Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan (Complete)

Nikah e Taqdeer
By sadz Hassan

حیا سٹیج پہ دلہن بنی بارات کا انتظار کر رہی تھی اگلے ہی لمحے اس کے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کی پوری زندگی کے رخ کو موڑ دیا جب وہ اپنی آنکھوں میں خواب سجائے اپنے ہونے والے شوہر کی راہ میں آنکھیں سجائی بیٹھی تھی لیکن ابھی تک بارات نہ آئی تھی حیا کے والدین بہت پریشان ہو رہے تھے کیونکہ بارات کا وقت ہو چکا تھا سارے مہمان اکٹھے ہو چکے تھے یہاں تک کہ نکاح خوان بھی آ چکا تھا ابھی تک برات کا کوئی نام و نشان نہ تھا جب حیا کی ماں بہت پریشان ہونے لگی تو اس نے حیا کے والد سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے نوید کے گھر والوں کو کال کی پہلے تو ان لوگوں نے کال نہ اٹھائی لیکن جیسے کال اٹھائی تو کئی طرح کے بہانے کرنے لگے یہاں تک کہ ان کے لفظوں سے یوں اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ جیسے وہ برات لانے سے انکار کر رہے ہوں حیا سٹیج پر بیٹھی گم سم اپنی والدین کو دیکھ رہی تھی جب اس نے اپنی ماں کی حالت دیکھی تو وہ اتر کر آئی اور اپنی ماں سے کہنے لگی اماں جان کیا ہوا ہے آپ اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہیں مجھے لگتا ہے نوید ابھی تیار ہو رہا ہوگا آپ کو پتہ ہے کہ وہ بہت سست ہے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ لوگ جلد ہی آجائیں گے حیا نے یہ سب کچھ اپنی ماں سے بہت معصومیت سے کہا تھا وہ دولہن ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو حوصلے میں رکھے ہوئے تھی اور اپنی ماں کو تسلیاں دے رہی تھی حیا کی ماں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ بیٹا تم اندر جاؤ جب بارات آئے گی تو ہم تمہیں دوبارہ لے آئیں گے جیسے یہ حیا نے اپنی ماں کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو وہ پریشان ہو گئی نہ چاہتے ہوئے وہ دوبارہ کمرے میں گئی اور بارات کا انتظار کرنے لگی یہاں پورے حال میں گہما گہمی ہو گئی کہ بارات نہیں آرہی جیسے ہی حیا کے ماں یہ سب کچھ دیکھا تو اس کی حالت خراب ہونے لگی کیونکہ حیا ان کی اکلوتی بیٹی تھی ان کی اور کوئی اولاد نہ تھی اور اگر آج حیا کے ساتھ کچھ بھی غلط ہو جاتا تو شاید حیا کی ماں زندہ نہ رہ پاتی بس اسی لیے اچانک سے جب دولہے والوں نے بارات لانے سے انکار کر دیا تو وہ پریشانی کے عالم میں بے ہوش ہو گئی دوسری طرف سے حیا کا مامو سلیم جو اس سے بے انتہا محبت کرتا تھا اور اپنی بیٹی سمجھتا تھا جب اس نے اپنی بہن کی یہ حالت دیکھی تو اس سے رہا نہ گیا وہ اپنی بہن کو کسی بھی پریشانی میں نہ دیکھ سکتا تھا بس اسی وقت اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے حیا کی زندگی نے ایک نیا رخ لیا اس کی زندگی تمام چیزیں بدل چکی تھی جس شخص کے لیے وہ تیار ہو کر بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں پہ جس کے نام کی مہندی لگوائی تھی وہ شخص اس کی قسمت میں نہ لکھا تھا نوید نے اس کو بہت بڑا دھوکہ دے دیا تھا شاید پوری زندگی حیا کو اس چیز کی سزا ملنے والی تھی حیا کے مامو نے اپنے بیٹے علی کو بلایا علی امریکہ سے یہاں پر حیا کی شادی پر آیا تھا علی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اس کو کسی چیز کی کمی نہ تھی امریکہ میں وہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گیا ہوا تھا پورے خاندان میں علی کا بہت زیادہ روب تھا اس کی ہر بات کو حرف اخر سمجھا جاتا تھا اس کے والدین اس پر جان نثار کرتے تھے کوئی بھی بات آج تک علی کے مشورے کے بغیر نہ ہوئی تھی لیکن آج علی کے والد نے اس سے پوچھے بغیر اس کی ساری زندگی کا فیصلہ کر لیا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ علی نے کبھی بھی اپنی بیوی حیا کو بیوی کا درجہ نہ دیا جب حیا کی بارات نہ آئی تو حیا کے مامو سلیم نے یعنی علی کے والد نے علی کو ایک سائیڈ پر بلایا اور کہا کہ آج میں تم سے ایک ایسی شے مانگنے والا ہوں جو تمہیں ہر صورت میں مجھے دینی ہوگی میں انکار کسی بھی صورت میں نہیں سنوں گا اس کو میرا حکم سمجھو جا یا پھر جو بھی سمجھو مجھے انکار کسی بھی صورت میں نہیں چاہیے جب علی کے والد نے اسے یہ سب کچھ کہا تو وہ حیران ہو کر اپنے والد کو معصومیت سے دیکھنے لگا اس کے ذہن میں اس بارے میں خیال بھی نہیں آ رہا تھا کہ اس کے والد اس سے کیا کہنا چاہتے ہیں تب علی نے کہا کہ ابا جان اب مجھ پر حکم کریں بتائیں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں آج تک اپ نے مجھ سے اس طرح سے کوئی بات نہیں کی تو پھر آپ آج کیوں مجھ سے اجازت لے رہے ہیں تب علی کے والد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں تم میری بھانجی حیا سے نکاح کر لو تاکہ میری بہن کو سکون مل جائے اور ان لوگوں کی عزت بھی بچ جائے جو کام ان لوگوں کے ساتھ نوید نے کیا ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے اگر آج ہے کہ رخصتی نہ ہوئی تو میری بہن ٹوٹ کر بکھر جائے گی میں اس کا بھائی ہوں اور کسی بھی صورت اپنی بہن کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا میں چاہتا ہوں کہ تم ابھی اسی وقت میری بھانجی کے ساتھ نکاح کر لو جیسے ہی علی نے اپنے والد کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو وہ وہیں جم کر رہ گیا اس کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے الفاظ ختم ہو چکے ہیں خاموشی کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا لیکن اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی وہ اپنے والد کو حقیقت بتانا چاہتا تھا لیکن اب اس کے پاس والد کے ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا وہ چاہتا تھا کہ اپنے والد کو اپنی محبوبہ کے بارے میں بتائے جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا ہے لیکن وہ کچھ نہ کر سکا شدید غصے میں تھا کیونکہ یہ سب کچھ حیا کی وجہ سے ہو رہا تھا علی اس سب کا ذمہ دار حیا کو سمجھتا تھا لیکن حیا نے کچھ بھی نہ کیا تھا اس کے برعکس جب حیا کی والدہ نے اس کو علی کے ساتھ ہونے والے نکاح کی خبر دی تو وہ چونک گئی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں نم ہو گئی اس کی ماں اس کو یہ خبر دے کر چلی گئی لیکن حیا وہیں کی وہیں رہ گئی وہ سوچنے لگی کہ میں علی کے ساتھ اپنی ساری زندگی کیسے گزاروں گی میں تو اس کو اپنا بڑا بھائی سمجھتی تھی وہ شخص جو پورے خاندان پر رعب جھاڑتا ہے اور کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ایسے انسان کے ساتھ تو میں اپنا وقت کیسے گزاروں گی نہ جانے علی میرے ساتھ کیا کرے گا کہ میں جانتی ہوں کہ یہ شادی زبردستی ہو رہی ہے علی امریکہ سے آیا ہے اور وہاں کا ماحول بھی میں اچھی طرح جانتی ہوں وہ کبھی بھی مجھے قبول نہیں کرے گا میرے والدین نے یہ سب کچھ کیوں مانا حالانکہ علی کو چاہے وہ انکار کر دے میں ایک عام سی لڑکی ہوں اور وہ امریکہ سے پڑھا ہوا لڑکا ہے نہ جانے اس کے وہاں پر کتنی دوستیں ہوں گی اور کن کن لڑکیوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہوں گے تو پھر وہ مجھ سے شادی کیسے کر سکتا ہے حیا دلہن بنی یہی سب کچھ سوچ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ علی بہت سخت مزاج ہے شادی سے پہلے بھی وہ حیا پر پردہ کرنے کے پابندی کرتا رہتا تھا اور کئی قسم کی پابندیاں لگاتا تھا ابھی حیا یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ اچانک نکاح خواں آگیا اور اس نے پوچھا کہ حیا احمد بنت احمد منظور کیا آپ کو ایک لاکھ حق مہر میں علی سلیم بنت سلیم فاروق سے نکاح قبول ہے حیا بالکل خاموش تھی مولوی صاحب نے دوسری بار جب یہی پوچھا کیا تو ہے کہ حیا کی ماں آگے بڑھ کر کہنے لگی کہ بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ سب کچھ تمہارے مامو نے ہی کیا ہے آج علی نے ہماری عزت کو خاک میں ملنے سے بچا لیا ہے جلدی تم ہاں بول دو تاکہ یہ سب کچھ بہت جلدی ہو جائے حیا بہت مجبور ہو چکی تھی ہاں کرنے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا اپنے والدین کو جب اس نے پریشانی کے عالم میں دیکھا تو اس نے فورا ہاں بول دی اس طرح ان دونوں کا نکاح ہو گیا حیا نے نکاح تو قبول کر لیا تھا لیکن وہ ایک گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی اور وہ یہ سوچ رہی تھی کہ نہ جانے میرے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے کیا علی مجھے سچے دل سے قبول کرے گا یا پھر مجھے عبرت کا نشانہ بنا دے گا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ علی کبھی بھی ان چیزوں کی قدر نہیں کرتا جو اس پر زبردستی مسلط کی گئی ہوں علی کی نظر میں زبردستی کی چیزوں کی اہمیت نہ ہوتی تھی اور زبردستی کے رشتوں کی ذرا قدر نہ ہوتی تھی اور میں بھی اب علی کی زندگی میں زبردستی شامل کی گئی تھی شاید اس حادثے نے مامو جان کو ہم پر ترس کھانے پر مجبور کر دیا ورنہ میں کئی عرصہ سے ان کی نظر میں تھی وہ چاہتے تو میرا رشتہ مانگ سکتے تھے اور اپنے بیٹے سے میرا نکاح کر سکتے تھے آج تک انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی میں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے مجھے اپنی بیٹی کہہ کر بلاتے تھے اور اماں جان کی بھی بہت قدر کرتے تھے لیکن آج تک انہوں نے مجھے بہو بنانے کے بارے میں کبھی بھی کوئی بات نہ کی تھی کیونکہ علی امریکہ میں پڑھتا تھا اور یقینا وہ وہاں پر جس ماحول میں ہے کسی کو پسند ضرور کرتا ہوگا شاید اسی لیے میرے مامو اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن آج وقت اور ماحول نے ان کو مجبور کر دیا تھا اور رخصتی کا وقت آگیا رخصتی کے وقت مجھے بہت رونا آیا کیونکہ میں ڈر چکی تھی علی کے خوف اور رب نے میرے دل کے اندر کئی وہم پیدا کر دیے تھے رخصت ہوتے وقت اماں جان بہت خوش تھے شاید ان کی یہی خواہش تھی کہ میری شادی ان کے بھائی کے گھر ہو کر جائے اور ان کے رشتے کو اور مضبوطی مل جائے لیکن میں یہ سوچتی تھی کہ شاید میرا اور علی کا رشتہ ہو جانے کے بعد اماں جان اور مامو جان کے رشتے میں مزید کمزوریاں آ جائیں گی کیونکہ علی کبھی بھی مجھے قبول نہیں کرے گا میری ماں اس وجہ سے پریشان ہوگی اور شاید پھر مامو جان سے بھی خفا ہو جائے خیر رخصتی کا وقت بہت مختصر ہوتا ہے مامی جان نے حیا کی چلنے میں مدد کی اسے سہارا دیا اور وہ جا کر گاڑی میں بیٹھی علی اور وہ ایک ہی گاڑی میں تھے علی کا منہ دوسری طرف تھا اور اس نے اپنا منہ سیدھا رکھا ہوا تھا علی نے ایک بار بھی حیا طرف دیکھنے کی کوشش نہ کی حیا نے کئی بار اس کو دیکھنا چاہا سوچا کہ وہ اسے دیکھے گا لیکن پھر ہمت نہ ہوئی کچھ ہی لمحہ بعد گھر آگیا وہ فورا کار سے اترا اور اپنے کمرے میں چلا گیا نہ تو اس نے حیا کے لیے کار کا دروازہ کھولا اور نہ ہی کار سے اترنے میں مدد کی مامی جان جب دوسری کار سے اتر کر آئی تو انہوں نے اسے چلنے میں مدد دی اور حیا ساتھ میرے کمرے تک آئی یہاں پر کوئی رسم نہ ہوئی مامی حیا کو سیدھا علی کے روم میں لے کر گئی اور وہاں پر بٹھا دیا تھوڑی دیر بعد نوکرانی کھانا لے کر آئی اور اسے کھانا دے کر وہ چلی گئی جب وہ علی کے کمرے میں بیٹھی تھی اس کے بیڈ پر اس کا انتظار کر رہی تھی تب علی نہانے کے لیے گیا ہوا تھا لیکن وہ بہت ڈر چکی تھی حیا کی حالت اس وقت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اس کو یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ اپنے ہوش و حواس کھو رہی ہے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ علی کے سامنے کچھ بھی بول نہیں پائے گی اور خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی اتنے میں علی کمرے میں آگی
علی نے جیسے ہی حیا کو اپنے بیڈ پر دیکھا تو شدید غصہ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ کیا اب تم یہیں پر بیٹھی رہو گی جن حالات میں ہماری شادی ہوئی ہے کیا تم سب کچھ بھول چکی ہو تم کیا سوچ رہی ہو کہ میں آؤں گا تمہارا گھونگھٹ اٹھاؤں گا تمہاری تعریف کروں گا تمہیں منہ دکھائی دوں گا اور تمہارے ساتھ اپنی نئی زندگی کا آغاز کروں گا میں ایسا کا ہرگز نہیں کرنے والا تو میری خوشیوں کی دشمن ہو تم نے میرے سارے پلان پر پانی پھیرا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ابھی اسی وقت میری نظروں سے دور ہو جاؤ اور یہ کپڑے تبدیل کرو علی نے چیختے ہوئے یہ سب کچھ اپنی بیوی حیا سے کہا تھا جو بالکل اس کے سامنے معصوم بن کر بیٹھی تھی اس کا صرف اتنا گناہ تھا کہ اس کی بارات عین وقت پر نہ آئی تھی لیکن اس سب سے علی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اس کو یوں لگتا تھا کہ جیسے حیا سے شادی ہو جانے کے بعد اس کی زندگی برباد ہو گئی ہے اور حیا اس کی خوشیوں کے قاتل ہے حیا سہمی ہوئی یہ سب کچھ خاموشی سے سن رہی تھی تب علی نے غصے سے دوبارہ کہا کہ میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں کیا تمہیں سمجھ نہیں آرہی یہاں سے اٹھو مجھے نیند آ رہی ہے اور میرے سر میں شدید درد رہا ہے الماری میں سے دوسرا کمبل نکال کر صوفے پر سو جانا اور صبح سویرے اٹھتے ہی اس کمرے سے چلی جانا کیونکہ میں صبح صبح تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا آج نہ جانے یہ سب کچھ میرے ساتھ کیا ہو گیا میں کبھی بھی اپنے والدین کو معاف نہیں کروں گا جنہوں نے زبردستی تمہیں مجھ پر مسلط کیا ہے جب حیا نے علی کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی وہ جلدی سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ علی دوبارہ اس سے کوئی بات نہ کرے اور اس پر غصہ نہ کرے ابھی وہ ٹھیک تھی کہ اس کا پاؤں مڑا اور وہ نیچے گر گئی وہ نیچے گری تو علی نے ایک بار بھی اس کو نہ دیکھا اور نہ ہی اس کو اٹھانے میں اپنا ہاتھ آگے بڑھایا وہ خود بخود اٹھی اور اپنے کپڑے تبدیل کیے اس کے بعد علی نے کمرے کا بلب بند کر دیا خود سکون کی نیند سو گیا لیکن حیا ساری رات صوفے پر بیٹھی روتی رہی اور سوچتی رہی کہ یہ اس کی زندگی میں کیا ہو گیا ہے وہ بہت زیادہ پریشان تھی اپنے والدین کی خاطر اس نے علی سے شادی کر تو لی تھی لیکن اب اس کی زندگی عذاب بننے والی تھی اپنی ہر بات منوانے والا تھا اس کو ضد کی عادت تھی اس کے برعکس حیا بہت معصوم تھی وہ تو علی کی آواز سے ہی ڈر جاتی تھی علی خود تو اے سی کو چلا کر سو گیا تھا لیکن حیا بہت تکلیف میں تھی جب حیا نے دیکھا کہ علی کے جسم سے کمبل اتر چکا ہے اور اس کو سردی محسوس ہو رہی ہے تو اٹھی تاکہ علی کے اوپر کمبل ڈال سکے جیسے ہی قریب گئی تو علی اٹھ گیا اور فورا اس سے خفا ہونے لگا اور کہنے لگا کہ تم نے میرے قریب آنے کی کوشش کیوں کی تمہیں کئی بار سمجھا چکا ہوں کہ مجھ سے دور رہو لیکن لگتا ہے تمہیں بات ایسے ہی سمجھ نہیں آئے گی اسی وقت علی حیا کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر نکال دیا حیا اس سے کہتی رہی کہ میں صرف آپ کے اوپر کمبل ڈالنے کی نیت سے آگے بڑھی تھی لیکن علی نے اس کے بعد پر کہاں یقین کرنا تھا اس کو کمرے سے نکال دیا باقی رات جو آدھی بچ چکی تھی حیا نے کمرے سے باہر گزاری صبح ہوئی تو وہ دروازے کے ساتھ نیند کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی جب اس کے مامو کا گزر وہاں سے ہوا تو وہ حیا کو دیکھتے ہی چونک گیا وہ جان چکا تھا کہ شاید حیا ساری رات باہر گزار چکی ہے اور علی نے اس کو کمرے سے باہر نکال دیا ہوگا اس کو شدید غصہ آیا اس نے حیا سے تو کچھ نہ کہا فورا کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا علی نے آکر دروازہ کھولا اور کہنے لگا کہ تم سے صبر نہیں ہو رہا لیکن جیسے اس نے دروازہ کھولا تو حیا اور اس کا مامو علی کو سامنے نظر آیا علی نے جب اپنے والد کو دیکھا تو چونک گیا وہ جان چکا تھا کہ اس کے والد کو سب کچھ پتہ چل گیا ہے اور حیا ہی اپنے مامو کو بلا کر آئی ہے اسی طرح علی کے والد نے اس کی بہت ساری بےعزتی کی اور کہا کہ یہ سب کچھ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا اور حیا اندر آ کر بیٹھ گئی جیسے ہی حیا کا مامو گیا تو علی پھر حیا سے غصہ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ تم نے میرے باپ کو جا کر سب کچھ بتا دیا ہے
تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم نے میرے والد سے میری شکایت کی اب تم سب کی نظروں میں مجھے گرانا چاہتی ہو تم چاہتی ہو کہ میں سب کی نظروں میں گھٹیا بن جاؤں آخر تمہارا مقصد کیا تھا تم مجھ سے کیا چاہتے ہو حیا نے جب علی کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو وہ رونے لگی اور کہنے لگی کہ میں نے مامو جان سے کچھ نہیں کہا تھا ان کا گزر ہمارے کمرے سے سامنے ہوا تو میں نیند کے عالم میں وہیں پر بیٹھی تھی انہوں نے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو مجھ سے بغیر پوچھے ہی انہوں نے آپ کو جگا دیا اور سب کچھ کہہ دیا حالانکہ میں نے ان سے آپ کی کوئی شکایت نہیں کی تھی علی نے حیات سے کہا کہ مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں ہے میں کیسے مان لوں کہ تم نے یہ شکایت نہیں کی اگر دوبارہ تم نے کسی کو بھی ہماری پرسنل لائف میں انٹرفیر کرنے کی اجازت دی یا ہمارے حالات زندگی کے بارے میں کسی کو بتایا تو میں اسی وقت تمہیں آزاد کر دوں گا پھر کیا تمہاری ماں کو کچھ بھی ہو جائے یا پھر تمہارے ابا جو بھی کر لیں میں کسی کے بارے میں نہیں سوچوں گا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری وجہ سے کتنی اذیت میں ہوں اور کتنی دکھوں کو برداشت کر رہا حیا کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ علی سے کہے کہ اس وقت نکاح کے لیے ہاں کیوں کی تھی اس وقت انکار کر دیتے تو آج ان تمام پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں لیکن اس میں ہمت نہ تھی جیسے ہی علی اس کے سامنے آتا تھا اور کوئی بھی بات کرتا تھا تو حیا کے پاس تمام الفاظ ختم ہو جاتے تھے وہ کچھ بھی کہہ نہ سکتی تھی خاموش ہو کر اس کی ہر جائز اور ناجائز بات سن لیتی تھی اسی طرح کئی دن گزر گئے لیکن علی کا رویہ اب تک حیا کے ساتھ ٹھیک نہ ہوا تھا وہ ہر بات پہ حیا کو ذلیل اور رسوا کرنے کی کوشش کرتا اور کہتا کہ تم میری خوشیوں کی قاتل ہو ایک دن جب حیا اپنی زندگی سے اور علی کی باتوں سے تنگ آ گئی تو وہ علی کے سامنے چیخ اٹھی اور کہنے لگی کہ آخر میں نے ایسا بھی کیا کر دیا ہے کہ آپ ہر وقت مجھے اپنی خوشیوں کا قاتل سمجھتے ہیں مجھے تو بتائیں ایسی کون سی خوشیاں ہیں جو میں نے آپ کی چھین لی ہیں اس وقت کیوں میرے والدین پر ترس کھایا تھا جبکہ اب آپ کو مجھ پر ترس نہیں آرہا کیا آپ کو میں مجبور نظر نہیں آتی کیا آپ مجھ پر زبردستی مسلط نہیں کیے گئے جس طرح آپ کی شادی مجھ سے بغیر پوچھے کی گئی ہے اسی طرح میری بھی شادی آپ کی کے ساتھ بغیر پوچھے ہی کے کہیں لیکن میں نے اج تک کبھی بھی آپ سے کچھ نہیں کہا میں نے یہ تک نہیں کہا کہ آپ مجھے میرا حق دیں یا کچھ بھی ایسا جس سے آپ کو تکلیف ہو میں خود کو تکلیف میں رکھتی ہوں آپ کی باتیں برداشت کرتی ہوں لیکن اس سب کے باوجود بھی آپ مجھ سے راضی نہیں ہو رہے آخر آپ چاہتے ہیں کیا ہیں میں اب تنگ آچکی ہوں مزید آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گی اگر آپ کو میرے ساتھ رہنے میں اتنا ہی مسئلہ ہے تو اپنی والدین سے کہہ دے مجھے آزاد کر دے اور اس بات کو اپنے دماغ میں رکھے گا کہ آپ بھی مجھ پر زبردستی مسلط کیے گئے ہیں حیا نے آج پہلی بار غصے میں آ کر چیخ کے یہ سب کچھ علی کو کہا تھا علی اس کے پاس سن کر حیران رہ چکا تھا یہ حیا کی صرف بات نہ تھی بلکہ اس کے جذبات اور اس کے دل کی کیفیت تھی جو آج اس نے غصے میں آکر علی سے کہہ دی تھی علی اس کی بات سنی اور اس کی سمجھ میں آیا کہ واقعی حیا کے ساتھ بھی زبردستی کی گئی ہے تو پھر یہ اس رویے کے حقدار نہیں جو کچھ میں اس کے ساتھ کرتا ہوں اس کو احساس تو ہو چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے آپ کو نیچا نہ ہونے دیا خود کو ہارتا نہ دیکھ سکتا تھا اسی لیے اس نے حیا سے کہا کہ میں تمہیں ہر وقت اپنی خوشیوں کو قاتل اسی وجہ سے کہتا ہوں کیونکہ میرا ایک ایسا راز ہے جو میرے گھر میں سے کوئی نہیں جانتا تم بھی نہیں جانتے اگر وہ راز اب میں اپنی والدین کو بتا دوں تو شاید بہت بڑی قیامت آ جائے گی جیسا کہ تم جانتی ہو کہ میں امریکہ میں کئی سالوں سے پڑھ رہا ہوں اور ابھی میرا ایک سال اور بھی رہتا ہے یہاں پر چھٹیوں میں آیا تھا تمہاری شادی کے لیے لیکن کیا قسمت ہے کہ تم مصیبت میرے گلے پڑ گئی میں وہاں پر ایک امریکہ کی لڑکی کو پسند کرنے لگا تھا وہ بہت خوبصورت ہے وہ آج تک میرے دل و دماغ سے نہیں اتری میں آج تک اس سے رابطے میں ہوں اس سے شادی کا وعدہ کرنے کے لیے آیا تھا لیکن خدا کی قدرت یہ ہے کہ میری شادی یہاں پر ہو گئی وہ میرا انتظار کر رہی ہے میری راہ دیکھ رہی ہے مجھ سے بے انتہا محبت کرتی ہے یہاں تک کہ اظہار محبت بھی سب سے پہلے اسی نے ہی مجھ سے کیا تھا مجھے تو بعد میں احساس ہوا تھا کہ میں بھی اس کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں ہم وہاں پر ایک ساتھ پڑھتے تھے وہ میری کلاس فیلو ہے اس کا نام دیلان ہے لیکن اب میں مجبور ہو چکا ہوں جب اس کو میری حقیقت معلوم ہوگی تو وہ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرے گی کیونکہ وہاں پر یہ سب کچھ کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اگر اس کو ایک بار بھی میری شادی کا علم ہو گیا تو وہ کبھی بھی مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گی یہاں تک کہ وہ مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گی حیا اب تم بتاؤ اس سب کا ذمہ دار کون ہے میں اب کیا کروں جب علی نے نرم لہجے میں یہ سب کچھ حیا سے کہا تو حیا کی آنکھیں نم ہو چکی تھی اب وہ جان چکی تھی کہ واقعی علی کے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہو چکا ہے لیکن وہ بھی مجبور تھی وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ زندگی نے اس کے ساتھ بھی دھوکہ کر دیا تھا جب یہ دونوں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے تو تب حیا پہلے صوفے پر بیٹھے تھے جب علی نے اپنی درد بھری کہانی اس کو سنانا شروع کی تو وہ اٹھ کر علی کے ساتھ بیڈ آ بیٹھی علی کو ذرا بھی برا نہ لگا تھا اب آہستہ آہستہ سے دونوں میں دوستی ہوتی جا رہی تھی لیکن علی نے آج تک اس کو قبول نہ کیا تھا وہ اس کو بیوی کا درجہ نہیں دینا چاہتا تھا وہ سوچتا تھا کہ وہ زندگی کے کسی بھی حصے میں حیا کو آزاد کر دے گا کیونکہ حیا بھی اپنی خوشیوں کی حقدار ہیں وہ اپنی مرضی سے زندگی جیے اور اپنے پسندیدہ ہم سفر کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ حصے کو گزارے لیکن اب حیا کے دل میں علی کے لیے تھوڑی سی جگہ پیدا ہو چکی تھی جہاں وہ علی سے ہر وقت نفرت کرتی رہتی تھی اب وہ علی کے بارے میں تھوڑا تھوڑا سا سوچنے لگی لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کبھی بھی علی اس کو اپنانے والا نہیں ہے کیونکہ علی کا ہی بار اس سے باتوں باتوں میں یہ ذکر کر چکا تھا کہ ہم دونوں ایک نہیں ہو سکتے اکثر وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر علی کی چیزوں کو دیکھتی رہتی تھی اور اس کے قریب جانے کے بارے میں سوچتی رہتی تھی لیکن یہ سب کچھ ممکن نہ تھا کیونکہ علی کسی اور کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا اور وہ ہر روز اپنی اور دیلان کی محبت کی کہانی حیا کو سناتا تھا حیا اس کی کہانی خوش ہو کر سنتی تھی اس کو ہمت دیتی تھی اور کہتی تھی کہ تمہیں تمہاری محبت ضرور ملے گی لیکن اندر سے وہ ٹوٹ چکی ہوتی تھی علی کے الفاظ پر دیلان کا نام سنتے ہی وہ لرز اٹھتی تھی کیونکہ کوئی بھی عورت اپنے شوہر کے منہ سے دوسری عورت کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتی لیکن حیا تو اپنے شوہر کے منہ سے دوسری عورت کے لیے محبت بھری الفاظ سنتی تھی اور اس کو حاصل کرنے کے بارے میں بھی اکثر سنتی رہتی تھی لیکن آج تک اس نے علی سے کچھ بھی نہ کہا تھا علی کا رویہ تبدیل تو ہو چکا تھا لیکن ابھی تک ان دونوں کے درمیان کوئی ایسا تعلق نہ تھا جو ایک عام شادی شدہ جوڑے کے درمیان ہوتا ہے اب ان دونوں کی شادی کو کئی عرصہ ہو چکا تھا لیکن تو ابھی تک اولاد ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی چانس نظر آرہا تھا جب حیا کی ماں کو اس بارے میں تھوڑا سا شک ہوا تو وہ روز حیا سے سوال کرنے لگی اور پوچھتی تھی کہ کیا علی تمہارے ساتھ ٹھیک ہے اس کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے شروع میں تو حیا ٹال مٹول کر دیتی تھی اور کہہ دیتی تھی اماں جان آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں بہت خوش ہوں لیکن ایک دن جب حیا کی ماں صبح سویرے حیا کو لینے کے لیے آئی اور وہ حیا کے کمرے میں بغیر اجازت کے ہی چلی آئی تو اس نے ان دونوں کے کمرے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس کو دیکھ کر اس کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی کیونکہ علی بیڈ پر سو رہا تھا اور حیا صوفے پر سو رہی تھی حیا کی ماں کو پہلے ہی شک تھا اور اب اس کا شک یقین میں بدل چکا تھا فورا اس نے حیا کو اٹھایا اور کہا کہ اب سے تم اس گھر میں نہیں رہو گے تم میرے ساتھ چل رہی ہو مجھے ان لوگوں کی ضرورت نہیں جو میری بیٹیوں کو خوشیاں نہیں دے سکتے اگر علی کو شادی نہیں کرنی تھی تو یہ پہلے ہی بتا دیتا میری بیٹی کی زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی میں دو دن رو لیتی یا پھر مجھے کچھ ہو جاتا لیکن میری بیٹی کی زندگی تو برباد نہ ہوتی میری بیٹی نے ہمارے کہنے پر علی کو قبول کر لیا ہے لیکن علی نے آج تک اس کو بیوی کا درجہ ہی نہیں دیا میں خوش تھی کہ میری بیٹی اپنے مامو کے گھر میں ہے اس کے سائے تلے بہت خوشیوں کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی تھی لیکن یہ سب کچھ جھوٹ ہے حیا تو میرے ساتھ چلو اب بہت ہو چکا میں نے بہت ان لوگوں کا لحاظ کر لیا اور ان کو برداشت کر لیا اب میں مزید تمہاری زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی حیا کی ماں یہ سب کچھ کہتے ہی اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئی یہاں تک کہ اب علی کے والدین کو بھی یہ سب کچھ پتہ چل چکا تھا وہ دونوں علی سے بہت خفا ہوئے اور ناراض ہوتے رہے کہتے رہے کہ ہمیں تم سے اس سب کی امید نہ تھی حیا اپنی ماں کے ساتھ چلی گئی کیونکہ حقیقت وہی تھی جس کا علم سب کو ہو چکا تھا اب ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا بھی ضروری نہ تھا اسی طرح دن گزرتے گئے حیا اپنے والدین کے گھر میں رہتی تھی لیکن ہر وقت وہ علی کے بارے میں سوچتی رہتی تھی وہ سوچتی تھی کہ میں اگر علی سے جدا ہو گئی تو اپنی باقی ساری زندگی کیسے گزاروں گی علی تو بے شک اپنی زندگی میں دیلان کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا خوشگوار زندگی گزار دے گا لیکن میرا کیا بنے گا ایک طلاق یافتہ عورت کی جو عزت اس معاشرے میں ہوتی ہے اس سے میں اچھی طرح واقف ہوں مجھے تو کوئی اپنائے گا بھی نہیں اور ہر کوئی مجھ سے یہی سوال کرے گا کہ آخر تمہارے کزن نے تمہیں کیوں چھوڑا تھا شاید تم میں ہی کوئی عیب ہوگا پہلے تو شادی والے دن تمہاری بارات نہ آئی اور پھر تمہارے اپنے مامو کے بیٹے نے ہی تمہیں شادی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دے دی میری تو زندگی یہیں برباد ہو جائے گی اکثر ہے اکیلے بیٹھ کر یہی سوچتی رہتی تھی اور روتی رہتی تھی اس کے والدین اس کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہوتے جا رہے تھے لیکن وہ اپنی بیٹی کے لیے کچھ بھی نہ کر سکتے تھے حیا دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی اس کے والدین اب یہی چاہتے تھے کہ وہ جلد از جلد علی سے اس کو آزادی دلوا کر اسے ایک نئی زندگی میں دھکیل دیں گے لیکن حیا یہ سب کے لیے کبھی تیار ہونے والی نہ تھی وہ پہلے ہی ان لوگوں کی خاطر علی کی زندگی میں زبردستی مسلط ہو چکی تھی اب کسی اور کی زندگی میں جا کر اپنا تماشہ نہیں بنا سکتی تھی اسی لیے جب ایک دن حیا کی ماں نے اس سے کہا کہ حیا بیٹا میں چاہتی ہوں کہ تم ہمارے ساتھ عدالت چلو اور جلد از جلد علی پر خلا کا کیس درج کرواؤ کیونکہ ہم مزید تمہیں اس انسان کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کریں گے اس نے تمہیں بہت تکلیف میں رکھا ہے تمہارے چاند سے چہرے پر گرہن لگا دیا ہے اور تم اس کے ساتھ کبھی بھی خوش نہیں رہ پاؤ گے ہم تمہارے والدین ہیں تم ہماری اکلوتی بیٹی ہو ہم چاہتے ہیں کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں تو تمہارا بستا گھر دیکھ کر جائیں تمہیں خوشیوں کے حوالے کر کے جائیں لیکن ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے اب ہم اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتے ہیں اس کے لیے تمہارا ساتھ ضروری ہے جیسے حیا کے والدین کے نے یہ سب کچھ کہا تو حیا چیخ اٹھی آج اس نے اپنی خاموشی کو توڑ دیا اور کہنے لگی کہ اماں جان آخر آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں کیا آپ مجھے زندہ رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی پہلے آپ لوگوں نے میرا رشتہ نوید کے ساتھ کیا آپ نے مجھ سے کہا کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اس کے خاندان والے بہت اچھے ہیں میں اس کے ساتھ بہت خوش رہوں گی اور وہ شادی کے دن عین وقت پر بارات لے کر نہ آیا پھر اپ نے اسی وقت مجھ سے کہا کہ میں علی سے نکاح کر لوں میں نے آپ کی رضا مندی میں خود کو ڈھال دیا اور علی کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے راضی ہو گئی پھر اس کے بعد کیا ہوا آج تک مجھے ایک پل کی خوشی نہیں ملی اور اب آپ یہ چاہ رہی ہیں کہ مجھ سے طلاق لے لوں اپنی سفید چادر پر ایک ایسا داغ لگوا دوں جو کبھی اتر بھی نہ پائے اور پھر نہ جانے اس کے بعد مجھے کوئی قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا آپ کی سمجھ میں اخر کیوں نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ آپ چاہ رہی ہیں یہ میری زندگی ہے اس کو مزید تماشہ مت بنائیں کیونکہ میں دوبارہ کسی کے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی آپ لوگ مجھے معاف کر دیں میری زندگی جیسے چل رہی ہے اس کو چلنے دیں مزید کوئی تبدیلی مت کریں آپ لوگوں کے ہر فیصلے پر میں نے سر جھکایا اور اس کو قبول کیا لیکن اب مزید میں یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتی اب میری برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے حیا نے جب روتے ہوئے یہ سب کچھ اپنی ماں سے کہا تو اس کی ماں کانپ اٹھی آج اس نے اپنی بیٹی کا درد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا جن تکلیفوں اور پریشانیوں سے حیا گزر رہی تھی اس کی ماں کو اندازہ ہو چکا تھا وہ فورا اٹھی اور حیا کے گلے ملی اور کہنے لگی کہ بیٹا مجھے معاف کر دو اس وقت مجھے تم سے مشورہ کرنا چاہیے تھا بلکہ وہ سب کچھ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا جو میں نے کیا تھا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا علی تمہیں قبول نہیں کر رہا اور میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں دیکھ سکتی میں تمہاری ماں ہوں میری حالت کو سمجھنے کی کوشش کرو لیکن آج کے بعد میں تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گی تم جو چاہے کرو تمہاری اپنی زندگی ہے اور اس کے بعد اب تمہارا ہی فیصلہ ہوگا جو تم چاہو گی ہم وہی کرنے کے لیے پابند ہوں گے یہ سب کہتے ہی حیا کی ماں چلی گئی شدید روئی کیونکہ آج اس نے اپنی ماں سے پہلی بار اس رویے میں بات کی تھی یہ اس کی زندگی کا بہت بڑا امتحان تھا جب اس نے اپنی ماں کے سامنے اپنے دل کو کھول کے رکھ دیا اسی طرح دل گزرتے گئے حیا کے مامو کئی بار اس کو لینے کے لیے آئے لیکن حیا نہ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ ان لوگوں کے ساتھ چلی گئی تو دوبارہ اس کو انہی مشکلات سے گزرنا ہوگا علی کا وہی رویہ برداشت کرنا ہوگا جس سے اس کو مزید تکلیف ہوتی تھی بس اسی طرح کئی دن گزر گئے ایک دن حیا اپنے معمول کے مطابق گھر پر موجود تھی کہ اچانک اس کا مامو اور مامی جان گھر پر آگئے حیا نے جب ان دونوں کو دیکھا تو ان کی آنکھیں شرمندگی سے جھک گئی بے شک ان کے بیٹے نے حیا کے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا لیکن ان کو اس بارے میں کوئی اندازہ نہ تھا وہ آج تک شرمندہ تھے اور ہر وقت علی کو سمجھاتے تھے آتے تھے علی کے دماغ سے دیلان تھی جو ابھی تک نہ اتر رہی تھی لیکن انہوں نے حیا کا ساتھ نہ چھوڑا چاہے حیا کی ماں نے کتنی بار یہ ان کی بےعزتی کی تھی اور اپنے گھر آنے سے بھی روکا تھا لیکن پھر بھی حیا کا مامو حیا سے ملنے کے لیے آ جاتا تھا وہ لوگ حیا کو کئی بار بتا چکے تھے کہ ہم تمہیں ہی اپنی بہو مانتے ہو جس دن تمہارا نکاح ہمارے بیٹے علی سے ہو گیا تھا تمہاری عزت ہماری نظر میں اور بھی بڑھ گئی تھی تم ہماری بہو بننے کے لائق ہو اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ علی سے تمہیں تمہارا حق دلوا کر رہے جب حیا کے مامو اور مامی اس سے یہ سب کچھ کہتے تھے تو حیا کی آنکھیں نم ہو جاتی تھی اور وہ ہر دفعہ ان سے یہی بات کہتی تھی کہ مامو جان رشتے زبردستی کے نہیں ہوتے آپ لوگ جتنا چاہیں میرا گھر بسانے کی کوشش کر لیں لیکن جب تک علی مجھے اپنانے کے لیے راضی نہیں ہوگا آپ لوگ کچھ بھی نہیں کر سکتے اور آپ لوگوں کی محنت ایسے ہی رائیگاں جائے گی اس کے بعد حیا کے مامو نے اس کے سر پر تھکتے ہوئے کہا کہ کیا ہم تمہیں ایسا ہی چھوڑ دیں اپنی عزت کو ہم ایسے ہی تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں بس اسی لیے وہ ہر روز یا پھر کچھ دنوں بعد حیا کے گھر حیا سے ملنے کے لیے آ جاتے تھے انہوں نے آج تک حیا کو وہی اہمیت دی تھی جس کی حیا حقدار تھی اور آج آپ حیا کے مامو اور مامی دوبارہ سے صبح سویرے ہی حیا کے گھر آئے تو ان کو دیکھ کر یہی سب کچھ سوچنے لگ گئی کیونکہ حیا جان چکی تھی کہ یہ لوگ اس کو دلاسا دینے کے لیے اور حوصلہ بڑھانے کے لیے آتے ہیں جب حیا نے ان لوگوں کو دیکھا تو اس کو مزید علی کی یاد آنے لگ گئی اب وہ بھی جاتی تھی کہ وہ اس گھر میں واپس جائے تاکہ علی کو وہ جی بھر کے دیکھ تو سکے لیکن پھر جب علی کے حالات اور واقعات دیکھتے اس کا رویہ دیکھتی تو پھر میں اپنے آپ کو روک لیتی تھی کیونکہ میں مزید آپنے اپ کو تکلیف میں نہ دیکھ سکتی تھی اور نہ ہی میں یہ چاہتی تھی کہ میں پہلی بار کی طرح اس بار بھی علی کے سر پر مسلط ہو جاؤں میں چاہتی تھی کہ علی کے ساتھ رہوں خوشگوار زندگی گزاروں اس کے ساتھ اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز کروں لیکن اس سب میں علی کا ساتھ دینا لازمی تھا جب تک وہ مجھے قبول نہ کرتا یہ سب کچھ ممکن نہیں ہو سکتا تھا میں تو اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہو چکی تھی جن حالات کی طرف میری زندگی جا رہی تھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ جیسے میں ساری زندگی تنہا رہنے والی ہوں مامو اور مامی آئے میرے ساتھ بیٹھے ہیں مجھ سے باتیں کی اور اس تھوڑی دیر بعد چلے گئے اب تو کافی دن ہو گئے تھے لیکن ابھی تک نہ مامو آئے تھے اور نہ ہی مامی جان کی کوئی خبر تھی اور علی کے بارے میں تو مجھے کئی عرصے سے کوئی خبر نہ تھی نہ جانے وہ کس حال میں تھا اس کو میری یاد آتی تھی یا پھر میں ہی اس کی یاد میں مری جا رہی تھی اکثر ہے یا یہی باتیں سوچتی رہتی تھی ایک دن جب حیا نے علی کے متعلق ایسی بات سنی جس کو سنتے ہی وہ پتھر ہو گئی اور اس کی آنکھیں نم ہو گئی ہے اپنی معمول کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے تھے اب اس کی زندگی بہت بے مقصد اور الجھی ہوئی تھی ایک دن اس کو اس کے مامو جان نے بتایا کہ علی آج شام کو ہی امریکہ واپس جا رہا ہے اس کی چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں اور وہ پھر ایک سال بعد واپس آئے گا اگر تم چاہو تو اس سے مل سکتی ہو اور ہاں اگر تم چاہتی ہو کہ وہ تمہیں آزاد کر کے جائے تو ہم اس کے آگے ہاتھ پھیلا کر تمہاری آزادی بھی مانگ سکتے ہیں ہم نے خود اس سے کہا ہے کہ وہ تمہیں آزاد کرتے لیکن اس نے ہماری اس بات کو سنا تو سہی لیکن خاموش ہو گیا ہمیں لگتا ہے جیسے وہ تمہیں بچھڑنا نہیں چاہتا کیا تم اس کا ایک سال کے لیے انتظار کر سکتی ہو اس کے لوٹ آنے کا تمہیں یقین ہے تو پھر تم اس کے انتظار میں بیٹھ جاؤ ورنہ ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ وہاں جا کر اسی لڑکی سے شادی کر لے گا جس کے بارے میں وہ تمہیں کہانیاں بتایا کرتا تھا جب حیا کے مامو نے اپنے بیٹے علی کے بارے میں یہ خبر دی کہ وہ امریکہ جا رہا ہے تو حیا ٹوٹ کر بکھر گئی اس کو لگتا تھا کہ شاید علی ایک نہ ایک دن اس کو منانے کے لیے آجائے گا اور اس کے گھر بس جائے گا لیکن ایسا کچھ بھی ممکن نہ ہوا کیونکہ علی تو اب ایک سال کے لیے امریکہ واپس جا رہا تھا لیکن حیا کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے علی ہمیشہ کے لیے اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں وہ خاموش رہی اپنے کمرے میں آگئی خوب روئی اس نے سوچا کہ شاید یہ آخری رونا ہے جو وہ اپنے شوہر کے غم میں رو رہی ہے اس کے بعد اس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ علی کے پاس واپس چلی جائے اور آخری بار اس سے مل لے لیکن اس کے بعد اس نے سوچا کہ اگر علی کو اس کا خیال نہیں تو وہ اس کا خیال کیوں کرے بس یہی سوچ کر وہ آرام سے گھر میں بیٹھ گئی

تھی تو وہ بہت پریشان لیکن اپنے آپ کو حوصلے میں رکھا اچھا تھوڑی دیر بعد ان کے گھر کا دروازہ بچا حیا کی ماں دروازے پر گئی جیسے اس نے دروازہ کھولا تو وہ حیران ہو گئی کیونکہ ان کے دروازے پر اور کوئی نہیں بلکہ علی کھڑا تھا جو شاید حیا کو واپس لینے کے لیے آیا تھا یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں اسے یوں لگا کے جیسے اس کی بیٹی کی خوشیاں واپس ملنے والی ہیں وہ جلدی سے علی کو اندر لے آئی علی نے کہا کہ آپ حیا کو کچھ نہ بتائیے میں خود ہی اس کے کمرے میں چلا جاؤں گا علی بغیر بتائے حیا کے کمرے میں گیا تو حیا ایک کونے میں بیٹھی رو رہی تھی جیسے ہی علی کو دیکھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے یا پھر علی کے بارے میں زیادہ سوچنے کی وجہ سے اس کو یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے علی اس کے پاس آ چکا ہے اس نے جب غور سے دیکھا اور یہ دیکھا علی اس کے قریب آرہا ہے تو اس کو یقین ہوا کہ واقعی وہ علی ہے علی نے پہلے ہی ہوئی اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور معافی مانگی کہا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے میں نے اس سب کا الزام تم پر دیا تم نہیں جانتی کہ تم جب سے میرا گھر چھوڑ کر آئی ہو وہ گھر سنسان ہو گیا ہے میں دن رات تمہارے بارے میں سوچتا رہتا ہوں میری حالت بہت عجیب و غریب ہو گئی ہے اب میں تمہیں ہمیشہ کے لیے لینے آیا ہوں تو میرے ساتھ چلو میں دیلان کو اپنی زندگی سے نکال چکا ہوں اگر تم چاہو تو مجھے قبول کر لو کیونکہ میں تمہیں سچے دل سے قبول کرنے والا ہوں اور دیلان کو میں نے سب کچھ بتا دیا ہے کہ میں نے اپنی کزن سے شادی کر لی ہے اور میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں اس کے بعد آج تک میرا اس سے رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے میں تمہارے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہوں خوش رہنا چاہتا ہوں اور ماضی میں کیے گئے تمام گناہوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو دکھ میری وجہ سے تمہیں ملے جو دن تمہارے میری وجہ سے بد سکونی میں گزرے میں ان کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور آگے کی زندگی تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں جب علی نے بہت نرم اور محبت بھرے لہجے میں حیا سے یہ سب کچھ کہا تو حیا کی آنکھیں نم ہو گئی شاید اس کی دعائیں قبول ہو چکی تھی وہ یہی چاہتی تھی جو کچھ ہو رہا تھا لیکن اس کو سمجھ یہ نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ علی کو اپنا لے یا پھر انکار کر دے انکار کرنے کا تو کوئی جواز ہی نہ تھا ابھی وہ یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ علی نے اپنی جیب میں سے ایک کاغذ نکال کر حیا کو دیا اور کہا کہ میں تمہارے لیے تحفہ لے کر آیا ہوں میرے ساتھ تو میں اس تحفے کو بھی قبول کرنا ہوگا حالانکہ حیا نے ابی اسے کوئی جواب نہ دیا تھا جیسے ہی اس نے وہ کاغذ کھول کر دیکھا تو اس کاغذ میں حیا کی امریکہ کی ٹکٹ تھی پھر علی نے بتایا کہ نہ صرف میں نے اپنی ٹکٹ کروائی تھی بلکہ تمہاری بھی ٹکٹ ساتھ میں کروا لی تھی میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں اور وہاں کی دنیا دکھانا چاہتا ہوں ہم دونوں وہیں پر ایک سال گزاریں گے اور پھر واپس یہیں پر آ جائیں گے تم میرے ساتھ رہو گی تو میری زندگی سنور جائے گی اور ہم دونوں خوش رہیں گے امریکہ جا کر ہم دونوں اپنی زندگی کا نئے سرے سے آغاز کریں گے حیا خدارا مجھ پر رحم کرو مجھے معاف کر دو مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا جب ہے یعنی یہ سب کچھ علی کے منہ سے سنا تو وہ پگھل گئی اس کو یقین ہو گیا کہ اب واقعی علی کو میرا احساس ہو چکا ہے جتنا کہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوں وہ بھی اتنی ہی اس سے محبت کرتا ہے اس نے فورا علی کو معاف کر دیا اپنے والدین کو بتایا اس کی ماں اپنی بیٹی کو دوبارہ خوشیاں دینا چاہتی تھی اور وہ سب کچھ اب حیا کو مل چکا تھا جب اس ساری حقیقت کے بارے میں حیا کے مامو اور مامی کو علم ہوا تو وہ لوگ بہت خوش ہوئے سب سے پہلے علی حیا کو اپنے گھر لے کر گیا اور ساری حقیقت بتا دی آج حیا کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پہلی بار وہ اس گھر میں رخصت ہو کر آئی ہو یہ گھر اس کو بہت خوبصورت لگا کیونکہ یہ اس کے خوابوں کا گھر تھا اس کے بعد وہ دونوں امریکہ کے لیے چلے گئے وہاں پر ان دونوں نے جا کے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ہو گیا اب علی اس کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتا تھا جب کبھی کبھار وہ علی کے اس رویے کو یاد کرتی تھی جو رویہ وہ شادی کے شروع میں رکھتا تھا تو وہ لرز جاتی تھی وہ ہر وقت خدا کا شکر ادا کرتی تھی کیونکہ علی اب حیا سے بے انتہا محبت کرتا تھا اس کو دیکھے بنا ایک پل بھی نہ گزارتا تھا وہ اکثر حیا سے یہی کہتا رہتا تھا کہ اگر مجھے ایک اور نئی زندگی ملی تو میں اس میں بھی تمہارا انتخاب کروں گا اور تمہارے ساتھ رہنا پسند کروں گا لیکن میں اپنی کیے پر بہت زیادہ شرمندہ ہوں کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ وہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا اب مجھے احساس ہو چکا ہے شاید تم نے جو صبر کیا تمہیں اس کا صلہ خدا تعالی نے دے دیا ہے حیا جب اپنے شوہر علی کے منہ سے یہ الفاظ سنتی تو مزید خوش ہو جاتی تھی اور پھولوں میں نہ سماتی تھی وہ ایک خوبصورت زندگی کا آغاز کر چکے تھے کہ اچانک ان کو حیا کے والد کے انتقال کا علم ہوا ہے حیا اس وقت بہت ٹوٹ کر بکھر گئی کیونکہ وہ اپنے باپ کا آخری چہرہ بھی نہ دیکھ سکتی تھی بہت روئی لیکن علی نے اس کو سنبھال لیا تھا اس کا حوصلہ بلند کیا کیونکہ اب علی اس کا ساتھ دیتا تھا کوئی ایسا دکھ نہ تھا جس میں علی نے اپنی بیوی کو اکیلا چھوڑ دیا ہو اور کوئی ایسی مشکل نہ تھی جس میں علی نے حیا کا ساتھ نہ دیا ہو اکثر جب اکیلے بیٹھ کر سوچتی تھی تو اس کو اپنی قسمت پر رشک اتا تھا کہ اس کو علی جیسا شوہر ملا ہے اب وہ نوید کو بھی بھول چکی تھی ۔۔۔