Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

Sun mere humsafar
Sanaya khan
Part 20

وہ ایک ریسٹورانٹ میں بیٹھے تھے ادیتیہ کمار اس کا کالج فرینڈ اور بزنس پارٹنر تھا انڈین ہی تھا لیکن گریجویشن کے بعد جاب کرکے وہیں سیٹل ہو گیا تھا اور اب ساحر کا لندن کا سارا کاروبار وہی سنبھال رہا تھا دونوں بہت اچھے دوست تھے ساحر کو اس پر بہت بھروسہ تھا اور وہ واقعی بھروسے کے قابل تھا وہ جب بھی یہاں ہوتا دونوں ساتھ میں ہی زیادہ وقت گزارتے تھے اور اب بھی وہ دونوں ڈنر کے لیے باہر آئے تھے
ادیتیہ وسکی کی بوٹل گلاس میں انڈیل رہا تھا ساحر نے اپنے پاس رکھا گلاس اس آگے کردیا

آدی آج ایک میرے لیے بھی

ساحر کی بات پر پہلے تو اس نے حیرانی سے دیکھا پھر ہنسنے لگا

ساحر آر یو سیریس تم ڈرنک کروگے

اس نے تم پر زور دیتے ہوئے کہا

ہاں ویسے بھی بن کیے بدنام ہوں کرکے بد نام ہونے میں کیا حرج ہے شاید کچھ سکون مل جائے

وہ مسکرا کر بولا زخمی مسکراہٹ

ساحر خان اتنا کمزور نہیں ہے کہ اسے حالات سے لڑنے کے لیۓ شراب کا سہارا لینا پڑے

دوست ایسے ہی ہوتے ہیں جو ہمیں برائی کی طرف بڑھنے سے روکتے ہے

محبت اچھے اچھو کو کمزور کر دیتی ہے دوست کیوں کے اس میں اپنے ہی دل سے اپنے ہی جذبات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور آپ ساری دنیا سے تو لڑ سکتے ہیں لیکن خود سے لڑنا آسان نہیں ہوتا

وہ اُداس سا بولا

تم اس سے بہت محبت کرتے ہو نا ساحر

آدیتیہ نے پوچھا

محبت تو کب کی اپنی حدیں توڑ کر عشق کے مقام تک پہنچ چکی ہے لیکن کیا فائدہ سب لا حاصل ہے وہ میری ہوکر بھی میری نہیں ہے اور یہ چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے

وہ میز پر نظریں جمائے بولا

چھوڑ نا یار کیوں خود کو تکلیف دے رہا اس کے لیے جسے نا تیری پرواہ ہے نا اپنے رشتے کی

نہیں اُسے میری بھی پرواہ ہے اور اس رشتے کی بھی اگر پرواہ نہیں ہوتی نا تو اب تک میرے ساتھ نہیں ہوتی اسی دن چلی جاتی جس دن میں نے اسے ڈیورس پیپر دیے تھے لیکن وہ نہیں گئی میں مان لیتا کے وہ دادی کی خاطر نہیں گئی تھی لیکن ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو وہ ڈیورس پیپرس سنبھال کر رکھتی پھاڑ کر پھینک نہیں دیتی یہ ساری آگ جو ہے نا اس کمینے جاوید نے لگائی ہے سالا دوست کے نام پر گالی نکلا اس نے جو گھناونی سازش کی اگر عیشا کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسے ہی ری ایکٹ کرتا جیسا اُس نے کیا

اگر تجھے معلوم ہے کہ سب سازش کسی اور کی ہے اور اس کی کوئی غلطی نہیں ہے تو پھر تو اس سے ناراض کیوں ہے بات کیوں نہیں کر رہا

آدی نے حیرانی سے پوچھا

اس کی غلطی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا لیکن اُن جھوٹی تصویروں پر بھروسہ کرلیا جیسے بھیجنے والے کو وہ جانتی تک نہیں ایک انجان انسان کی باتیں سچ مان کر میری انسلٹ کی مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کے سچ کیا ہے میں نے کچھ کیا بھی ہے کی نہیں اتنے وقت سے ہے میرے ساتھ ہے کیا اسے اتنا بھی خیال نہیں آیا کے میں ایسا نہیں کر سکتا پتا ہے اس نے کیا کہا مجھ سے اس نے

وہ کہتے کہتے رک گیا اور باہر دیکھنے لگ گیا کچھ باتیں ہم چاه کر بھی کسی کو نہیں بتا سکتے آدی سمجھ گیا

چھوڑ نا فلحال بھول جا اسے اور انجواۓ کر

آدی نے اس کا موڈ بدلنا چاہا اس کے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا
اس نے کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی آدی اور عمران دونوں ہی تھی جن کے سامنے وہ کھل کر بات کرتا تھا اور آج اتنے دن بعد اسے یہ موقع ملا تھا

مجھے یقین نہیں ہوتا ساحر کے تو وہی ہے جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ اس کے اندر دل نہیں پتھر ہے

آدی نے بے یقینی سے کہا

پتھر ہی تھا لیکن وہ زندگی میں آئی تو پتھر میں جان آ گئی اور محبت کر بیٹھا –
اس نے مندی آنکھوں سے کہا آدی اسے دیکھنے لگا بظاھر وہ جتنا مضبوط نظر آتا تھا اندر سے اتنا ہی کمزور تھا

چل یہ سب چھوڑ اور کوئی اچھا سا گانا سنا کافی وقت ہوگیا تیرا گانا سنے

وہ ہنستے ہوئے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا

اب تو صرف ایک ہی گانا یاد ہے

مسکرا کر بولا

کونسا

آدی بھی مسکرا دیا

میرا دل جس دل پہ فدا ہے
وہ بے وفا ہے ایک بے وفا ہے

وہ دل پر ہاتھ رکھے گانے لگا دونوں نے ہنستے ہوئے چیئرس کیا

اوکے اب میں چلتا ہوں ڈھائی بج رہے ہے صبح آفس بھی جانا ہے تم بھی گھر جاؤ آج کے لیے اتنا کافی ہے

اس نے بوتل اس کے ہاتھ سے سائڈ میں رکھ دی اور اسے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اپنا کورٹ کرسی سے اٹھا کر کاندھے پر ڈالا کاؤنٹر پر بل پے کرکے باہر آگیا

یہاں اس نے ایک فلیٹ لیا ہوا تھا اور وہیں رہتا تھا اپنے روم میں آکر اس نے کپڑے چینج کیے اور بیڈ پر آگیا سائڈ ٹیبل سے نیند کی دوائی لے کر دو گولیاں لے لی کیونکہ آج ایک گولی کوئی اثر نہیں کرتی روز بھی دن بھر کام کرکے تھکنے کے باوجود اُسے نیند نہیں آتی تھی دوائی لیکر بھی وہ صرف چند گھنٹے ہی سکون سے سوتا تھا وہ اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا لیکن یہ اس کے بس میں نہیں تھا لائٹ آف کرکے وہ سونے ہی لگا تھا جب اس کا فون بجنے لگا عمران کا فون تھا جسے وہ دو تین دن سے اگنور کررہا تھا کیونکہ ہر بار وہ اُسے عیشا سے بات کرنے کی ہی گذارش کرتا تھا اسلئے تنگ آکر اس نے فون اٹھانا ہی بند کردیا

اسلام علیکم بھائی جان

اس نے خوشدلی سے سلام کیا

ساحر تم__—–

ایک منٹ پہلے یہ بتا مجھے میرے دوست نے فون کیا ہے یا میری بیوی کے بھائی نے

وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

ساحر یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے تونے میری کال کیوں نہیں لیے رہا

وہ غصے سے بولا

کیوں کی میں فلہال اپنی بیوی یا اس سے ریلیٹڈ کوئی بات نہیں کرنا چاہتا

اس نے فون اسپیکر پر ڈال کر سینے پر رکھ لیا

بس بہت ہوگیا ساحر حد ہوتی ہے یار ایک مہینہ ہوچکا ہے اور کتنا انتظار کرواو گے اُسے

ایک مہینے کی بات کر رہا ہے میں زندگی بھر اس کے سامنے نہیں آنا چاہتا تڑپنے دے اُسے

اس نے تلخئ سے کہا

اچھا —-لیکن کچھ دن بعد جب وہ مر جائیگی تو اس کے جنازے میں تو آئیگا نا کندھا دینے

عمران

اس کے لہجے میں ایکدم سختی آگئی

ہاں صحیح کہ رہا ہوں میں کیوں کے جو تو کر رہا ہے اس کہ انجام یہی ہونا ہے تجھے پتا ہے وہ دو دن سے ہاسپٹل میں ہے

ہاسپٹل میں کیو کیا ہوا

وہ فون اٹھا کان سے لگاتے ہوئے بولا

نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے دن رات بس روتی رہتی ہے دو دو دن تک کھانا نہیں کھاتی سر میں پہلے ہی گہری چھوٹ لگی ہوئی تھی اور اب ہر وقت کے ڈپریشن نے اسے یہاں تک پہنچایا ہوا ہے بیہوشی میں بھی تیرا نام لے رہی ہے اُسے ہزار بار کہہ چکا ہوں کہ کچھ دن کے لیے ہمارے ساتھ گھر چلے لیکن مانتی ہے نہیں انکل آنٹی کو بھی بتانے سے روکا ہوا ہے وہاں بھی نہیں جانا چاہتی

چند پل خاموشی چھائی رہی

اس نے جو کیا وہ غلط تھا لیکن تو بھی کچھ صحیح نہیں کر رہا ہے ساحر جتنی غلطی تھی اس سے زیادہ سزا دے چکا ہے تو اُسے اب بس کر ورنہ وہ پاگل ہو جائیگی اس وقت اُسے تیری ضرورت ہے

وہ خاموشی سے چھت پر نظریں جمائے سنتا رہا

فلہال ہاسپٹل سے ڈسچارج مل گیا ہے میں اسے گھر لے جا رہا ہوں تجھ سے اب تب ہی بات کرونگا جب تو واپس آئیگا خدا حافظ

وہ کتنی دیر یونہی چھت کو دیکھتا رہا پھر فون سائڈ پر رکھ کر بازو آنکھوں پر رکھے سونے لگا
///*