Raag e Jaan K Tabib by Sania Ali NovelR50708 Raag e Jaan K Tabib by Sania Ali Episode 01
Rate this Novel
Raag e Jaan K Tabib by Sania Ali Episode 01
“اچھا تو آپ آئیں ہیں”
مشہور سائکائٹرسٹ ڈاکٹر ازمیر نے اگلے پیشنٹ کی فائل دیکھتے ہوئے مسکرا کر خود کلامی کی اور مس زویا کو نیکسٹ پیشنٹ کو بلانے کا کہا
وہ دروازہ دھکیل کر اندر آئی اور چپ چاپ آ کر ڈاکٹر ازمیر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئ
لباس شکن آلود ، بال الجھے سے جو کیچر میں قید تھے اور صاف ستھرا چہرا جس پر کسی قسم کے تاثرات نہیں تھے۔۔۔ آنکھیں جیسے سوگ میں ہوں ۔ جیسے کئ رتجگے اس کے مقدر میں ہوں ۔۔۔۔ جیسے اس کا کوئی کہیں کھو گیا ہو۔۔۔
“جی تو مس حرا کیسی ہیں آپ “؟ ازمیر نے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ایک ٹھنڈی آہ بھر کر پوچھا
حرا نے کوئی جواب نہیں دیا ایک شکن اس کے ماتھے پر ابھری پھر غائب ہو گئ
“آپ مجھے کھل کر بتا سکتی ہیں ہر بات آپ کو مجھ پر تو اعتبار ہے نا ؟
“آپ نے وعدہ کیا تھا آپ خود کو سنبھال لیں گی پھر یہ سب ؟
“حرا”
“تو میں یہ سمجھ لوں کہ آپ مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتی “
ازمیر نے اس کے پاس آکر ایک کرسی پر بیٹھ کر مصنوعی خفگی سےکہا
“چلیں پھر میں خفا ہو جاتا ہوں”
“مت کیجئے بات “
حرا کے چہرے پریشانی آئی اس نے پلکیں تیز تیز جھپکنا شروع کیں ،، چہرے سے تناؤ کم ہوا
وہ جیسے الجھ سی گئ تھی اس سے بات نہ ہورہی ہو یا الفاظ نہ مل رہے ہوں
وہ اپنے ھاتھوں کو مسلتی ہونٹ کاٹتی بہت بے چین سی لگ رہی تھی
ازمیر بہت دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رھا تھا۔۔۔۔۔
“حرا”
“ج جج جی” حرا بمشکل بولی
“حرا سنا ہے کہ آپ نے پھر سب کو ستایا ؟ پھر وہی سب ؟ ایسا کرتے ہیں بھلا اچھے بچے؟
‘میں بچی نہیں ہوں”
“اور جو میرا دل چاہے گا کروں گی جو مجھے ستائے گا میں اسے نہیں چھوڑوں گی”
“حرا آپ نے وعدہ کیا تھا آپ ڈپریشن یا نارمل لائف میں سے نارمل لائف کی طرف آئیں گی پھر یہ ڈپریشن ؟
“سیدھی طرح کہہ دیں پاگل ہوں میں یہ ڈپریشن ڈپریشن کیا ہے سر “
حرا نے اتنے شکستہ لہجے سے کہا کہ کچھ دیر کے لئیے ازمیر کچھ نہیں بول سکا۔۔
“آپ پاگل نہیں ہیں پاگل ہونا کیا ہوتا ہے آپ کو نہیں پتا ۔ دیکھنا چاہیں گی پاگل کیسے ہوتے ہیں؟ کیسے جیتے ہیں؟”
ازمیر کے لہجے میں غصہ دیکھ کر حرا چونکی اور گھبرا گئ
اسے پھرسے سر کے درمیان میں درد ہونے لگا۔۔۔ جیسے کسی نے بہت وزنی چیز رکھ دی ہو..
“بولیں “
“کیوں کرتی ہیں ایسا ؟ کیوں خود کو اذیت دے رہی ہیں؟”
“حرا تو بہادر لڑکی تھی نا؟”
“آہ”
حرا نے آنکھیں بند کر لیں اور سر پر ہاتھ رکھ کر کراہ اٹھی
“حرا کیا آپ ٹھیک ہیں؟
“میرا سر”
“اچھا اچھا ریلیکس “
ازمیر نے کچھ بھی مزید پوچھنے کا ارادہ ترک کیا اور اسے پین کلر دی، اس نے ٹیبلیٹ کھائی اور کچھ دیر بعد طبیعت میں بہتری محسوس کی سر کا درد کم ہونے لگا۔۔
“آپ کچھ دن روز آئیں گی حرا اور گھر جا کر سونے کی کوشش کیجئے گا”
ازمیر نے زویا کو بلا کر اسے باھر لے جانے کا کہا اور دا جی کو اندر بھیجنے کا کہا
دا جی کے آنے پر ازمیر اپنی سیٹ سے اٹھا اور گرم جوشی سے گلے ملا
“بیٹا حرا بہتر ہو رہی تھی پورے دو ماہ بعد اس کی حالت بگڑی ہے آخر کیوں یہ ٹھیک نہیں ہوتی ۔۔ میں اسے ایسے نہیں دیکھ سکتا”
دا جی کی آنکھیں نم ہوئیں
“دادا جان اس کو خوش رکھنا اور مصروف رکھنا ہی اس کا علاج ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ڈپریشن کا شکار ہے “
“آپ بے فکر ہو جائیں یہ ٹھیک ہو جائے گی اسے آپ روز یہاں لائیے اسے کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے”
داجی نے اثبات میں سر ہلایا اور کافی دیر حرا کی باتیں کرنے کے بعد اجازت چاہی۔۔
»»»»»»»»»»»»»»»»»»»»›»
رات گہری ہو رہی تھی کھلی کھڑکی سے چاند کی روشنی سیدھی اندر آ رہی تھیں ، ازمیر نے سگریٹ سلگایا اور اپنے موبائل میں سیو حرا احمد کی تصویر دیکھنے لگا
“آہ ۔۔۔۔ محبت میری پہلی نظر کی محبت “
آج سے چھ سال پہلے جب ابھی ازمیر نے اپنا کلینک کھولنا تھا تو ابو نے دادا جان کے دوست حسن احمد المشہور دا جی سے ملنے کو کہا ، داجی نے کلینک تیار کروانے میں خاصی مدد کی تھی
ایک دن ازمیر داجی سے ملنے گیا ابھی اندر قدم ہی رکھا تو کوئی زور سے ان سے ٹکرایا ۔۔۔
غور کیا تو ٹکرانے والی ایک سترہ اٹھارہ سال کی بے حد خوبصورت لڑکی تھی ، دوپٹے سے بے نیاز جینز اور لانگ شرٹ پہنے ہنستی ھوئی لڑکی۔
ٹکرانے والی کے ھاتھ میں چھوٹا سا سانپ تھا جو اس نے سنبھلتے سنبھلتے ازمیر پر پھینک دیا
اور کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔
سانپ کا بچہ وہ بھی زندہ ۔۔۔
ازمیر کی چیخوں سے حسن ولا گونج اٹھا۔۔
ازمیر بد حواسی میں چیختا ہوا کئ فٹ پیچھے کو ہٹا تو کوریڈور میں پڑے ٹیبل سے پاؤں الجھ گیا اور گر گیا ،
لڑکی نے پھر سانپ کو دم سے پکڑا اور ازمیر کے اوپر پھینک دیا
ازمیر نے گھبرا کر سانپ کو پیچھے پھینکتے ہوئے باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔
پیچھے سے لڑکی چلا رہی تھی
“ارے مرد ہو کر ڈر گئے رکو ” ارے سنو تو “
اس نے مارے گھبراہٹ کے جلدی سے کار اسٹارٹ کی اور واپس آ گیا
بہت بری طرح وہ کنفیوژ ہوا تھا شاید زندگی میں پہلی بار ۔۔ اور وہ لڑکی حرا احمد اس کے حواسوں پر ایسی چھائی کہ آج تک نہیں بھولی۔۔۔
یہ یاد تازہ ہونے پر ازمیر بے ساختہ مسکرانے لگا اور سیگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑ کر پھر چاند کی طرف دیکھنے لگا۔۔
__________________
اس سے دوسری ملاقات داجی کے بڑے پوتے عفان کی شادی میں ہوئی
ٹی پنک اور گولڈن کنٹراسٹ لہنگے سجی سنوری سی حرا کسی گڑیا کی طرح لگ رہی تھی۔۔
ہنستی ،کھلکھلاتی ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی
ازمیر کو دیکھ کر حرا تیزی سے اس کے پاس آئی
“ارے آپ وہی ہیں نا جو سانپ سے ڈر کر بھاگے تھے”
حرا نے بہت بے تکلفی سے پوچھا تو ازمیر ایک بار پھر بوکھلا گیا اور پاس کھڑے لوگوں پر ایک خفیف سی نظر ڈالی اور ہلکا سا مسکرا دیا
کون سے سانپ سے؟؟ کب؟ دا جی نے تفصیل پوچھی
“ارے نانا ابو یاد نہیں دو ماہ پہلے جب میں آئی ہوئی تھی تو لان میں سانپ نکل آیا تھا جس سے میں نے سب کو ڈرایا تھا اور جب مامی ڈر کر بے ہوش ہو گئیں تھی پھر عفان بھائی نے مجھے تھپڑ بھی مارا اور میں تین دن روتی رہی تھی۔ یاد ہے نا”؟
“ھاھاھاھا”
اس کے بتانے کا انداز ایسا تھا کہ دا جی اور ازمیر نے قہقہہ لگایا اور حرا کے گھورنے پر اس نے منہ دوسری طرف کر کے ہنسی روکی۔
اس دن اسے پتا لگا کہ یہ دا جی کی اکلوتی بیٹی شگفتہ آنٹی کی بیٹی ہے اور یہ لوگ اسلام آباد میں رہتے ہیں تبھی یہ دوبارہ نظر نہیں آئی تھی۔
پھر بہت وقت گزر گیا حرا کبھی نظر نہیں آئی ازمیر اپنی جھجک کی وجہ سے کبھی کسی سے پوچھ نہ سکا۔
پھر دو سال بعد اس نے ابو کو امی سے کہتے سنا کہ حرا کا نکاح ہو گیا ہے لڑکے نے ہائر ایجوکیشن کیلئے ملک سے باہر جانا تھا تو ان کا نکاح کر دیا رخصتی کچھ سال بعد ہونی قرار پائی اسی لیے داجی لوگ اسلام آباد گئے ہیں ۔۔۔
وہ لمحہ بہت اذیت ناک تھا اسے یقین ہی نا آیا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟
جسے سوچا
جسے چاہا
جس کی لگن اس کے دل کو لگی تھی وہ اس کے نصیب میں ہی نہیں تھی
بہت عرصہ اس کے تصور سے باتیں کیں۔۔
پھر اس نے آہستہ آہستہ خود کو سنبھالا۔۔۔
وہ پہلے ہی کم گو تھا اور چپ ہو گیا
امی ابو شادی کا کہتے رہتے وہ بھی سوچتا تو ایک ہی چہرا آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔
وہ خود کو مصروف رکھنے لگا
اور اپنے کلینک پر ٹائم دینے لگا
پھر کوئی چار ماہ پہلے ابو نے بتایا کہ داجی کی نواسی حرا نے اپنی کلائی کاٹ لی تھی اور اب وہ اسے اپنے پاس لاھور لے آئے ہیں ، تم ذرا پتا لینا جا کر اپنی ماں کو بھی لے جانا۔۔
ازمیر جہاں بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا۔
حیرت ، پریشانی فکر اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہوا ۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا حرا تکلیف میں تھی اور اسے خبر ہی نہ ہوئی۔۔۔
امی کے ساتھ جب ان کے گھر پہنچا تو حرا کو دیکھ کر کئ لمحے تو اس کو یہ یقین کرنے میں لگ گئے کہ یہ حرا ہے؟
زندگی سے بھرپور، جسے دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔۔ جسے دیکھ کر جینے کو دل چاہتا تھا
اور اب
سپاٹ بے رنگ چہرہ اداس آنکھیں ، آنکھوں میں ویرانیاں جیسے کسی مردہ وجود کو دیکھ رھا ہو۔۔ اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی
»»»»»»»»»»»»»»»»
حرا کو دیکھتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر خواب آور ادویات پر نظر پڑھی تو ازمیر نے داجی سے پوچھا
داجی نے ڈاکٹر کی فائل دکھائی
“دا جی یہ ڈپریشن میں ہے دوائیوں کی بجائے اس کی کاؤنسلنگ کی جائے بس “
“یہ سب نشے کی طرح ہیں اس کے مریض عادی ہو جاتے ہیں”
ازمیر نے دا جی کو سمجھانا چاہا
“بیٹا ھم تو ھار گئے اسے سمجھا سمجھا کر اب تم اپنی قابلیت دکھاؤ تم کچھ کرو ، اس کا علاج کرو”
شگفتہ آنٹی نے بڑی امید سے ازمیر کو کہا
ازمیر نے حامی بھر لی۔۔۔
اگلے دن سے باقاعدہ اس کا ٹریٹمنٹ شروع کرنے کا سوچا۔۔۔
“حرا مجھے ڈاکٹر نہیں دوست سمجھیں
مجھے بتائیے کیا ہوا ہے
کیا محسوس کرتی ہیں آپ “
حرا سر جھکائے بیٹھی رہی۔۔۔ خاموش چپ چاپ
روز ازمیر آتا حرا سے باتیں کرتا ۔
روز کوشش کرتا کہ وہ اپنے خول سے نکلے ، دل ہلکا کرے
آخر چھٹے دن ازمیر دیر سے آیا تو اس نے محسوس کیا جیسے اس کے آنے کا حرا انتظار کر رہی ہے
وہ روز کی طرح نارمل باتیں کرنے لگا تو حرا بولی “آپ دیر سے کیوں آئے؟”
“کیونکہ میں کسی کو اچھا نہیں لگتا ۔۔ کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا اس لئیے سوچا نہ آیا کروں ازمیر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔
حرا ان چھ دنوں میں پہلی بار مسکرائی ۔۔
ازمیر نے ہلکی پھلکی باتیں کی اس نے ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی تھی سو اٹھ کھڑا ہوا
حرا کے چہرے پر بے چینی واضح تھی
آپ کل سے کلینک آیا کریں اس طرح میرے بہت سے کام رہ جاتے ہیں
“اوکے ” حرا نے مسکرا کر کہا
“یہ ہوئی نا بات” ازمیر نے خدا حافظ کہا اور چلا گیا
اگلے دن وہ اسے دھیرے دھیرے اسے سمجھاتا رھا
“جانے والے چلے جاتے ہیں ہم انہیں روک نہیں سکتے ہمیں جینا ہوتا ہے ، زندگی کو ٹکر دینی ہے ، ھم نے جی کر دکھانا ہوتا ہے ۔۔ جو چلا گیا اسے کبھی چاہت ہی نہ ہو گی تمہاری ،،، اس لیے موو آن “
“لیکن وہ تو کہتا تھا کہ حرا میری زندگی ہے میں سانس نہیں لے سکتا اس کے بغیر”
روز میرے لئیے پھول لاتا تھا
پاکستان سے جا کر بھی میرے ساتھ ہی تھا
دن میں بیس بیس دفعہ کالز کرنا”
پھر بدلتا گیا وہ کیوں بدلا؟؟
کیسے بھول جاؤں ؟
کیسے ےےےے؟
حرا پھر سے چٹخنے لگی
کیسے اس نے طلاق بھیجی کیسے؟
حرا سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔
ازمیر کو لگا جیسے ساری محنت رائگاں جا رہی ہے۔۔
وہ نئے سرے سے حرا ساتھ سر کھپاتا
بہت سے پیشنٹ اگنور ہو جاتے
پھر وقت کے ساتھ ساتھ
حرا اپنی بہت سی باتیں بتانے لگی۔۔۔
جاری ہے
