14.8K
3

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nafreen Zada (Episode 02)

Nafreen Zada By Meer Ambar

نفرین زدہ

(کالی دنیا ،کالے لوگ، کالے روگ)

از قلم

میرعنبر

قسط نمبر ۲

تم ایسا کیسے کہ سکتے ہو شاہ۔۔۔؟؟؟
کیا تم بھول گئے وہ سب جو اس عورت نے ہمارے ساتھ کیا۔۔۔؟؟؟

دیوان میں کالے سائے جمع ہوتے جا رہے تھے مگر وہ ہنوز اپنی ہزیانی کیفیت میں گرد نواح سے بے نیاز چلا رہی تھی

میں کچھ نہیں بھولا۔۔۔
نا ان معصوم جانوں کا قتل اور نہ ہی وہ ظُلم جو اس عورت نے اپنے کالے جادو کی بنیاد پر کیا مگر جو کُچھ تم کرنے جا رہی ہو
میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا

میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
میرا خون جل رہا ہے۔۔۔ مجھے اجازت دو شاہ
میں فاریہ کا بدلہ پورا کرنا چاہتی ہوں

تم اب جا سکتی ہو ۔۔۔
تخت پر براجمان شاہ جنات کی نیلم آنکھیں کالی رات کی سیاہی کا رنگ دھار چُکی تھی
دربان میں موجود لمبے سیاہ سائے سر جھکائے سہمے ہوئے معلوم ہو رہے تھے

ہنہ۔۔۔
تم صرف وقت ضائع کر رہے ہو۔۔۔
یہ کہنا کہ تم فاریہ کا بدلہ لو گے مگر اب مجھے تم پر اعتبار نہیں رہا
شاید تمہاری محبت ختم ہو گئی يا پھر ۔۔۔۔

اس محبت کی جگہ کسی آدم زادی نے لے لی ہے
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ھوتی وہ اس کے ضبط پر پاؤں رکھ چکی تھی

یک دم قد آور دروازے کھلے تھے ۔۔۔
نفیس پوشاک میں ملبوس ۔۔۔ سر پر تاج رکھے ۔۔۔
نیلی آنکھوں والی خاتون نے با رُعب انداز میں دیوان میں قدم رکھے تھے

ساریہ۔۔۔۔۔
دیوان کی دیواریں ایک بار پھر لرز اٹھی تھیں ،۔۔

محترم عزیزہ ۔۔۔
زبردستی ہی سہی اسے جھکنا پڑا تھا
عزیزہ کے پیچھے شہزادہ برہان کو کھڑا پاکر اس نے ہنکار بھری تھی

یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو شاہ سے؟؟؟
آواز گرج دار مگر ٹھہری ہوئی تھی

میرے لہجے پر غور کرنے کی بجائے شاید آپ کو شاہ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے
چبا چبا کر لفظ ادا کیے گئے ،۔۔

شاہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔۔
اس بات کو فراموش مت کرو کہ تم کس کے سامنے کھڑی ہو ۔۔۔
اب کی بار گرج دار آواز دیوان کے در و دیوار سے ٹکڑا کر پلٹی تھی

امی جان ،۔۔۔ شہزادہ برہان نے آگے بڑھ کر انہیں سمبھالنا چاہا جسے وہ ہاتھ کے اشارے سے منع کر گئی تھیں

ٹھیک ہے ۔۔۔ اگر ایسا ہے تو مُجھے بھی اپنے فیصلے پر
آزادی دے دیجئے
آواز میں غرغراہٹ صاف واضح تھی

تخلیہ۔۔۔۔
ملکہ کے کہنے پر دیوان میں موجود تمام کالے سائے ہوا میں محول ہو گئے

تم جانتی بھی ہو کیا کہ رہی ہو۔۔۔۔
شہزادہ برہان کے چہرے پر تفکر کے تاثرات نمایاں تھے

ہمیں منظور ہے۔۔۔۔
طویل خاموشی کے بعد شاہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا

بھائی آپ۔۔۔ برہان نے مداخلت کرنا چاہی

برہان آپ بیچ میں مت بولیے۔۔۔
عزیزہ نے اسے ریاست کے قوانین کے تحت دیوان کے فیصلے پر مداخلت کرنے سے روکا

مگر امی جان۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ۔۔ مگر اگلے ہی لمحے شاہ جنات کی جانب سے فیصلہ دے دیا جا چکا تھا

“آج کے بعد تمہارا اس قبیلے سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں”
کاغذ پر مہر لگ چکی تھی ،۔۔ ورق ہوا میں اڑتا ہوا ساریہ کے منہ پر جا لگا تھا

تم نے اچھا نہیں کیا شاہ۔۔۔
تمہیں اس بات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی
ورق کو مٹھی میں دبوچتے ہوئے نفرت آمیز لہجے میں کہتے ساتھ وہ دشمنی پر اتر آئی تھی ۔۔۔
قبیلے سے نکالے جانے پر اس کا چہرہ بگڑ چکا تھا ،۔۔ چہرے پر ہیبت ناک تاثرات تھے ،۔۔

وہ قبیلے سے نکالی جا چُکی تھی ۔۔
اب اس کا اس خاندان سے کوئی واسطہ نہیں تھا

بہت پچھتاؤ گے تم ۔۔۔
ایک ڈھار کے ساتھ وہ ہوا میں بلند ہوئی تھی ،۔۔ یکدم سیاہ دھواں نمودار ھوا ۔۔ اور وہ جا چکی تھی

دیوان میں پھر سے خاموشی چھا چکی تھی ،۔۔ طوفان سے پہلے محسوس کی جانے والی،۔۔۔
گہری خاموشی ،۔۔۔

—-🍂—–

شام ہوتے ہی دھندلکوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا
چرند پرند اپنے آشیانے کو لوٹ چکے تھے
دسمبر کی ٹھٹھرتی سردی میں مغرب کے بعد ہی ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا اور عشاء کے بعد تو کسی ذی روح کے موجود ہونے کا امکان نہ لگتا تھا
اسی خاموشی میں دور کھیتوں سے اکا دکا گیدڑوں کی آواز ماحول میں پھیلی پر اسراریت کو اور بڑھا رہی تھی
انہی کھیتوں سے کچھ فاصلے پر آئیں تو قریب بستی میں کچے اور پکے دونوں طرز کے مکان دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں سے ایک گھر فرقان فصیح کا بھی تھا
ایک کنال پر بنی یہ عمارت اپنے ارد گرد موجود تمام گھروں میں اعلی اور ممتاز تھی
آئینی چوکھٹ کو پار کریں تو نگاہ لان سے ہوتے ہوئے بلڈنگ پر جا کر ٹہرتی ہے
نا معلوم کیا تھا ۔۔۔ اس وقت گھر میں عجیب سی وحشت محسوس کی جا سکتی تھی
ایک نا معلوم احساس ،۔۔ جسے صرف انسان کی باطنی آنکھ ہی محسوس کر سکتی تھی
اندھیرا ہوتے ہی گھر کی تمام بتیاں بجھا دی گئی تھیں بس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے لان اور راہداری کے بلب روشن تھے
گھڑی دس کا ہندسہ پار کر گئی تھی ،۔۔ صوفہ کی پشت سے ٹیک لگائے ،۔۔ تھوڈی پر ہاتھ کر رکھے وہ سوچ کے گہرے سمندر میں غوطہ زن تھا جبکہ نظریں مسلسل بیڈ پر دراز وجود پر ٹکی ہوئی تھیں جو پچھلے دو گھنٹوں سے ساکت نظروں سے سیلنگ کو دیکھے جا رہا تھا
کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا ، بیڈ سے کچھ ہی فاصلے پر چارپائیوں پر ان کے تین لخت جگر سکون کی نیند سو رہے تھے
کچھ تو تھا جسے وہ نظر انداز کر رہا تھا مگر کیا؟؟
یہ احساس انہیں مسلسل بے چین کیے جا رہا تھا
پچھلی راتوں کی شب بیداری کا اثر تھا اس کی آنکھیں نیند کی شدت سے سرخ ہو رہیں تھیں
ایک آخری خیال کے بعد وہ صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی جانب آیا تھا

وجیہہ ۔۔۔!!
وجی۔۔۔

اس کے بلانے کے باوجود وہ مسلسل چھت کو گھورے جا رہی تھیں

اس نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔۔
بالوں کو نرمی سے سہلاتے ہوئے وہ پیار بھری نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا
جو اس کی کل متاع ۔۔۔ ساتھی ،۔۔۔ دوست۔۔۔ سالوں کی ہم راز۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اس کی بیوی تھی
جو اس کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی

وجیہہ نے اس کی جانب دیکھا تھا ،۔۔ وہی ساکت ، خاموش نظریں

سو جاؤ ،۔۔ میں یہیں ہوں۔۔۔۔
یہ کر اس نے وجیہہ کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا
اور ساتھ ہی رکھی چار پائی کی جانب بڑھ گیا تھا
کچھ لمحوں بعد وہ آنکھیں موندے سو چکی تھی ،۔۔۔ اس کے آرام کی تسلی کرنے کے بعد وہ خود بھی پر سکون ہو گیا تھا

…_

رات کا آخری پہر داخل ہو چکا تھا جب اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی
بستر سے اٹھتے ہوئے اس نے بیڈ دیکھا جہاں کوئ نہیں تھا ۔۔۔
بچے سو رہے تھے ۔۔۔ شاید واشروم میں ہو ۔۔ یہ سوچ کر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر چیک پر وہ وہاں نہیں تھی
ہو سکتا ہے بھوک لگی ہو ،۔۔ یا کسی کام سے باہر گئی ہو۔۔۔ اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آیا تھا
خون کو جما دینے والی یخ بستہ ہوائیں اسے اپنی ہڈیوں میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی تھی
کچن،۔۔ ہال کمرہ،۔۔ سٹور ،۔۔ گیسٹ روم
وہ ہر جگہ دیکھ چکا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی
اتنی شدید سردی میں بھی اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔۔
ہر جگہ دیکھ لینے کے بعد وہ دوبارہ اپنے کمرے کی جانب پلٹا تھا ،۔۔ اچانک اس کی نظر اناج والے کمرے کے جانب پلٹی تھی
اکثر گاؤں دیہات میں لوگ گندم کو سٹور کرنے کے لئے لوہے کے بڑے غلہ دان کا استعمال کرتے ہیں
اس کمرے کو بھی غله محفوظ کرنے کے لیے مخصوص کر رکھا تھا تبھی اس کا دھیان اس جگہ نہیں گیا تھا
اس کے قدم کمرے کی جانب بڑھے تھے
ابھی وہ دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ اسے اندر سے کچھ پڑھنے کی آواز آئی تھی
جیسے کوئی ہلکی آواز میں عجیب سے الفاظ پڑھ رہا ہو
اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ وجیہہ کیا تم اندر ہو۔۔؟؟
آواز آنا بند ہو چکی تھی ،۔۔ پھر وہی خاموشی
وہ سانس روکے ساکت کھڑا تھا
کچھ دیر بعد پڑھنے کی آواز دوبارہ آنے لگی
وجیہہ۔۔۔ اس نے ایک بار پھر آواز دی مگر اب کی بار آواز مسلسل اور پہلے سے بلند آرہی تھی
ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اللہ کا نام لیا تھا
ایک جست کے ساتھ وہ دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا
یکدم ایک سرد ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکڑا کر نکلا تھا،۔۔۔ جسے اس نے اپنے پورے حواس کے ساتھ محسوس کیا تھا
کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اس نے لائٹ آن تھی ،۔۔
غلہ دان کے ساتھ وہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی مگر جو چیز اسے حیران کیے دے رہی تھی وہ یہ کہ اس خون جما دینے والی سردی میں بھی اس کے جسم پر نام کا ایک لباس تھا
پھر وہ بیمار حال عورت خود چل کر یہاں کیسے آ سکتی تھی ،۔۔
وجیہہ یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟
ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔
آگے بڑھ کر اس نے کندھے سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا
اس نے کوئی مزاحمت نہ کی نہ ہی اس کے سوال کا کوئ جواب دیا
کمرے میں واپس لاتے ھی وہ اُسے بیڈ پر لیٹا چکا تھا
کچھ دیر وہ چپ چاپ یوں ہی چھت کو گھورتی رہی پھر قریب فجر کے وقت سو چکی تھی ،۔۔
اس کے گرد لحاف درست کرتے ہوئے وہ وضو کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھ گیا
نماز کے بعد دعا کرتے ہوئے مسلسل آنسو بہے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔

جاری ۔۔۔۔۔