Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

Sun mere humsafar
Sanaya khan
Part 10

وہ واپس تو یہ سوچ کر آئ تھی کہ اس انسان کا ڈٹ کر مقابلہ کریگی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئ اگلے ہی دن وہ کسی کام سے کہیں باہر چلا گیا اسے دادی کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ کچھ دنوں کے لئے لنڈن گیا ہے اور عیشا کو لگا کہ وہ خوشی کے مارے پاگل ہوجاے گی وہ اپنی پہلی زندگی میں واپس اگئ تھی وہی ہنسی مزاق وہی بےفکری سب کچھ جو وہ چاہتی تھی ہر دن وہ یہی دعا کرتی کہ ساحر اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل جاے اور اس کی ساری زندگی اسی طرح سکون سے گزرے تو دوسری طرف وہ ہر لمحہ اس کی کمی محسوس کررہا تھا دشمنی ہی سہی پر وہ نظر کے سامنے تو ہوتی تھی جس کی ایک جھلک اس کی ساری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے کافی تھی اس کا لنڈن آنا ضروری نہیں تھا لیکن وہ عیشا کی خاطر اس سے دور آیا تھا اس نے عیشا کو ناشتے پر جب بہت اداس دیکھا تو اسے اپنے اپ پر بہت غصہ آیا کہ اس کی وجہ سے عیشا اتنی پریشان ہے اور اپنے امی ابو کے گھر جانے پر مجبور ہوگئ ہے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کچھ دن کے لیے باہر چلا جایگا تاکہ وہ سنبہل سکےاور دادی کو بھی عیشا کے بغیر نا رہنا پڑے اسی لیے اس نے عیشا کو اسی دن واپس انے کو کہا تھا لیکن جانتا تھا اگر اس سے سیدھی طرح بتایا تو کبھی نہیں مانے گی اس لیے اسے دھمکی دی تاکہ وہ مجبور ہوجاے اور اس کے انے کے اگلے دن صبح ہی لنڈن آگیا اس نے اپنا کام دو دن میں ہی ختم کرلیا تھا لیکن پھر بہی ایک ہفتہ مزید وہیں رہا

*=

وہ نیند سے جاگی تو مسکراتے ہوے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاے انگڑائ لینے لگی جب نظر دیوار سے ٹیک لگاے وجود پر پڑھی تو مسکراہٹ ایک دم سے غائب ہو گئ اور ہاتھ جہاں جیسے تھے وہیں تھم گئے ایک پل کو یقین نہیں ہوا کہ سکون بھرے دن اتنی جلدی ختم ہوگے اور شیطان کی دوبارہ واپسی ہوگئ وہ گہری سانس لے کر سیدہی ہوکر بیٹھ گئ وہ کالج سے آئ تو دادی سورہی تہیں اس لیے وہ کھانا کھانے کے بعد بالکونی میں ناول پڑھنے بیٹھی تھی پڑھتے پڑھتے اسے وہیں نیند لگ گئ اور اب جاگی تو اسے سامنے دیکھ کر جاگنے پر ہی افسوس ہونے لگا

اسسلام و علیکم—** ہوگئ نیند

چاکلیٹ کا بائٹ لیتے ہوۓ پوچھا عیشا نے اس کی جانب دیکھا بھی نہیں

ون منٹ

اب وہ چل کر چیئر کے قریب آگیا

یہ کپڑے کچھ جانے پہچانے لگ رہے ہیں لگتا ہے کہیں دیکھا ہے

اس نے اپنے اوور کورٹ کو جانچتی نظروں سے دیکھا جو عیشا نے پہن رکھا تھا اسے نیند لگتے ہی سردی محسوس ہورہی تھی اس لئے اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے کرسی پر رکھا کورٹ پہن لیا تھا اس وقت وہ نیند کے خمار میں تھی اسلیے کچھ سوچ پانا ممکن نہیں تھا
مجھے نہیں پتا تھا— کہ یہ تمہارا ہے

وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی

تو شاید دادی کا سمجھا ہوگا—- ہے نا

وہ ایکدم اٹھ کر کھڑی ہوگئ

نہیں میں اس وقت نیند میں تھی اس لئے کچھ سوچے بغیر پہن لیا تھا

وہ چاہ کر بھی لہجہ سخت نہیں کر پائی

کیوں جھوٹ بول رہی ہو —سچ سچ کہو نا -تم مجھے یاد کررہی تھی —مجھے پتا ہے تم نے مجھے بہت مس کیا

وہ دھیرے سے مسکرای

سچ کہا تم نے—— میں نے واقعی تمہیں بہت مس کیا——روز اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتی تھی کے اللہ میری زندگی سے تم جیسے کمینے انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دے تاکہ میں سکون سے جی سکوں کاش تمہارا پلین راستہ بھٹک جاے اور تم کبھی گھر واپس نا آؤ یا تمہارا ایکسیڈنٹ ہو جاے اور تمہاری یادداشت چلی جاے

اوووو چلو ایسے ہی سہی تم نے مجھے اپنی دعا میں تو شامل کرلیا– ایک دن دل میں بھی کرہی لوگی

وہ چاکلیٹ چباتے ہوے اس سے نظریں ملاے بات کررہا تھا اس نے بلیک ٹی شرٹ اور بلیک جینس پہنی تھی ساتھ ہی ڈلوھائٹ جیکیٹ تھا ہلکی بڑھی ہوئ شیو اور ماتھے پر بکھرے بال اسے بہت دلکش بنا رہے تھے

تم لنڈن سے واپس کیوں اگئے—- تمہیں تو وہیں رہنا چاہئے تھا وہاں کی لڑکیاں تو تمہاری ان لوفرانہ حرکتوں پر مر مٹتی
آج وہ اسی کی طرح بات کررہی تھی

یو آر رائٹ —–اللہ نے شکل ہی ایسی دی ہے لنڈن تو کیا جہاں بھی جاؤں بس ایک دیدار کے لئے ترستی ہے بیچاری لڑکیاں—— لیکن کیا کروں شروع سے ہی مجھے وہ چیز پسند نہیں اتی جو آسانی سے مل جاے —–آۓ لائک چلینجیز لائک یو

ہاتھ اگے بڑھا کر اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا جسے عیشا نے خود تک پہنچنے سے پہلے ہی جھٹک دیا

یہ کیا کرہے تھے تم ——-خبردار جو آیندہ مجھے چھونے کی کوشش بھی کی مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا-_– اب میں خاموش نہیں رہوگی— ہر بات کا حساب لونگی سمجھے تم

وہ غصّہ ہوکر انگلی دکھاتے ہوئے بولی

باپ رے —–تو کیا اب تک تم خاموش تھی —-واہ—– ہر بات کا تگڑا جواب دیتی ہو اور اسے خاموشی سمجھتی ہو
وہ ہلکا سا ہنس کر کچھ سوچنے لگا

سوچتا ہوں آزماں ہی لوں کس حد تک بدلہ لے سکتی ہو

اس کے لبوں کو دیکھتے ہوے شرارت سے بولا اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھا عیشا اس کی بات کا مفہوم سمجھی تو گھبرا کر پلکیں جھکالی اور وہ لمحہ ساحر کے دل میں قید ہوگیا اسے عیشا کی یہ ادا بہت پسند تھی اتنی بولڈ جھگڑالو لڑکی ایک لمحہ نظر ملنے پر یو گھبرا جاے تو کتنی معصوم لگتی ہے
یلو ٹراوزر پرڈارک بلیو اوور کورٹ جو اس کے سائز سے کئ زیادہ بڑا تھا اس کی گلابی رنگت پر کافی سوٹ کررہا تھا
عیشا نے تھوک نگل کر گھبراہٹ کو کنٹرول کیا کیونکہ وہ اس کے آگے کمزور نہیں پڑنا چاہتی ساحر اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا

راستہ چھوڑو میرا مجھے تم جیسے فضول آدمی کی فضول باتیں نہیں سننی ہے

اس پر ایک نفرت بھری نظر ڈال کر وہ ایک سائڈ سے نکل گئئ

یا اللہ اس بیوقوف لڑکی کو تھوڑی سی عقل دے دے

اس نے کھلے آسمان کی جانب دیکھ کر دھیمی اواز میں دعا کی

/*