55.2K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

فنکشن ختم ہوتے ہی کھانا سرو کر دیا گیا تھا, سبھی مصروف ہو گئے, منسا فاطمہ کی گود میں بیٹھی تھی, ماہر سعدیہ کے دائیں طرف بیٹھا تھا, اسے ہر چیز مہیا کر کہ اس نے کولڈ ڈرنک میں سٹرا ڈالا اور دھیرے سے ہال کے پچھلے حصے میں نکل آئی, وہ حصہ ایک اوپن ریزوٹ کی طرح تھا, وہ دھرے سے سیڑھیوں پر بیٹھ کر گھونٹ بھرنے لگی
دسمبر کے اوائل دن تھے…اور چاند چودھویں کا… کالے کالے بادلوں کے ٹکڑوں نے جگہ جگہ سے چاندنی کی کرنوں کا راستہ روک رکھا تھا, ہواؤں کے جھونکے دل نشین سے تھے, وہ نہ جانے کب اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا
“مجھے پتہ ہے تم میرے پیچھے کھڑے ہو” وہ بوتل خالی کرتے ہوئے بولی, ملاحم دو قدم چل کر اس کے برابر میں بیٹھ گیا یوں کہ اس کا رخ ساریہ کی طرف تھا, وہ کچھ دیر اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا پھر ہاتھ بڑھا کر اس کی پونی کھینچ دی, یکدم اس کے بال ادھر ادھر بکھر کر ہوا کے ساتھ جھولنے لگے تھے
“ملاحم… وہ جھلا گئی, ملاحم نے مسکرا کر ربڑ بینڈ دور پھینک دیا
“پانچ سال پہلے میری ایسی حرکتوں پر تم جھینپ جایا کرتی تھیں… آج جھلا اٹھتی ہو ” وہ بولا
“کیونکہ پانچ سال پہلے میں تمہاری محبوبہ تھی… آج کچھ بھی نہیں ہوں” ساریہ نے کہا
“جانتی ہو… میرے پاس تمہاری یادوں کا جو انتہائی خوبصورت خزانہ ہے اس میں تمہارے ہوا کے دوش پر یوں اڑتے ہوئے سیاہ بال سر فہرست ہیں” ملاحم نے کہا
بس یہ ہی تو نقصان ہوتا ہے وقت گزر جانے کا… پانچ سال پہلے ملاحم کے یوں تعریف کرنے پر وہ خود کو کوئی شہزادی تصور کرنے لگتی تھی لیکن آج… وہ بس سر جھکا کر خاموش ہو گئی
آنکھیں سرشار نہیں ہوئیں
گال سرخ نہیں ہوۓ
لبوں پر کپکپاہٹ نہیں پھیلی
“ایک بات پوچھوں… ؟” وہ بولا, ساریہ نے اس کی طرف دیکھا
“فیصلہ کر لیا یا ابھی کرنا ہے ؟” اس نے پوچھا
“شاید کر لیا… ” ساریہ نے کہا
“پلٹنا چاہتی ہو… ؟” اس نے پھر پوچھا
“نہیں… ” وہ بولی
“آگے بڑھنا چاہتی ہو ؟” وہ پوچھتا گیا
“فی الحال وہ بھی نہیں”
“تو پھر فیصلہ کیا کیا ہے ؟” وہ بولا
“یہ ہی کہ اب ڈاکٹر سہام فرہاد کے ساتھ نہیں رہنا” اس نے کہا
“لیکن ساری عمر اس کے دو بچے پالتے ہوۓ اس کے نام پر بیٹھے رہنا ہے اور اپنی نظروں کے سامنے ڈاکٹر صاحب اور ان کی ہر دل عزیز بیوی کو خوش و خرم زندگی گزارتے دیکھتے رہنا ہے” وہ تلخ ہو گیا
“معاملہ اتنا آسان نہیں ہے ملاحم جتنا تم سمجھ رہے ہو, ابھی صرف چھ ماہ ہوۓ ہیں مجھے واپس آۓ اور ان چھ ماہ میں گھر کا کوئی فرد ایسا نہیں ہے جس نے مجھے سمجھانے کا فرض ادا نہ کیا ہو, قسم سے ہر تیسرے دن کسی نہ کسی فرد کے سامنے میری پیشی ہو جاتی ہے, وہ میری ساری سنتے ہیں… لیکن سمجھتے نہیں ہیں, پچھلے پانچ سالوں میں جو ہوا سو ہوا… آئیندہ نہیں ہو گا… بس یہ ہی درس ہے سب کا, سب مانتے ہیں کہ سہام نے غلط کیا… لیکن کوئی یہ نہیں مانتا کہ میں نے ٹھیک کیا, ان سب کے لئے سہام کا میرے سامنے بیٹھ کر بس اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ مجھے معاف کر دو… آئیندہ ایسا نہیں ہو گا” وہ کہتی چلی گئی, ملاحم چپ چاپ اس کی سنے جا رہا تھا
“پتہ ہے ملاحم… میں اپنے دو بچوں کے ساتھ تا عمر سہام کے نام پر اپنے باپ کے گھر بیٹھی رہوں… میرے اس فیصلے کو شاید وہ لوگ رو پیٹ کر قبول کر ہی لیں لیکن… سہام سے طلاق لینے کے فیصلے میں کوئی میرے ساتھ نہیں ہو گا ” ساریہ نے کہا
“میں تمہارے ساتھ ہوں ؟” ملاحم نے کہا
“تم کون ہو ؟ کیا لگتے ہو میرے ؟” ساریہ کے ایک دم پوچھ لینے پر وہ دم بخود رہ گیا
“بولو ملاحم… مراد احمد میرا باپ ہے, فاطمہ مراد میری ماں ہیں, سہام فرہاد میرا شوہر ہے… ماہر سہام میرا بیٹا ہے… تم بتاؤ… ؟ تم سے کیا رشتہ ہے میرا جو تم میرا ساتھ دو گے ؟” وہ کہتی چلی گئ, ملاحم کچھ دیر اس ے چہرے کی طرف دیکھتا رہا, پھر اٹھ کھڑا ہوا, کچھ فاصلے پر بنی گلابوں کی کیاری سے ایک گلاب کا پھول توڑا, پھونک مار کر صاف کیا اور اس کی طرف آیا, اس سے دو سیڑھیاں چھوڑ کر نیچے بیٹھا اور پھول اس کی طرف بڑھا دیا
“I want to marry with you…saria murad… Do you? “
ملاحم نے پورے حق سے کہا تھا, ساریہ دم بخود بیٹھی رہ گئی
“چلو اب بن گیا میرا اور تمہارا رشتہ… میں وہ شخص ہوں جو اپنی آگے کی پوری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہے, تمہیں اپنانا چاہتا ہے, تم سے محبت کرتا ہے… ملاحم سعد قدر دان ہے تمہارا… فریفتہ ہے تم پر, عاشق ہے تمہارا” وہ کہتا جا رہا تھا
“میں جانتا ہوں تمہیں فیصلہ لینے میں اتنی دقت کیوں ہو رہی ہے… ؟ کیونکہ فی الوقت تمہارے آگے صرف ایک ہی راستہ ہے… سہام سے علیحدگی…آج دوسرا راستہ میں دکھا رہا ہوں تمہیں… ملاحم سے شادی” وہ ہنوز گلاب ہتھیلی پر رکھ کر بیٹھا تھا
“اسے اٹھاؤ… اور پھر فیصلہ کرو” آخر کو تھا تو وہ بھی ایک مرد نا… اس نے بھی ساریہ مراد کو دوراہے پر کھڑا کر ہی دیا
“اگر آج تم نے اسے اٹھا لیا تو میں تمہارے ساتھ ہوں… چاہے جیسی بھی صورتحال کیوں نہ ہو, چاہے کوئی کچھ بھی کہے, چاہے کوئی تمہارا ساتھ نہ دے… میں دوں گا, میں اپنی آخری سانس تک تمہارے ساتھ ہوں لیکن… اگر نہیں اٹھاؤ گی تو واقعی… ملاحم سعد تمہارا کچھ نہیں لگتا…اس کا ہونا یا نہ ہونا تمہارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا” وہ کہتا جا رہا تھا
“تمہیں نہیں لگتا تم یہ پھول مجھے بہت جلدی دے رہے ہو” اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے , ملاحم نے دھیرے سے ہتھیلی اس کے سامنے سے ہٹائی اور وہ پھول اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا
“یاد رکھنا… یہ پھول میرے پاس ہی ہے, جب تم کہو گی… تمہیں دے دوں گا”
…………………………..
ساریہ اور سہام کی شادی کو دو ماہ ہونے کو آۓ تھے, ان دونوں کا رشتہ کافی حد تک پروان چڑھ گیا تھا, سہام کی ریزرویشن بھی ہو گئی تھی, اس نے کچھ دنوں تک آسٹریلیا چلے جانا تھا
اس دن بھی وہ اپنے اور سہام کے کپڑے استری کر رہی تھی جب سہام کی کال آئی
“کیا کر رہی ہو ؟” وہ کافی خوشگوار موڈ میں تھا
“کپڑے پریس… ” اس نے دھیرے سے کہا
“اچھا ایسا کرنا… رات کو نو بجے تک تیار رہنا, میرے بھی کپڑے ریڈی کر دینا, ڈنر کرنے چلیں گے ” ساریہ اس کی بات سن کر فوت ہوتے ہوتے بچی
“خیر ہے ؟” بیساختہ اس کے منہ سے نکل گیا
“کیوں ؟ میں تمہیں ڈنر پر نہیں لے جا سکتا ؟” سہام نے اچنبھے سے کہا
“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا” ساریہ نے کہا
“ریڈی رہنا…رات کا کھانا نا کھانا” وہ یاد دہانی کروا کر کال کٹ کر گیا, ساریہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل گئی تھی, بڑے دل سے اس نے اپنے اور سہام کے کپڑے استری کئے, پھر شاور لیا, شام تک ڈنر کی ہی تیاریوں میں لگی رہی
فیروزی رنگ کی شارٹ شرٹ کے ساتھ نیوی بلو پلازو پہنے اس نے ریشمی دوپٹہ کندھے پر سیٹ کیا تھا, پلک ہلکا میک اپ اور لائیٹ سی جیولری, بال یونہی کھلے چھوڑ دیئے تھے, نو بجے تک وہ بالکل تیار تھی, جوتا پہن کر اس نے ایک نظر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود پر ڈالی
“ساریہ مراد… آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے” اچانک ہی اس کی سماعتوں کے پردے پر وہ مانوس سی آواز گونج گئی, وہ دم بخود کھڑی رہ گئی, یاد تو آج بھی آتا تھا وہ… کبھی کبھی…. ذرا ذرا
سر جھٹک کر وہ صوفے پر بیٹھ گئی… اب بس انتظار کرنا تھا, دس بج گئے لیکن سہام نہ آیا… کال کی تو موبائل آف
وہ پریشان سی ہو گئی… ہادیہ دو دفعہ کھانے کا کہنے آئی لیکن اس نے انکار کر دیا, گیارہ بج گئے, اسے شدید بھوک لگ رہی تھی, بار بار سہام کا نمبر ملا کر وہ تھک گئی, موبائل بیڈ پر پھینکا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی, یونہی اسے نیند آ گئی,پونے بارہ کے قریب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا
ساریہ ایک دم ٹھٹھک کر نیند سے جاگی اور کھڑی ہو گئی, سہام اسے دیکھ کر ایک دم رکا
“شٹ… یار” اس نے زور سے اپنا بازو ماتھے سے لگایا تھا
“سوری یار… میرے بالکل ذہن سے نکل گیا کہ میں نے تمہیں ڈنر کا کہا ہے” وہ تھوڑی شرمندگی سے بولا, ساریہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی
“چلو اب کروا لاتا ہوں… ” وہ جلدی سے بولا
“رات کے بارہ بج رہے ہیں… ریسٹورنٹ بھی بند ہونے والے ہوں گے اب… رہنے دیں, کوئی بات نہیں ” ساریہ پھیکے سے دل سے صوفے پر بیٹھی اور جوتے اتارے
“ایم سوری یار… ” سہام کو افسوس ہوا تھا, ساریہ نے چپ چاپ جیولری اتاری, میک اپ صاف کیا اور بال سمیٹے
“آپ چینج کر لیں… کپڑے واش روم میں ہیں” اس نے اپنے لحجے کو عام سا ہی رکھا, سہام چپ کر گیا, موبائل ڈیڈ ہوا پڑا تھا, ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے وہ واش روم میں گھس گیا
باہر نکلا تو وہ کمرے میں نہیں تھی, کچھ دیر اس کے واپس کمرے میں آنے کا انتظار کر کہ وہ نیچے اتر آیا, کچن سے آوازیں آ رہی تھیں
“کیا کرنے لگی ہوں ؟” وہ دروازے میں کھڑا ہو کر بولا
“کھانا گرم کر رہی ہوں…” ساریہ نے کہا
“تم نے کچھ بھی نہیں کھایا… ؟” سہام کو ایک بار پھر افسوس ہوا
“آپ نے کہا تھا کھانا نا کھانا… میں نے نہیں کھایا” وہ چاولوں پر رائتہ اور سلاد رکھ کر وہیں کھانے بیٹھ گئی, اس دوران سہام مسلسل اسے صفائیاں ہی دیتا رہا
“سہام… کوئی بات نہیں” اس نے مختصراً کہا تھا
“چاۓ بھی بناؤ گی ؟ اس نے پوچھا, ساریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“میں بھی پیوں گا” وہ کہہ کر اوپر چلا آیا, کچھ دیر بعد وہ دو کپ لیکر اندر داخل ہوئی, وہ موبائل لیکر آڑا ترچھا سا بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا
“چاۓ… ” ساریہ نے اس کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنا کپ اٹھا کر ٹیرس نکل آئی
چند پورا تھا… آسمان صاف تھا… ستارے بھرے پڑے تھے… دور دور تک شہر کی روشنیاں نظر آ رہی تھیں, وہ کرسی کھینچ کر ریلنگ کے ساتھ بیٹھ کر سپ لینے لگی
دل ایک دم بجھ سا گیا تھا
“کیا ساری عمر یونہی ہو گا ؟”
“کیا سہام ہمیشہ مجھے بھول جایا کرے گا؟”
چاۓ ختم ہوئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی, دونوں بازو ریلنگ پر رکھ کر چہرہ ٹکایا اور آنکھیں بند کر لیں
“تم کب آۓ… ؟” وہی آواز
“تم نے آنکھیں کیوں کھولیں ؟” اس نے ایک دم آنکھیں کھول دیں اور اس سے پہلے کہ ریلنگ سے دور ہٹتی, سہام عین اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا, اس کے دونوں بازوؤں نے ساریہ کی کمر کے گرد گھیرا ڈالا تھا اور اپنا آپ ساریہ کی پشت سے لگا کر اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ دیا
“ناراض ہو ؟” وہ پوچھ رہا تھا, چلو اتنا تو خیال تھا اسے
“نہیں… ” اس نے دھیرے سے کہا
“پھر چاۓ میرے ساتھ بیٹھ کر کیوں نہیں پی ؟” سہام کے لب دھیرے دھیرے اس کی گردن پر رینگنے لگے, ساریہ نے آنکھیں بند کی تھیں
“گھٹن ہونے لگتی ہے کمرے میں… ” وہ سرگوشی میں بولی تھی, سہام کے لبوں نے دھیرے سے اس کے کان کی لو کو چھوا اور اس کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کرتے کرتے اسے ایک دم اوپر اٹھا لیا, ساریہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا
“آج تھوڑی سی محبت بھی ہے میرے پاس… ” وہ اسے یونہی اٹھاۓ اندر لے آیا
“بس تھوڑی سی… ” ساریہ کے لبوں سے شکوہ نکل گیا, سہام نے لائیٹ آف کر کہ اسے خود میں سمیٹا تھا
“تھوڑی تھوڑی کر کہ پوری کر دوں گا… پرامس”
……………………………
وہ اپنے کمرے میں تھی جب وہ اندر داخل ہوا, منسا اس کے پاس ہی بیٹھی کھیل میں لگی ہوئی تھی, ماہر سو گیا تھا
“کیسی ہو ساریہ… ؟” وہ اسے دیکھتا ہوا اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھ گیا
“ٹھیک ہوں ” وہ تھوڑی سمٹ سی گئی
“ساریہ… ” سہام نے اسے پکارا
“معاف کر دو… ” اس نے کہا
“کر دیا… “
“تو پھر واپس آ جاؤ… ” وہ بولا
“نہیں آ سکتی… ” وہ بولی
“کیوں ؟” سہام نے کہا
“کیونکہ میرا دل نہیں کرتا… مجھے اس گھر میں واپس جانے کا سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے” وہ بولی
“تو پھر… بس یہیں بیٹھی رہو گی” سہام نے کہا
“میرے یہاں بیٹھنے سے آپ کو کوئی مسئلہ ہے سہام ؟” اس نے پوچھا
“نہیں لیکن… ” ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“تو پھر ہر چوتھے دن مجھ سے ایک ہی مطالبہ کرنے کیوں آ جاتے ہیں آپ ؟” ساریہ کی آواز ذرا اونچی ہو گئی
“مجھے امی نے کہا تھا کہ… ” ساریہ نے پھر اس کی بات کاٹ دی
“یہ ہی تو بات ہے سہام… ان چھ ماہ میں آپ خود سے کتنی بار آۓ ہیں میرے پاس… صرف ایک بار, جب آپ کی جاب اور گھر مینیج نہیں ہو رہے تھے تب… اس کے بعد جب جب آپ میرے پاس آۓ ہیں, کسی نا کسی کے کہنے پر ہی آۓ ہیں, سہام میرے بغیر بھی لائف مینیج ہو گئی ہے نا آپ کی… اور شائد بہت اچھے سے ہو گئی ہے, مجھے پتہ ہے آج اگر تایا ابو اور تائی امی کا دباؤ نہ ہو تو آپ کو شاید یہ بھی یاد نہ ہو کہ میں یہاں آئی کیوں ہوں” ساریہ نے کہا, سہام خاموش ہو گیا
یہ سچ تھا… اسے بس شروع میں پریشانی ہوئی تھی, گھر ڈسٹرب ہو گیا تھا, ہاسپٹل مینیج نہیں ہو رہا تھا, مروہ کو سنبھالنا ایک ایشو تھا…. لیکن جیسے جیسے اس کے مسائل حل ہوتے گئے, اسے ساریہ والا معاملہ بھی غیر اہم لگنے لگا… یہ سچ تھا کہ وہ پہلی دفعہ کے بعد جتنی دفعہ بھی اس کے پاس آیا تھا… ماں اور باپ کے کہنے پر ہی آیا تھا
“ساریہ… ایک بات پوچھوں ؟” کچھ دیر بعد وہ بولا, ساریہ اس کے منہ کی طرف دیکھنے لگی
“تم ملاحم کے کہنے پر ناراض ہو کر یہاں آئی ہو یا… وہ تمہارے بلانے پر لاہور آیا ہے ؟” سہام نے کہا, ساریہ اس کی بات سن کر ششدر رہ گئی, مارے دکھ کے کئی لمحے تو وہ بول نہ سکی, آنکھیں لبا لب بھر گئیں
“سہام… آپ میرے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں”
……………………..
پرسوں سہام کی فلائیٹ تھی… تمام انتظامات ہو چکے تھے, اس نے چھ ماہ کے لئے آسٹریلیا جانا تھا
اس دن بھی وہ اپنے سارے ضروری ڈاکیومنٹس اکٹھے کر رہا تھا جب ساریہ واش روم سے باہر نکلی, چہرہ پسینوں پسین ہو رہا تھا…
“کیا ہوا ؟” سہام نے پوچھا
“دل متلا گیا… قے آئی ہے” وہ نڈھال سی بستر پر گر گئی
“معدے کا مسئلہ بن گیا ہو گا… دو چمچ Dijex پی لو” وہ سرسری سے انداز سے بولا لیکن ساریہ کو پتہ تھا کہ یہ معدے کا مسئلہ نہیں تھا, چند لمحے وہ یونہی بستر پر لیٹی رہی پھر اٹھ کر سہام کے قریب آ گئی
“سہام… آپ کچھ دن مزید رک جائیں ” وہ بولی
“کیوں ؟ ” وہ حیرانی سے بولا
“ویسے ہی…مجھے ان دنوں ضرورت ہے آپ کی, ایک, دو ماہ تک چلے جائیے گا” ساریہ نے کہا
“ساریہ یہ نا ممکن ہے… پتہ ہے کتنا نقصان ہو گا میرا, ویزے کے سارے پیسے مجھے اپنی جیب سے دینے پڑیں گے, فائن الگ سے ہو گا… اور ہوا کیا ہے تمہیں ؟” وہ جھنجھلا گیا, ساریہ نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پیٹ پر رکھا
“we are going to have a baby… And I need you”
وہ بھرائی پئی آواز میں بولی
“ساریہ… یار یہ کیا کیا تم نے… ؟ اتنی جلدی” سہام سرد سے لحجے میں بولا, ساریہ ٹکر ٹکر اس کے منہ کو دیکھنے لگی
“یہ میں نے کیا ہے سہام… ؟” وہ رو ہی پڑی
“ساریہ… ادھر بیٹھو”سہام نے اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“یہ بہت جلدی ہے, میں بالکل بھی تیار نہیں ہوں ابھی بچے کی ذمہ داری کے لئے… ابھی سپیشلائزیشن میں دو سال لگ جانے ہیں… دو سال تو رک سکتے تھے نا ہم ؟” وہ بولا
“تو آپ رک جاتے سہام… ” وہ بولی
“ابھی کونسا زیادہ وقت ہوا ہے… ہم اگر ابارشن… ” ساریہ نے ایک دم تڑپ کر اس کی بات کاٹ دی
“آج اگر میری جگہ انشرہ ہوتی تو آپ اسے بھی یہ ہی کہتے ؟” وہ بولی
“کیا بکواس ہے یہ ؟” سہام کو غصہ آ گیا
“سہام… آپ شوق سے آسٹریلیا جائیں, ریلیکس ہو کر اپنی سپیشلائزیشن کریں, جتنا وقت لینا ہے لے لیں… خدا نے اسے میرے وجود میں ڈالا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی میں خود ہی اٹھا لوں گی” ساریہ نے اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسو رگڑے اور باہر نکل گئی
نیچے آئی تو ایک اور قیامت منتظر… طاہرہ بیگم آئی ہوئی تھیں
“ساریہ بچے کیا حال ہے تیرا ؟ خوب عیش کر رہی ہے شادی کروا کہ” وہ اور ان کی زبان… ساریہ کچھ نہ بولی
“کب جا رہا ہے سہام ؟” انہوں نے پوچھا
“پرسوں… چھ ماہ بعد آۓ گا” سمعیہ نے تو بالکل ہی کان لپیٹ لئے تھے, فاطمہ ہی ان کی سن رہی تھیں
“اچھا اچھا… ” انہوں نے کرید کرید کر ساری معلومات لیں اور واپس آ گئیں
“یہ تو الٹا مجھے ہی مات ہو گئی… ” وہ آ کر صوفے پر بیٹھ گئیں
“وہ دونوں بہنیں تو ابھی بھی ایک ہیں… بھائی بھی ان کے ساتھ… بری تو میں بن گئی, اگر کل کلاں کو ساریہ کے کوئی بچہ ہو گیا تو کھیل تو ختم سمجھو” وہ سوچے جا رہی تھیں
“طاہرہ چال ٹھیک طرح نہیں چلی تو… انشرہ کی شادی ہو جانے دیتی, پھر کھیل تیرے قابو میں آتا… پھر پھوٹ دلواتی… ارے… پھوٹ تو ابھی بھی ڈل سکتی ہے” وہ مسلسل منصوبہ بنا رہی تھیں, شام تک انہوں نے اپنا پلان تیار کر لیا
رات آٹھ بجے انہوں نے ایاز صاحب کو کال کی تھی
“انشرہ کو واپس بھیج دیں”
………………….
جاری ہے