Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raag e Jaan K Tabib by Sania Ali Last Episode

اس کی اور زوہیب کی محبت بچپن کی محبت تھی
وہ ایک ہی سو سائٹی میں رہتے تھے ایک ہی اسکول میں جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے ایک دوسرے کے دیوانے بن گئے
حرا کے ابو اور زوہیب کے ابو بہت اچھے دوست بھی تھے ان دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا
زوہیب کی مرضی سے حرا چلتی تھی کون سے سبجیکٹس رکھنے ہیں کونسے کالج جانا ہے کیسے کپڑے پہننے ہیں ۔۔ ان دونوں کی پسند دیکھتے ہوئے گھر والوں نے رشتہ طے کر دیا ۔۔۔ اور کچھ عرصے بعد ان کا نکاح ہو گیا۔۔۔
زوہیب کینڈا چلا گیا سال بھر ویسا ہی پرجوش کئیرنگ محبت والا انداز پھر زوہیب بدلتا گیا
مصروفیت کا بہانا بزی ہوں سٹڈی اور ساتھ جاب سنبھالنا آسان نہیں وغیرہ وغیرہ
حرا ہر بار اس سے باتیں کر کے اپنے دل میں آئے شکوک کو بڑھتا محسوس کرتی۔۔۔ بے چین رہتی
پھر زوہیب کا اپنی کلاس فیلو جو کہ پاکستانی نژاد کینیڈین تھی سے شادی کرنا ۔۔ حرا کو طلاق بھیجنا
حرا کا یوں ٹوٹنا ،،،
حرا ان دو ماہ میں سب بتا چکی تھی۔۔
مگر مسئلہ یہ تھا حرا دو دن نارمل رہ کر پھر ویسی ہی ہو جاتی تھی کبھی چپ رہنا، کبھی شور مچانا چیخنا چلانا۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»
اس دن وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی فیروزی ہلکی کڑھائی والا سوٹ ، ھاتھ میں فیروزی موتیوں کا سلور بریسلٹ ، کانوں میں سلور اور فیروزی موتیوں کے آویزے ، سلیقے سے بنے بال اور آنکھوں میں کاجل ،
ازمیر بڑے جزب سے کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور دل میں اٹھنے والی خواہش کو رد کرتے ہوئے بولا
“حرا زندگی اور ڈپریشن میں سے کیا چیز سلیکٹ کرو گی”؟
“زندگی” حرا نے جواب دیا
“شکر ہے اب وعدہ کرو ڈپریشن سے ہمیشہ کیلئے نکلنا ہے۔۔ زندگی کو جینا ہے پہلے کی طرح”
“اچھا جی وعدہ “
“آج میں بہت خوش ہوں میری دوست پہلے کی طرح لگ رہی ہے ، اللہ تمہیں یونہی خوش رکھے”
پھر حرا واپس اسلام آباد چلی گئی وھاں سے شروع کے دن کالز پر حال چال بتاتی پھر یہ بھی سلسلہ ختم ہو گیا
پھر پورے دوماہ بعد آج پھر اس کو ویسے ہی ٹوٹا ہوا دیکھ کر ازمیر بہت رنجیدہ تھا۔۔۔
اس نے آخری سگریٹ بھی بجھائی اور وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے یادوں کے سفر میں وقت کا پتا ہی نا چلا اس نے کھڑکی بند کر دی اور سونے کے لئیے لیٹ گیا۔۔۔۔۔ نیند اس کی آنکھوں سے جیسے آج روٹھ گئ تھی
“کہیں میں نے تو نظر نہیں لگا دی اس کی خوشیوں کو؟” ازمیر لیٹا تھا ایک دم اٹھ بیٹھا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
___________
“انکل آنٹی آپ لوگ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا.. میں ہوں نا “
ازمیر نے چائے کا کپ رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا
داجی سے مل کر وہ آ گیا۔۔
واپسی پر اس کے دل پر بوجھ تھا وہ بہت پریشان تھا۔
وہ بھی حیران تھا کہ حرا یہاں سے جا کر بھی کافی نارمل تھی ۔۔
پھر ایسا کیا ہوا تھا جو وہ پھر چار ماہ پہلے کی طرح زندگی سے بیزار ہو گئ تھی۔۔۔
»»»»»»»»»»
»»»»»»»»»»
“کیا ہوا تھا اس دن حرا ؟
مجھے سب تفصیل سے بتاؤ”
حرا جب شام کو کلینک آئی تو ازمیر نے پوچھا
“کچھ نہیں” حرا بولی
“شگفتہ آنٹی بتا رہی تھیں تم نے زوہیب کے آفس جا کر ۔۔ “
ازمیر دانستہ چپ کر گیا
حرا چپ رہی مگر اس کے ماتھے پر شکنیں بڑھ گئیں جیسے یہ پوچھنا اسے اچھا نہیں لگا
“حرا میں نے کچھ پوچھا ہے؟”
“ہاں __ اس کے پیر پکڑ لئیے تھے کہ مجھ سے دور نہ ہو ۔۔ مجھے نہ نکالے اپنی زندگی سے
مگر اس نے مجھے دھتکار کے نکالا ، میری بے عزتی کی ۔۔۔ “
حرا منہ پر ھاتھ رکھے رونے لگی
ہچکیوں سے اس کا وجود لرز رہا تھا
ازمیر نے تاسف سے اسے دیکھا اور رونے دیا
“کچھ اور بھی کہا تھا تم نے” ازمیر نے کڑے تیوروں سے پوچھا
“اس نے کہا طلاق ہو چکی یہ ممکن نہیں “
میں نے کہا حلالہ کر لیں گے تم مان جاؤ”
حرا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
پھر کیا ہوا تھا؟ ازمیر نے سوال کیا
“پھر اس نے پاپا کو فون کر کے بہت برا بھلا کہا
مجھے پاگل تک کہا
اس نے کہا اچھا ہوا جو یہ ذہنی مریضہ نکل گئ میری زندگی سے”
حرا پھر رونے لگی
“پھر تم کو شرم آئی ؟ احساس ہوا کہ تم نے اپنی خودغرضی کیلئے اپنے ماں باپ کو جیتے جی مارا ہوا ہے ؟ وہ کس قدر تکلیف میں ہیں تم کو احساس ہے”
وہ شاید یہ بھی سوچتے ہوں کہ ایسی اولاد سے تو ہم بے اولاد ہی رہتے ۔۔”
کوئی عزت نفس نام کی بھی چیز ہے کہ نہیں؟؟؟؟”
ازمیر نے ھاتھ میں پکڑا پین سامنے دیوار پر مارا
حرا اپنا رونا بھول کر ازمیر کو دیکھنے لگی جس نے کبھی اس طرح بات نہ کی تھی
“حرا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی صبحِ جب انکل آنٹی نے یہ سب بتایا تو میرا بس نہیں چل رہا تھا تمہیں شوٹ کر دوں “
ازمیر کے لہجے میں یہ استحقاق ؟ یہ انداز ؟
حرا چونکی
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حرا پھر سے رونے لگی ازمیر نے پھر سے نارمل ہو کر بات کرنا شروع کی
“حرا تم تو ہمت کر رہی تھی
بہتر ہو رہی تھی پھر یہ پاگل پن”
یہ پاگل پن محبت ہے آپ نے کبھی محبت کی ہو تو پتا ہو ” حرا نے تڑخ کر جواب دیا
“تم کیسے کہہ سکتی ہو میں نے محبت نہیں کی ؟
ازمیر نے کچھ اس طرح کہا کہ حرا اسے دیکھے گئ ۔
“میں نے محبت کی ہے اور میری محبت پالینا یا جیت لینا نہیں تھی ۔۔۔۔ میں نے جس سے محبت کی ہمیشہ اس کی خوشی چاہی ۔۔۔۔ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے۔۔
ازمیر نے گہری نظر سے دیکھتے ہوئے کہا اور دل سے نکلتی ہوئی آرزوؤں کو دباتے ہوئے سگریٹ سلگانے لگا
“آپ نے اسے پانے کی کوشش نہیں کی؟”
“نہیں”
“وہ جانتی بھی ہے یا یکطرفہ محبت تھی؟”
“یکطرفہ”
“کیا اس کی شادی ہوگئ؟”
“ہوئی تھی”
“کون تھی وہ ؟”
“رگ جاں کی مکیں ہے وہ “
“کیا مطلب وہ کہاں ہےاب؟”
ازمیر اس سوال کے جواب میں اسے دیکھے گیا
ازمیر کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے حرا اٹھ کھڑی ہوئی
“مجھے جانا ہے”
” جاؤ ” ازمیر نے آنکھیں بند کرکے کرسی سے ٹیک لگا لی۔۔
“میں کیوں جاؤں”؟ کچھ لمحوں بعد حرا کی پھر آواز آئی
ازمیر نے آنکھیں کھول کر حیران ہو کر دیکھا وہ وہیں کھڑی تھی ۔۔۔ بے چینی اس کی آنکھوں سے عیاں تھی
“آپ مجھے چاہتے ہیں؟
کب سے؟
کیوں؟
میرے لیے پریشان رہتے ہیں؟
آخر کیوں؟
تبھی میری اتنی فکر کرتے رہے
میں بھی کہوں ڈاکٹر ایسے تو نہیں ہوتے”
حرا کے سوال شروع ہو چکے تھے
ازمیر کے دل میں بہت عرصے بعد کوئی خوشگوار سا احساس جاگا ۔۔ وہ کوئی جواب نہ دے سکا بس دیکھے گیا۔۔۔
حرا الجھی الجھی سی
پریشان پریشان سی اس کی نظروں سے گھبرا کر چلی گئ
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»
ایک سال بعد۔۔۔
رات کے دو بجے وہ پھر شور سے اٹھا اور گھبرا کر سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا
اشمل کو تھپکی دیتے ہوئے وہ مسلسل بول رہی تھی
میرے لئیے وقت ہی نہیں ہے
میں فالتو چیز ہوں گھر کی
میری فکر ہی نہیں ہے
پہلے کیسے محبت سے دیکھتے رہتے تھے مجھے
میرے لیے کیسے جوگی بنے ہوئے تھے
اور اب۔۔۔
سچ بتاؤ کوئی آ گئ ہے کیا ہمارے بیچ ؟
کون ہے وہ منحوس ؟
آپ مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے
بولو بولو کیوں بدل رہے ہیں آپ؟
حرا بولتے بولتے رو پڑی
“یار تم پاگل تو نہیں ہو کیا ہو جاتا ہے تمہیں” ازمیر جھنجھلایا
“ھاں اب پاگل کہو مجھے” اب مجھ سے تنگ پڑتے ہیں آپ ” وہ پھر روہانسی ہوئی
ازمیر نے مسکرا کر اسے اپنے قریب کیا ۔۔۔
“میں ہوں ناں اپنی پگلی کا طبیب ، جتنا مرضی تنگ کرو مجھے “
ازمیر نے اس کو پیار سے کہتے ہوئے بالوں کی لٹ کھینچی۔۔
دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے۔۔۔۔
ختم شد 🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *