Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan Novel20429

Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan Novel20429 Last updated: 13 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan

 تم نے میرے قریب آنے کی کوشش کیوں کی تمہیں کئی بار سمجھا چکا ہوں کہ مجھ سے دور رہو لیکن لگتا ہے تمہیں بات ایسے ہی سمجھ نہیں آئے گی اسی وقت علی حیا کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر نکال دیا حیا اس سے کہتی رہی کہ میں صرف آپ کے اوپر کمبل ڈالنے کی نیت سے آگے بڑھی تھی لیکن علی نے اس کے بعد پر کہاں یقین کرنا تھا اس کو کمرے سے نکال دیا باقی رات جو آدھی بچ چکی تھی حیا نے کمرے سے باہر گزاری صبح ہوئی تو وہ دروازے کے ساتھ نیند کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی جب اس کے مامو کا گزر وہاں سے ہوا تو وہ حیا کو دیکھتے ہی چونک گیا وہ جان چکا تھا کہ شاید حیا ساری رات باہر گزار چکی ہے اور علی نے اس کو کمرے سے باہر نکال دیا ہوگا اس کو شدید غصہ آیا اس نے حیا سے تو کچھ نہ کہا فورا کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا علی نے آکر دروازہ کھولا اور کہنے لگا کہ تم سے صبر نہیں ہو رہا لیکن جیسے اس نے دروازہ کھولا تو حیا اور اس کا مامو علی کو سامنے نظر آیا علی نے جب اپنے والد کو دیکھا تو چونک گیا وہ جان چکا تھا کہ اس کے والد کو سب کچھ پتہ چل گیا ہے اور حیا ہی اپنے مامو کو بلا کر آئی ہے اسی طرح علی کے والد نے اس کی بہت ساری بےعزتی کی اور کہا کہ یہ سب کچھ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا اور حیا اندر آ کر بیٹھ گئی جیسے ہی حیا کا مامو گیا تو علی پھر حیا سے غصہ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ تم نے میرے باپ کو جا کر سب کچھ بتا دیا ہے 

تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم نے میرے والد سے میری شکایت کی اب تم سب کی نظروں میں مجھے گرانا چاہتی ہو تم چاہتی ہو کہ میں سب کی نظروں میں گھٹیا بن جاؤں آخر تمہارا مقصد کیا تھا تم مجھ سے کیا چاہتے ہو حیا نے جب علی کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو وہ رونے لگی اور کہنے لگی کہ میں نے مامو جان سے کچھ نہیں کہا تھا ان کا گزر ہمارے کمرے سے سامنے ہوا تو میں نیند کے عالم میں وہیں پر بیٹھی تھی انہوں نے انہوں نے جب مجھے دیکھا تو مجھ سے بغیر پوچھے ہی انہوں نے آپ کو جگا دیا اور سب کچھ کہہ دیا حالانکہ میں نے ان سے آپ کی کوئی شکایت نہیں کی تھی علی نے حیات سے کہا کہ مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں ہے میں کیسے مان لوں کہ تم نے یہ شکایت نہیں کی اگر دوبارہ تم نے کسی کو بھی ہماری پرسنل لائف میں انٹرفیر کرنے کی اجازت دی یا ہمارے حالات زندگی کے بارے میں کسی کو بتایا تو میں اسی وقت  تمہیں آزاد کر دوں گا پھر کیا تمہاری ماں کو کچھ بھی ہو جائے یا پھر تمہارے ابا جو بھی کر لیں میں کسی کے بارے میں نہیں سوچوں گا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری وجہ سے کتنی اذیت میں ہوں اور کتنی دکھوں کو برداشت کر رہا حیا کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ علی سے کہے کہ اس وقت نکاح کے لیے ہاں کیوں کی تھی اس وقت انکار کر دیتے تو آج ان تمام پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں لیکن اس میں ہمت نہ تھی جیسے ہی علی اس کے سامنے آتا تھا اور کوئی بھی بات کرتا تھا تو حیا کے پاس تمام الفاظ ختم ہو جاتے تھے وہ کچھ بھی کہہ نہ سکتی تھی خاموش ہو کر اس کی ہر جائز اور ناجائز بات سن لیتی تھی

Complete novel  DOWNLOAD link available