Qasam Se Yara Main Tumhara by Ayesha Zulfiqar readelle50026

Qasam Se Yara Main Tumhara by Ayesha Zulfiqar readelle50026 Last updated: 24 June 2025

55.2K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasam Se Yara Main Tumhara by Ayesha Zulfiqar

یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جس نے ہمیشہ اپنا حق دوسروں کی خاطر چھوڑ دیا۔ ہمیشہ رشتوں کو معتبر رکھنے کے لئے سر جھکا دیا، ہمیشہ دوسروں کا مان اونچا کیا لیکن۔۔۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس کا صبر اور ہمت دونوں جواب دے گئیں۔ زندگی صرف دوسروں کی خاطر جینے کے لئے نہیں ہے۔ اس میں آپ کا اپنا حصہ بھی ہے۔ *****

ساریہ، دروازہ کھولو، باہر نکلو۔۔ سہام کی غصے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کے حواس جھنجھوڑے تھے، وہ ایک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتری، مسلسل روتی ہوئی منسا کو گود میں اٹھایا

اور دروازے کی طرف بڑھی، پورا بدن بخار میں پھنک رہا تھا، دو تین قدم اٹھاتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا دھڑام سے فرش پر گری قالین کی وجہ سے تھوڑی بچت ہو گئی تھی۔

منسا کا باجا اور اونچا ہو گیا۔ بمشکل اس نے دروازہ کھولا۔

ساریہ یہ کوئی ٹائم ہے اٹھنے کا، پتہ بھی ہے تمہیں کہ میں نے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے،

نہ کپڑے استری کئے ہوئے ہیں نہ ناشتا بنایا ہے۔ سہام ایک دم اس پر برس پڑا۔

ساریہ نے دھیرے سے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا۔ ماہر بھی ریں ریں کرتا ہوا

اس کی ٹانگوں سے آ کر چپک گیا تھا۔

ساریہ یار پکڑو اسے، پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اسے، اس کا پیمپر بھی چینج کروا دینا اور فیڈر بھی دے دینا،

کمرہ بھی سمیٹ دینا پلیز۔ انشرہ نے انتہائی کوفت سے بلکتی ہوئی مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا۔

میرے اوور آل دھونے والے ہیں ساریہ اور کپڑے بھی وہ دھو دینا اور میرے ڈاکیومنٹس والا کیبن بھی صاف کر دینا، اسے کھولوں تو ایک دم الٹی کر دیتا ہے دس دن ہو گئے ہیں تمہیں کہتے ہوئے۔

سہام نے اس کی طرف دیکھے بغیر ایک نیا حکم صادر کیا تھا۔

بلکہ مشین ہی لگا لینا ساریہ، بچوں کے بھی گندے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے،

کچن بھی دیکھ لینا، رات کے برتن بھی یونہی پڑے ہیں پانی بھی آنے والا ہو گا مروہ کو نہلانا بھی ہے

آج شام میں اسے انجکشن لگوانے جانا ہے۔ انشرہ جلدی جلدی اوور آل پہن رہی تھی۔

جلدی اٹھا کرو ساریہ، تمہیں پتہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ڈیوٹی پہ جانا ہوتا ہے،

صبح ذرا جلدی اٹھ کہ کام نمٹا لیا کرو اس کے بعد پورا دن سونا ہی ہوتا ہے

تم نے، تھوڑی سی ذمہ داری پکڑ لو یار۔ دو بچوں کی ماں بن گئی ہو انشرہ کا تو تمہیں پتہ ہی ہے

سارا دن ہسپتال ہوتی ہے مروہ بھی تمہاری ذمہ داری ہی ہے، دیکھو ذرا ایک نظر پورا گھر کوڑے کا ڈھیر بنایا ہوا ہے

تم نے، خدا جانے تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو؟ سہام اس کی ساری اگلی پچھلی محنت اکارت کر رہا تھا۔

ساریہ نے ایک نظر اسے دیکھا یعنی وہ شادی کے پانچ سال بعد بھی غیر ذمہ دار ہی تھی۔

صبح سے لیکر شام تک اس کے تین بچے، اس کا گھر، اس کا کھانا پینا، پہننا۔