73.6K
2

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tum Mujhe Qabool Ho) Episode 2 (Last)

ناول : تم مجھے قبول ہو
ازقلم : آسیہ برکت علی
قسط : 02
❁❁❁
دکھانے لگتا ہے منظر چراغ جلتا ہوا
کسی کا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکلتا ہوا
اک آنکھ دستکیں دیتی ہوئی میرے دل پر
اک اشک شام کو سورج کے ساتھ ڈھلتا ہوا
رات کے 9بج رہے تھے امی لاؤنج میں پریشان بیٹھی باصم کا انتظار کر رہی تھیں
اور میں کچن میں اپنے لیے چائے بنانے میں مصروف تھی۔
تبھی باصم آیا اور امی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ ایسے جیسے اسے پتہ ہو کہ امی کیوں پریشان ہیں
خالہ مجھے میری کمپنی نے گھر دے دیا ہے یہ دیکھیں اسکی چابی۔
میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی شکر جان چھوٹی ۔
بیٹا پر تم یہی رہو
امی نے باصم کے سر پر ہاتھ پھیرا یہ منظر دیکھ کر میں بھی چپ نہ رہ سکی
امی جارہا ہے تو اسے جانے دیں نہ
میں نے کچن سے آواز لگائی
خالہ میں آتا جاتا رہوں گا ایسے اچھا نہیں لگتا اور دانین کا جواب بھی مل گیا اب میرا چلے جانا ہی بہتر ہے ۔
اس سے پہلے کہ امی کچھ کہتی باصم تسلی آمیز انداز میں بولا
پر بیٹا
نہیں خالہ مجھے بولنے دیں
باصم نے امی کے ہاتھ تھام کر انہیں کہنے سے روکا
میری شادی کی زمہ داری ابھی آپ کے ہاتھوں میں ہے میرے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈئیے گا
باصم نے مسکرا کر کہا تو امی کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
اچھا اب آپ ایموشنل نہ ہوں میں ابھی نہیں جارہا ایک ہفتے بعد جاؤنگا
یہ بات باصم نے زور سے کہی تھی جیسے اسپیشلی مجھے بتا رہا ہو ۔
دل کرتا ہے اس کا قتل کردوں
میں غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔
میرا بیٹا
امی نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ان کی نظر ایک شاپر پر پڑی جو باصم اپنے ساتھ لایا تھا
یہ کیا ہے بیٹا؟
امی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
اس میں کلرز ہیں
باصم نے شاپر امی کو دکھائی ۔
ایں مجھے تو لگا تھا گھر ملنے کی خوشی میں مٹھائی ہوگی کلرز کا سن کر
میرے تو ہوش ہی اڑ گئے کہیں یہ پہلے کی طرح میرے منہ پر تو نہیں لگائے گا ۔
ایسا نہیں ہوسکتا
ہو بھی سکتا ہے اس کو دو بار ریجکٹ کیا ہے میں نے
شاید اس کا بدلہ لے
میں اپنے ہی خیالات میں الجھ گئی تھی
باصم اپنے کمرے میں جاچکا تھا
امی بھی جارہی تھیں کہ ان کی نظر مجھ پر پڑی
اب خوش ہوگئی نہ تم وہ جا رہا ہے
امی نے غصے سے کہا تو میں اپنے خیالوں سے باہر آئی
خوش تو میں تب ہوتی جب وہ کل ہی چلا جاتا
اور یہ کلرز کیوں لیا ہے وہ
میں نے منہ بنا کر کہا
تمہارے منہ پر لگانے کے لیے
امی بھی غصے میں کہہ کر جاچکی تھی میں منہ کھولے وہی کھڑی رہ گئی
یہ نہیں سدھرے گا اس بار اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔
❁❁❁
صبح کے 7:00بج رہے تھے آسمان کو بادلوں نے گھیر رکھا تھا صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں چائے کی خوشبو گھلی تھی
امی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں
باصم ڈائننگ ٹیبل پر مزے سے ناشتہ کر رہا تھا میں بھی ناشتے کے لیے بیٹھ گئی
یہ صبح صبح کس زہر آدمی کو دیکھ لیا
باصم سے نظر ملتے ہی میں بڑبڑائی
نظر نظر کی بات ہے کسی کو زہر لگاتا ہوں کسی کو شہد
باصم نے میری بڑبڑاہٹ کا جواب دیا ۔
اللہ معاف کرے پتہ نہیں کس کو یہ کاکروچ شہد لگتا ہے
میرا اتنا کہنا تھا کہ باصم بیچارا لاجواب ہوگیا۔
امی میں لیٹ ہورہی ہوں آپ پلیز باصم کو بولیں جلدی ناشتہ کرے
میں نے ناشتہ کرکے امی سے کہا ۔
بیٹا کل تم نے ہی منع کیا تھا کہ باصم کو تم سے دور رکھوں تو اچھا یہی ہوگا کہ تم خود چلی جاؤ
امی نے تو سیدھا باہر کا راستہ دکھا دیا تھا میں حیرت سے امی کو دیکھ نے لگی ۔
جی امی؟
اس بار میں خود لاجواب ہوچکی تھی اور شرمندہ بھی امی نے تو ذرا خیال نہ کیا۔
چلو جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔
امی مجھے دروازے تک لے آئیں بس دھکے مارنے کی کسر رہ گئی تھی۔
باصم سب کچھ نظر انداز کیے ناشتہ کرنے میں پوری طرح مصروف تھا
اوکے اللہ حافظ
میں بیچارگی میں کہتی وہاں سے چلی گئی
❁❁❁
ان دو چار دنوں میں میں نے باصم کی بکواس بکل نہیں سنی تھی جانے کیوں میں اس کی بکواس کو مس کر رہی تھی , اب نہ تو وہ مجھے تنگ کرتا تھا نہ کوئی مذاق ، ہم ایک ہی گھر میں بلکل اجنبی بن چکے تھے ایک دوسرے کے لیے، شاید وہ سدھر گیا تھا بدل گیا یا پھر میرے جذبات و احساسات اس کے لیے بدل گئے تھے ۔
کیا ہوا دانین؟
حریم میرے پاس آکر بیٹھ گئی تو میں مسکرا دی
کچھ بھی نہیں
میں نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
پھر اداس کیوں بیٹھی ہو؟
حریم نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا
میں اور اداس ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
میرا قہقہہ بے ساختہ تھا حریم بےچاری چپ سی ہوگئی
اور باصم کیسا ہے؟
حریم نے ایک اور سوال کیا۔
تم اس کا بڑا پوچھ رہی ہو اتنا خیال کبھی میرا بھی کیا کرو ۔
میں خفا سی ہوگئی
اتنے دنوں سے نظر نہیں آیا نہ۔۔
حریم نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی میں غور سے اسے دیکھنے لگی ۔
تمہیں کیوں نظر آئے وہ ہاں ں ں ؟
میں نے گھور کر حریم کو دیکھا
اففف دانین عجیب پاگل لڑکی ہو تم بھی۔
حریم بکس اٹھا کر کلاس کی طرف چلی گئی میرا دل و دماغ عجیب الجھن کا شکار تھا ۔
❁❁❁
خالہ میں جارہا ہوں آفس اللہ حافظ۔
اللہ حافظ بیٹا۔
عابدہ کو ہلکا سا چکر آگیا وہ گرنے ہی لگی تھیں پر باصم نے انہیں تھام لیا۔
خالہ کیا ہوا ؟
باصم عابدہ کو بٹھا کر پانی لینے گیا وہ بہت پریشان ہوگیا تھا
کچھ نہیں بیٹا تم جاؤ میں ٹھیک ہوں اب۔
عابدہ نے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا
آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی
باصم نے پریشانی سے ان کی پیشانی کو چھو کر دیکھا
خالہ آپ کو تو بہت تیز بخار ہے میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔
باصم ڈاکٹر کو فون کرنے لگا ۔ ۔
❁❁❁
میں ڈور بیل بجا رہی تھی پتہ نہیں کیوں آج امی کو دروازہ کھولنے میں اتنی دیر لگ رہی تھی
تم آفس نہیں گئے؟
میں نے اندر داخل ہوتے ہی سوال کیا ۔ دروازہ باصم نے کھولا تھا
نہیں وہ۔۔
باصم ابھی بول ہی رہا تھا کہ میں نے اس کی بات کاٹ دی۔
یہ کون ہیں باصم ؟
ڈاکٹر کو دیکھ کر میں نے باصم سے پوچھا ڈاکٹر کو یہاں دیکھ کر مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی تھیں
اس سے پہلے کہ باصم کچھ کہتا ڈاکٹر صاحب خود ہی باصم کے پاس چلے آئے۔
She’s fine
بس بخار اور بی پی لو ہونے کی وجہ سے ان کو چکر آرہے تھے یہ کچھ دوائیاں ہیں ان ٹائم ٹو ٹائم یہ دوائیاں دینی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب اور بھی کچھ ہدایات دے رہے تھے میں وہاں رکی نہیں تھی بھاگ کر امی کے کمرے میں جا پہنچی تھی
امی ،
میں نے انہیں آواز دی پر وہ سو رہی تھیں میری آنکھوں میں آنسوں آگئے میں ان کے پاس بیٹھ کر کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہی ۔ ۔ ۔
باصم کمرے میں آگیا تھا میں نے غصے سے اسے دیکھا اور باہر آنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئی
باصم تم اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہو امی کی طبعیت خراب تھی تو تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا۔ تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی تم بہت لاپرواہ انسان ہو تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا تم بہت بہت بہت لاپرواہ انسان ہو
میرا سارا غصہ آنسوؤں میں بدل چکا تھا
بس ہوگیا تمہارا۔۔۔۔۔۔ اب میری سنو تمہیں فون کرنے سے کیا ہوتا ؟ تم ڈاکٹر تو نہیں ہو جو تم خالہ کا علاج کرتی اس وقت مجھے ڈاکٹر کو فون کرنا صحیح لگا نہ کہ تمہیں اور ہاں ہوں میں لاپرواہ۔
باصم پہلی بار اتنے غصے میں بول رہا تھا پہلی بار وہ غصہ کر رہا تھا میرے آنسوں اور تیزی سے بہنے لگے ۔
کہاں جارہے ہو؟
باصم کو جاتا دیکھ میں نے پوچھ لیا
یہ دوا لینے جا رہا ہوں تم خالہ کے پاس جاؤ میں آتا ہوں۔
اس نے دھیمے لہجے میں کہا اب کی بار اس کا غصہ کہیں غائب ہو گیا تھا میں اثبات میں سر ہلا کر امی کے کمرے میں چلی گئی
میں امی کا ہاتھ پکڑے بیٹھ تھی کہ ڈور بیل بجنے لگی۔
میں نے دروازہ کھولا تو سامنے باصم تھا
یہ دوائی ہے شام کو خالہ کو دینی ہے ۔
باصم نے میرے ہاتھ میں دوائیاں تھمائی۔
تم نے کچھ کھایا؟
باصم نے اچانک ہی سوال کرلیا تھوڑی دیر پہلے تو وہ بہت غصے میں تھا اور اب اتنا سنجیدہ۔۔
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔
میں نے منہ بنا کر جواب دیا اس کا غصہ کرنا مجھے بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔
دیکھو دانین اگر تم کھانا نہیں کھاؤ گی تمہارے لیے بھی ڈاکٹر بلوانا پڑے گا اور میں تمہارے لیے باہر سے کھانا لایا ہوں۔
سنجیدگی میں کہتے ہوئے باصم ہنسنے لگا
اچھا صرف میرے لیے؟
میں نے اس سے کھانے کی شاپر لی اور کچن میں چلی گئی۔
مطلب میں بھی کھاؤں گا اور سوری مجھے تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی
باصم بھی کچن میں چلا آیا مجھے حیرت ہوئی پہلی بار وہ اپنی کی گئی کسی بات پر معزرت کر رہا تھا اور معزرت بھی مجھ سے؟
تم نے کبھی اپنی غلطی پر مجھ سے معافی نہیں مانگی آج تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو آج جب کہ تمہاری کوئی غلطی بھی نہیں تھی.
I’m sorry for everything
باصم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
میں نے بھی اس سے معزرت کرلی جب وہ کرسکتا ہے بنا کسی غلطی کہ تو میں بھی کرسکتی ہوں اس کی معافی سے میں پگھل چکی تھی اتنا تو بنتا ہی تھا۔
دانین تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ یہ ڈاکٹر کو بلاؤں؟
باصم کو جیسے یقین ہی نہیں آرہا تھا اتنی حیرانگی وہ میرا چہرہ تکے جارہا تھا۔
پھر سے تمہاری بکواس شروع؟
میں کھانا نکال کر ڈائننگ روم میں چلی گئی باصم بھی پیچھے ہی آیا تھا ۔
❁❁❁
رات کے آٹھ بج رہے تھے میں اور باصم امی کے کمرے میں تھے
امی آپ کی طبیعت کیسی ہے؟
ایک بار پھر میری آنکھوں میں آنسوں آنے لگے تھے
مجھے کیا ہوگا میں بلکل ٹھیک ہوں دانین۔
امی نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا امی ابھی آپ آرام کریں
تم جاؤ میں خالہ کے ساتھ ہوں
باصم نے امی کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا میں نے نفی میں سر ہلا دیا
تم جاؤ میں امی کے ساتھ ہوں
دیکھو دانین! ایسا کرتے ہیں دونوں ہی خالہ کے ساتھ رک جاتے ہیں
باصم مسئلے کا حل نکال کر آرام سے بیٹھ گیا مجھے ویسے بھی امی کے پاس رہنا تھا تو میں مزید کچھ کہے بنا وہیں بیٹھی رہی
کافی دیر ہم یونہی خاموش بیٹھے رہے امی سو چکی تھیں۔
ویسے تم چاہو تو تم یہاں اس گھر میں رہ سکتے ہو۔
میں نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا میں ناجانے کیوں بہت شرمندہ ہورہی تھی جو پہلے صحیح لگ رہا تھا وہ اب کیوں اتنا غلط لگ رہا تھا میں اتنی بےحس تو نہیں تھی
جب آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی جگا کسی کی زندگی میں نہیں رہی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو اس کی زندگی سے ایگزٹ کرلینا چاہیے ۔
باصم کافی دلشکستہ اور سنجیدہ تھا مجھے اور زیادہ شرمندگی ہونے لگی
چھوڑو ان سب باتوں کو۔۔
شاید باصم نے میری شرمندگی محسوس کرلی اس نے مسکرا کر بات بدل دی میں مسکرا بھی نہ سکی
ایک بار پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی
باصم صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گیا تھا میں ناشتہ بنانے چلی گئی
جب میں امی کے لیے ناشتہ لے کر آئی تو وہ جاگ رہی تھیں اور پہلے سے کافی بہتر لگ رہی تھیں ۔
باصم وہاں نہیں تھا شاید اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
آپ کا ناشتہ
میں نے ناشتہ امی کے سامنے رکھا
باصم کہاں ہے ؟
امی پورے کمرے میں نظر دوڑائی
امی آپ ناشتہ کریں۔
میں نے ناشتے کی طرف اشارہ کیا ۔
اس نے ناشتہ کیا
امی کے سوال ختم نہیں ہو رہے تھے میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی
وہ اپنے کمرے میں ہے پہلے آپ کرلیں ناشتہ، اس کے لیے میں بعد میں ناشتہ بنا دوں گی۔ اتنی بھی ظالم نہیں میں ۔
میں نے ناک چڑھا کر کہا ۔ امی گھڑی کو دیکھنے لگی
اس کے کپڑے استری کردو دانین اس کو آفس بھی جانا ہے باصم کو کپڑے استری کرنا نہیں آتے۔
امی مسلسل باصم کے لیے پریشان ہو رہی تھیں کتنی فکر اور خیال تھا ۔ میں اثبات میں سر ہلا کر باہر آگئی۔
ساری دنیا کی بکواس آتی ہے بس استری کرنا نہیں آتی۔
میں بڑبڑاتی ہوئی اسکے کمرے کی طرف آچکی تھی
دروازہ آدھ کھولا تھا
دو بار ناک کرنے سے جب کوئی جواب نہیں آیا تو میں اندر چلی گئی
اندر کا نظارہ دیکھ کر میرا سر گھومنے لگا ایک منٹ کو میں سن ہوچکی تھی
ساری چیزیں بکھری پڑی تھیں کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں تھی ۔
یہ کمرہ ہے یا چڑیا گھر میں نے اپنا سر پیٹ لیا
باصم وہاں بھی نہیں تھا میں غصے سے باہر چلی آئی مجھ سے ایک منٹ نہ رکا گیا وہ پتہ نہیں کیسے رہتا تھا “جنگلی کہیں کا”۔
ڈور بیل بجنے کی آواز آئی تو میں غصے سے سر جھٹک کر دروازہ کھولنے چلی گئی پر باصم وہیں تھا
باصم نے دروازہ کھولا تو سامنے حریم تھی
باصم دروازے سے ہٹ گیا تو حریم اندر آئی ۔
وہ دانین نے بتایا کہ آنٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں ان سے ملنے چلی آئی۔
حریم اندر آتے ہی ہچکچا کر کہنے لگی وہ کنفیوژڈ تھی
میں نے ابھی جواب دینے کو منہ کھولا ہی تھا کہ باصم بول پڑا
یہ تمہارا اپنا گھر ہے اس لیے تم جب چاہو آسکتی ہو اس لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری تو نہیں۔
تم بیٹھو ۔
باصم بڑے دوستانہ انداز میں کہہ رہا تھا اور حریم تو ایسے خوش ہورہی تھی جیسے وہ باصم نہیں بلکہ شاہ رخ خان ہو میرا تو منہ کھلے کا کھلا رہ گیا
نہیں پہلے میں آنٹی سے مل کہ آتی ہوں۔
حریم نے مسکرا کر کہا باصم نے کندھے اچکا دیئے
امی اپنے روم میں ہیں ۔
مجھے مجبوراً یاد دلانا پڑا کہ میں بھی یہاں ہوں دونوں مجھے اگنور کیے جارہے تھے پتہ نہیں کیوں مجھے برا لگ رہا تھا
حریم مسکرا کر روم کی طرف چلی گئی اور باصم بھی اس کے پچھے جانے لگا تھا
میں کمر پر دونوں ہاتھ ٹکائے اسکے سامنے کھڑی ہوگئی اس نے آبرو اچکا کر راستہ چھوڑنے کا اشارہ کیا دل تو کیا ابھی اس کے سر پر سامنے رکھا گلدستہ دے ماروں
یہ کیا کہہ رہے تھے تم یہ اس کا اپنا گھر ہے ؟
میں اسے گھورنے لگی کہ شاید اس کو کوئی شرم ہی آجائے پر وہ بھی صدا کا بےشرم تھا
ہاں تو اس کا اپنا ہی گھر ہے ۔
ڈھٹائی سے جواب دے کر وہ جانے لگا میں نے ایک بار پھر اس کا رستہ روک لیا
کس حساب سے ؟
میں نے چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ سجا کر پوچھا
یہ گھر اس کی بیسٹ فرینڈ کا ہے اس حساب سے یہ گھر اس کا بھی ہوا
اس نے اطمینان سے جواب دیا اور پھر غور سے میرے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔۔
پر تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟
باصم اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے پر سوچ انداز میں مجھے دیکھ رہا تھا میں گڑبڑا سی گئی
میری مرضی میں جارہی ہوں ۔
میں نے منہ پھیر لیا تو وہ میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اب کی بار وہ بہت سنجیدہ لگ رہا
گھر چھوڑ کر؟
اس نے آہستگی سے کہا اس نے اپنی ہنسی کنڑول کرنے کی کوشش کی تھی جو کہ ناکام رہی
بھڑ میں جاؤ باصم میں گھر جھوڑ کہ نہیں جارہی امی کے روم میں جارہی ہوں
اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا میں اسے دھکا دے کر امی کے کمرے میں چلی آئی ۔ اور حریم کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگی ۔
باصم کمرے میں آیا تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی، باصم نے ٹرے ٹیبل پر رکھ دیا میں تو حیران کن نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
بیٹا مجھے بھی چائے دینا ۔
امی نے باصم سے کہا تو باصم نے ٹرے سے گلاس اٹھا کر انہیں تھما دیا۔
خالہ آپ کے لیے چائے نہیں فریش جوس ہے آپ یہ پئیں گی ۔
امی نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور جوس پینے لگی ۔
یہ چائے تم نے بنائی ہے باصم ؟
حریم نے چائے سپ لے کر کہا میں چائے کو دیکھنے لگی کہ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں۔
چائے بہت اچھی ہے۔
حریم سپ لیتے تعریف کرتی بہت بری لگی تھی مجھے
تھینک یو !
باصم نے ہلکا سا سر کو خم دیا۔
تمہاری شادی جس بھی لڑکی سے ہوگی وہ بہت خوش نصیب ہوگی ۔
حریم کو چائے میں ناجانے کیا گھول کر پلایا تھا کہ وہ باصم کے گن گائے جارہی تھی۔ اور یہ شادی کی بات کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔
بیٹا تمہارے منہ میں گھی شکر ویسے بھی میں باصم کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہی ہوں۔
امی سے تو شادی کی بات پر رہا نہیں جاتا تھا باصم ایسے شرما رہا تھا جیسے وہ نئی نویلی دلہن ہو۔ میں دل ہی دل میں کڑھنے لگی۔
ہاں جیسے ڈھونڈنے سے مل جائے گی۔
میں نے آنکھیں گما کر جل کہ کہا
اسے چھوڑو تم یہ بتاؤ تمہیں باصم کیسا لگتا ہے ؟
امی حریم سے پوچھنے لگی ۔ اس بات پر میں خود کو روک نہ پائی اور بے اختیار چیخ اٹھی۔
امی ی ی ی۔
یہ آپ میری دوست سے کس طرح کی بات کر رہی ہیں۔
میں اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
آنٹی مجھ سے پوچھ رہی ہیں تم تھوڑی دیر کے لیے چپ رہو
حریم نے میرا ہاتھ کھینچ کر دوبارہ اپنے پاس بٹھا لیا۔
میں باری باری ان سب کے چہرے دیکھنے لگی باصم چہرے پہ سنجیدگی طاری کیے خاموش بیٹھا رہا۔
دیکھیں آنٹی باصم بہت اچھا ہے کھانا بھی بنا لیتا ہے اچھی جاب ہے میری طرف سے تو ہاں ہے۔
ایسے کیسے تمہاری طرف سے ہاں ہے ؟ کوئی باصم سے بھی تو پوچھ لے۔
میں بھری ہوئی آواز میں بولی ۔
تو ابھی پوچھ لیتی ہوں باصم کیا تمہیں میرا فیصلہ منظور ہے؟
امی تو آج کہ آج باصم کی شادی کرنے کو تیار تھیں
خالہ وہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔
باصم کچھ کہتے کہتے رک گیا
ہاں میری طرف سے ہاں ہے مجھے کوئی انکار نہیں۔
باصم کا جواب سن کر مجھے صدمہ لگا ۔
یہ کیا کہہ رہے ہو پاگل انسان تم تو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اپنے لہجے کو ٹوٹنے سے بچانے کی ناکام کوشش کی میری آنکھیں چھلکنے کو تھیں ۔
ہاں دانین میں تمہیں پسند کرتا ہوں پر تم نے مجھے ایک بار نہیں دو بار ریجکٹ کیا اس کے بعد بھی میں یہاں رہا کہ شاید تم مجھے قبول کرلو ۔ لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کسی کی نہ کو زبردستی ہاں میں نہیں بدلا جاسکتا۔
وہ کس اطمینان سے یہ کہہ رہا تھا میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔
مجھے لگا تم جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہو ۔
آخر کار میری آنکھیں چھلک پڑی اس وقت میرا غم وغصہ سے برا حال تھا۔
تب میں بچہ تھا دانین اور بچپن میں بچے شرارت نہیں کریں گے تو کون کرے گا لیکن اب کیا فائدہ تمہیں سمجھانے کا ۔
باصم نے کندھے اچکا دیئے جانے کیوں باصم کی ان باتوں سے میرا دل دکھ رہا تھا
ہاں اب کیا فائدہ مجھے سمجھانے کا تم نے تو حریم کے لیے ہاں کردی ہے
میں نے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسوؤں کو صاف کیا
پر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی ۔
میں اپنی جگہ سے اٹھ کر امی کے پاس چلی گئی۔
امی آپ نے مجھے سے پوچھا تھا کہ میں باصم سے شادی کروں گی یا نہیں تو سب سن لیں میری طرف سے ہاں ہے مجھے باصم قبول ہے ۔
اور تم دونوں اب کر کے دکھاو شادی ۔
میں نے انگلی دکھا کر وارننگ دی ۔ سب ہنس پڑے میں شاکڈ سی انہیں دیکھنے لگی۔
آپ سب ہنس کیوں رہے ہیں؟
میں نے ناسمجھی سے پوچھا۔
بیٹا تم سے ہاں بلوانے کے لیے یہ سب ناٹک کروانا پڑا ۔
امی نے ہنستے ہوئے کہا۔
تو حریم ۔
میں نے حریم کو دیکھا جو اب بھی ہنس رہی تھی۔
ہاں دانین میں اس ناٹک کا مین کردار ہوں اور یہ آئیڈیا میں نے ہی دیا تھا آنٹی کو
ابھی جب میں روم میں آنٹی کے پاس آئی تو وہ تمہارے اور باصم کے رشتے کو لے کر بہت پریشان تھیں۔
بس پھر ساری زمہ داری مجھے اپنے نازک کندھوں پر لینی پڑی اور دیکھ لو نتیجہ۔
اب تم پلیز یہ مت سمجھ لینا کہ مجھے پہلے سے ہی سب پتہ تھا مجھے بھی اس ناٹک کے دوران ہی پتہ چلا ۔
خالہ نے مجھ سے حریم کے متعلق پوچھا تو میں حریم کے لیے انکار کرنے لگا تھا جب خالہ نے مجھے اشارے سے سمجھایا
میں سمجھ گیا یہاں یہ سب جو ہورہا یہ خالہ اور حریم کا کوئی پلان ہے میں نے بھی اس ناٹک میں اپنا حصہ ڈال دیا۔
میرے گھورنے پر اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر صفائی دی ۔
اتنی دیر سے مجھے بے وقوف بنایا جارہا تھا میں ناراضگی سے بولی ۔
یہ مت سمجھنا کہ میں نے تمہاری وجہ سے ہاں کی ہے وہ تو میں نے امی کی وجہ سے ہاں کی ۔
میں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا امی نے میرے شانے پر ہلکی سی چپیڑ ماری ۔
امی کی وجہ سے ہاں کی سب جانتی ہوں میں ۔
امی نے میری نقل اتر کہ کہا تو ایک لمحے کو میں جھینپ سی گئی ایک بار پھر سب ہنسنے لگے۔
❁❁❁
پورا گھر سجا ہوا تھا آج دانین اور باصم کا نکاح تھا جو کہ بہت سادگی سے ہورہا تھا
باصم کے ہاتھ میں ایک باکس تھا باصم سب سے بچ بچا کر دانین کے روم کی طرف آگیا دروازہ لاک نہیں تھا کچھ دیر پہلے حریم دانین کے روم سے باہر نکلی تھی۔
سرخ لہنگا مجھ پر اس قدر جچ رہا تھا کہ میں بار بار خود کو آئینے میں دیکھےجارہی تھی میں آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی جب باصم روم میں آیا اسے دیکھ کر میں پلکیں جھپکنا بھول گئی
سفید شیروانی میں وہ مجھے کسی ریاست کا شہزادہ لگا تھا
یہ کیا تمیز ہے باصم تم میرے روم میں گھس آئے ہو ۔
میں نے اسے ہمیشہ کی طرح کچھ شرم دلانی چاہی مگر وہ بھی باصم تھا صدا کا بےشرم ڈھیٹ بن کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔
تو کیا کروں بتاؤ یہ دینے آیا تھا ۔
باصم نے ایک خوبصورت سا باکس میرے آگے بڑھایا پر میں اس باکس کو لینے کا کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی اس لیے میں نے باکس نہیں لیا ۔
یہ کیا ہے ؟
میرے سوال پر باصم نے سر پیٹ لیا۔
کاکروچ ہے اس میں ۔
باصم کے جواب پر بمشکل میں نے خود کو چیخنے سے روکا تھا
نکلو یہاں سے اور اپنا یہ کاکروچ والا باکس بھی لے جاؤ
میں نے غصے سے کہا
دانین بات سنو میں مزاق کر رہا ہوں اس میں کاکروچ نہیں ہے خود ہی کھول کر دیکھ لو ۔
باصم نے دوبارہ باکس میری طرف بڑھایا
پکا نہ
اور اس بار اس کی معصوم سی شکل دیکھ کر میں نے وہ باکس لے لیا اب جب رشتہ جڑ رہا تھا تو اس پر یقین کرنا فرض تھا میرا۔
میں نے جب باکس کھولا تو اس میں ایک نہایت ہی خوبصورت نیکلس تھا
یہ تو بہت خوبصورت ہے میں بے ساختہ بولی اور نیکلس اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔
یہ میرے لہنگے سے میچ بھی ہے ۔
میں خوشی سے چہک اٹھی اور وہ نیکلس پہن لیا ۔
اف یہ لڑکیوں کی میچنگ
باصم بڑبڑانے لگا ۔
ویسے ایک اور بھی چیز ہے
باصم کی بات سن کر میں اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
باصم میرے سامنے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
باصم میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بولا
دنیا میں محبت کے اظہار کو کہے جانے والے الفاظ تو دیر میں تخلیق پائے۔
میں نے تمہیں انت الحیات اسی وقت محسوس کر لیا تھا
جب عالم ارواح میں ہماری روح نے ایک دوسرے کو بطورِ ساتھی چنا تھا۔
وہ شاعری اتنے خواب ناک انداز میں بول رہا تھا کہ میں اسے دیکھتی رہ گئی میرا دل چاہ رہا تھا وہ یونہی بولتا رہے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی آج مجھے پتہ چلا کہ وہ مسکراتے ہوئے بہت دلکش لگتا ہے۔
باصم نے اپنی جیب سے گلاب کا پھول نکال کر میرے سامنے پیش کیا جسے میں نے ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر کیے بنا لے لیا ۔
حریم کمرے میں آئی تو باصم کمرے سے باہر چلا گیا اور میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی۔
سب تیاریاں مکمل ہوچکی تھی مولوی صاحب آچکے تھے
ہمارے درمیان موتیے اور گلاب کے پھولوں کی دیوار سی بنائی گئی تھی
ایک طرف باصم بیٹھا تھا اور ایک طرف میں بیٹھی تھی۔
نکاح شروع ہونے سے پہلے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں خالہ سے ۔
ہاں بولو بیٹا
امی نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
مجھے کچھ چاہیے۔
باصم نے بھی اسی لہجے میں کہا میں تو سوچ میں پڑ گئی کہ باصم کیا کہنا چاہتا ہے آخر۔
آپ شادی کے بعد میرے اور امی کے ساتھ رہیں گی ویسے بھی کوئی تو ہو نہ جو میری سائیڈ لے ۔
باصم بڑے لاڈ سے بولا یہ انوکھی فرمائش تھی اس کی جو مجھے بہت اچھی لگی
بیٹا میں اپنے داماد کے گھر کیسے رہ سکتی ہوں ۔
امی نے باصم کو سمجھانا چاہا ۔
بیٹے کے گھر تو رہ سکتی ہیں نہ ؟
باصم نے مسکرا کر پوچھا تو امی کی آنکھیں نم ہوگئی
میرا بیٹا
امی نے باصم کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
باصم کے اس فیصلے سے آصفہ اور قریش بھی خوش ہوئے انہوں نے بھی دل ہی دل میں اسے سراہا۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کردیا ۔
دانین بنت اکرم کیا آپ کو باصم قریش کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے۔
قبول ہے
میرے آنکھوں میں خوشی اور تشکر کے آنسوں تھے میں نے باصم کو دل سے قبول کیا تھا زندگی ساری مشکلیں جیسے کہیں پیچھے چھٹ گئی تھی ساری تھکاوٹ باصم کے ساتھ نے سکون میں بدل ڈالی تھی زندگی خوشیاں لیے ہمارے سامنے کھڑی تھی باصم کا ہاتھ تھامے میں زندگی کی خوشیاں سمیٹنے چل پڑی تھی
اچھے ہمسفر کا ساتھ انسان کو مشکل راستے میں بھی تھکنے نہیں دیتا۔