Tum Mujhe Qabool Ho By Asiya Barkat Readelle50286 (Tum Mujhe Qabool Ho) Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
(Tum Mujhe Qabool Ho) Episode 1
ناول : تم مجھے قبول ہو
ازقلم : آسیہ برکت علی
قسط : 01
جب میں تھک ہار کہ گھر پہنچی تو امی کافی خوش نظر آرہی تھیں.
انہیں اس قدر خوش دیکھ کر میری ساری تھکن غائب ہوچکی تھی صوفے پر بیٹھتے ہی میں نے ان کی خوشی کی وجہ پوچھ لی.
”کیا بات ہے امی آج آپ بہت خوش نظر آرہی ہیں“.
دانین میری آصفیہ سے بات ہوئی ہے کل باصم آرہا ہے.
”کیوں خالہ نے باصم کو گھر سے نکال دیا“ ؟
میں بے اختیار بولی تھی مجھے انتہائی بےزاری ہو رہی تھی باصم کے آنے کا سن کر میرا موڈ آف ہوچکا تھا.
اللہ نہ کرے۔۔۔۔۔وہ تو اس کی جاب یہاں لگ گئی ہے نہ کمپنی کی طرف سے گھر بھی ملے گا پر وہ ملنے میں کم از کم ایک دو ماہ لگ جائیں گے
آصفیہ کہہ رہی تھی تب تک باصم کسی ہوٹل میں رہ لے گا
میں نے تو صاف منع کر دیا بھئ جب خالہ کا گھر ہے تو وہ کسی ہوٹل میں کیوں جائے ؟ میں نے اسے یہاں رہنے کو کہا ہے۔
امی بولتے چلی جارہی تھیں.
امی یہ آپ نے کیا کردیا؟؟؟
میں نے شکایتی نظروں سے امی کو دیکھا.
کیوں بھئ یہ اس کی خالہ کا گھر ہے ۔ اور آصفیہ اس نے تمہارے رشتے کی بات بھی کی تھی ۔ اس بیچ تم دونوں ایک دوسرے کو جان لینا.
امی کی خوشی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی میں جھنجھلا کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی
کیا مطلب ایک دوسرے کو جان لینا؟
جو آپ سوچ رہی ہیں نہ وہ کبھی نہیں ہوگا.
باصم میرا دشمن ہے اور ہمیشہ رہے گا.
میں غصے میں کہہ کر اپنے کمرے میں چلی آئی.
مجھے امی پر غصہ آرہا تھا وہ ایسا کیسے سوچ سکتی ہیں.
باصم میری خالہ کا بیٹا ہے اور میرا پکا دشمن وہ پچن سے ہی میرا دشمن تھا۔
ابو ایک سرکاری ملازم تھے میں جب آٹھ سال کی تھی وہ اس دنیا سے چلے گئے
تب میں نے باصم کو آصفیہ خالہ کے ساتھ دیکھا تھا
دس سالہ باصم معصوم لگ رہا تھا
مجھے نہیں تھا پتہ یہ بچہ معصوم نہیں بلکہ شیطان کا ابو ہے
تین ہفتوں میں باصم نے اپنا شیطانی رنگ دکھانا شروع کردیا.
وہ جانتا تھا میں کاکروچ سے کتنا ڈرتی ہوں پھر بھی وہ کاکروچ کو اس کی موچھوں سے پکڑے میرے پیچھے پورے گھر میں بھاگتا رہتا تھا جب تک کوئی اسے روک نہ لیتا وہ مجھے بھگاتے رہتا.
کبھی میرے ہاتھ ایلفی سے جوڑ دیتا.
کبھی کچھ تو کبھی کچھ اس نے مجھے تنگ کرنے کا ہر حربہ آزمایا دو ماہ میں میری زندگی عذاب بنا دی وہ دو ماہ کیسے گُزرے یہ صرف میں ہی جانتی ہوں.
جب آصفیہ خالہ اپنے گھر جارہی تھیں میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا کیونکہ باصم جارہا تھا اس کے جانے کے بعد میں نے دو نفل شکرانے کے ادا کیے
اور دعا کی کہ وہ میرے زندگی میں دوبارہ کبھی نہ آئے.
مجھے باصم سے نفرت ہوگئی تھی.
پھر جب پانچ سال بعد وہ ہمارے گھر آیا پندرہ سالہ باصم بہت شریف سا لگ رہا تھا بہت خاموش ایسا لگا جیسے وہ سدھر گیا ہے
مجھے کچھ تسلی سی ہوئی
سارا کام کر کے میں سکون سے سوگئ صبح امی کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی میں نیند سے بیدار ہوئی تو بارہ بج رہے تھے امی شور مچا رہی تھیں
پھر یاد آیا آج خالہ واپس جارہی ہیں
امی مسلسل مجھے بلا رہی تھی
میں بنا منہ دھوئے سیدھا لاؤنج میں جا پہنچی
خالہ جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں
امی مجھے دیکھ کر زور سے چیخ پڑی مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہ آیا
دانین یہ کا حال بنا رکھا ہے؟
امی مجھے پلکیں جھپک جھپک کر دیکھ رہی تھیں
اور خالہ خالو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے آیت الکرسی پڑھنے کے باوجود کوئی جن دیکھ لیا ہو۔
امی کمرے سے آئینہ لے آئیں اور میرے سامنے کیا۔
آئینہ دیکھ میری اپنی چیخ نکل گئی۔
میرے منہ پر اتنے سارے رنگ کہاں سے آگئیں میں بلکل جن لگ رہی تھی
امی مسلسل صلواتیں سنائے جارہی تھی۔
امی دیکھیں کوکاف کا جن
باصم کو جیسے ہنسی کا دوراہ پڑگیا تھا۔
مجھے اس کی ہنسی زہر لگ رہی تھی دل کر رہا تھا اس کے دانت توڑ دوں۔
بیٹا جاؤ جاکر منہ دھو لو
خالہ نے اپنے سپوت کو آنکھیں دکھا کر چپ کروانے کی کوشش کی تھی ۔
امی اب منہ دھونے کا کوئی فائدہ نہیں یہ واٹر پروف کلرز ہیں۔
باصم اپنی ہنسی پر بہ مشکل قابو پاکر بولا۔
دل تو کیا میں اس باصم کا قتل کر دوں پر امی اور خالہ کی وجہ سے لہو کے گھونٹ بھرتے رہ گئی۔
خالہ باصم کی اس حرکت پر اسے ڈانٹنے ہی لگی تھیں کہ امی نے یاد دلایا انہیں دیر ہورہی ہے
امی ہمیشہ اسے بچا لیتی تھیں
اس دن میں سمجھ گئی باصم کبھی نہیں سدھر سکتا۔
وہ دن اور آج کا دن مجھے اس سے نفرت ہے
دس سال بعد اس سے پھر سامنا ہوگا ۔
پر اب کی بار اس نے کوئی شرارت کی تو میں بھی چپ نہیں رہوں گی ۔
اب میں بچی نہیں رہی تئیس سال کی ہوں اور اسے میں جواب دونگی اب چپ نہیں رہونگی ۔
پوری رات جاگتی سوتی کیفیت میں سوچتی رہی ۔
صبح ہوتے ہی اسکول چلی گئی
بچوں کو پڑھا رہی تھی پر دھیان کہیں اور تھا جیسے تیسے کلاس لی۔
گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہاں شیطان عرف باصم آچکا ہوگا ۔
پر ناچاہتے ہوئے بھی گھر تو جانا ہی تھا ۔
بلڈنگ کے پاس رکشہ رکوا کے میں رکشہ سے اتر گئی جیسے ہی چلنے لگی تو میری چپل ٹوٹ گئی۔
اب تو کوئی آپشن ہی نہیں تھا میں نے اپنے چپل ہاتھ میں اٹھا لیے اور لفٹ کی جانب چلی گئی
میں لفٹ أنے کا انتظار کرنے لگی اتنے میں ایک لڑکا میرے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا۔
وہ مجھے ہی گھور رہا تھا
آپ چپل سینے والی ہیں ؟
اس کا انداز مراحیہ تھا میں نے غصے سے اسے دیکھا لفٹ آچکی تھی میں بنا کچھ کہے لفٹ میں چلی گئی۔
کونسے فلور پر جائیں گی آپ ؟ میں تو ففتھ فلور پر جاؤں گا
اگر میرا پیچھا کر رہی ہیں تو آپ بھی ففتھ فلور پر ہی جائیں گی۔
وہ بھی لفٹ میں آگیا اس نے لفٹ کا بٹن دباتے ہوئے کہا۔
جانا تو مجھے ففتھ فلور پہ تھا پر اس کی بات سن کر مجھے غصہ آرہا تھا۔
میں کیوں کرنے لگی آپ کا پیچھا آپ میں کوئی سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں
مجھے ایسا لگا جیسے وہ مسکرایا ہو مجھے اور زیادہ تپ چڑھ گئی۔
پہلے اپنا منہ دیکھیں چبے منہ والا ہونہہ۔
اور ہاں مجھے تھرڈ فلور پر جانا ہے۔
اس بار وہ کھل کر مسکرایا تھا اور تھرڈ فلور کا بٹن دبا دیا۔
لفٹ تھرڈ فلور پہ رک چکی تھی
اب آگے مجھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جانا تھا۔
میں لفٹ سے نکل کر سیڑھیوں کی طرف چلی گئی
پر مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ کب میرے پیچھے آگیا اور سیڑھیوں پر پہلے سے موجود تھا
میں نے اللہ سے پناہ مانگی اس شیطان مردود سے
اور بے نیاز ہوکر آگے چل پڑی۔
مجھے دیکھ کر وہ مسکرا رہا تھا آپ میرا ہی پیچھا کر رہی ہیں نہ؟
میں بنا جواب دئیے آگے چلتی رہی
اور وہ میرے پیچھے چلا آرہا تھا
دل تو کیا اس ٹوٹے ہوئے چپل سے اس کو خوب ماروں پر میں نے آگے چلنے میں بھلائی جانی
وہ برائی میرے پیچھے چلی آرہی تھی
دانین نام ہے نہ تمہارا؟
وہ آپ سے تم پر آگیا تھا میرے تو ہوش اڑ گئے
میں ایک دم سے رک گئی
اسے میرا نام کیسے پتہ ہے ؟
اول درجے کا لفنگا ہوگا ویسے بھی گھر دور نہیں ہے
میں نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو تسلی دی اور تیز تیز چلنے لگی
اس کی بھی رفتار بڑھ گئی
اس بدمعاش کو اپنے پیچھے آتا دیکھ میں نے بھاگ کر گھر جانے کا ارادہ کرلیا میں نے بھاگتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا میرا تو دماغ ہی گھوم گیا یہ تو حد ہی ہوگئی یہ تو میرے پیچھے بھاگ رہا ہے
میں دروازے پر پہنچے کر زور زور سے بیل بجانے لگی میری خوف سے حالت خراب ہورہی تھی وہ بھی دروازے تک آچکا تھا
میں نے اسے دیکھتے ہوئے زور زور سے دروزہ پیٹنا شروع کردیا
اوہو کیا ہوگیا ہے
آخر کار امی نے دروازہ کھولا بھاگنے کی وجہ سے میرا سانس چڑھ گیا تھا
کیا ہوا ہے دانین ؟
امی مجھے بغور دیکھنے لگیں
وہ لفنگا میرا پیچھا کر رہا
کون ؟
امی نے دروازے سے منہ باہر نکال دیکھا
سامنے خوبرو نوجوان سینے پر ہاتھ بندھے مسکرا رہا تھا
باصم
امی بے تحاشہ خوش ہوئی اور میں نے حیرت سے اس لفنگے کو دیکھا
سلام خالہ
امی نے باصم کے ماتھے پہ بوسہ دیا اندر چلو بیٹا
باصم۔ ۔ ۔ اس باصم کے بچے کو چھوڑوں گی نہیں۔
امی یہ مجھے تنگ کر رہا تھا
بیٹا اندر آؤ
امی میری بات ان سنی کرکے اپنے بھانجے کو لے کر اندر جاچکی تھیں
میں اندر آئی تو باصم بڑے مزے سے صوفے پر بیٹھ کر مجھے تنگ کرنے کا قصہ امی کو سنا رہا تھا
خالہ میں تو دیکھ کر پہچان گیا تھا دانین کو
تم نے مجھے کیسے پہچانا جب کے تم مجھے دس سال بعد دیکھ رہے ہو
میں اپنا بیگ سائیڈ پر رکھ کر سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئی
دس سال بعد دیکھ رہا ہوں پچاس سال بعد نہیں جو پہچان نہ سکوں
باصم نے اطمینان سے جواب دیا مجھے انتہا کی حیرت ہوئی
پھر بھی نہ تو تم نے میری ابھی والی کوئی فوٹو دیکھی نہ تو میں بچی ہوں اور اب تو میں کافی چینچ ہوگئی ہوں ۔
تمہاری سوچ بلکل صحیح ہے کیونکہ نہ تم نے مجھے فیسبک پر ایڈ کیا نہ تو واٹس ایپ پر، اب میں نے تمہیں دیکھا کیسے اس کا جواب کیسے ڈھونڈیں ۔
باصم نے چٹکی بجائی جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو
ہاں خالہ نے تمہاری فوٹو بھیجی تھی
اب یہ نہ پوچھ لینا کیوں
مجھے کہنے میں شرم آتی ہے
باصم نے معصومیت سے کہا لہجے میں شرارت چھپی تھی میں تو تلملا کر رہ گئی
آپ کو پتہ ہے عابدہ خالہ میں بچپن میں اسے کاکروچ سے ڈرا کر بھگاتا تھا اور آج بنا کاکروچ کے بھگایا ہے اسے
باصم کو ہنسی کا دوراہ پڑگیا تھا مجھے وہ سخت زہر لگ رہا تھا
بچپن میں تمہارے ہاتھ میں کاکروچ ہوتا تھا اور آج تمہارا منہ کاکروچ جیسا بن چکا ہے
میرے تڑخ کر بولنے پر بھی وہ ڈھیٹ بنا ہنستا رہا امی تو مجھے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے ابھی قتل کردیں گی میرا
چلو بیٹا میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھا دوں
امی نے بات بدلنا چاہی
خالہ یہ میرا گھر نہیں ہے؟ آپ مجھے بتائیں میرا کمرہ کونسا ہے میں خود چلا جاؤنگا۔
باصم نے بڑی اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
امی نے کمرے کی طرف اشارہ کیا باصم اٹھ کر جا چکا تھا
اس کے جاتے ہی میں نے شکر ادا کیا چلتا پھرتا ٹارچر
یہ کوئی طریقہ ہوتا ہے بات کرنے کا؟
امی کا غصہ ساتویں آسمان پہ تھا
واہ امی واہ اس نے جو کیا وہ ٹھیک تھا ؟ اور وہ کیا کہہ رہا تھا آپ نے میری فوٹو کیوں بھیجی
تمہارے رشتے کے لیے
بہت سادہ سے انداز میں کہا گیا میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی
کیا یہ بات باصم کو پتہ ہے امی؟
امی نے نرمی سے میرے ہاتھ تھامے
ہاں باصم کو پتہ ہے دانین وہ یہاں اسی لیے آیا ہے کہ تم اس کو قبول کرلو
دیکھو میں تم سے ابھی نہیں کہہ رہی کہ تم اس سے شادی کرلو
تم باصم کو دیکھ لو اس کو جان لو میں ایک ماہ بعد پوچھوں گی تمہیں باصم قبول ہے
میری بے زاری عروج پر تھی میں بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں آگئی تھی ۔
کچھ سال پہلے امی سے خالہ نے میرا رشتہ مانگا تھا
میں نے صاف انکار کردیا تھا پر میں یہ نہیں جانتی تھی کہ باصم مجھ سے ہاں بلوانے کے لیے حیدرآباد سے کراچی آجائے گا
مجھے باصم کسی حال میں قبول نہیں۔
صبح میں تیار ہوکر اپنے کمرے سے نکلی تو حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئی
باصم نے ناشتہ بنایا تھا امی اس کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تھیں جیسے میرا ہی انتظار کیا جارہا تھا
وہاں کیوں کھڑی ہو دانین آؤ ناشتہ کرلو
باصم نے مسکراتے ہوئے بہت اپنائیت سے کہا اس کا یہ انداز دیکھ کر مجھے اس پر شک ہونے لگا تھا
میں نے جیسے تیسے ناشتہ کیا
اوکے امی میں چلتی ہوں مجھے بہت دیر ہورہی ہے اللہ حافظ
امی نے جواباً اللہ حافظ کہا میں باصم کو نظر انداز کر کے وہاں سے جانے لگی
تم جاؤگی کیسے
چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کے وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا
ایک تو اسے مجھے آواز دے کر روک لینے کا پتہ نہیں کیا شوق تھا (لفنگا کہیں کا)
بس یہ رکشہ سے
مروتاً مسکرا کر جواب دیا
دل تو چاہ رہا تھا اپنا بیگ اس کے سر پر مار کر بھاگ جاؤں پر ہائے میرا اخلاق
تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔
ہاں بیٹا تم باصم کے ساتھ چلی جاؤ
امی کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے تاثرات تھے
امی میری دوست بھی میرے ساتھ چلے گی
میں نے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے انکار کیا۔
تو ہم اس کو بھی ساتھ لے لیں گے ویسے بھی مجھے لڑکیوں سے بات کرنے میں شرم آتی ہے
تم بولو اپنی دوست کو ہمارے ساتھ چلے ٹھیک ہے اب چلو
اللہ حافظ خالہ
باصم میرا جواب سنے بنا ہی باہر چلا گیا وہ میری سوچ سے بھی زیادہ ڈھیٹ تھا ۔
میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا میرے سارے بہانے فلاپ ہوچکے تھے
میں بھی پیر پٹختی باصم کے پیچھے ہو لی
ہم لفٹ کا انتظار کر رہے تھے کہ حریم بھی آگئی
سوری میں لیٹ ہوگئی
مجھ سے ملتے ہی اس نے معزرت کرلی
اب معزرت کرنے کے بجائے جلدی چلو
میں نے لفٹ کی طرف اشارہ کیا
حریم بھی اسی اپارٹمنٹ میں ففتھ فلور پر ہی رہتی تھی
ہم باتیں کرتے ہوئے پارگنگ ایریا میں آگئے
باصم نے ہمیں کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنمبھال چکا تھا
ہم دونوں پچھے بیٹھ چکے تھے
ویسے یہ ہے کون ؟
آخر حریم نے پوچھ ہی لیا اب کیا جواب تو دینا ہی تھا
میرا کزن ہے
میں نے سرسری سا جواب دیتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
میرا نام باصم ہے اور آپ کا؟
باصم نے بیک ویو مرر سیٹ کرتے ہوئے بڑے دوستانہ انداز میں کہا
میں حریم ہوں دانین کی بیسٹ فرینڈ
حریم نے بھی جواب دینے میں کوئی دیر نہ کی ۔
مجھے تو یقین نہیں آرہا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے اس نے کہا تھا “مجھے لڑکیوں سے بات کرنے میں شرم آتی ہے” اور اب ساری شرم و حیا بھول کر کیسے باتیں کر رہا تھا (بےشرم) ۔
آپ یہاں کتنے دن رکیں گے؟
حریم نے بھی اسی دوستانہ انداز میں پوچھا
جب تک دانین ہاں نہیں کرتی
باصم نے بیک ویو مرر سے دیکھتے ہوئے کہا
دانین ہاں نہیں کرتی مطلب؟
حریم کبھی مجھ تو کبھی باصم کو دیکھ رہی تھی
پتہ نہیں اسے سچ میں سمجھ نہیں آیا یا جان بوجھ کر نہ سمجھ بن رہی تھی
وہ مجھے کہنے میں شرم آتی ہے
اب آپ اتنا کہہ رہی ہیں تو بتاتا ہوں
ہماری شادی کے لیے۔۔
باصم نے شرمانے کی ناکام کوشش کی تھی
او اچھاااا
حریم مزے سے بولی تو میں تلملا گئی
یہ تماری کیسی شرم ہے بےشرموں کی طرح سب بتا بھی رہے ہو اور شرمانے کی اداکاری بھی کر رہے ہو
تم اول درجے کے بےشرم ہو ، میں تمہارا خون کر دونگی
میرا غصہ ساتویں آسمان پر تھا
یکدم کار رک گئی
میرا خون بعد میں کرنا پہلے جاکر بچوں کو اے فار ایپل پڑھاؤ
باصم مسکراہٹ دبائے مجھے دیکھ رہا تھا اس وقت وہ مجھے زہر لگ رہا تھا پہلے ہی کافی دیر ہوچکی تھی اب اس سے لڑ کر مجھے مزید لیٹ نہیں ہونا تھا
بعد میں دیکھ لوں گی تمہیں۔
میں نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا پر وہ ڈھیٹ کا ڈھیٹ ہی تھا
حریم تم اسے لے کر جاؤ ورنہ یہ نان اسٹاپ مجھ سے لڑتی رہے گی
وہ بڑی آسانی سے آپ سے تم پر آگیا تھا
یہ کتنا تیز ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہیں آپ کہہ کر مخاطب کر رہا تھا اور اب سیدھا تم پر آگیا ہے
ہاں تو اب حریم میری بھی دوست ہوگئی سمپل
حریم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی باصم کندھے اچکا کر بولا
توبہ
چلو حریم
کار کا دروازہ دھڑام سے بند کرتے میں باہر نکلی حریم بھی میرے پیچھے آچکی تھی.
❁❁❁
دانین کیسی ہے ؟
فون کی دوسری طرف بڑے پیار سے پوچھا گیا
آصفہ ہر دوسرے دن عابدہ کو فون کرکے ان کی خیریت پوچھ لیا کرتی تھیں
عابدہ اور آصفہ کو بات کرتے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا اس دوران انہوں نے کئی بار عابدہ سے دانین کا پوچھ تھا
دانین بلکل ٹھیک ہے۔ سب کا پوچھ رہی ہو باصم کا نہیں پوچھو گی؟
عابدہ جتا کر بولیں تو آصفہ ہنس پڑی
اس کا کیا پوچھوں تمہارے پاس ہے تو وہ ٹھیک ہی ہوگا۔ اور بتاؤ وہ دانین کو تنگ تو نہیں کر رہا ؟
نہیں بھئی باصم تو ہمارا بہت خیال رکھتا ہے۔
عابدہ کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی
دوسری طرف آصفہ نے شکر کا سانس لیا
❁❁❁
آج گھر کیوں اتنا جلدی جارہی ہو ؟
مجھے عجلت میں بکس سمیٹتے دیکھ حریم نے پوچھا
اس لیے کہ باصم کا کوئی بھروسہ نہیں وہ مجھے لینے آئے گا، اس لیے جلدی جارہی ہوں
میں نے تھکے ہوئے انداز میں کہا میں باصم کے آنے سے پہلے گھر جانا چاہتی تھی
پر اس نے ایسا کہا تو نہیں تھا کہ تمہیں لینے آئے گا؟
اس کو مجھے تنگ کرنا ہوتا ہے اس لیے وہ مجھے تنگ کرنے ضرور آئے گا۔
میں باہر نکلی تو پس منظر کچھ اور ہی تھا ،
مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
باصم اپنی کار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جیسے میرا ہی انتظار کر رہا ہو۔
چہرے پر مسکراہٹ سجائے مجھ دیکھ کر وہ ہاتھ ہلانے لگا۔
میں اسے اگنور کرکے آگے بڑھ گئی،
باصم بھی میرے پیچھے چل پڑا
رکو کہاں جارہی ہو ؟ گاڑی میں بیٹھو۔
اس نے پچھے سے آواز دے کر مجھے روکنا چاہا میں نے غصے سے مڑ کر دیکھا
تمہاری گاڑی میں بیٹھنے سے بہتر ہے کہ میں پیدل ہی یہ بک پڑھتی ہوئی جلی جاؤں
میں بک کھول کر پڑھتے ہوئے تیز چلنے لگی اس وقت مجھے باصم کی کوئی بات نہیں سننی تھی
ایسے ہی روڈ پر بک پڑھتے ہوئے چلوگی تو گھر نہیں سیدھا ہاسپٹل پہنچ جاؤ گی۔ ہاسپٹل بھی مجھے ہی لے جانا پڑے گا۔
باصم بڑی معصومیت سے بولا
اسی وجہ سے میں تمہارے ساتھ نہیں جا رہی ہوں مجھے پتہ ہے تم گاڑی میں بھی یہی بکواس کروگے
ویسے بھی میں اپنی منزل تک پہنچ جاؤنگی۔
میں نے تڑخ کر جواب دیا تو کچھ پل کو وہ چپ سا ہوگیا
اور میری منزل تم ہو
باصم بڑبڑایا۔ میرے غصے میں اضافہ ہوا
واٹ؟؟؟
میں رک گئی اور غصے سے اسے دیکھنے لگی تو باصم گڑبڑا گیا
آئی مین میں بلکل چپ رہوں گا کچھ نہیں کہوں گا
یہ دیکھو میں ہاتھ جوڑ کر تم سے ریکویسٹ کر رہا ہوں، پلیز میرے ساتھ چلو میں بکواس نہیں کروں گا۔
پکا کوئی بکواس نہیں کروگے؟
میں نے ایک بار پھر پوچھا
پکا اب چلو نہ
اس نے سنجیدگی سے کہا میں پل بھر کے لیے اس کے سارے کارنامے بھول چکی تھی
میں نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے ساتھ چل پڑی۔
❁❁❁
آصفہ نے ایک ہاتھ میں فون پکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے کپڑے استری کر رہی تھیں
میرے کپڑے استری ہوگئے؟ قریش نے آواز دی
نہیں ہوئے۔۔ اچھا عابدہ میں بعد میں بات کرتی ہوں اللہ حافظ۔
آصفہ فون رکھتے ہی جلدی جلدی کپڑے استری کرنے لگیں ۔
ابھی تک کپڑے استری نہیں ہوئے کمال ہے ۔ اور میرا موبائل کہاں ہے
قریش بھی ادھر ہی آگئے
وہ میرے پاس ہے میں عابدہ سے بات کر رہی تھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہوگئی تھی تو آپ کا موبائل اٹھا لیا ۔
آصفہ نے قریش کی جانب موبائل بڑھایا
میرے موبائل کی بیٹری بھی لو کردی تم نے پر تمہاری باتیں ختم نہ ہوئی۔
قریش مصنوعی غصے سے بولے
تو آپ کونسے بل گیٹس ہیں جو تھوڑی دیر فون نہ چلے تو کروڑوں کا نقصان ہوجائے گا ؟
عابدہ نے بھی اسی انداز میں جواب دیا تو قریش ہنس پڑے۔
❁❁❁
ایسا کرتے ہوئے پورا ایک ماہ ہوگیا تھا۔
باصم روز مجھے گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر ڈراپ کرتا تھا اس دوران اس کی بکواس باتیں الگ سے تنگ کرتی تھیں مجھے ، میں نے ارادہ کرلیا تھا کچھ بھی ہو جائے اب میں باصم کے ساتھ نہیں جاؤنگی ، اور وہ ہمارے گھر سے چلا جائے۔
بیٹا اتنا جلدی کیسے آگئی ؟
امی نے پریشانی سے پوچھا
وہ میں جن سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی پر وہ پیچھا چھوڑتا ہی نہیں ہے۔
میں نے تیش سے بیگ کو صوفے پر پھینک دیا امی میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں
کون ؟؟؟؟
امی نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ کا لاڈلا باصم
میں نے غصے سے کہا
کہاں ہے وہ؟
امی پریشانی سے پوچھنے لگی ان کو میری کوئی فکر نہیں تھی ابھی بھی اپنے لاڈلے کی پڑی تھی ایسے جیسے میں نے اسے قتل ہی کردیا ہو
مجھے چھوڑ کر آفس چلا گیا آپ نے اس عذاب کو یہاں رہنے کا کیوں کہا ، وہ ہاتھ منہ دھو کر میرے پیچھے پڑا ہے ۔
میں پھٹ پڑی ۔ اب میں اور برداشت نہیں کرسکتی تھی اسے۔
بیٹا ایسے نہیں بولتے ۔
امی نے دکھی لہجے میں کہا ۔
میں نے امی کو صوفے پر بٹھایا اور خود نیچے ان کے سامنے بیٹھ گئی
امی ایسے ہی بولتے ہیں کیوں میرے پیچھے پڑا ہوا ہے ایک مہینہ ہوگیا ہے اب تک اس کی کمپنی نے اسے گھر نہیں دیا؟ امی اب بہت ہوگیا اسے یہاں سے جانے کا کہہ دیں اور میری طرف سے اس کے لیے آج بھی انکار ہے ۔ بس وہ یہاں سے چلا جائے ۔
امی کا ہاتھ تھام کر میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی امی دکھی تھیں پر اس وقت مجھے باصم سے چھٹکارا پانے کی ضد تھی
وہ میری بہن کا بیٹا ہے دانین وہ میرے لیے بہت عزیز ہے۔ میں اسے ایسے کیسے کہہ دوں کہ چلا جائے۔
امی نے میرے ہاتھ کے اپر اپنا ہاتھ رکھ کر التجا کی تھی مجھے پتہ نہیں کیوں بہت دکھ ہوا میں اپنا ہاتھ چھڑا کر اٹھ گئی
آپ نے ہمیشہ اسی کو سپورٹ کیا ہے آپ اسے یہ تو کہہ سکتی ہیں کہ مجھ سے دور رہے کوئی ضرورت نہیں گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر چھوڑنے کی ۔
یہ کہہ کر میں وہاں رکی نہیں سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔
❁❁❁
جاری ہے
