Vampire Love By Rimsha Hayat Readelle50130 Last updated: 4 August 2025
Rate this Novel
Vampire Love By Rimsha Hayat
کہاں ہے وہ لڑکی؟ احمد صاحب نے دھاڑتے ہوۓ ولی اور ولید سے پوچھا وہ دونوں پریشان تھے آخر ڈیڈ کو کس نے بتایا۔ ڈیڈ ہمیں ابھی وہ لڑکی نہیں ملی لیکن ہم کوشش کررہے ہے ہمیں بہت جلد وہ لڑکی مل جاۓ گی۔ ولید نے تحمل سے جواب دیا اب تم دونوں اپنے باپ سے جھوٹ بھی بولو گۓ احمد صاحب نے غصے سے کہا۔ ڈیڈ ولید نے کہا نا ابھی ہمیں وہ لڑکی نہیں ملی تو آپ کو ہماری بات پر یقین کیوں نہیں آرہا اس بار ولی نے بھی غصے سے کہا ۔ کیونکہ تم لوگ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہو احمد صاحب نے ولی کے سامنے آتے ہوۓ کہا۔ نہیں دے گۓ ہم آپ کو وہ لڑکی آپ کو جو کرنا ہے کرلیں ولید نے غصے سے کہا اور ولی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے غائب ہوگیا. اووو تو تم دونوں اب اپنے باپ سے بغاوت کرو گۓ تو ٹھیک ہے اب دیکھو تم دونوں کا باپ کیا کرتا ہے احمد صاحب نے نفرت سے سوچتے ہوۓ کہا۔ ……… وہ اب آرام سے نہیں بیٹھے گۓ ولی نے ٹہلتے ہوۓ کہا اس وقت یہ دونوں موسی کے گھر پر موجود تھے جانتا ہوں لیکن لیزا کو تو میں کبھی بھی ان کے حوالے نہیں کروں گا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ولید نے کہا ۔ کچھ سوچنا پڑے گا ولی نے کہا موسی بیٹھا یہی سوچ رہا تھا ایک باپ طاقت کے کۓ اتنا خود غرض کیسے ہوسکتا ہے ۔ …………… جاؤ جاکر ختم کر دو دونوں کو احمد صاحب نے اپنے سامنے کھڑے بھیڑیوں کو کہا۔ بھیڑیے گنتی میں پانچ تھے۔ احمد صاحب کا حکم سن کر وہاں سے چلے گۓ تھے۔ احمد صاحب نے کچھ بھیڑیوں پر جادو کرکے ان کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا ۔ …………… ولی اور ولید ابھی بات ہی کررہے تھے جب ولید کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ ولید ایک دم کھڑا ہوگیا تھا۔ کیا ہوا ولی نے ولید سے پوچھا موسی بھی ولید کو ہی دیکھ رہا تھا۔ آیات خطرے میں ہے ولید کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا تھا موسی اور ولی بھی ولید کے پیچھے گۓ تھے ۔ ………….. آیات کب سے اپنے کمرےمیں بند تھی جب اس کی ماما نے اسے باہر آنے کا کہا۔ آیات کا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں کررہ تھا اسے خون کی طلب ہورہی تھی۔ لیکن آیات نے سوچ لیا تھا کہ وہ خون نہیں پیے گئ دونوں ماں بیٹی بیٹھی باتیں کررہی تھیں جب دروازہ توڑ کر کچھ بھیڑیے گھر میں داخل ہوۓ۔ بھیڑیے کالے رنگ کے تھے آنکھیں لال تھیں دانت بڑے بڑے تھے جن سے خون نکل رہا تھا۔ آیات کی ماما بھیڑیوں کو دیکھ کر وہی پر بے ہوش ہوگئ تھیں ۔ آیات کا بھی ہی حال تھا بےشک وہ خود اب ایکvampire تھی لیکن اسے اپنی طاقت کے بارے میں بلکل بھی معلوم نہیں تھا۔ ایک بھیڑیا آیات کی ماما کے پاس آیا اور ان کو چیر پھاڑ کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔ آیات آنکھوں میں وحشت لیے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔ آیات نے غصے میں اُسی بھیڑیے کی گردن توڑ دی تھی دوسرے کا حال بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا۔ اس کی آنکھوں کا رنگ کالا ہوگیا تھا دانت باہر آگۓ تھے لیکن اکیلی کب تک لڑتی۔ اس نے دل میں ولید کو پکارا تھا شاید اس وقت اسے اپنا شوہر ہی محافظ لگا تھا۔جو اس کی حفاظت کر سکے ۔ ایک بھیڑیے نے اپنا پنجا آیات کے دل کے آر پار کر دیا تھا۔ آیات وہی پر گر گئ تھی۔ ولید بھی آگیا تھا اس کے پیچھے ہی موسی اور ولی بھی تھے تینوں نے ایک ہی سیکنڈ میں تینوں بھیڑیوں کی گردنیں اڑا دی تھیں ۔ ولی جلدی سے آیات کے پاس آیا تھا جو لمبے لمبے سانس لے رہی تھی خون سارا زمین کو رنگین کررہا تھا ۔ ولی آیات کی ماما کے پاس گیا جہاں ان کے جسم کے حصے الگ پڑے ہوۓ تھے موسی نے ان پر چادر ڈال دی تھی۔ مجھے معاف کر دو میری جان مجھے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ولید نے آیات کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوۓ کہا اور وہاں سے آیات کو لے کر غائب ہوگیا تھا۔ …………….. احمد صاحب کو خبر مل گئ تھی کہ آیات بہت زخمی ہے اور اس کی ماں مر چکی ہے۔ اب احمد صاحب نے دوسرا طریقہ آزمانا تھا اور ان کو پورا یقین تھا یہ ضرور کام آۓ گا۔ یہ سوچتے ہی احمد صاحب کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی تھی ۔
