Tum Mujhe Qabool Ho By Asiya Barkat Readelle50286

Tum Mujhe Qabool Ho By Asiya Barkat Readelle50286 Last updated: 5 October 2025

50.9K
2

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Mujhe Qabool Ho

By Asiya Barkat

دکھانے لگتا ہے منظر چراغ جلتا ہوا کسی کا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکلتا ہوا اک آنکھ دستکیں دیتی ہوئی میرے دل پر اک اشک شام کو سورج کے ساتھ ڈھلتا ہوا رات کے 9بج رہے تھے امی لاؤنج میں پریشان بیٹھی باصم کا انتظار کر رہی تھیں اور میں کچن میں اپنے لیے چائے بنانے میں مصروف تھی۔ تبھی باصم آیا اور امی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ ایسے جیسے اسے پتہ ہو کہ امی کیوں پریشان ہیں خالہ مجھے میری کمپنی نے گھر دے دیا ہے یہ دیکھیں اسکی چابی۔ میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی شکر جان چھوٹی ۔ بیٹا پر تم یہی رہو امی نے باصم کے سر پر ہاتھ پھیرا یہ منظر دیکھ کر میں بھی چپ نہ رہ سکی امی جارہا ہے تو اسے جانے دیں نہ میں نے کچن سے آواز لگائی خالہ میں آتا جاتا رہوں گا ایسے اچھا نہیں لگتا اور دانین کا جواب بھی مل گیا اب میرا چلے جانا ہی بہتر ہے ۔ اس سے پہلے کہ امی کچھ کہتی باصم تسلی آمیز انداز میں بولا پر بیٹا نہیں خالہ مجھے بولنے دیں باصم نے امی کے ہاتھ تھام کر انہیں کہنے سے روکا میری شادی کی زمہ داری ابھی آپ کے ہاتھوں میں ہے میرے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈئیے گا باصم نے مسکرا کر کہا تو امی کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اچھا اب آپ ایموشنل نہ ہوں میں ابھی نہیں جارہا ایک ہفتے بعد جاؤنگا یہ بات باصم نے زور سے کہی تھی جیسے اسپیشلی مجھے بتا رہا ہو ۔ دل کرتا ہے اس کا قتل کردوں میں غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔ میرا بیٹا امی نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ان کی نظر ایک شاپر پر پڑی جو باصم اپنے ساتھ لایا تھا یہ کیا ہے بیٹا؟ امی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ اس میں کلرز ہیں باصم نے شاپر امی کو دکھائی ۔ ایں مجھے تو لگا تھا گھر ملنے کی خوشی میں مٹھائی ہوگی کلرز کا سن کر میرے تو ہوش ہی اڑ گئے کہیں یہ پہلے کی طرح میرے منہ پر تو نہیں لگائے گا ۔ ایسا نہیں ہوسکتا ہو بھی سکتا ہے اس کو دو بار ریجکٹ کیا ہے میں نے شاید اس کا بدلہ لے میں اپنے ہی خیالات میں الجھ گئی تھی باصم اپنے کمرے میں جاچکا تھا امی بھی جارہی تھیں کہ ان کی نظر مجھ پر پڑی اب خوش ہوگئی نہ تم وہ جا رہا ہے امی نے غصے سے کہا تو میں اپنے خیالوں سے باہر آئی خوش تو میں تب ہوتی جب وہ کل ہی چلا جاتا اور یہ کلرز کیوں لیا ہے وہ میں نے منہ بنا کر کہا تمہارے منہ پر لگانے کے لیے امی بھی غصے میں کہہ کر جاچکی تھی میں منہ کھولے وہی کھڑی رہ گئی یہ نہیں سدھرے گا اس بار اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔