Sunn Mere Humsafar By Sanaya Khan Readelle50083 Last updated: 15 July 2025
Rate this Novel
Sunn Mere Humsafar
By Sanaya Khan
وہ جلدی جلدی ریستوران سے نکلا تھا دروازے سے باہر نکلتے ہی اک لڑکی سے ٹکراگیا وہ گرتے گرتے بچ گئ البتہ شاپنگ بیگ زمین پر بکھر گئے " سٹوپڈ! اندھے ہو کیا دیکھ کر نہی چل سکتے " ."اے-- مائنڈ یور لینگویج مجھے کوئ شوق نہیں ہے تم سے ٹکرانےکا تمہیں بھی دیکھ کر چلنا چاہئے" ساحر خان اور کسی کی بد کلامی سن لے عیشا زمین پر بکھرے سامان کا جائزہ لے رہی تھی اس کی بات پر بھڑک کر اسے دیکہا "ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری دیکہتے نہیں تم نے میرا سامان توڑ دیا" "اوکے یہ لو اور نکلو یہاں سے" ساحر والٹ سے سارے نوٹ نکال ک اس کی اور بڑھاے ہا......................ہاؤ ڈیر یو تم نے کیا مجھے بہکاری سمجھ رکھا ہے. اے مسٹر اپنی دولت کا رعب" " اپنے پاس رکھو اور چپ چاپ یہ سارا سامان سمیٹو سمجہے انگلی کے دکہاتے ہوے وہ رعب سے بولی "جانتی ہو کس سےبات کر رہی ہو" " ہاں ایک اندھے سے" " دیکھو تم نہیں جانتی میں کون ہوں" میں کچھ جاننا بھی نہیں چاہتی جلدی سے یہ سب اٹھاؤ ورنہ میں شور مچا کر سب کو جمع" " کرلونگی ساحر نے اسے بغور دیکہا "کتنی بد ذبان لڈکی ہے" اس نے دل میں سوچااور اپنے ملازم کو فون لگایا وہ جلدی میں تھا اسلیے بحث کو ختم کرنا چاہتا تھا ورنہ وہ بھی کسی سے ہار ماننے والا نہیں تھا اگلے پانچ منٹ میں تین باوردی ملازم وہاں پہنچے اور ساحر کے آرڈر مطابق سارا سامان اٹھا کر عیشا کی گاڑی میں رکھا "دیکھ لونگا تمہیں" . عیشا کے قریب سے گزرتے ہوے اسے گھور کر وارنگ کے انداز میں بولا
!**********
پھر کیا ہوا"
الیشا نےتجسس سے پوچھا
پہر کیا---- میں نے کہ دیا چپ چاپ یہ سارا سامان سمیٹو ورنہ میں شور مچا کر سب کو جمع کرلونگی---- خود تو اٹھانے سے رہا اپنے ملازموں کو فون کر کے بلایا اور پتا ہے جاتے جاتے کہنے لگا------ میں تمہیں دیکھ لونگا "
اس کے منہ بنانے پر الیشا ہنس دی
تمہیں کہا تھا یے سب لانے کی ضرورت نہیں ہیں خواہ مخواہ الجھن ہو گئ وہ کوی گنڈہ بدمعاش ہوا تو"
افوہ آپی نگیٹیو مت سوچا کریں انجواے کیجےشادی ایک بار ہی ہوتی ہے"
پھر وہ سامان نکال کر الیشا کو دیکھاتی رہی
اچھا آپی میں ذرا زوبی سے مل کر اتی ہوں "
ابھی کیوں صبح چلی جانا نا چلو کھانا کھاتے ہیں"
افوہ اپی مجھے کونسا سو میل جانا ہے ابھی آئ"
کہ کر وہ بنا کچھ سنے نکل گئ اور الیشا بیگس الماری میں رکھنے لگی
عیشا کے والد یوسف علی اسکول ماسٹر تھے ان کے تین اولاد تھی سب سے بڑا بیٹا ریحان اس سے چھوٹی الیشا اور سب سے چھوٹی
عیشا تینوں انھیں بے حد عزیز تھے لیکن عیشا سب کی لاڈلی تھی الیشا اور عیشا کے درمیان پانچ سال کا فاصلہ تھا وہ سب سے چھوٹی ہونے کے
علاوہ بچپن سے ہی بےحد باتونی تیز دماغ اور شرارتی تھی جو بھی اسکی میٹھی باتیں سننتا بے اختیار اسے پیار اجاتا خاص طور پر یوسف علی کی
اس میں جان تھی وہ اسی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو خوب سراہتے امی اس سے اکثر زیادہ باتیں کرنے پر اسےڈپٹ دیتی مگر ابوّ فوراً اس کی حمایت کے لئے تیار رہتے ریحان اور الیشا بھی اس پر جان چھڑکتےتھے عیشا بی.اے فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی الیشا کا رشتہ دو سال پہلے ہی اپنے خالہ زاد امران کے ساتھ طے تھا ریحان کی جاب ملتے ہی اسکی رضاسے ابو نے امران کی بہن فائزہ کا رشتہ مانگ لیا جسے ُخالہ نے بخوشی قبول کر لیا عیشا بے حد خوش تھی یہ دونوں کزنس اسے بہت پسند تھے اپنے ساتھ ساتھ وہ سب کے لئے زور شور سے شاپنگ میں مصروف تھی
