Secde by Sadz Hassan readelle50003

Secde by Sadz Hassan readelle50003

Author: Sadz Hassan

Last updated:

2.8(8 ratings)
Episodes
8
Views
307.4K
Status
Ongoing

About this novel

Secde

NovelR50003

Phycological Thriller

Secde Phycological Thriller

یہ کہانی ہے یوشع نامی ایک ذہین مگر نظر انداز کیے گئے بچے کی، جس کے ماں باپ، ایک کرسچن ماں اور مسلم باپ، اپنی اپنی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ بچے کی دینی، اخلاقی اور جذباتی تربیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، یوشع نہ کسی دین کا پیروکار بنتا ہے، نہ کسی اصول کو مانتا ہے۔ کم عمری میں ہی باہر کے آزاد معاشرے میں پلنے بڑھنے کے باعث وہ غلط اور صحیح کا فرق بھول جاتا ہے۔

ایک المناک واقعے میں وہ اپنی چھ سالہ کزن کے ساتھ ایک انتہائی ناپسندیدہ حرکت کی کوشش کرتا ہے، جو اُس کے لیے ایک “عام” بات بن چکی ہوتی ہے۔ اس پر اُس کے والد کی سخت مار اور ناراضگی آتی ہے، مگر وہ پھر بھی نہیں سمجھتا کہ اس نے کیا غلط کیا۔ والدین اُس سے تنگ آ کر اُسے واپس بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں، جہاں وہ مکمل طور پر دین اور خدا کا انکار کر دیتا ہے۔

یوشع شہرت، دولت اور کامیابی کی بلند چوٹیوں تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ کامیابی اُسے اور زیادہ غرور، بے حسی اور ظلم کی راہ پر ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ذلیل کرتا ہے۔ لیکن اُس کی بیوی کی ایک آخری بات، ایک نوٹ، اُس کی زندگی میں زوال کا آغاز بن جاتی ہے۔

رفتہ رفتہ وہ سب کچھ کھو دیتا ہے—عزت، مال، رشتے، سکون۔ اسی بکھراؤ میں اُسے رب یاد آتا ہے۔ وہ جو کل تک خدا کا منکر تھا، آج نادم، شرمندہ اور سجدہ ریز ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے، دین کی طرف رجوع کرتا ہے اور ایک دن حافظِ قرآن بن کر ایک روشن مثال بن جاتا ہے کہ:

عروج کا نشہ جتنا بلند ہو، زوال اتنا ہی گہرا ہوتا ہے—اور رب جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں، مگر جب تھامتا ہے تو گرنے نہیں دیتا۔

 Sneak Phycological Thriller

” آپ نے خود ریزائن کیا ہے یا آپکو فارغ کیا گیا ہے ؟”

یوشع کی بھنویں سکڑیں

آخر اس بکواس سوال کا کیا مطلب تھا پر وہ جلد جواب نہیں دے پایا تھا

آئیزک نے گہری سانس کھینچی یوشع کو اس فیلڈ میں ایک ہی سال ہوا تھا یہ پہلا موقع تھا اپنی پہچان بنانے کا لیکن وہ پہلے مرحلے میں ہی گر گیا تھا

“سوری یوشع۔۔۔۔ہمارے ہاں ویکینسی خالی نہیں ہے۔۔۔۔میں آپکی کوئی مدد نہیں کرپاؤں گا” صاف صاف انکار تھا اسے پھر سے یقین نہیں آیا تھا

لگتا ہے سب لوگوں کی عقلیں گھاس کھانے نکل گئی ہیں۔۔۔جو اتنے ذہین اور بہترین اکیڈمک ریکارڈ رکھنے والے کو جاب نہیں دے رہے تھے

پل میں سب اسے عقل سے پیدل لگے تھے فی الحال تو  اللہ اسے عقل سے پیدل کر رہا تھا وہ ابھی بھی اپنی ذہانت پر زعم لئے ہوئے تھا

اسے جاب آسانی سے مل سکتی تھی لیکن نہیں ملی تھی۔۔۔کیوں۔۔۔؟

کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ نہیں چاہتا تھا اللہ نے ہر مراعات دے کر اسے زمین پر اتارا تھا ۔۔۔تب اس نے کون سا کارنامہ سر  انجام دے دیا تھا اب سب کچھ اس سے  لے کر اسے آزمائے جانے کا وقت تھا۔

 اس اندھیرے میں وہ بے یقین سا ادھر اُدھر پھر رہا تھا ہار اسنے کبھی دیکھی نہیں تھی وہ مزے کا خواہشمند  بڑے عجیب مزے میں پھنسا تھا

ایسا کیسے ہوگیا کہ ایک ہی دن میں کسی کو اُسکی ضرورت نہیں رہی

یہ پہلی بار ہوا تھا اس ایک بات کے علاوہ اُسکے   زہن میں کچھ نہیں تھا تین دن سے اُسے تذلیل اور بے رُخی۔۔۔دھتکار کے علاوہ کچھ نہیں مل رہا تھا

جبڑے تن رہے تھے اور غصہ کنپٹیوں کو ابال رہا تھا آج بھی تقریباً رات کے ڈیڑھ بجے وہ بنا لاک کئے دھاڑ سے دروازہ بند کرتا اندر آیا تھا گھر میں اندھیرا تھا۔۔۔کیوں۔۔۔؟

اسنے نہیں سوچاتھا

زور سے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے لائٹ آن کی تھی کمرے میں جاکر باتھ روم میں منہ ہاتھ دھوکر باہر آیا تھا پہلی دفعہ ہوا تھا وہ صبح سے بھوکا تھا اس نے فرائ پین پٹخ کر نوڈلز بنائے تھے

فرج میں سے پانی نکال کر دھاڑ سے دروازہ بند کیا تھاکہ پورا فرج ہل گیا تھا وہ بےجان چیزوں پر اپنا غصہ اتار رہا تھا

نوڈلز کو بال میں ڈال کر وہ ڈائیننگ پر آگیا تھا

فوک میں نوڈلز لپیٹتے اسکی نظر سائیڈ میں دھرے کاغذ پر پڑی

اسنے اٹھا کر دیکھا

“میں جارہی ہوں “تین لفظوں کا نہایت مختصر نوٹ تھا اسنے بے ساختہ پیچھے مڑ کر اسکے کمرے کی طرف دیکھا

دروازہ بند تھا اٹھ کر اس نے دروازہ کھول کر لائٹ آن کی کمرا خالی تھا پھر اپنے کمرے میں آکر الماری کھول کر اسنے  اسکے کپڑے چیک کئے۔۔۔نہیں تھے پتا نہیں وہ تصدیق کیوں کر رہا تھا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا بیٹھنےکے بعداسنے نوڈل سے بھرے بول کو دیکھا پھر اگلے ہی لمحے  غصے سے بول کو ہاتھ مار کر نیچے پھینکتے ہوئے چلایا

“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تمھارے جانے سے سناتم نے” وہ اس صفحے پر نظریں گاڑے چلا یا پھر اس نے اٹھ کر فرج میں سے اکٹھی تین شیمپینز کی بوتلیں نکالیں جس میں تیز ترین وائن بھی شامل تھی وائٹ وائن وہ کھول کر پینا شروع کرچکا تھا

لاؤنج میں چکر لگاتے اور اپنے کمرے میں آنے تک وہ آدھی سے زیادہ بوتل پی چکا تھا۔۔۔وہ فل ڈپریشن میں تھا اس لئے وہ جلد سے جلد نشے میں جانا چاہتا تھا پوری بوتل چڑھا کر وہ بیڈ  پربیٹھ گیا تھا

“کیوں؟نہیں ہورہا نشہ”

عام لوگوں کی طرح وہ جلد مدہوش نہیں ہوتا تھا وہ جھنجھلا رہا تھا

اس نے دوسری بوتل کھول کر پینی شروع کر دی تھی اب اسکا سر بھاری ہونا شروع ہوگیا تھا

“ہو۔۔۔رہا۔۔۔ہے” وہ مسکرایا

تبھی شراب کا گھونٹ بھرتے اسکی نظر سامنے پڑی تھی آنکھوں کو سکیڑے ہلکی لڑ کھڑاہٹ کے ساتھ وہ سامنے والی دیوار  تک پہنچا اس دیوار  پر کاغذ چپکا تھا

اسنے کاغذ کھینچا پھر بمشکل آنکھوں کو کھولتے پڑھا

اور تو جسے چاہے بادشاہی عطا کرے اور جسے چاہے فقیری اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت دے  تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں  بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے

 سورت آل عمران آیت26

 وہ سن سا ہوا تھا

 اسے لگا اسوقت یہ بات اسی کے لئے کی گئی ہے پچھلے تین دن سے وہ اسی ذلت کا مزہ لے رہا تھا

 ذلت کا مزہ۔۔۔۔آج تک لئے جانے والے مزوں میں یہ مزہ تکلیف دہ تھا  یہ کون رکھ کر گیا تھا؟ وہ جانتا تھا وہ کیوں رکھ کر گئی تھی ؟ فلحال یہ جاننا اس کیلئے اہم نہیں تھا

وہ اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بیڈ پر بیٹھ کر پینے لگا اسکےحواس آہست آہستہ آندھیرے میں ڈوب رہے تھے اور پھر!وہ پیچھے کی طرف ڈھے گیا تھابوتل اسکے ہاتھ سے رڑک کر بستر پر گر گئی تھی

Romantic Urdu Novels parhne ke liye yahan visit karein:
https://novelistan.pk/category/romantic-urdu-novel/

Episodes

Secde Episode 01

C.h.oاور.. برین ہیومن ریسرچ سے وابستہ ایک این جی او۔۔کے تحت ایک پروگرام مرتب کیا گیا تھا۔۔۔۔جس میں اوکول سٹی کےبہترین اسکولز سےتقریباً پچیس بچوں کو ان کے شاندار اکیڈمک ریکارڈ کی بیس پر بلایا گیا تھا۔

پہلے مرحلے پر ان کو ایک سو بیس سوالات پر مبنی پیپر دیا گیا تھا ، جن میں سے کسی سوال کو مس نہیں کرنا تھا۔

 نہایت ہی مختصر جوابات دےکر ان سوالات کو تیس منٹ میں حل کرنا تھا۔۔

 جو سیاسیات، معاشیات، سائنس جغرافیہ اور جنرل نالج بیسڈ پر تھے۔۔۔۔

کچھ نہ کر پائے تھے اور کچھ کررہے تھے۔۔

 اسکے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے آخری سوال پر اس کا قلم اور نظر دونوں اٹکی تھیں۔۔۔

زندگی کیا ہے۔۔؟یہ آخری سوال تھا۔

 پیپر ہینڈ اوور کرنے تک وہ اس سوال کا جواب نہیں لکھ پایا تھا۔۔۔

جس سوال پر دوسرے بچوں نے دلچسپ الفاظ لکھے تھے۔۔

دوسرے مرحلے ….سپورٹس میں وہ اتنے اچھے پوائنٹس نہیں لے پایا تھا۔۔

لیکن۔۔۔ پہلے مرحلے میں اسکے ایک سو انیس سوال اتنے ٹھیک اور مدلل تھے کہ اسے تیسرے مرحلے میں لے لیا گیا تھا۔۔۔

یہ تیسرا مرحلہ ٹف تھا۔۔۔

ان سات بچوں کو ھیلی کیپ کے ذریعے مختلف مناظر دکھائے گئے تھے۔۔

 یہ ریسرچر حیران رہ گئے تھے کہ ان میں سے دو نے ہر ایک سپاٹ کو پوری جزیات کے ساتھ ڈرا کیا تھا۔۔۔۔

یہ آخری فار میلیٹی ٹیسٹ تھا۔۔۔

جن میں ان کے ذہن کو بھٹکانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایسی صورت میں ان کے ذہن کتنی جلدی صحیح فیصلہ کرتے ہیں۔۔۔۔

ان کوتین منزلہ عمارت کی  سیڑھیاں  عبور کرتے ہوئے مقرر کر دہ روم میں جاکر ٹیبل پر رکھی پانچ جینز کے سٹف کو چیک کرنا تھا۔۔۔۔

سیڑھیاں عبور کر کے کمرے میں آنے کے بعد۔۔۔

اس  سٹف کو چیک کرنے کے لئے تیس سیکنڈ دئیے گئے تھے۔۔۔۔۔

ان پانچ لڑکوں میں سے دو نے ذرا غلط انداز ے لگائے تھے۔۔۔

ایک نے پھولی سانس کے ساتھ تقریباً صحیح آندازہ لگایا تھا۔۔۔

“یہ ایک ہی سٹف ہے”۔۔۔ان میں سے آخری لڑکے نے  تیس سیکنڈ سے پہلے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

“?Are you shure”

سوال آیا تھا….

“yes,,,100.percent”

وہ لڑکا پر اعتماد تھا…

رزلٹ کے دن وہ تینوں پینل کے سامنے بیٹھے تھے…

تھرڈ پوزیشنز ہولڈرزکو سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے انہوں نے صرف ایک سوال پوچھا تھا

“آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟”

“میڈیسن ریسرچر۔”ایرک نے جواب دیا…..

سیکنڈ پوزیشن پر ہولڈر جانسن تھا خوش مزاج پینل کی فیورٹ لسٹ میں تھا……

“?And your target”

” I become the president of Canada.”

کھٹاک سے جواب آیا تھا…..

جس نے پینل کو مسکرانے پر مجبور کردیا تھا..

پینل۔۔۔اب پہلی پوزیشن لینے والے اس لڑکے کی طرف متوجہ ہوا تھا..

محض پندرہ سال کی عمر میں وہ سحر انگیز تھا سنجیدہ سا کم از کم پینل کو تو وہ ایسا ہی لگا تھا۔۔۔۔

“آپ کیا بننا چاہتے ہیں مسٹر یوشع ابراہم۔۔؟”

(عیسائیت میں ابراہیم کو ابراہم کہا جاتا ہے)

پینل کی طرح ایرک اور جانسن بھی اسکے جواب کے منتظر تھے۔۔۔۔۔۔

“کار ڈیزائنر”۔۔۔۔دو لفظی جواب آیا تھا ۔

سب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔کافی عجیب اور مایوس کن جواب تھا۔۔۔۔۔

“اس بہترین ذہن کے ساتھ یہ جواب۔۔۔”پینل سوچنے لگا۔۔۔۔۔

خیر۔۔۔پینل آگے بڑھا۔۔۔

“آپ پہلے ٹیسٹ میں دئیے گئے پیپر میں آخری سوال کا جواب کیوں نہیں دے پائے۔۔۔؟

“جو میرے علم میں نہیں میں اسکا جواب کیسے دے سکتا تھا۔۔۔”

اطمینان سے جواب دیا۔۔۔۔۔

پینل گہری نظر وں سے اسےدیکھنے لگا۔

“آپ کی میموری فوٹو گرافک ہے۔۔۔۔آپ نے آخری مرحلےمیں پوچھےگئے سوال کا جواب تیس سیکنڈ سے پہلے دیا تھا کیسے۔۔۔؟”

“آپ نے یہ سوال ان سے نہیں کیا۔۔۔”آنکھ کے اشارے سے اس نے سب کو سموتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

“کیونکہ آپ نے جلدی اور صحیح جواب دیا تھا۔۔۔”پینل کے ہیڈ  سر ڈیوڈ نے کہا۔

“ان جینز کا لے آؤٹ اور سٹف ایک جیسا تھا بٹن ہاتھ سے اسٹچ تھے۔۔۔عموماً ایسا نہیں ہوتا۔”

لڑکے نے وجہ بتائی۔۔۔۔۔وہ سب حیران تھے۔۔۔۔ کیونکہ وہ یہ چھوٹی سی غلطی کر گئے تھے۔۔۔۔

“ہمارا ادارہ آپکی مکمل مدد کرے گا…آپ کو ہمارے انڈر رہنا ہے اور ہمارے آنے والے  پروگرامز میں شرکت کرنا ہوگی ۔۔۔۔۔۔کیونکہ ہمارے پروجیکٹ کے ساتھ آپ کا بندھے رہنا ضروری ہے۔۔۔۔۔آخر گورنمنٹ اپنا ٹائم اور منی آپ پر لگائے گی۔”

اس لڑکے نے بناء جواب دیئے سرٹیفیکیٹ وصول کیا…..

یہ انداز تھا اسے ان سے دوبارہ نہیں ملنا تھا..

وہ کسی کے انڈر نہیں رہ سکتا تھا یہ تو طے تھا…

اس نے یہ ٹیسٹ والدین کو بتائے بغیر دیا تھا….

کیوں اس نے بتانا ضروری نہیں سمجھا تھا…؟

٭٭٭٭

“کل نفس زائقة الموت”    

“ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے..”

لیکن حیرت ہے کہ اسکو چکھنے کے بعد ہم اسکا ذائقہ نہیں بتا پاتے….. اور دوسرے ہمیں مرا ہوا دیکھ کر ہمارے ہی بارے میں دوسروں کو بتا رہے ہوتے ہیں پر یہ سب۔۔۔۔۔۔سننا ہمارے لئے نہیں ہوتا…..ہم عنکبوت(مکڑی )کی طرح بے جا خواہشات کے جالے بنتے ہیں….”مقرر کی بات سن کر۔۔۔۔۔۔۔نیمل  کا ذہن بھٹکا۔۔۔

نفس سے جڑے جالے تو وہ بھی بن رہی تھی۔۔۔پر وہ۔۔۔ بے جا تو نہیں۔۔۔

اپنے آپ کو تسلی دیتی وہ پھر سامنے متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔

“لیکن۔۔۔۔!!!!

اللہ ایک اشارے سے یعنی موت سے آپکی تمام خواہشات کو ختم کردیتا ہے۔۔۔۔۔۔

جس طرح آپ ایک جھاڑو کی جنبش سے مکڑی کے اتنی محنت سے بنائے گئے جال کو صاف کر دیتے ہیں۔۔۔”

اسکا ذہن  پھر بھٹکا۔۔۔۔۔۔۔

اسکی خواہشات پر بھی تو ایسے ہی جھاڑو پھر رہا تھا۔۔۔۔اس نے پھر ذہن  جھٹک کر سامنے دیکھا

“پھر کیوں۔۔۔۔۔ہم ان چھوٹی بڑی خواہشات کے پیچھے ہلکان ہوتے پھر رہے ہیں۔۔۔۔۔

اور اپنی جان کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔۔۔۔

کیونکہ جب یہی خواہشات تکمیل کو نہیں پہنچتیں تو تکلیف دیتی ہیں۔۔۔۔اور یہی تکلیف دماغ کو جالوں کی طرح الجھا دیتی ہے۔

اور پھر انسان صحیح اور غلط کی تمیز کئے بغیر فیصلہ کر تا ہے۔۔۔۔

اور یہیں۔۔۔۔۔۔وہ اپنی جان مشکل میں ڈال چکا ہوتا ہے۔۔۔۔۔”

کلاس ختم ہوچکی تھی۔۔۔۔۔

٭٭٭٭

“فاطمہ۔۔۔جب بھی سر کی باتیں سنو تو دل کرتا ہے کہ ہمارا نفس ہی نہ ہوتا۔۔۔”

نیمل۔۔۔نے اس کے ساتھ چلتے کہا۔۔۔

“تو پھرصرف فرشتے ہوتے اور دنیا نہ ہوتی۔۔۔اور جب دنیا نہ ہوتی تو شیطان نہ ہوتا۔۔۔اور وہی تو نفس کی کمزوریوں سے کھیلتا ہے۔”

“ہوں۔۔صحیح۔۔۔میرا دل چاہتا ہے کہ۔۔۔میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔۔۔اور اگر ہو بھی جاتی تو۔۔۔انسان نہ ہوتی۔”

فاطمہ کھل کھلا کر ہنسی۔

” ویسے میں بھی یہی سوچتی ہوں……”

“اچھااااااااااا۔۔۔”نیمل نے اچھا کو لمبا کیا۔وہ حیران تھی کہ یہ سوچ اس میں بھی تھی۔۔۔

“تو تم کیا ہوتیں۔۔۔؟”نیمل نےاس سے پوچھا….

“ایک چڑیا۔۔یا کبوتر۔۔۔ہوائوں میں اڑتی اور پھر کسی دن ٹیں پٹاس ہوجاتی..”

“اور تم کیا ہوتیں۔۔۔؟”

اب سوال فاطمہ کی طرف سے تھا..

“میں۔۔۔!!!!” اس نے سوچا۔۔۔”میں سیپ بند موتی ہوتی جو سمندر کی اتھاہ گہرائی میں ہوتی نہ مجھے کوئی دیکھ پاتا نہ میں کسی کو دیکھ پاتی۔۔۔ “

فاطمہ نے تاسف سے اسے دیکھا اور تسلی کے انداز میں اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

وہ اسکی پریشانی سمجھ سکتی تھی۔۔۔۔۔

“دنیا میں ہر پیدا ہونے والا شخص کم ازکم ایک بار ضرور سوچتا ہے کہ وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔۔۔

اور اگر۔۔۔ہو بھی جاتا تو وہ۔۔۔وہ نہ ہوتا جس پر اسے تخلیق کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ عام بات نہیں۔۔

صالحین بھی ایسا سوچا کرتے تھے اور ایسا وہ اللہ کے خوف کے زیرِ اثر سوچا کرتے تھے۔۔۔۔۔”

٭٭٭٭

بڑے سے شاپنگ مال میں جینیفر اپنے سات ماہ کے بچے کو گود میں اٹھائے اپنے شوہر ابراہیم  کےساتھ چل رہی تھی۔۔۔۔

ایک جگہ لٹل چیمپس کے نام سے مقابلہ چل رہا تھا کچھ والدین اپنے بچوں کو یہاں بٹھا کر کرولنگ کی ترغیب دے رہے تھے۔۔۔۔

مائیک پر کھڑے شخص نے اسےبھی اپنے بچے کو اس گیم میں شامل ہونے کا اشارہ کیا۔۔۔

جینیفر نے اپنے شوہر کو دیکھا۔۔۔

اسکے شوہر نےکندھے اچکا دیئے۔۔۔مطلب “ٹھیک ہے۔۔۔”اس نے اپنے گولڈن براؤن بالوں والے بچے کو پوائنٹ نمبر 9 پر بٹھا دیا…..

چار فٹ کی فنش لائن کے اینڈ پر اس کا باپ کھڑا تھا دوسرے مردوں کی طرح…..

ہر باپ اپنے بچوں کو چاکلیٹ یا ٹوائے دکھا کر آگے بڑھنے کے لیے اکسا رہے تھے……

آٹھ بچے چل پڑے تھے جبکہ وہ ہنوز بیٹھا تھا….

کوئی بچہ کرولنگ کرتے دائیں ہو رہا تھا کوئی بائیں….

کوئی بیچ میں اڑ گیا تھا کوئی ایک قدم کھسک کر پھر واپس ہوگیا تھا۔۔۔۔۔

وہ بھی اپنے بچے کو آگے بڑھنے کے لیے اکسا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

جینیفر  نے بھی  اپنے ہاتھ کو اسکی کمر کے ذرا نیچے رکھ کر اسکو آگے بڑھنے کے لیے ہانکا۔۔۔۔

پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹس سے مس نہ ہورہا تھا۔۔۔

اسکے شوہر نے کوفت سے بازو نیچے گرائے۔۔۔۔۔۔ وہ،،،، انہیں شرمندہ کروارہاتھا۔۔

اسکے باپ نے ہمت کرکے اسے پھر پکارا۔۔۔

“کم آن چیمپ۔۔۔”

آواز پر اس نے یک دم اپنے باپ کو نظر بھر کر  دیکھا اور پھر ادھر اُدھر۔۔۔۔اور۔۔۔پھر چلنا شروع کیا۔۔۔۔۔

گھٹنوں کے بل نہیں بلکہ وہ اپنی بائیں  ٹانگ آگے کرتا اور پھر کولہے کے بل اچھل کر آگے ہوتا۔۔۔۔

منظر مزاحیقہ انگیز تھا۔۔۔کیمرا اسکی طرف ہوا تھا۔

وہ ۔۔۔اتنے شور میں بھی کسی کی طرف توجہ کئے بغیر آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔اسکے باپ نے خوشی سے بانہیں کھولی تھیں۔۔۔

اسوقت وہ بچہ اپنے باپ کو کسی اور دنیا میں لے کر جا رہا تھا۔۔۔۔۔

جہاں خوشی عروج پر ہوتی ہے۔۔۔۔

اسکے فنش لائن عبور کرتے ہی اسکے باپ نے اسےاپنی  بانہوں میں بھرا تھا۔۔۔۔۔

منظر کیمروں میں قید ہوا تھا سب تالیاں بجا رہے تھے۔۔۔۔

تین ڈالرکی ٹکٹ پر اسکے بیٹے نے دس ڈالر کمائے تھے۔۔۔۔

اسکا باپ خوش تھا کم ازکم اسکے بیٹے نے سب کے سامنے اسکی عزت رکھ لی تھی۔۔۔

اور یہ دس ڈالر اسکے بیٹے کی پہلی کمائی تھی۔۔۔

٭٭٭٭

وہ دونوں بری طرح گتھم گتھا ہو رہے تھے….

وہ اپنے بڑے بھائی پر بھاری پڑنے والا تھا کہ۔۔۔۔۔اسکا بڑا بھائی بھاگتا ہوا باپ کے پاس آگیا….

“ڈیڈ۔۔۔یہ ہمیشہ میری چیزوں میں گھستا ہے۔۔۔اور ہر وقت روم کو میسی رکھتا ہے پھر مام بولتی ہیں۔۔۔”

آدھا جھوٹ بڑی روانی سے ادا کیا گیا تھا۔۔۔

جینیفر نے کیچن میں کام کرتے ذرا دھیان نہ دیا

یہ روز کا معمول تھا۔۔۔۔

“جینیفر ان کا مسئلہ حل کرو ایسا نہ ہو کہ یہ دونوں لڑلڑ کر ضائع ہوجائیں۔۔۔۔۔”

ان کا باپ ابراہیم بے توجہی سے کہتا اپنی فائل تھامے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“ڈیڈ۔۔۔نیچے والا روم خالی ہے میں وہاں شفٹ ہو جاؤں۔۔؟”

 یہ کہتے والا اسکا پانچ سال کا بیٹا یوشع ۔۔۔تھا

باپ نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔

“نو۔۔”تنبیہی نظروں سے کہتا وہ کمرے میں چلا گیا۔۔جینیفر نے گہری سانس کھینچ کر گویا اپنا تبصرہ پیش کیا اب اسے ہی کچھ کرنا تھا۔۔

پھر دودن کے اندر ہارڈ بورڈ لگا کر پارٹیشن کر دی گئی۔۔۔

چار دن بعد وہ اس کے کمرے میں گئی تھی…. دروازہ کھولتے ہی اسکا منہ بھی کھل گیا تھا…

کمرا صاف اور مکمل آرگنائزڈ تھا وہ حیران تھی کہ کیا یہ واقعی اسکے پانچ سال کے بیٹے کا کمرا تھا۔۔۔۔

کمرا۔۔۔ہمیشہ ہی اسکے لئے اہم رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اسکی تنہائی کا گڑھ تھا۔

٭٭٭٭

جینیفر اپنے کام میں کافی مصروف تھی۔۔۔۔

تین بچوں کی پیدائش کے بعد چوتھے بچے کی آمد نے اسے کافی مصروف۔۔۔اور بوکھلا سا دیا۔۔۔

اسکا شوہر تو ویسے بھی اپنی جاب کی وجہ سے کافی بزی رہتا تھا۔۔۔۔۔

ایسے میں بچوں پر دھیان نہ ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔۔

ایسے میں ان کی تیسری اولاد جس پر حد سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی۔۔۔۔

وہ ان کی بے توجہی  کی وجہ سے خودبخود ان کے ریڈار سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭

دس سالہ یوشع انہماک سے اپنے کام میں لگا تھا۔۔۔۔!!!تبھی۔۔۔فلز کا فون آیا تھا وہ اسکی گرل فرینڈ تھی۔۔۔۔۔ان کے گھر سے تھوڑا آگے اسکا گھر تھا۔۔۔۔وہ سنگل پیرنٹ تھی اور اپنے گھر کی اکلوتی اولاد تھی۔۔۔۔۔وہ لوگ اتنے پیسے والے نہیں تھے اسکی مام کا بوائے فرینڈ انہی کے گھر میں رہتا تھا اور تھوڑا خرچ دینے میں انکی مدد کرتا تھا۔۔۔۔۔

اسکی مام بھی چھوٹی موٹی جاب کرتی تھی۔۔

ایسے میں وہ بچی کافی تنہائی کا شکار تھی۔۔

وہ بھی تنہائی پسند تھا لیکن وہ اپنے شوق کے بعد جس کے ساتھ سب سے زیادہ ٹائم سپینڈ کرتا وہ فلز تھی۔۔۔۔۔۔

ایسے میں فلز کا فون آنے پر وہ۔۔۔۔۔۔ اپنی ماں کو انفارم کرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔

“اوکے۔۔۔”جینیفر نے کہا اور اپنے کام میں لگ گئی۔۔۔۔ اسکے وہاں جانے پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔

یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا فلز۔۔۔۔۔۔۔کے ساتھ ٹائم گزارنا اسے۔۔۔اچھا لگتا تھا۔۔۔۔۔

سینڈویچز۔۔جو فلز کی ماں بنا کر گئی تھی اسکو کھانے کے بعد انہوں نے لیپ ٹاپ نکالا تھا۔۔۔۔۔نیو ماڈلز کی کارز سرچ کرتے۔۔۔وہ ہاٹ موویز پر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔

اسی طرح کرتے ہوئے وہ اب پورنی ویب پر آگئے  تھے۔۔۔۔۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ انہیں اسکا پتا نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ پہلے بھی مل کر یہ سائٹ وزٹ کر چکے تھے۔

چائلڈ پورنی کی سائٹ پر ویڈیو دیکھتے۔۔۔۔۔ان دونوں نےمعنی خیز انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔شیطانی چمک دونوں کی آنکھوں میں جاگی تھی۔۔۔

اس نے۔۔۔فلز پر سے نظر ہٹا کر سکرین کو دیکھا اک ہیجان سا اسکے اندر برپا ہوا تھا۔۔۔جو نیچے سے ہوتا ہوا اسکی گردن کی پشت تک آگیا تھا۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر فلز کو دیکھا۔۔۔۔

فلز نے آگے ہو کر اسے چوما مقابل کی آنکھوں کی پتلیاں پھیلی تھیں۔۔۔۔

اس نے لیپ ٹاپ کو سائیڈ میں رکھا۔۔۔۔۔

“میں۔۔۔ایسا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”

فلز مبہم سامسکرائی تھی۔۔۔ان دونوں کے ارادوں میں کوئی جھجھک۔۔۔کوئی خوف یا ڈر نہیں تھا۔۔۔۔

ان دونوں کے اندر کا شیطان بے باک ہوچکا تھا۔۔۔

اس اکیلے خاموش گھر میں محض دس سال کی عمر میں وہ نئے تجربے۔۔نئی لذت سے روشناس ہوچکا تھا۔۔۔

٭٭٭٭

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

2.8 / 5 · 8 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

After Marriageage differenceCOMPLETE NOVELCousin Marriagecute love storyForced marriagefriendshiphateInnocent HeroineMoral & Faith-Based DramaPhycological ThrillerRedemption/Repentance FictionRomantic Love StoryRude heroSpritual / Religious Phycological FictionUrdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *