔۔۔
اور تیز تیز صوفے کے گرد بھاگنے لگ گیا۔۔۔۔
عائز جو سرخ شرٹ اور بیلو شارٹ پینٹ میں تھا۔۔۔
سفید ننھے ہاتھوں سے دونوں کو یوں بھاگتا دیکھ کر تالیاں بجانے لگ گیا۔۔۔۔
آخر ہوا کیا ہے؟؟؟
کیوں مارنے پر تلی ہو مجھے تم؟؟؟
آبان کبھی ایک جانب کو بھاگتا تو کبھی دوسری جانب کو بھاگ نکلتا۔۔۔
کیوں نہ مارو۔۔۔
شادی سے پہلے کتنی محبت کتنے خواب۔۔۔۔
اور اب میں اکیلی معصوم ناشتہ بنا رہی ہو کوئی فکر ہے کہ تھوڑی مدد کردو میری تم۔۔۔۔
انا ایک دم رکی اور سانس بھرنے کو کمر ہر ہاتھ ٹکائے آبان کو تیکھی آنکھوں سے دیکھتی بولی۔۔۔۔
ہائے اللہ۔۔۔۔
میری جان بس اتنی سی بات۔۔۔
لو ابھی آپ کا مجازی خدا آپ کو خوبصورت محبت رومینٹک ناشتہ بنا کر کھلاتا ہو۔۔۔
آبان دونوں بازوؤں پر شان سے ہاتھ پھیرتا آگے کی جانب بڑھا۔۔۔
انا جو بس موقع کی تلاش میں ہی تھی فورا جنگلی بلی کی طرح آبان کر جھپٹی۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے انا اس کو مارتی۔۔۔
آبان نے انا کی بازو تھامی بیلن والی بازو کو کمر سے لگایا۔۔۔
اور خود اس کے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کر تر لیا۔۔۔۔
دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے کی سانس رفتاری کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔
انا آبان کے اتنے قریب ہوئی تو آنکھ جھپکا سی گئی۔۔۔
دونوں کی دھڑکنیں بلند آواز سے ایک دوسرے کے کانوں کو گونج رہی تھی۔۔۔
پاکستان سے آئے ہوئے ہمیں ایک سال ہوگیا ہے۔۔۔
یہاں کے ماحول میں ڈوبے ہوئے بھی ایک برس ہوگیا۔۔۔
لیکن تمہاری یہ شرماہٹ نہ تب بدلی تھی نہ آج بدلی۔۔۔
جو آج بھی مجھے تمہارے سحر مبتلا کیے رکھتی ہے۔۔۔
آبان انا کے چہرے پر جھکا۔۔۔
جبکہ انا اس کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
آبان کی شرارتیں عروج پر تھی۔۔۔
کہ تبھی انا کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
آبان چھوڑے۔۔۔۔
دیکھے کال آرہی ہے۔۔۔۔
انا آبان کو خود سے دور کرتے بولی۔۔۔
ہووووووو ہائےےےےے۔۔۔۔
شوہر کو یعنی مجھے۔۔۔۔
یعنی مجازی خدا کو۔۔۔
بھلا کسی کیلئے ایسے دور کرتے ہیں کیا؟؟؟
آبان اس کو محبت سے دیکھتے بولا۔۔۔
فون کی گنٹی کی آواز عروج پر تھی۔۔۔
کہ تبھی دروازے پر بھی دستک نے شور مچایا۔۔۔
یاخدا۔۔۔۔
یہ سب ہمیں اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔۔۔
ایک تو بمشکل سے ہی ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے اور اوپر سے یہ رقیب۔۔۔
انا آبان کی بے چینی کو دینں کر ہنسی لبوں میں دبائے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
آبان نے اس کی کھر کھر سنی تو دانت پیستے بولا۔۔۔
ہنس لو۔۔۔۔
ہنس لو۔۔۔
جیسے کہ میرے ہاتھ آنا نہیں تم نے کبھی۔۔۔
پھر لونگا پورا بدلہ۔۔۔
آبان منہ پھولائے انا کو چھوڑتے دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
جبکہ انا ہنستے ہوئے فون کی جانب بڑھی۔۔۔
ارے یہ تو زراب کی کال ہے۔۔۔
انا فون دیکھتے بولی۔۔۔۔
آبان زراب. کی کال ہے جلدی اؤ۔۔۔
انا نے آبان کو گاہ کیا جو دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
اور کال اٹھا لی۔۔۔
السلام وعلیکم۔۔۔۔
زراب کا چہرہ اب موبائل کی سکرین پر چمک رہا تھا۔۔۔
وعلیکم السلام کیسے ہو آپ زراب؟؟
شیرین تائی کیسی ہے؟؟؟
انا خوشگوار انداز سے بولی۔۔۔
سب ٹھیک اللہ کا شکر ۔۔۔۔
اماں بہت یاد کرتی آپ کو۔۔۔
آبان کو عائز کو ۔۔۔
زراب مسکرا کر بولا۔۔۔
اچھا تائی کو میرا سلام۔۔۔
اور یہ بتاؤ کس بات کی تیاری ہے آج ؟؟؟
انا زراب کو یوں سجا دیکھ کر بولی۔۔۔
زراب سن کر مسکرا دیا۔۔۔
آج میری دسترابندی ہے۔۔۔
باؤ جی کی جگہ ۔۔۔۔ زراب کہتے کہتے چپ ہوگیا اور چہرے پر مایوسی چھا گئی۔۔۔۔
انا بھی ایک دم چپ سادھ گئی۔۔۔
السلام وعلیکم انا کیسی ہو ؟؟؟
ایک سفید شرٹ میں ملبوس لڑکی بھورے رنگ کے بال گلابی چہرے کی مالک بڑی بڑی بھورے رنگ کی آنکھوں جیسی خوبصورتی چہرے پر معصومیت اور چلبلاہٹ سجائے وہ آنا کے گردن پر اپنے ہاتھوں کا ہار بنائے لپک کر بولی۔۔۔۔
زراب جو خاموش تھا۔۔۔
ایک انجانی آواز سن کر موبائل کی تصویر کو دیکھنے لگ گیا۔۔۔
اور ایک دم رک سا گیا۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔
میں ٹھیک ہو ۔۔۔۔
تم کیسی ہو سمر؟؟؟؟
انا کے منہ سے نام سن کر زراب کے لب بے اختیار بول اٹھے۔۔۔۔
سمر!!!!!
آبان آپ بات کرو زراب سے ذرا میں سمر سے کچھ بات کر لو۔۔۔۔
انا نے فون آبان کے ہاتھ تھمایا۔۔۔
اور خود عائز کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
مجھے دو اسے انا۔۔۔
اتنے دن ہوگئے ہیں عائز بےبی سے نہیں ملی میں۔۔۔۔
سمر عائز کو گود میں اٹھائے اس کی گالوں سے کھیلتے بولی۔۔۔۔
زراب جو ابھی بھی اس کے سحر میں تھا۔۔۔
آبان کی آواز پر چونک گیا۔۔۔۔
کیا حال ہے تمہارا زراب؟؟؟؟
میں ٹھیک تم سناؤ؟؟؟ زراب نے کہا۔۔۔
میں بھی ٹھیک ہو آج تمہاری دستاربندی؟؟؟
آبان نے کہا۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔
تبھی کال کی تھی کہ تم سب لوگ میری دستاربندی دیکھ سکوں۔۔۔زراب نے کہا۔۔۔
ہاں بہت اچھا کیا ہے۔۔۔۔
آبان مسکرا کر بولا۔۔۔
لگتا انا بزی ہے کسی کے ساتھ؟؟؟
زراب نے اپنی نظر پیچھے کی جانب دیکھتے کہا۔۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔
وہ تو اپنی دوست کے ساتھ بیٹھی ہے۔۔۔
بس ابھی فری ہوگی تو تمہیں ہی فورا کال کرے گی۔۔۔
آبان نے جواب دیا۔۔۔
ہاں چلوں ٹھیک ہے انتظار رہے گا پھر۔۔۔
فی ایمان اللہ۔۔۔
زراب نے کہتے ساتھ کال بند کردی۔۔۔
جبکہ آبان بھی فون رکھ کر ان دونوں کی جانب بڑھ گیا جو خوش گپیوں میں مصروف تھی۔۔۔
دوسری جانب زراب فون کو ہتھیلی پر گھومائے فون میں نظر آنے والی پری کا سوچ سوچ کر مسکرا رہا تھا کہ تبھی اسے شیرین بی بی کی آواز سنائی دی جو اسے باہر آنے کا کہہ رہی تھی۔
Rate this Novel
Categories:
After Marriage Love Story Emotional / Love Story Innocent heroin based novels Love love story base Revenge BAsed Urdu Novel Romance ROMANTIC NOVELS Romantic Suspense Romantic Urdu Novel Romentic Love Story Rude Hero Based Novels Suspense
Tags:
Forced marriage Innocent Heroine love story based Romantic Love Story Romantic Urdu Novels Social Issues Urdu Novels
