Mohabbat Ka Mousam By Rizwana Shamsudeen NovelR50665

Mohabbat Ka Mousam By Rizwana Shamsudeen NovelR50665 Last updated: 4 May 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbat Ka Mousam By Rizwana Shamsudeen 

مائشہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، مائشہ کی ماں، مریم بیگم کو ایک بیٹے کی بڑی خواہش تھی، مگر شاید یہ اللہ کو منظور نہ تھا -مائشہ کے ابآ ثاقب خان اپنی بیگم کی دلجوئی کرتے انھیں تسلیاں اور دلاسے دیتے کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں، خدا کی طرف سے ایک بہترین عطیہ اور اگر اللہ نے انھیں اولاد نرینہ سے محروم رکھا ہے تو اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہو گی -اور ان کا ماننا تھا کہ اللہ نے انکی گود سونی نہیں رکھی ایک بیٹی سے نوازا ہے یہ بھی کسی غنیمت سے کم تو نہیں -شاید ثاقب صاحب کی باتوں میں کچھ خاص اثر تھا کہ دھیرے دھیرے یہ بات مریم بیگم کے دماغ میں آتی گئ اور انھوں نے اپنی ساری توجہ اور محبت مائشہ کی طرف مبذول کرلی-ثاقب صاحب بچپن ہی سے مائشہ کے خوب ناز نخرے اٹھاتے اس کی ہر بے جا خواہشات پوری کرتے جسکی بنا پر وہ تھوڑی لاپرواہ اور خود سر ہوتی چلی گئ لیکن مریم بیگم نہیں چاہتی تھیں کہ مائشہ اکلوتی ہونے کا نا جائز فائدہ اٹھائے اور بے جا ضدیں کر کے اپنی بات منوانے اسلئے مریم بیگم مائشہ کے لئے ایک سخت ماں ہی ثابت رہیں، اسکی ہر غلطی پر اسے ڈانٹتی اور تنبیہہ کر تی رہتیں -شاید یہی وجہ تھی کہ مائشہ مریم بیگم سے دور اور ثاقب صاحب سے قریب ہوتی چلی گئ -
اگلی صبح دونوں تیار ہو کر قریب سے رکشہ لے کر کالیج پہنچ گئیں -دونوں اپنی کلاس کی جانب جا رہی تھیں تبھی سامنے سے آتی ماریہ سے انکی مڈبھیڑ ہوگئی، تینوں ساتھ ہی کلاس میں داخل ہوئیں -اندر پہنچتے ہی انھیں کچھ نئے پن کا احساس ہوا پر کیا یہ سمجھ سے بالاتر تھا -
"مجھے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ روز کی بہ نسبت آج لوگوں نے اپنی ڈریسنگ پہ کچھ ذیادہ محنت کی ہے اور اسپیشلی لڑکیاں، لڑکیوں کی سج دھج تو اپنے عروج پر تھی "ایک اچٹتی نظر کلاس روم پر ڈالتے ہوئے مائشہ نے حیران کن نظروں سے دونوں کی طرف دیکھا -
"آج نئے سر آنے والے ہیں شاید اسی کی تیاری ہے "راحلہ نے مسکرا تے ہوئے ایک آنکھ دبا کر راز فاش کیا -
"کیا ! "مائشہ کو صدمہ ہی تو ہو گیا جبکہ ماریہ کے لبوں پر بھی مسکراہٹ رینگ گئی -
"یہ جو تیاریاں ہیں یہ سب نئے سر آرہے ہیں اس لیے ہے، اف اللہ لگتا ہے قیامت قریب ہے -"توبہ توبہ کرتے ہوئے مائشہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا -
"بس بس زیادہ ملانی نہ بنو چلو بیٹھتے ہیں، لگتا ہے آج جگہ بھی پیچھے ہی ملے گی" -دونوں کو ٹوکتے ہوئے ماریہ نے بڑبڑائے ہوئے قدم آگے بڑھا دیے، ان دونوں نے بھی اسکی تائید کی، ماریہ کو آ خر سے تیسرے ڈیسک پر جگہ مل گئی تھی جبکہ ان دونوں کو اور پیچھے جا نا پڑا -
"راحلہ میرے با زو والے ڈیسک پر جو ا سمارہ بیٹھی ہے نہ اسکا میک ا پ تو دیکھو. جتنا اسکے منہ کا حدود اربعہ ہے نہ مجھے یقین ہے آ ج ا سکے گھر پاوڈ کا ڈبہ یقینا ختم ہو گیا ہوگا" مائشہ نے اس کی توجہ بغل میں بیٹھی ا سمارہ کی طرف مبذول کرائی - اسمارہ جو کہ پوری کلاس میں میک اپ کو ئن کے نام سے مشہور تھی اسے چہرے پر بھر بھر کے پا و ڈ ر لگا نے کا کجھ زیادہ ہی شوق تھا جسکی بنا پر اسکے پیٹھ پیچھے لوگ اسے آٹے کا ڈبہ کہنے سے باز نھیں آ تے تھے -
مائشہ کے کہنے کی دیر تھی راحلہ نے جھٹ سے بازو والی سیٹ پر مڑ کر دیکھا اور ہونٹوں پر بے ساختہ مچلنے والے قہقہے کا گلا گھونٹ کر بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا مبادا وہ سن نہ لے -اسی اثناء میں ایک بہت ہی اسمارٹ سا نوجوان کلاس روم میں داخل ہوا -
"گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ "- میرا نام ھود رضا ہے -امید ہے میرا غائبانہ تعارف پرنسپل سر نے آپ سب سے کیا ہوگا، مائیکرو بائیولوجی کا فرسٹ پیپر پرنسپل سر نے میرے سپرد کیا ہے "نووارد نوجوان نے بڑے ہی مودبانہ اور پر اعتماد لہجے میں اپنا تعارف کرایا -
"اگر آپ سبھی اسٹوڈنٹ نے کلاس روم میں مجھے توجہ سے سنا تو مجھے یقین ہے آپ لوگوں کے لئےمیں ایک بہترین ٹیچر ثابت ہو ں گا اور ایک بات اور آپ سبھی بلا جھجک مجھ سے کسی بھی مسئلے پر با آسانی گفتگو کر سکتےہیں " وہ اپنی پہلی ہی کلاس میں ایک فرینڈلی ٹیچر ہونے کا ثبوت دے رہا تھا تاکہ اسٹوڈنٹ اور خصوصا" نئے ٹیچر کے درمیان جو اجنبیت کی دیوار ہوتی ہے اسے گرا سکے -
"توجہ سے سننے کا تو پتہ نہیں، ہاں پر توجہ سے دیکھ ضرور سکتے ہیں ' سامنے والے کی اسمارٹنیس اور ڈیشنگ پرسنالٹی دیکھ کر ماہی سے رہا نہ گیا چپکے سے ا سمارہ کے کانوں میں سرگوشی کی جو اس کے بغل میں بیٹھی اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھی، بدلے میں آنکھوں کی گھوری نے چپ رہنے پر مجبور کر دیا -
"ارے یہ تو ھود بھائی ہیں "! حیرانی سے دیکھتے ہوئے راحلہ کے کانوں میں مائشہ نے دھیرے سے پھسپھسا یا جبکہ وہ ابھی تک ھود رضا کو دیکھنے میں مصروف تھی -
"تمھیں کیسے پتہ؟ کیا تم پہلے سے جانتی ہو سر کو! "
"ہاں، یہ فاطمہ آنٹی کے اکلوتے فرزند ھود بھائی ہیں، آنٹی بتارہی تھیں کہ ابھی دو مہینے پہلے ہی پی . ایچ. ڈی کی ڈگری لے کر آئے ہیں "مائشہ نے معلومات میں اضافہ کیا -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *