Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah e Ishq Sy Ishq Haqiqi Tak by Aiman Raza

اظہر کیفے میں داخل ہوا تو ادھر ادھر نگاہ دوڑائی جب ایک جگہ اسکی نگاہ اٹکی۔آگے کا منظر اسکا خون کھولا گیا۔۔۔
جہاں رامین رونی کے ساتھ بیٹھی باتیں بھگار رہی تھی۔جو اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
اظہر تن فن کرتا اسکے سر پر جا پہنچا۔
رامین ۔۔۔اسکی آواز میں تپش محسوس کر کے رامین بوکھلا کر رہ گئی۔
اظہر تم۔۔۔۔
ہاں میں اسکے ساتھ کیا کر رہی ہو تم بتانا پسند کرو گی۔۔۔اسنے کڑے تیوروں سے دریافت کیا۔۔۔
اظہر رونی میرا دوست ہے تم ایسے بات نہیں کر سکتے۔۔۔
رامین نے غصے سے کہا۔
رامین ۔۔۔اسنے غصے سے کہا جبکہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کیفے سے باہر لے جانے لگا۔۔۔
رونی خون آشام نظروں سے گھور کر رہ گیا جو اسکا شکار چھین کر لے گیا تھا۔
ہاہر لاتے ہی اظہر نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔۔
اظہر یہ کیا بدتمیزی ہے تم مجھ سے ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔۔۔۔
رامین کے لہجے میں بغاوت تھی۔
رامین جب ہر کسی کو پتا ہے اسکی شہرت اچھی نہیں تو پھر تم کیوں اسکے پاس گئی۔۔۔
کیونکہ اسکے پاس سٹیٹس ہے پیسہ ہے ۔۔۔۔
رامین کی بات پر وہ شاکڈ رہ گیا ۔۔۔
رامین مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔
اظہر نے افسوس سے کہا۔۔۔
میری آرمی ٹریننگ بس کمپلیٹ ہونے والی ہے پھر میری جاب کنفرم ہو جائے گی تم صبر تو کرو۔اتنا یقین رکھو مجھ پر کے تمہیں اپنی محنت کا کھلاؤں گا۔۔۔۔
محنت محنت محنت مائے فٹ ۔۔۔کتنا کما لو گے پانچ سال بھی لگے تو بھی رونی جتنا سٹیٹس اس جتنے پیسے نہیں کما پاؤ گے۔
آئی ایم فیڈ اپ ود دس۔۔۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں کیا میری محبت تمہارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔
اسنے دکھی لہجے میں کہا اسکی آنکوں میں شکست صاف نظر آ رہی تھی۔
محبت سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا باتیں کرنا اسان ہے عمل کرنا مشکل میں رونی کے ساتھ بہت خوش ہوں آئندہ پلیز میرے قریب بھی مت آنا۔۔۔۔
اسنے نخوت سے کہا۔۔۔۔
جبکہ اظہر اسکا لہجہ دیکھ کر رہ گیا کتنی سفاکیت سے وہ اسے پرایا کر گئی تھی اور اسکی محبت کو دو کوڑی کا کر کہ رکھ دیا تھا۔۔۔۔
جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھ رہی وہ اچھا لڑکا نہیں مگر ابھی تمہاری آنکھوں پر دولت کی پٹی بندھی ہے جلد ہی یہ اتر جائے گی تب تم پچھتاؤ گی اور تب میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا ۔۔۔۔
اسنے زخمی لہجے میں کہا تو رامین کے دل کو کچھ ہوا آخر اسنے بھی تو پیار کیا تھا اس سے چار سال کا ساتھ تھا انکا یہ تو رونی بیچ میں آ گیا اور وہ اسکے سٹیٹس سے مرعوب ہو گئی ورنہ اظہر اسکے لیے بہترین ہمسفر تھا۔۔۔۔
اظہر نے ایک آخری بار اسے اپنی نظروں میں بسایا اور چلا گیا کبھی نا واپس آنے کے لیے۔۔۔
رامین خالی نظروں سے اس راستے کو دیکھنے لگی جہاں سے وہ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *