14.8K
3

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafreen Zada (Episode 03)

Nafreen Zada By Meer Ambar

نفرین زدہ
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)

از قلم

میرعنبر

قسط نمبر ۳

آج موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا ، فضا میں عجیب سی یاسیت چھائی ہوئی تھی
آسمان نے کالے بادلوں کی چادر اوڑھ رکھی تھی ماحول ایسا پراسرار تھا کہ دن کے گیارہ بجے بھی مغرب کا وقت معلوم ہو رہا تھا
عجیب ہی وحشت طاری تھی ہر طرف…
یا شاید وہ اکیلی تھی جو اس وحشت کو اپنے اندر اترتا محسوس کر رہی تھی
کینٹین اور گراؤنڈ میں موجود طلبہ موسم کی اٹھکھیلیوں سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے تھے اور ایک اس کا دل تھا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گھٹتا ہی جا رہا تھا
صبح بھی اسی کیفیت کے زیر اثر وہ گھر سے ناشتہ نہیں کر کے آئی تھی حالانکہ امی کے بے حد اصرار پر با مشکل چند لقمے حلق سے اُتارے تھے
کالج آنے کے پر ایک آدھ کلاسز ہی اٹینڈ کی تھیں کیونکہ موسم کی صورتحال تھی کہ زیادہ تر لیکچرز آف تھے
رجا اور ہانیہ دونوں کیفے میں اس کا انتظار کر رہی تھیں جنہیں وہ کسی بہانے سے ٹال یہاں آگئی تھی کالج کی بیک سائیڈ ۔۔۔ جہاں کلاسز کے پیچھے ویران سبزہ اور ادھیڑ درختوں کی چھاؤں میں ہر وقت خاموشی کا بسیرا رہتا تھا
ایک یہی جگہ تھی جہاں وہ کسی نظر میں آئے بغیر اپنی حالت پر قابو پا سکتی تھی
دل میں عجیب سے ہول اٹھ رہے تھے جیسے سینے پر کسی نے منوں بوجھ لاد دیا ہو
سانس اتنی محال تھی کہ وہ پوری طاقت سے اپنے اندر ہوا کو کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی
یہ پہلی بار نہیں تھا ۔۔۔
اکثر آدھی رات یا دن کے کسی بھی وقت اس پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی
علاج معالجے سے کام لینے کے باوجود اب تو ڈاکٹرز بھی اپنے ھاتھ کھڑے کر چکے تھے

مگر اپنے پیشے کے زیر اثر دوا تو دے ہی دیتے تھے جن سے مستقل نہیں وقتی آرام تو آ ہی جاتا تھا

تکلیف حد سے بڑھتی جا رہی تھی اور ذہن نیم غشی کی حالت اختیار کرتا جا رہا تھا
اچانک اسے اپنے عقب سے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی ۔۔۔ ساتھ ہی ہانیہ اور رجا کی آواز نے ماحول میں پھیلی خاموشی کو توڑا تھا

جانم ، جانم ۔۔۔!!
تم یہاں ہو ؟؟
ہم تمہیں کب سے ڈھونڈ رہے ہیں ، یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو؟؟

اس کے پاس آتے ہی وہ دونوں شروع ہو چُکی تھی

جانم کو گٹھنوں پر سر رکھے دیکھ کر ہانیہ نے آہستگی سے اس کا کندھا ہلایا
ہم تم سے بات کر رہے ہیں …

اس نے با مشکل اپنے بھاری پڑتے سر کو اٹھا کر انہیں دیکھا جس پر اُن دونوں کے رنگ فق ہو چُکے تھے اور قریب کھڑی ہانیہ کا تو دم سکڑ گیا

ایک چیخ کے ساتھ وہ الٹے قدموں پیچھے ہوئی ۔۔

“یہ جانم نہیں ہے رجا یہ ہماری جانم نہیں ہے”
کہتے ساتھ ہی وہ گرتے پڑتے رجا کا ہاتھ تھامے وہاں سے جا چُکی تھی

ماحول میں خطرناک حد تک اندھیرا پھیل چکا تھا سرمئی بادل سیاہ کالی گھٹا کا روپ لے چکے تھے
اپنے معطل ہوتے حواس کے ساتھ درخت کے تنے کا سہارا لیے انہیں دور جاتا دیکھ کر وہ با مشکل ہی کھڑی ہوئی تھی
یکدم بادل پوری قوت سے گرجے تھے کانوں کو چیر دینے والی آواز کے ساتھ ماحول میں یکدم روشنی پھیلی تھی
کلاسز کی دیوار میں نسب کھڑکی کے شیشے پر اسے اپنا عکس دکھائی دیا۔۔۔
مسکراتا ہوا ۔۔۔ مکار صورت لیے ۔۔۔۔۔
جسے دیکھ کر وہ اندر سے دہل گئی

گرج کے ساتھ ہی بجلی کی چمک زائل ہو چُکی تھی ۔۔۔ ہر طرف پھر سے اندھیرا تھا
وہ غش کھاتے ہوۓ زمین پر جا گری تھی
بادل کسی سیلاب کی طرح برس رہے تھے
بارش کے قطرے نشتر مانند گھاس پہ پڑ رہے ۔۔۔۔ مگر وو جا چُکی تھی ۔۔۔
دور بہت دور ۔۔۔۔۔

<_______________________>

ہم محبت کے ہارے ہوئے لوگ
دل لگی کی خاطر گزارے لائق لوگ
دنیا سے بیزار دلوں سے اُتارے ہوئے لوگ
جو ٹوٹے تو تارا بن گئے
ورنہ چاند کہا کرتے تھے ہمیں بھی اکثر لوگ

کالج کے سیکنڈ فلور پر اس وقت مکمل خاموشی تھی کیونکہ موسم کی خرابی کے باعث زیادہ تر سٹوڈنٹس گھر جا چکے تھے
اور اب تو بلڈنگ میں ہو کا عالم تھا
اس وقت سیکنڈ فلور سے منسلک سیڑھیوں پر بیٹھا وہ باہر پھیلتے اندھیرے کا جائزہ لے رہا تھا
نگاہیں سیاہ ہوتے آسمان پر مرکوز تھیں۔۔۔ مگر ذہن الگ ہی سوچوں میں اُلجھا ہوا تھا
جس طرح بعض یادیں بعض چیزوں سے منسلک ہوتی ہیں اسی طرح کچھ جذبات منظر سمیت دل میں رقم ہو جاتے ہیں
پھر جب کبھی ان مناظر سے دوبارہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے تو وہی جذبات اپنے آپ سینے میں ابھر آتے ہیں
سترہ سال ۔۔۔ ٹھیک سترہ سال پہلے اسی ابر آلودگی میں وہ اپنی سب سے پیاری چیز کھو چکا تھا
وہ دن تھا اور آج کا دن جبران حدید کو بارش سے شدید نفرت تھی
“بہت برا غم ہے محبت سبھی غموں میں”
انگلی کے پورے سے اس نے آنکھ کے گرد آئی نمی کو صاف کیا تھا ۔۔۔ اپنے اندر کے درد کو وہ اپنی ذات پر بھی عیاں نہیں ہونے دیتے تھا
بظاھر پتھر سی شخصیت رکھنے والے اس شخص کا دل کلیوں سی نرمی لیے ہوئے تھا

اس سے پہلے یہی نرمی اور تنہائی میں اُبھرتے ہوئے جذبات اس کا اور امتحان لیتے ڈائری کو بیگ میں ڈالتے ساتھ ہی وہ سیڑھیوں پر سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
اس سے پہلے وہ منظر سے غائب ھوتا کہ اچانک دو لڑکیاں ہانپتے کانپتے اسے اپنی جانب آتی دکھائی دیں

جبران بھائی ۔۔۔ !!
اوہ شکر آپ ہمیں مل گئے
رجا نے پھولی سانس سمیت با مشکل جملہ ادا کیا

اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتا ہانیہ نے منہ کھولا تھا

جبران بھائی وہ جانم ۔۔۔ ہم اسے بلانے گئے تھے ۔۔۔مگر پھر اس کے ساتھ۔۔۔
اتنا کہنے پر اسے بری طرح کھانسی نے آ پکڑا تھا

اُن دونوں لڑکیوں کو وہ اکثر جانم کے ساتھ دیکھا کرتا تھا ۔۔ اتنا تو وہ جان ہی گیا تھا کہ یہ اُس کی سہیلیاں ہیں
وہ جو ماتھے پر تیوری چڑھائے مکمل قوت سماعت بنا ہوا تھا ایک گہری سانس لیکر خود کو کمپوز کیا پھر گویا ہوا

مگر کیا۔۔۔؟؟

کیا ہوا جانم کو۔۔۔۔ ؟؟

جبڑوں کو بھینچے وہ ضبط کے مراحل پر تھا

آپ خود چل کر دیکھ لیں۔۔۔ رجا جو سفید لٹھے کی مانند ٹھنڈی ہوئی جا رہی تھی ، با مشکل لفظ ادا کر پائی تھی

چلو۔۔۔
کاندھے پر بیگ لٹکائے وہ سیکنڈ میں سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے اترا تھا
جبکہ وہ دونوں وہیں گم سم کھڑی تھیں

میں نہیں جا رہی ۔۔۔تم نے جانا ہے تو جاؤ۔۔۔
ایک کڑک دار گرج کے ساتھ بجلی چمکی تھی ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی
ہانیہ نے سہمی ہوئی آواز میں اپنے ساتھ کھڑی رجا سے کہا ،۔۔ اس کا رواں رواں اُس منظر کو سوچ کر کانپ اٹھا تھا جب انہوں نے جانم کی شکل میں کسی غیر مرئی مخلوق کا عکس محلول ھوتا دیکھا تھا

اس سے پہلے رجا اس کی بات کا کوئی جواب دیتی ،۔۔ وہ ایک جست میں واپس پلٹا تھا ،۔۔ اس کی بازو کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ کر کھینچتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ لے گیا

جبکہ ہانیہ اکیلی کھڑی یہ تماشا دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔

بلڈنگ میں پھیلی یاسیت اور نیم اندھیرا ،۔۔ وہ کسی صورت یہاں ٹہرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی

رکیں میں بھی آرہی ہوں۔۔
سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ بھی اُن کے پیچھے بھاگی تھی

کلاسز کے بیک سائیڈ آنے تک وہ بری طرح بھیگ چکے تھے
بارش کسی تیز دھار نشتر کی مانند تابر توڑ برس رہی تھی
گپ اندھیرے میں موبائل ٹارچ آن کیے وہ درخت کی جانب بڑھا تھا جہاں رجا کے مطابق انہوں نے آخری بار جانم کو موجود پایا تھا

دور سے جائزہ لینے پر ہی اسے درخت کی ٹہنیاں ایک خاص انداز میں نیچے کو جھکی ہوئی محسوس ہوئی تھیں

مانو کوئی قوت انہیں نیچے کی جانب کھینچ رہی ہو
کچھ تو غیر معمولی تھا اس جگہ پر۔۔ یہ احساس وہ یہاں قدم رکھنے سے پہلے محسوس کر چکا تھا
اور اب درخت کی جانب بڑھتے ہوئے وہ غیر مرئی طاقتوں کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر رہا تھا

جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہا تھا پیچھے موجود ہانیہ اور رجا کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہیں تھیں

جبران بھائی۔۔۔۔ ہانیہ نے آواز دیکر اسے روکنا چاہا مگر وہ نہ رکا تھا یہاں تک کہ عین درخت کے نیچے جا کھڑا ہوا تھا

وہ دونوں دم سادھے اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔

یکدم آسمانی بجلی چمکی تھی ،۔۔ آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی ، مگر اس نے پلک تک نہ جھپکائی تھی ،۔۔ کیونکہ جو کچھ وہ دیکھ رہا تھا وہ باقی آنکھوں سے اوجھل تھا

اس کی باطنی آنکھ مسلسل درخت کے اطراف اشارہ کر رہی تھی
یعنی جو کچھ بھی تھا یہیں موجود تھا
ایک آخری آیت کے بعد اس نے آنکھیں کھولی تھیں ،۔۔ درخت کے بیچ و بیچ تنے پر اسے سفید رنگ کے نشانات واضح ہوتے نظر آئے تھے
آڑی ترچھی لکیریں جیسے کسی چونے سے ستارے کا نقش کھینچا گیا ہو

کبالہ”۔۔۔ !!
اس کے لبوں سے بے اختیار لفظ نکلا تھا
دم سادھے وہ تنے کی جانب بڑھا تھا اردگرد دیکھنے پر اسے کہیں کوئی سراغ نہیں ملا تھا جبکہ وہ دونوں قسم کھانے پر تیار تھیں کہ کُچھ دیر پہلے وہ جانم کو یہیں چھوڑ کر آئیں ہیں
کچھ تو تھا جو آنکھوں سے اوجھل تھا ۔۔۔
کسی شدت کے ساتھ وہ سانس روکے مسلسل آیات کا ورد کیے جا رہا تھا
یہاں تک کہ اب اسے اپنا سانس گھٹتی معلوم ہو رہی تھی
پہلے پہل تو طوفان شدت ھی اختیار کرتا جا رہا تھا مگر پھر بارش میں کمی واقع ہوئی تھی
ہوائیں تھم چُکی تھی حتیٰ کہ جو منظر کُچھ دیر پہلے اندھیری رات سا معلوم ہوتا تھا وہاں اب سورج کی کرنیں پھیلنے لگی تھی
ایک آخری ورد کے بعد اس کی سانس بحال ہوئی تھی ۔۔
اس جگہ کا جائزہ لینے کے بعد بھی جانم کا کہیں کوئی سراغ نہ تھا

حتیٰ کہ چلتے چلتے وو دوبارہ اسی پہلے درخت کے نیچے آکھڑا ہُوا تھا

“مم .. مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کالج کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہیے ۔۔۔
ہو سکتا ہے وہ ہماری کُچھ مدد کریں”

رجا کے کہنے پر اس نے آنکھیں میچے اسے دیکھا تھا انداز ہتک لیے ہوۓ تھا جس پر وہ جھینپ سی گئی تھی

درختوں کی گھنی شاخوں کو آخری نظر دیکھنے کے بعد یہاں سے جانے کا ارادہ کیے وہ واپس مڑا ہی تھا کہ اچانک اپنی ہتھیلی پر سرخ بوند پڑتے دیکھ کر اس کی نظریں اوپر درخت کی جانب اٹھی تھی ۔۔۔

ایک لمحہ,۔۔۔۔

اور آنکھیں جھپکنا بھول چکیں تھیں

اب کی بار

سانس حقیقت میں اٹک کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔

<_______________________>

آج جمعے کا دن تھا نماز کے بعد وہ گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ سامنے امی جان اور وجیہہ کے باقی گھر والوں کو دیکھ کر وہ حیران کم خوش زیادہ ہوا تھا
اس کے اپنے والدین تو حیات نہیں تھے مگر وہ انہیں بھی اپنے والدین کا مقام و مرتبہ دیتا تھا
وجیہہ کی ماں اُس کے قریب بیٹھے اس سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہیں تھیں جن کا وہ ہوں ، ہاں سے بڑھ جواب نہ دے رہی تھی
فرقان فصیح بہت غور سے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
وجیہہ کی ڈرپ ختم ہو چکی تھی جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ حسب معمول غنودگی میں جا چکی تھی

امی ۔۔ ابو ۔۔ علی مجھے آپ سب سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
اُس کے مخاطب کرنے پر وہ سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے

کیا بات ہے فرقان بیٹا ،۔۔ سب ٹھیک تو ہے؟؟
اُس کے چہرے پر رقم سنجیدہ تاثرات دیکھ کر وجیہہ کے والد نے پوچھا

آپ باہر چلیں میں سب بتاتا ہوں ۔۔۔ اس نے ایک نظر بیڈ پر سوئی وجیہہ کو دیکھ کر کہا ۔۔

سب ڈرائنگ روم میں آگئے تھے ۔۔۔

کہو بیٹا کیا بات ہے ۔۔ میرا تو دل گھبرا رہا ہے ۔۔
امی جان کی بے چینی پر علی نے ان کو دلاسا دیا تھا

ہمت کریں امی ۔۔۔۔ آپی کی طبیعت پہلے ہی اتنی خراب ہے اور کیا ہی برا ہوگا۔۔۔۔ فرقان بھائی آپ شروع کریں

علی کے کہنے پر اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا

وجیہہ اکثر رات کمرے میں نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔

کمرے میں نہیں ہوتی؟؟ تو پھر کہاں ہوتی ہے؟؟

والد صاحب کی آواز میں موجود لغزش کو وہ با خوبی محسوس کر سکتا تھا

اُن کے سوال پر ا اس کے ذہن پر پچھلی رات کا واقعہ گھوم گیا تھا

(حسب معمول تھکن کے باوجود وہ تہجد کے لیے اٹھا تھا ۔۔۔ گھڑی تین کا ہندسہ پار کر چکی تھی۔۔۔
گرم بستر سے نکلتے ہی اس کا جسم کپکپا اٹھا تھا
آج رات کچھ زیادہ ہی سرد تھی۔۔
بیڈ پر لیٹا وجود بھی مکمل طور پر کمبل میں چھپا ہوا تھا ۔۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ نے اسکے چہرے کو روشن کیا تھا ۔۔۔۔
ساتھ ہی وضو کرنے کی غرض سے وہ واشروم کی جانب بڑھ گیا ،۔
نماز کے بعد وہ باری باری اپنے سوئے ہوئے بچوں کو پیار کرنے لگا پھر اچانک کسی خیال کے تحت وہ بیڈ کی جانب متوجہ ہوا تھا
وہ اُسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آرزو یہ کہ اسے دیکھے بغیر وہ باقی رات بے چین ہی رہتا۔۔
اپنے ہاتھ سے اس نے تکیے کی جانب سے ذرا کو کمبل اُوپر کیا تھا
اور یہ کیا ۔۔۔؟
فرقان فصیح کو اپنے گرد دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
ایک جست میں وہ کمبل پرے پھینک چکا تھا ۔۔ بستر پر قطار میں لگے تکیوں کو دیکھ کر تو وہ واقعی میں چکرا گیا تھا جنہیں وہ وجیہہ کا وجود سمجھ بیٹھا تھا ، مگر وہ تو یہاں تھی ہی نہیں
تو پھر کہاں تھی وہ۔۔ ؟؟
اس نے کمرے سے باہر کا رخ کیا ۔۔ گودام والا کمرہ۔۔۔ کچن۔۔۔ لاؤنج۔۔۔ گیسٹ روم حتیٰ کہ چھت کو دیکھ آنے کے بعد بھی وہ اسے کہیں نہیں ملی تھی۔۔
بلڈنگ سے باہر آتے ہی وہ لان میں کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ گاڑی سٹارٹ کرنے کے بعد اسٹیئرنگ موڑتے ہوئے وہ باہر کا رخ کرتا کہ اچانک اس کی نظر لان سے ملحق گیلری کی دیوار پر پڑی۔۔۔ جہاں گاڑی کی ہیڈ لائٹ پڑنے پر کوئی سایہ ہلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
سیٹ بیلٹ ہٹائے وہ باہر نکلا تھا ۔۔۔۔ پھرتیلے مگر محتاط قدم چلتے وہ لان سے ملحق بلڈنگ کی سائیڈ گیلری کے کونے پر جا کر رک گیا
اسے کچھ عجیب سی آہٹ کے ساتھ کسی کے ہانپنے کی آواز آ رہی تھی
موبائل کی ٹارچ آن کیے اس نے گیلری میں قدم رکھے تھے۔۔۔ کچھ ہی فاصلے پر وہ اسے کھڑی نظر آئی تھی۔۔
پسینے میں شرابور جسم ۔۔ حالت نہایت ابتر یوں جیسے کسی ڈھانچے نے لباس اُوڑھ رکھا ہو ۔۔ بال بکھر کر پورے چہرے کو ڈھانپ رہے تھے۔۔۔۔ ہاتھوں میں کائی پکڑے وہ یوں ہانپ رہی تھی جیسے اپنے سے دوگنی مشقت کا کام کر آئی ہو ۔۔۔

تمہیں یہاں کون لایا ہے وجیہہ؟؟
اب کی بار سوال مختلف تھا

اس کے پوچھنے پر اسکی تیز چلتی سانسیں یکدم رک سی گئی
اس نے گردن موڑ کر اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔ جو دو قدم کی دوری پر کھڑا تھا

جواب دینے کی بجائے وہ پھر سے تیز تیز ہانپنا شروع ہو گئی تھی۔۔۔ فرقان فصیح نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے کائی لیکر پرے پھینک دی اور اسے لیے اندر بڑھ گیا

کمرے میں آنے کے بعد اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ اس کے گرد کمبل درست کرنے لگا۔۔۔
اپنے بستر پر جانے سے پہلے اس نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا تھا ، جو چھت کی جانب مسلسل دیکھے جا رہی تھی اور حسب معمول اس کی کسی بات کا جواب نہ دیا تھا

تم ایسی تو نہیں تھی وجیہہ۔۔۔ ؟؟
جملہ ادا کرتے ہوئے اس کی آواز بھرآ سی گئی ۔۔ آنکھوں میں آئی نمی کو جھٹکتے ہوئے وہ بستر کی جانب بڑھ گیا تھا
ہاں وہ ایسی تو نہیں تھی۔۔ دغا دینے والی۔۔ اپنی جگہ تکیوں کو کمبل میں چھپا کر کمرے سے فرار ہو جانے والی،۔
مگر آج۔۔ آج وہ اس کی نظروں میں پہلی جیسی عورت نہ رہی تھی۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ بیمار ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں ہے مگر پھر بھی آج اندر کچھ ٹوٹ سا گیا تھا ۔۔۔
لیٹتے ساتھ ہی وہ ماتھے پر بازو رکھے آنکھیں موند گیا۔۔ مگر نیند تو بہت پہلے ہی اس سے روٹھ چکی تھی اور آج تو آنکھیں بھی بار بار نم ہوئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔، وہ رات اس نے کس طرح کاٹی تھی یہ وہ یا اس کا خدا ہی جانتا تھا
آج وہ سب کو بلا کر تمام روادار گوش گزار کرنے کا سوچ ہی رہا تھا تھا کہ اُنھیں خود سے آیا دیکھ کر وہ اور انتظار نہیں کر سکتا تھا

پچھلی کئی دنوں سے جو کچھ وہ دیکھ اور محسوس کر رہا تھا ، ان کے سامنے رکھ چُکا تھا

ان پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو جو بھی تھا وہ دل ہی دل میں اس کی ہمت کو داد دے رہے تھے امی جان نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا
خدا نے اُنہیں داماد کے روپ میں بیٹوں سے بڑھ کر محبت کرنے والا نوازا تھا

تم نے ہمیں پہلے علم کیوں نہیں ہونے دیا بیٹا ۔۔؟؟
اکیلے ہی سب جھیلتے رہے ۔۔؟

اکیلے جھیلنے والی کیا بات ہے انکل۔۔ وجیہہ میری بیوی میرا لباس ہے
جہاں تک مجھ سے ہوا میں نے کیا مگر اب چیزیں بے اختیار ہوتی نظر آرہی ہیں۔۔۔

آپ فکر مت کریں بھائی،۔۔
میرے ایک دوست کا جاننے والا ہے ،۔۔ وہ اکثر ان جادو جنات اور شیطانی علوم کا علاج کرتا ہے ۔۔۔ آپ کہیں تو کل ہی اسے بلا کر آپی کو دکھا دیتے ہیں
ورنہ ڈھونگی لوگ تو ہر جگہ موجود ہیں

علی کے کہنے پر سب نے حامی کا اظہار۔ کیا ۔۔۔

ٹھیک ہے بیٹا تم کل ہی اسے بلا لو،۔۔ جہاں اتنا سب کر کے دیکھ لیا وہاں یہ بھی صحیح۔۔

وجیہہ کے والد کے کہنے پر وہ اپنے دوست کو کال ملاتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا

کچھ دیر بعد اندر آنے پر اس نے اطلاع دی کہ کل پیر بابا عصر کے بعد یہاں تشریف لائیں گے

جاری ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *