Nafreen Zada By Meer Ambar Horror Fantasy Novel NovelR50479 Nafreen Zada (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Nafreen Zada (Episode 01)
Nafreen Zada By Meer Ambar
نفرین زدہ
(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)
از قلم
میر عنبر
قسط نمبر ۱
اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے
پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیا بلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے
اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا
اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو
۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے
اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقینا انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا ہے،
کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے. (سورۃ البقرہ)
سلیمان علیہ السلام۔۔؟؟
“یعنی اس منحوس عمل کی کڑیاں صدیوں پرانی ہیں”
تخیل میں محو سیاہ گہری آنکھیں میز پر بکھرے صفحات میں سے ایک ورق پر مرکوز تھیں
کمرے میں تا حد اندھیرا ہونے کے باوجود ٹیبل لیمپ کی روشنی اندھیرے میں جگنو کا فریضہ سر انجام دے رہی تھی اور اسی جگنو کی سی روشنی میں اس ایک صفحے پر لکھے الفاظ واضح دیکھے جا سکتے تھے
“کالی دنیا ، کالے لوگ ، کالے روگ”
کالی دنیا ، اندیکھی دنیا جادو اور سفلیات کی دنیا کالے لوگ” اس دنیا کے باسی اور ان عملیات سے طاقت حاصل کرنے والے شیطان
کالے روگ” اسی طاقت کے بل بوتے پر بنی آدم کی زندگی میں دکھ ، مصیبت اور بلیات کو جنم دینا یعنی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کر کے ایسے ایسے روگ پیدا کر دینا جو کبھی اُن کے لیے تھے ہی نہیں۔۔
کاغذ پر لکھے ہر لفظ کے ساتھ اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے چلے جا رہے تھے
پیشانی کی رگیں اُبھرتی چلی جا رہیں تھیں اور تناؤ بڑھتا ہی جا رہا تھا
یکدم کمرے میں طوفان سا برپا ہو چکا تھا
میز پر موجود صفحات ہوا میں اڑنے لگے تھے ، کمرے میں موجود ہر چیز ھوا کے الاؤ میں گول گھوم رہی تھی
اسی طرح ۔۔۔ جس طرح کچھ سالوں پہلے
سیاہ سائے کسی مرکز کے گرد چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔
ذہن میں منظر کا اُبھرنا تھا اور اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو چکی تھیں
کمرے میں یک دم دھماکہ کی شدت پیدا ہوئی تھی جس کے زیر اثر ہر چیز دو جاکر بکھر چُکی تھی
ہر طرف گہری خاموشی چھا چکی تھی ۔۔۔
طوفان کے بعد آنے والی طویل خاموشی ۔۔۔
دروازے پر دستک کا ہونا تھا
اور اگلے ہی لمحے ہر چیز اپنی جگہ صحیح سالم موجود تھی
کون ہے ؟؟
کمرے کی در و دیوار سے بھاری مردانہ آواز ٹکرائی تھی
“میں ہوں بھائی ،۔۔ بابا آپ کو نیچے بلا رہے ہیں
اُنہیں کچھ بات کرنی ہے آپ سے”
دروازے کی اوٹ میں کھڑی لڑکی نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
اس نے بنا پیچھے دیکھے سر کو مثبت انداز میں حرکت دی۔۔
جس کے بعد دروازہ واپس بند ہو چکا تھا شاید وہ جا چکی تھی
سترہ سال ،۔۔ اور اب یقیناً بدلے کا وقت آ پہنچا تھا
قدرت مکافات عمل پورا کرنے کو تیار تھی
وقت تھا کہ گزرے سالوں کی ایک ایک اذیت کا حساب چکتا کیا جائے اور وہ ضرور کرے گا
مگر اِس بار اپنے انداز میں ،۔۔
ایک گہری سانس کے ساتھ میز پر سے صفحات کو سمیٹتے ہوئے اس نے نچلی دراز میں رکھنے کے بعد لاک کیا اور کمرے پر ایک ساکت نگاہ ڈال کر نیچے کی جانب بڑھ گیا تھا
ہسپتال کے کوریڈور میں اس وقت مکمل سکوت تھا
اسی خاموشی کے عالم میں آئی سی یو کی طرف آئیں تو مشین پر چلتی دھڑکنوں کی آواز کمرے میں گونجتی سنائی دے رہی تھی
رات گہری ہوچکی تھی
بیڈ کے دائیں جانب بیٹھا وہ پچھلے دو گھنٹوں سے
پتھر کی مورت بنے ٹکٹکی باندھے اپنے سامنے بیڈ پر بے سدھ وجود کو دیکھے جا رہا تھا
یاداشت کے پردوں سے کچھ ہی دیر پہلے کہے گئے ڈاکٹر کے الفاظ ٹکڑا رہے تھے
“آپ کی وائف کی طبیعت دن با دن بد تر ہوتی جا رہی ہے مسٹر فرقان
میڈیکل سٹاف اپنی پوری کوشش کر رہا ہے مگر حالت میں کہیں کوئی تبدیلی نہیں آرہی
مشورہ یہی ہے کہ اب آپ انہیں گھر لے جائیں اور دوا کے ساتھ دعا کا اہتمام کریں”
ڈاکٹر رپورٹس رکھ کر واپس جا چکے تھے جس میں اس کی بیوی کی صورتحال سے مطلق کوئی لکیر ایسی نہیں تھی جو کہ واضح نہیں تو دھندلی سہی مگر رہنمائی کرتی
اور لکیر تو درکنار الٹا بڑے بڑے الفاظ میں “آل کلیئر” لکھا ہوا تھا
ایک ہفتہ یعنی سات دن اور جیسے اُس کی دنیا اجڑ چکی تھی
بے یقینی ہی بے بقینی تھی ۔۔۔ ایک ہفتہ پہلے تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی اسے ان حالات سے سامنا کروائے گی
جہاں مایوسی اپنا گھر چکی تھی وہیں نا اُمیدی میں بھی ایک کمزور سی اُمید تھی کہ شاید ڈاکٹرز کوئی اچھی خبر دیں گے مگر اب حالیہ رپورٹس کے بعد تو وہ بھی ختم ہو چکی تھی
ضبط کڑے مراحل پر کھڑا تھا یکے بعد ایک آنسو چہرہ تر کیے جا رہے تھے
ایک بعد دوسرا اور کئی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا تھا ،۔۔
گزرے دنوں کی یاد کسی کوڑے کی طرح جسم کو لہولہان کیے جا رہی تھی
سب کچھ تو ٹھیک تھا زندگی پر سکون اپنے ڈگر پر رواں دواں تھی پھر نا جانے کب آسمان سر په آگرا تھا اور اتنی شدت سے گرا تھا کہ سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا تھا یوں دیکھتے ہی دیکھتے اس کی دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے جل کر راکھ ہو چُکی تھی
وہ کچھ دیر یوں ہی تخیل کی گہرائی میں گمشدہ رہتا کہ اچانک موبائل کی رنگ ٹون اُسے ماضی سے حال میں لیکر آئی تھی
سرد ہوتے ہاتھوں سے اس نے کال اٹینڈ کی تھی
مقابل کی جانب سے نا معلوم کیا کہا گیا تھا کہ وہ اپنے سرد پڑتے وجود کو لیے با مشکل ہی کھڑا ہوا تھا
چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہی آنسوؤں سے تر رُخسار اُسے حیرت میں مبتلا کر گر گئے تھے
اپنی تر ہوتی ہتھیلی کو دیکھے وہ جیسے خود سے محو سوال تھا
کیا وہ رو رہا تھا ؟؟
مگر کیوں ، وہ تو ایک مرد تھا ناں
پھر وہ کیونکر رو سکتا تھا
ابھی تو اسے اپنے بچوں کو بھی سنبھالنا تھا ، اپنی ادھ مردہ بیوی کے جسم کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنا تھا
رشتے داروں اور اقارب کے افسردہ کلمات کو بھی وصول کرنا تھا اور مضبوط بنے رہنے کا فن بھی ادا کرنا تھا
پھر وہ ابھی کیسے ہی رو سکتا تھا
ذمہداریاں اتنی تھیں کہ اس کے پاس وقت نہیں تھا اور وقت تو شاید کسی اور کے پاس بھی نہیں تھا
کرسی سے فائل اٹھانے کے بعد وہ آئی سی یو سے نکلتے ہی ریسیپشن کی جانب چل دیا تھا جہاں اسے بقایہ جات ادا کرنے تھے تاکہ اس کی بیوی کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا سکے
٫٫٫٫_٫
Will be continue
