Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Ishq Sy Ishq Haqiqi Tak (Episode 08,09)

Raah e Ishq Sy Ishq Haqiqi Tak by Aiman Raza

نور العین نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو ایک وسیع کمرے میں پایا اس نے چاروں اطراف اپنی آنکھیں گھما کر دیکھیں اور حواس لوٹتے ہی اس کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی۔ کیا وہ پھر کسی غلط ہاتھوں میں لگ گئی تھی اس سوچ نے اس کے جسم سے جان نکال دی تھی وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھی اس سے پہلے کہ وہ باہر بھاگتی ایشمل کی والدہ شاہدہ بیگم اندر داخل ہوئیں۔

وہ حیرت سے انہیں ٹکر ٹکر دیکھنے لگی۔

ارے بیٹا تم اُٹھ کیوں گئی ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہ پریشانی سے آگے آئیں اور اسے بیڈ پر دوبارہ لٹایا۔

وہ تو شکر ہے کہ تم دراب کی گاڑی سے ٹکرائی تھی اگر خدانخواستہ کوئی اور ہوتا تو پھر۔ بیٹا تم اتنی رات کو گھر سے کیوں نکلی سب خیریت تو تھی نہ انہیں فکر لاحق تھی۔

جس کے جواب میں اس نے رندھی آواز سے اپنی اوپر گزری ساری آپبیتی سنا دی۔

جسے سن کر شاہدہ بیگم کا بھی دل دکھ سے لبریز ہو گیا۔

فکر نہ کرو میری بچی اللہ نے جس راہ پر تمہیں لگایا ہے اس راہ کی مشکلیں بھی وہی آسان کرے گا۔ اور اب سے تم یہیں رہو گی یہاں سے جانے کا ذکر بھی نا کرنا۔ایشمل کو تہمارے آنے کا بھی بتاتی ہوں وہ سن کر بہت خوش ہوگی۔

انہوں نے آنکھیں پونچھتے ہوئے لگے ہاتھ فیصلہ بھی کر ڈالا.

اسنے انکے جاتے ہی سکون سے آنکھیں موندھ لیں۔اللہ نے اسکو اپنی حفاظت میں لے لیا تھا اسکے لیے یہی کافی تھا۔۔۔۔

***********

اشمل سیال سے زیادہ دیر دور نہیں رہ پائی تھی اور اسی بات کا سیال نے فائدہ اٹھایا تھا. اب وہ زیادہ تر سیال کے ساتھ ہی پائی جاتی تھی۔لیکن لگے ہاتھ وہ اسے سمجھاتی بھی رہتی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ وہ زیادہ تر وقت اشمل کے ساتھ گزارنے لگا تھا وہ دل سے یہ مان چکا تھا کہ اب وہ اشمل کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

جب وہ قریب ہوتی تو وہ اسے سنتا لیکن جب وہ دور ہوتی تو پہروں اس کے بارے میں سوچتا رہتا۔ اشمل نے جلد ہی اس کی زندگی میں ایک اہم جگہ حاصل کر لی تھی جہاں تک اس نے کسی کو پہنچنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اب بھی وہ یونی کی بیک یارڈ میں اس کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔

دل کا ٹوٹنا تو بہت الگ بات ہے پر روح؟آپ کے اندر چوٹ لگے تو بچتا کچھ نہیں ہے روح کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جسم میں جان ہونا کیا ہے جسم میں جان اصل میں آپ کے اندر روح کا ہونا ہے ۔۔

ایک پاک صاف روح کا ہونا۔

خاص لوگوں کو جیسے اچھی چیزیں پسند ہوتی ہیں ویسے ہی روح کے معاملات ہوتے ہیں انسان کی روح جتنی پاک صاف ہو گئی وہ خود بھی اتنا ہی پاک صاف ہوگا۔

وہ بڑے انحماق سے اشمل کی باتیں سن رہا تھا اور اسکا دل سکون محسوس کر رہا تھا۔ ساری باتیں محض سمجھنے کی ہے جو سمجھ جاتا ہے وہ پا لیتا ہے اور جو سمجھ کر بھی انجان بنتا ہے وہ کبھی کچھ حاصل کر ہی نہیں سکتا جس نے اپنے آپ کو نہیں پہچانا وہ کسی اور کو کیا پہچانے گا۔

کیسے رب کو تلاش کرے گا جب اسے اصل کا مطلب ہی نہیں معلوم ہوگا جس طرح آپ کی پوری باڈی کو کنٹرول دل اور دماغ کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح ان دونوں کو کنٹرول کرنے کے لئے آپ کے اندر آپ کا ضمیر ہے اگر آپ اپنے ضمیر اپنے اندر کو ہی مار دیں گے تو کچھ محسوس نہیں کر سکیں گے پھر آہستہ آہستہ آپ کو کھڑے ہوتے جائیں گے آپ کی جڑیں کمزور ہوتی جائیں گی جو آپ کو دن بدن اندر سے ختم کرتی جائیں گی۔۔۔

اشمل خاموش ہوئی تو سیال کو اپنی طرف تکتے پایا۔

کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہو اس نے بالوں کی لٹیں اپنے کانوں کے پیچھے اڑیستے ہوئے کہا۔۔

اشمل کے چپ ہونے پر سیال کا طلسم ٹوٹا۔” کیسے کر لیتی ہو ایسی باتیں اس نے حیرت سے پوچھا”

کیسی باتیں؟

یہی جو روح کو سکون دیں۔۔۔

او اچھا یہ یہ تو میری مولانی نے مجھے سکھائی ہیں۔ وہ جب بھی پاس ہوتی ہے کسی نہ کسی بات کا ذکر کرتی رہتی ہے جس سے دل و دماغ دونوں پرسکون ہو جاتے ہیں۔

کچھ تو بات ہے تمہاری مولانی میں ملنا پڑے گا اس سے بھی۔۔۔ سیال کی بات پر اشمل نے اس کے کندھے پر مکا رسید کیا۔۔۔۔

*********

نورالعین کے آنے سے گھر میں رونق چھا گئی تھی اشمل تو اسے اپنے گھر میں پا کر بہت خوش تھی ہر وقت اس کے ساتھ ہی پائی جاتی اور آج کل تو گھر میں نورالعین اور دراب کی شادی کا ذکر چل رہا تھا جس سے نورالعین تو شرمائی شرمائی گھومتی جبکہ دراب اکتایا پھر رہا تھا۔۔۔

نیکی کی تھی اور یہ نیکی تو اسکے گلے ہی پڑ گئی تھی۔ اماں کتنی دفعہ کہا ہے آپ سے کہ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی تو پھر کیوں میرے پیچھے پڑی ہیں اس نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔

دراب اب تم جو بھی کہو میں تمہارا کوئی بہانہ نہیں سنوں گی اگلے ہفتے تمہارا نکاح ہوگا اور یہ آخری فیصلہ ہے ورنہ میرا مرا منہ دیکھو گے انہوں نے بھی لگے ہاتھوں اسے ایموشنل بلیک میل کیا جس میں وہ کامیاب بھی رہی تھیں وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرکے باہر نکال گیا۔۔۔۔۔

**********

سیال کسی کی لاش کو ٹھکانے لگا کر اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا تھا جب اس کا گزر ایک مزار سے ہوا جس کی سیڑھیوں پر ایک بابا کالے رنگ کا چولاپہنے بیٹھا تھا۔۔ سیال کو وہ بہت عجیب لگا وہ ابھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جب اس بزرگ نے نظر اٹھائی اور اسے دیکھ مسکرانے لگا۔۔

اس نے سیال کو اشارہ کیا جس پر وہ اس کے تھوڑا قریب ہوا۔۔۔

بے فکر لگتے ہو۔۔

اس بزرگ کی بات پر وہ کھل کر ہنسا۔

ہاں ہوں تو پھر۔۔۔

اتنا غرور نہ کر۔۔اس بزرگ نے گہری آنکھوں سے دیکھتے کہا۔۔۔

میرے پاس دولت ہے شہرت ہے پھر کیوں نہ کروں غرور جچتا بھی تو ہے مجھ پر۔۔۔ اس نے تکبر سے کہا۔۔۔

“جو کل میرا تھا وہ آج تیرا ہے جو آج میرا ہے وہ کل تیرا ہوگا” اس بزرگ نے اتنا کہا اور ھنسنے لگا اس کی بات سیال کے اوپر سے گزر گئی اگر وہ اس بات پر غور کرتا تو پچھتاؤں سے بچ جاتا۔

**************

پاشا جلے پیر کی بلی بنا گھوم رہا تھا۔ اسے رہ رہ کر سیال پر غصہ آ رہا تھا۔ جو اس کی بنی بنائی ساکھ برباد کرنے کے چکروں میں تھا ۔ وہ دن بدن برے کاموں سے دور ہوتا جا رہا تھا۔ پاشا کا خوف لوگوں کے دلوں سے مٹنے لگاتھا اور یہی چیز اسکے غصے کا باعث بن رہی تھی۔

راجو پتا لگاو سیال آج کل کن چکروں میں ہے وجہ ڈھونڈو مجھے (گالی۔۔۔۔) وہ وجہ چاہیے چاہے اس کے لئے کسی کو زمین میں کیوں نہ گاڑنا پڑے۔۔

دادا وہ بھائی آج کل ایک ایشمل نامی لڑکی کے چکروں میں ہے جو دن بدن سے اپنے دھندے سے دور کرتی جارہی ہے اگر ہم نے زیادہ دیر کچھ نہ کیا تو وہ ہمارا دھندا ٹھپ کرا دے گی۔۔۔۔

گاڑیاں نکالو۔۔۔پاشا سرد آواز میں دھاڑا۔۔۔۔

ایک کے بعد ایک گاڑیاں جھٹکے سے نکلی انکا رخ سیال اوراشمل کی یونیورسٹی کی طرف تھا۔۔۔۔

************

پاشا نے یونیورسٹی سے سیال کو اٹھا لیا اور اسے اپنے اڈے پر لے آیا۔۔۔ برخدار آج کل کن چکروں میں ہو جو بھی چکر ہے بہتر ہے یہیں ختم کر دو اگر میں ختم کرنے پر آیا تو کچھ نہیں بچے گا اس کے انداز میں وارننگ سی تھی جسے سیال بخوبی جانتا تھا۔۔۔

پاشا یہ اب میرے بس کی بات نہیں سیال کے لہجے میں بغاوت صاف نظر آرہی تھی جس نے پاشا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔۔۔

جہاں تک مجھے یاد ہے یہ وہی لڑکی ہے جس نے تمہیں بھرے بازار میں تھپڑ مارا تھا اور میرے مطابق غیرت مند مرد ایسی بےعزتی کا بدلہ ضرور لیتے ہیں۔۔۔۔ پاشا نے اپنی ٹھوڑی کھجا کر معصومانہ لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

اس کی بات نے سیال کے تن بدن میں آگ لگا دی اسے ایشمل سے پڑنے والا پہلا تھپڑ یاد آگیا اور اس کی جلن اپنے گال پر محسوس ہوئی۔۔۔۔

یہ وہی لڑکی ہے جس نے ایک دفعہ نہیں دو بار تیری عزت کی دھجیاں اڑائی پاشا نے تمسخر سے کہا اس کی باتوں سے سیال کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا جسکی زیادتی سے اس کا منہ لال انگارہ ہو گیا۔۔۔۔

اب وقت ہے اس سے بدلہ لینے کا اگر تو مرد کا بچہ ہے تو اسے بھی ویسے ہی سب کے سامنے بیچ راہ میں بےعزت کر تاکہ سب یہ جان لیں کہ تو سیال خان زادہ ہے۔۔۔۔

اس کی باتوں سے سیال کے دل میں بدلے کی آگ پھر سے بھڑک اٹھی تھی جسے اشمل کی محبت نے سلا دیا تھا لیکن اب وہ آگ سے جلنے لگی تھی۔۔۔۔

اگر پھر بھی تو چپ رہا تو میری ایک بات یاد رکھنا اگر تو نے اس سے بدلہ نہ لیا تو میں کسی اور طریقے سے لے لوں گا اگر تو چاہتا ہے کہ اس کی نسوانیت محفوظ رہے تو اس سے بدلہ لے گا وہ بھی سب کے سامنے اور اس سے ہر رشتہ توڑ دے گا ورنہ تو مجھے بہتر جانتا ہے۔۔۔

سیال جانتا تھا کہ اگر اس نے اشمل سے بدلہ نہ لیا تو پاشا اسے اٹھوا لے گا اور اس کی عزت تار تار کر دے گا۔۔۔

اب فیصلہ سیال کے ہاتھ میں تھا کہ وہ کس طرح اشمل کو برباد کرتا ہے۔۔۔۔۔

*********

نورالعین کمرے میں چادر کو تہہ لگا رہی تھی جب دراب دندناتے ہوئے اندر داخل ہوا۔

تم شادی سے انکار کر دو دراب نے دھڑلے سے کہا۔۔۔

مگر میں ایسا کیوں کروں گی جبکہ سب بڑوں کی مرضی اسی میں ہے اس نے ہچکچاتے ہوئے دراب سے پوچھا ۔۔۔

جو اس کا مسیحا تھا اور ان کچھ دنوں میں اپنے دل کے قریب محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔

ہے کیا تم میں جو میں تم سے شادی کروں گا صرف ایک اچھی شکل۔

کیا میں نہیں جانتا کہ تم پہلے عیسائی رہ چکی ہو اور اب شادی کرنے کے لیے مسلمان بنی پھر رہی ہو تم نے میرے گھر والوں کو تو پھسا لیا مگر میں تم جیسی لڑکیوں سے اچھی طرح واقف ہوں بہتر ہو گا کہ تم خود ہی انکار کر دو کل نکاح سے۔۔۔

نورالعین اس سنگدل کے منہ سے اپنی اتنی توہین اور اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں یوں واہیات کلامات سن کر سکتے میں چلی گئی۔۔۔۔

ایک دم ہی نورالعین کو سانس لینے میں دشواری آنے لگی۔۔۔۔

اس نے بمشکل اپنے حلق میں سے آواز برآمد کی۔۔۔

جہاں تک رہی میرے اسلام قبول کرنے کی بات تو اس کے لیے میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں۔۔۔ اور رہی بات آپ سے شادی کی تو میرے بڑوں کا فیصلہ ہے ان کو میں انکار کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتی اگر آپ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو خود انکار کر دیں مگر میری طرف سے صاف جواب ہے۔۔۔۔۔

اتنی دیر بعد سامنے کھڑی نورالعین نے آنکھوں میں آنسو لیے اسے ضبط سے کہا۔۔۔۔

دراب اس بظاہر معصومانہ دیکھنے والی لڑکی کے منہ سے یوں سفا چٹ انکار سن کر ششدر رہ گیا اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا کہ جو لڑکی اس کے سامنے بھیگی بلی بنی رہتی تھی اب کیسے یوں اس کے منہ پر انکار کر گئی تھی۔۔۔۔

تم اس کے لیے بہت پچھتاؤ گی یاد رکھنا وہ دروازے کو ٹھوکر مارتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔۔

پیچھے نورالعین بیڈ پر سر پکڑ کے بیٹھ گئی نہ جانے اور کتنے امتحان اس کے منتظر تھے۔۔۔۔۔

**********

آج صبح سے ہی موسم ابرآلود تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑا طوفان آنے والا ہے مگر سب مکین اس آنے والے طوفان سے بے خبر تھے۔۔۔ تیز ہوائیں چل رہی تھیں اور بونداباندی تیز بارش کے آثار ظاہر کر رہی تھی۔۔ ایسے میں اشمل یونیورسٹی جانے کے لیے جلدی نکل پڑی تھی کیونکہ آج دراب اس کے ساتھ نہیں تھا۔۔۔

آج اس کا دل صبح سے ہی ڈوبا جا رہا تھا وہ دل ہی دل میں خیریت کی دعا کرنے لگی اور ساتھ مولانی کا نمبر ملایا جس سے بات کرنے کے لیے دل کل سے مچل رہا تھا۔۔۔

کہتے ہیں نہ کہ مصیبت کے وقت دل سب سے زیادہ قریب تر لوگوں کو وہ یاد کرتا ہے۔۔۔

ہیلو السلام علیکم اشمل نے سلام میں پہل کی۔۔۔

وعلیکم السلام آج سورج کہاں سے نکلا ہے جو صبح صبح ہمیں یاد کیا اور ہمیں کال کی۔۔۔

دوسری طرح ہشاش بشاش لہجے میں پوچھا گیا۔۔۔

مولانی کی آواز سنتے ہیں عشق محبت کو اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔

کیا ہوا چپ کیوں ہیں مولانی نے اس کی خاموشی نوٹ کی تو پوچھا۔۔۔۔ کچھ نہیں آج صرف تمہیں سننے کا دل کر رہا ہے ۔دل کر رہا ہے صرف تم بولتی جاؤ اور میں سنتی جاؤں اس نے دکھی لہجے میں کہا آج صبح سے ہی اس کا دل ملانی سے ملنے کا کر رہا تھا پتہ نہیں کیوں دل میں عجیب سا خوف بیٹھا تھا۔۔۔۔

ایسی بھی کیا بات ہے جناب آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔۔

پتا نہیں کیا بات ہے صبح سہی دل اداس ہے دل کر رہا ہے کہ کسی طرح اڑ کر تمہارے پاس آ جاؤ اور تمہیں سینے سے لگا لوں۔۔۔ تمہیں پتا ہے ملانی میں دنیا میں سب سے زیادہ تمہیں پیار کرتی ہوں۔۔۔

اشمل نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے یہ بات کہ دی۔۔۔

کیا خانزادے سے بھی زیادہ۔۔۔ مولا نے شریر ہو کر سیال کا حوالہ دیا کیونکہ وہ سیال کے اصل نام سے واقف نہیں تھی تبھی خانزادہ کا طرز تخاطب لیا۔۔۔۔

ہاہاہاہا اس سے بھی زیادہ اس نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے کہا۔۔۔۔

کیا بات ہے آپکی آپ ٹھیک تو ہے نا آپ کی آواز ٹھیک نہیں لگ رہی اس نے اشمل کے بہکے بہکے لہجے پر پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس دل صبح سے اداس تھا اور تمہیں ملنے کو دل چاہ رہا تھا اور کچھ نہیں میں واپس آکر تم سے بات کروں گی اس نے یہ کہتے ہی فون کاٹ دیا۔۔

دوسری طرف مولانی اسکی خیریت کی دعا کرنے لگی اور یہ دعا عرش تک پہنچی بھی تھی یا نہیں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

***********

ابھی اشمل یونیورسٹی سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھی جب پاشا اور اس کی گینگ کے آدمیوں نے اسے گھیرا ایک دم اتنے زیادہ آدمیوں کو اپنے اردگرد دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔۔

ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلبل تیرے مطلب کی بات کے لئے ہی آئے ہیں۔۔۔ اسے تو تو جانتی ہو گی نہ پاشا نے اپنی جیب سے فون نکال کر سیال کی تصویر دیکھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ایشمل سیال کی تصویر دیکھ کر ڈر گئی کہ سیال کی تصویر ان خطرناک غنڈوں کے پاس کیا کر رہی تھی کیا سیال کی جان خطرے میں تھی اسی خیال نے اس کی جان نکال کر رکھ دی تھی۔۔۔۔

اس نے خوف سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ ہاں تو مجھے بتانا یہ تھا کہ یہ جو لڑکا ہے یہ تجھ سے بدلہ لے رہا ہے صرف اپنے بدلے کی خاطر تجھ سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے اصل میں اس کا دوسرا چہرہ تو تو نے دیکھا ہی نہیں ہے ابھی۔۔۔۔

کیابکواس ہے یہ سب جھوٹ ہے میں نہیں مانتی کسی بات کو سیال مجھے کبھی بی دھوکا نہیں دے سکتا وہ ایک دم غصے سے چٹخ اٹھی تھی آخر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اس پر جان قربان کردینے والا اس سے بدلے کی خاطر محبت کی پینگیں بڑھا رہا تھا۔۔۔

بڑا پکا رنگ چڑھا ہے محبت کا اس نے اشمل کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا اور فون پر دو چار بٹن دبانے کے بعد ایک ویڈیو اس کے سامنے کردی جس میں سیال بہت سی لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا اور بہت ہی نازیبا حالت میں تھا۔۔۔۔

ایسا منظر دیکھ کر اشمل کے پیروں تلے زمین کھسک گئی اور اسے ساتوں آسمان اپنے سر پر ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔ بے یقینی سے بے یقینی تھی اتنا بڑا دھوکہ وہ کیسے اتنی بڑی مات کھا گئی تھی۔۔۔۔

میں نہیں مانتی یہ سب میں ابھی جاکر سیال سے پوچھوں گی اور وہ سب کی نفی کر دے گا اشمل کی آنکھوں پر ابھی بھی محبت کی پٹی بندھی تھی۔۔۔۔

ایسی بات ہے پاشا نے اس کی محبت کو داد دی جو اتنی ثبوتوں کے بعد بھی اپنی محبت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی تھی اسے دل کے ایک کونے میں اس لڑکی سے ہمدردی ہوی مگر جلد ہی سر جھٹکا۔۔۔

اب کے اس نے اشمل کو سیال کی دوسری تصویر نکال کر دکھائی جس میں ایک لڑکی شارٹس پہننے اس کی گود میں بیٹھی تھی اور یہ یونیورسٹی کی تصویر تھی۔۔۔۔

اب بھی یقین نہیں آیا تو یہ دیکھ لو ابھی بھی وہ اسی لڑکی کے ساتھ تمہاری یونی کے گراؤنڈ میں موجود ہے یقین نہیں آتا تو جاکر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور پھر حقیقت تمہارے سامنے آجائے گی یہ کہتے ہی پاشا اور اس کے بندے راستے سے ہٹ گئے ۔

اشمل بے جان ہوتے قدموں سے یونیورسٹی کی طرف بڑھی اس کا ہر ایک قدم یہ دعا کر رہا تھا کہ جو ابھی اس نے دیکھا وہ سچ نہ ہو ورنہ اس کی جان نکلتے ایک لمحہ نہ لگتا جیسے ہی وہ یونی کے گراؤنڈ میں پہنچی اس نے ادھر ادھر دیکھا آج گراونڈ میں کافی لوگوں کا ہجوم تھا لیکن وہ ان سب میں سیال کو دور سے ہی پہچان چکی تھی۔

اس نے اس لڑکی کو سیال کے انتہائی قریب بیٹھے دیکھا اس نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں اس کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی آج اسے پتہ چلا تھا کہ سانس بند ہونا کسے کہتے ہیں وہ مرے ہوئے قدموں سے سیال کے قریب گئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے ہی سیال پلٹا اس کی نظروں میں اجنبیت دیکھ کر اشمل کا دل بند ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔

سیال کے پلٹنے پر اسکی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ اشمل کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔

سیال۔۔۔اسکے منہ سے سرسراتے ہوئے اسکا نام نکلا۔۔۔

دوسری طرف سیال کی آنکھوں میں تم کون ہو میں تمہیں جانتا ہوں والا تاثر تھا۔۔۔۔

سیال نے ایک آئیبرو اچکائی جیسے بلانے کی وجہ پوچھ رہا ہو ساتھ اس لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کھینچا جبکہ نظریں ہنوز اشمل پر تھیں۔۔۔۔

اشمل کی نظروں نے سیال کے ہاتھ کی حرکت سے لے کر اس لڑکی کا ساتھ لگانے تک غور سے دیکھا۔۔۔۔

اسے لگا جیسے سارے الفاظ کہیں کھو گئے ہوں مگر اسے بولنا تھا ۔

سیال تم یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔یہ لڑکی تمہارے اتنے قریب کیا کر رہی ہے اسنے ایک ایک لفظ چباتے کہا۔۔۔۔

تب سیال کے چہرے پر مخصوص چمک ابھری۔۔۔

یہ میری گرلفرنڈ ہے اسنے پیار سے اپنی باہوں میں گھری ٹینا کو دیکھتے کہا ۔۔۔تمہیں تو پتا ہے نا میری پسند کتنی جلدی بدلتی ہے۔۔۔۔

اسنے اشمل کو آنکھ مارتے کہا۔۔۔۔

اشمل کو اسکی بات سن کر دھچکا لگا تھا۔۔۔

سیال تو پھر تم نے میرے ساتھ وہ سب کیوں کیا اسنے سرخ آنکھوں میں آنسو لیے پوچھا۔۔۔

اسکی آنکھیں دیکھ کر سیال کا دل تھما تھا۔۔۔

مگر پھر چہرے پر ازلی مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔

وہ وہ تو بس ایک بدلہ تھا۔۔۔۔

“بدلہ”اشمل کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا۔۔۔

ہاں بدلہ یاد ہے کبھی اسی طرح سب کے سامنے میرے منہ پر طمانچہ مارا تھا۔۔۔اسنے اپنے گال پر ہاتھ پھیرتے اسکے ارد گرد گھومتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اشمل کو ایک دم گھٹن ہونے لگی۔۔۔اسے لگا اسکا دل درد سے پھٹ جائے گا۔۔۔۔

تو کیا وہ سب۔۔۔۔دکھ کے باعث اسکے منہ سے بس یہی نکلا۔۔۔۔۔

ہاں وہ سب دکھاوا تھا تمہیں اپنی محبت کے جال میں پھنسانےکا۔۔۔تاکہ تم یہ جو شرافت کا چولا پہنے گھوم رہی ہو تمہیں سب کے سامنے بےبقاب کرنے کے لیے یہ سب کھیل کھیلا میں نے۔۔۔۔

اشمل کے ذہن میں بس مولانی کی باتیں گونج رہی تھیں ۔۔نامحرم سے محبت حرام ہے۔یہ رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔۔۔

آج اسکو ان سب باتوں پر یقین ہو گیا تھا۔۔۔

وہ آخر کس کس بات پر روتی اپنی ناکام محبت پر،محبت کے دھوکے پر یا اپنے محبوب کی بےوفائی پر ۔۔۔۔اسے لگا جیسے چاروں اطراف میں کھڑے لوگ اسے حقارت و مزاح کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔۔۔اسنے ایک کرب بھری نظر اپنے محبوب پر ڈالی جسنے اسے رسوا کرنے میں کوئی کسر نا چھوڑی تھی۔۔۔۔

اسکی کلاسفیلو بھاگ کر دراب کو بلانے پہنچی۔۔۔ساری بات سن کر دراب کے سر پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے اسے پتا تھا اشمل یہ سب برداشت نہیں کر پائے گی وہ اشمل کے پاس بھاگا۔۔۔۔

دوسری طرف اشمل کے بائیں بازو سے لے کر دل تک درد کی ایک شدید لہر اٹھی اور وہ گھٹنوں کے بل نیچے گری اسکا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا جبکہ ہونٹ نیلے پڑتے جا رہے تھے۔۔۔۔

سیال اسکی حالت دیکھ حیران کھڑا تھا۔۔۔۔۔

تبھی دراب بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بھڑا اور اشمل کو گرا دیکھ اسکی جانب لپکا ۔۔۔۔

اشمل اشمل چندہ اٹھو۔۔۔۔اسنے اسکا منہ تھپتھپاتے کہا اسکا ٹھنڈا یخ وجود دراب کی جان نکال رہا تھا۔اسکی حالت دیکھ اسے لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کہ اسے کیا ہوا ہے۔۔۔دراب کا دماغ گھوم گیا وہ طیش میں اٹھا اور سیال پر مکے برسانے لگا جبکہ سیال کا منہ لہولہان ہو گیا۔۔۔۔

سیال نے ایک دم اسے پیچھے دھکا دیا۔۔۔۔

پاگل ہو گیا ہے کیا۔۔۔

ہاں ہو گیا ہوں پاگل تو تو آستین میں چھپا ایک سانپ نکلا ۔تو نے اس لڑکی کا یہ حال کیا جو تجھے دل دینے کی غلطی کر بیٹھی تھی۔اب خوشی منا کیونکہ اب کوئی تجھ جیسے شخص سے سچا پیار نہیں کرے گا۔۔۔

کیا بکواس کر رہا ہے کیا ہوا ہے اشمل کو وہ اشمل کو پکڑنے کے لیے بڑھا جب دراب نے دھکا دیتے اسے پیچھے پھینکا۔۔۔۔

ہارٹ اٹیک ہوا ہے اسے کمزور دل کی مالک تھی وہ ڈاکٹر نے اسے کسی بھی قسم کا سٹریس دینے سے منع کیا تھا اور تو نے ۔۔۔۔اب خبردار جو اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اسے۔۔۔

سیال صدمے سے نیچے گرا یہ کیا ہو گیا تھا اس سے اسنے کیا چاہا تھا اور کیا ہوا گیا تھا۔۔۔

اسکی آنکھوں کے سامنے دراب اسکی اشمل کو لے جانے لگا۔جب وہ ہوش میں آتے ہوئے اسکے پیچھے لپکا ۔۔۔اشمل اشمل میری جان ایک دفعہ آنکھیں کھولو میں تم سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔

دراب کے ساتھ چلتے وہ اشمل کے بےہوش وجود سے فریادیں کرتا کوئی دیوانہ لگ رہا تھا۔۔۔ساری یونی کے لیے یہ ناقابل یقین منظر تھا کچھ کی آنکھوں میں اسکے لیے رحم تھا تو کچھ کی آنکھوں میں نفرت جبکہ دراب اسکی کسی بی بات پر کان دھرے بغیر اسے گاڑی میں ڈالے ہاسپٹل لے گیا۔۔۔جبکہ سیال نے اپنی بائیک بھی اسی جانب موڑ دی۔۔۔۔

**************

اشملل کے گھر پر یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی تھی شاہدہ بیگم تو بار بار بےہوش ہو رہی تھیں جبکہ نورالعین اور رامین خود غم سے نڈھال ہوتی بمشکل انہیں سمبھال رہی تھیں۔انکے گھر کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا تھا۔۔۔۔

دوسری طرف جب یہ خبر ملانی تک پہنچی تو وہ بھی اشمل کے لیے نکل پڑی تھی دل الگ رو رہا تھا۔۔۔۔۔

اور سیال اسے پاشا نے کسی کو ٹھکانے لگانے بھیج دیا تھا جو وہ بادل نخواستہ ہی مانا تھا اور اب اپنا غصہ اور غم لوگوں کا مار کر نکال رہا تھا۔۔۔۔۔۔

*********

ڈاکٹرز نے صاف جواب دے دیا تھا کہ اگر کو اشمل کو ہوش آ بھی گیا تو اسکے پاس آج شام تک کا ہی وقت ہے۔سارے گھر والے غم سے نڈھال تھے سبکی آنکھیں اشک بار تھیں۔۔۔۔

جبھی ایک نرس نے انہیں اشمل کے ہوش میں آنے کی خبر سنائی۔۔۔

سب اسکو ملنے کے کیے لپکے۔۔۔

اشمل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی تو اپنے سب پیاروں کو پاس پایا۔۔۔انکو دکھی دیکھ کر اشمل کو اپنے اوپر بوجھ بڑھتا محسوس ہوا ۔

امی اسنے دھیرے سے پکارا تو وہ اسے نزدیک آ گئی اور اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا ۔۔۔۔

جی میری بچی میں صدقے۔۔۔۔میں اپکی بری بیٹی ہوں نا اسنے بہتی آنکھوں سے دریافت کیا۔۔۔میں نے اپکو رسوا کر دیا اپنی نام کی محبت کی خاطر اپکو بہت دکھ دیا۔۔۔۔

اسنے اٹک اٹک کر کہا۔۔۔۔

تو سب اسکے حال پر رو دیے۔۔۔

نا میری بچی اسی میں اللّٰہ کی مصلحت تھی۔۔۔

اسنے دراب کی طرف دیکھا۔۔۔

میری ایک خواہش پوری کرو گے۔۔۔۔

بولو چندہ دراب نے فوراً دریافت کیا۔۔۔

میں چاہتی ہوں اپ نورالعین سے ابھی میرے سامنے نکاح کر لیں تاکہ میں جانے سے پہلے کوئی خوشی دیکھ لوں۔۔۔۔

ایسے نا کہو چندا۔۔۔

بولیں کریں گے نا۔۔۔

اسنے اسکی آنکھوں میں امید دیکھتے اسے منع کرنا مناسب نا سمجھا۔۔۔اور اناً فاناً نورالعین اور دراب کا نکاح ہاسپٹل میں اشمل کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔۔۔نکاح کے بعد نورالعین جب اسکے گلے لگی تو وہ خوب روئی۔اسنے جاتے جاتے اپنی دوست کا مستقبل سوار دیا تھا۔۔۔اسنے رامین کو بھی پیار کیا اور امی کا خیال رکھنے کا وعدہ لیا۔۔۔۔

اسنے سب کی طرف دیکھا جو بہتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔اسکے دل میں مولانی سے ملنے کی بھی شدید خواہش تھی جو یہاں پہنچنے والی تھی۔اسنے دراب کی طرف دیکھا۔۔۔

میری آخری خواہش ہے میں سیال سے ملنا ہے پلیز مجھے لے چلو۔۔۔کوئی بھی راضی نہیں تھا مگر پھر بھی اسکی آخری خواہش کا احترام کرتے دراب نے سیال کا پتا لگوایا جو ہاسپٹل کے قریبی پارک میں ہی تھا۔اشمل اسے ملنے پر بضد تھی۔تبھی دراب اور نورالعین اسے سہارا دیتے ہوئے قریبی پارک لے گئے باقی سب بھی پیچھے ہی تھے۔

انکے نیچے پارک میں پہنچنے تک بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔

اشمل دور سے سیال کو پہچان گئی تھی۔وہ دھیرےدھیرے اسکی طرف بڑھ رہے تھے۔سیال نے کسی احساس کے تحت چہرہ اٹھایا تو اشمل کو دراب اور نورالعین کے ساتھ اپنے قریب اتا پایا۔۔۔۔

وہ فوراًکھڑا ہوا اور دو چار قدموں کا فاصلہ سمیٹتا اس تک پہنچا۔۔۔۔

اشمل میری جان تم یہاں کیا کر رہی ہو۔کیا تمہیں نہیں پتا اسے اس وقت آرام کی شدید ضرورت ہے ۔۔۔اسنے پہلے پیار سے اشمل کو کہا اور پھر دراب کو سرد آواز میں کہا۔۔۔۔

میں تمہیں آخری دفعہ دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔

اشمل کی کمزور آواز پر سیال نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔

ہاں وقت کم ہے میرے پاس بس ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں تم سے میرے پیار میں کہاں کمی رہ گئی تھی جو تم نے مجھے سب کے سامنے رسوا کیا ۔۔۔۔

اشمل نے اسکی حیرت بھانپتے کہا اور سوال کیا۔۔۔

سیال کی آنکھیں غم کی شدت سے سرخ پڑ گئیں تھیں۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔جیسے وہ یہ سب کرنے پر مجبور ہو۔۔۔

میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میرا یقین کرو وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔دراب نے اسے خونخار نظروں سے گھورا جو اپنی غلطی تسلیم نہیں کر رہا تھا۔۔

غلطی تمہاری نہیں غلطی میری ہے مولانی مجھے منع کرتی رہی اور میں نہیں رکی۔میں نے تم سے پیار نہیں کیا اسنے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے سیل کی آنکھوں میں دیکھتے کہا سیال کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گا۔۔۔۔

میں نے تمسے پیار نہیں بلکہ عشق کیا تبھی تو تمہارے سامنے کھڑی ہوں مگر میں یہ بھول گئی کہ عشق تو مجھے اللّٰہ کی زات سے کرنا چاہئے تھا جیسے مولانی کرتی ہے میں نے اسکو چھوڑ اسکے بندے سے دل لگایا تو سزا تو ملنی ہی تھی مجھے۔۔۔۔۔

ٹانگوں نے بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تو اشمل لڑکھڑا کر نیچے گری سیال نے فٹافٹ اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔

اشمل کا سانس اکھڑ رہا تھا اسکا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔

میری ایک آخری خواہش پوری کرو گے۔۔۔۔اسنے اٹکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

ایسا مت کہو ابھی ہمیں ساتھ جینا ہے۔۔۔۔

پلیز میرے پاس وقت کم ہے بولو کرو گے۔۔۔

سیال نے نا چاہتے ہوئے بھی سر ہلایا اسکے آنسو اشمل کے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔۔

جیسے تم نے اپنی محبت کو بیچ راہ میں رسوا کیا اگر ایسا موقع دوبارہ آئے اور کسی لڑکی کی عزت داغ دار ہو رہی ہو تو خدا کے لیے اسکے سر پر اپنی چادر ڈال دینا اسے اپنی ہم نوائی میں لے لینا تب سمجھنا میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔

اس سے بولا نہیں جا رہا تھا پھر بھی وہ جی توڑ کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

کتنا حسین لمحہ ہے نا من پسند محبوب کی آغوش میں جان دینا۔۔۔۔۔۔اشمل نے آخری دفعہ اسکا صدقہ لیا جیسے وہ اکثر دونوں ہاتھوں سے پیار سے اسکی بالائیں لیتی تھی ایسا کرتے ہی اسکے ہاتھ بےجان ہوتے گرے اور آخری ہچکی لیتے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔۔۔۔سیال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چوما۔۔ایک بار نہیں بار بار

بارش زور سے برسنا شروع ہو چکی تھی جیسے وہ بھی انکے غم میں شریک ہو۔

اشمل اشمل اٹھو تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں کرتا رہوں گا مگر پلیز اٹھو آنکھیں کھولو۔۔۔

اگر تم کہو گی تو میں اپنے آپ کو خود سزا دوں گا مگر ایک بار واپس آ جاؤ ۔یار نہیں رہ سکتا نہ میں تمہارے بغیر میں ہر برا کام چھوڑ دوں گا مگر تم ایک بار اپنی آنکھیں کھولو اور اپنے سیال کو اپنے ہونے کا یقین دلاؤ وعدہ کرتا ہوں کبھی برے کام کو دیکھوں گا بھی نہیں۔۔۔۔

وہ کڑیل جوان اپنی محبت کے جانے پر چیخ چیخ کر رو رہا تھا باقی سب بھی اسے دیکھ کے زوروں سے رو دیئے شاہدہ بیگم تو بے ہوش ہو چکی تھیں۔ سیال کو آج پتہ لگا تھا کہ محبت کے چلے جانے کا دکھ کیا ہوتا ہے اس نے اپنی انا جیتنے کیلئے اپنی محبت ہار دی تھی اور اب اس کے پاس پچھتاوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔۔۔۔

**************

بہت آئی گئیں یادیں مگر اس بار تمہیں آنا۔ تم آؤ گے مجھے ملنے خبر یہ بھی تمہی لانا۔۔۔

**************

سیال خانزادہ ولد راحیل خانزادہ کیا آپ کو مہرماہ بنتِ رحمت خانزادہ سے بعوض ۵لاکھ حق مہر یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔جی ہاں قبول ہے۔۔۔۔

*******

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *