Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR50516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 9)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
کیا کہہ رہی ھیں آپ بی بی جی کہ سنی اس عورت کا بیٹا نہی۔مگر آپ نے ہی تو کہا تھا کہ فیضان انکل نے اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اوروہ انہیں اپنے ساتھ لیکر گےتھے۔مشال حیرت سے سوال کرتی ہے۔
ھاں لیکر گیا تھا۔فیضان نے مری میں بھی اپنا ھوٹل سٹارٹ کیا تھا اور وہ شہرین کو وہی لیکر گیا اوراسکےنام وہ ھوٹل کر دیا۔اور اسی کو سنبھالنے کو کہا اور خود کراچی میں رہتا تھا اور عدت کے بعد شادی کا فیصلہ کیا تھا۔مگر کراچی میں شہرین کی بہن سے ملاقات ہوتی۔فیضان اس کو پہچان لیتا اس کا حال چال پوچھتا۔وہ پھیکے سےانداز میں مسکرا دیتی ہے۔وہ اس سے پوچھتا شادی وادی ہوٸی کیا۔اسکی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔
آب ٹھیک تو ہو نازنین۔فیضان ھمدردی سے پوچھتا ہے۔جنکی بہن شہرین جیسی ھو وہ خوش کیسے رہ سکتی ہے۔میرا نکاح ہوا تھا مگر میری رخصتی نہی ھوٸی تھی کیونکہ میرے شوہر کو شہرین باجی پسند آ گٸی تھی۔اس شخص نے مجھے طلاق دے دی۔فیضان یہ سب سن کر شاکڈ ہو جاتا۔
تو اگلے دن بنا شہرین کو بتاۓ مری پہنچتا تو اسکو وہاں کے غنڈے سلیم کے ساتھ ھسی ٹھٹھولا کرتے دیکھ کر اسکا دماغ گھوم جاتا ہے۔وہ اسکی کافی انسلٹ کر کے وہاں سےنکل جاتا۔اور کچھ عرصے کے بعد وہ نازنین سے شادی کر لیتا ہے۔پھر ایک دن نازنین کے پریگنسی کے دوران ہی۔فیضان اسکواور اذان کو لیکرمری کی سیر کو جاتا۔تو وہاں نازنین کی طبیعت بگڑ جاتی اور فورا آپریٹ کا کہتے ڈاکٹر۔
نازنین سنان کو جنم دیکر دنیا سے چل بستی ہے۔
اور فیضان کا وہاں سے ارسلان کو فون آتا ہے روتے ہوۓ وہ اسکو سب بتاتا ہے۔تو ارسلان وہاں پہنچتا۔
اور ٹوٹے بکھرے فیضان شاہ کو اور روتے اذان اور معصوم سے سنان کو نازنین کی میت کے ساتھ لیکر آ رہا تھا۔فیضان ایمبولینس میں تھا۔اور ارسلان بچوں کو لیکر گاڑی میں آرہا تھا۔کہ راستے میں شہرین اور سلیم راستہ روک لیتے ہیں۔ارسلان گاڑی سے نکل کر جلدی سے باہر آتا اور آ کر اس پر بھڑک جاتا۔فیضان بھی باہر آتا۔تو شہرین بولتی۔تم تینوں میرے دشمن ہو دھوکا دیا تھا تم سب نے۔تمھاری نازنین تو مر گٸ اب تم دونوں اور اور فیضان کا بیٹا بھی مرے گا۔اور وہ دونوں اس سے پہلے کچھ سمجھتے وہ ان دونوں پر گولیاں چلا دیتی ہے۔اور اذان خوف سے سن ھو جاتا ہے۔مگر سنان کے رونے کی آواز سے چونکتا ہے۔اور فیضان نے شغل شغل میں اسکو کار چلانی سکھاٸی۔وہ بمشکل اسکو چلاتا ہے۔مگر اس قدر تیزی سے چلاتا ہے کہ ان لوگوں سے دور نکل آتا۔اور ایک پولیس والا اس کے پیچھے لگ جاتا۔اور گاڑی روکنے کا کہتا ہے کیونکہ آگے کھاٸی تھی۔مگر اذان روتے ہوۓ بتاتا ھے کہ اسکو گاڑی روکنی نہی آتی۔اور کہتے ہیں اللہ جسکو رکھے بس اللہ نے رکھا دونوں بچوں کو گاڑی ایک جھٹکے سے خود رک گٸ۔اور اذان نے پولیس والے کو سب بتایا انہوں نے وہاں سے لاشیں اٹھاٸی۔
وہ سین بڑا دل دھلانے والا تھا میرے گھر تین لاشیں آٸی۔اور ان لاشوں کے ساتھ میرا اذان چھوٹے سے معصوم سے سنان کو لیکر ایمبولینس سے اترا تو وہاں موجود ہر بندے کا کلیجہ پھٹ گیا۔
میرا اذان اس دن سے آج تک کبھی سکون سے نہی سویا۔دن کو وہ سنان کا ماں اور باپ بن کر خیال رکھتا رات کو اسکو ساتھ لیکر سلاتا مگر خود راتوں کو ڈر ڈر کر اٹھتا۔اٹھارہ سال کا جب ہوا تو اس نے فیضان کا بزنس سنبھال لیا۔فیضان کا پارٹنر ایمان دار تھا ورنہ شاید ہم بھوکے مرتے۔مگر میرا اذان دل کے نہاں خانوں میں دکھ چھپاۓ بیٹھا ہے۔پتا نہی کتنے آنسو اسکے دل پر گرتے ہیں۔نیند کی گولیاں لیکر تھوڑی دیر سوتا ہے۔بی بی جی یہ سب بتا کر رو پڑتی ہے۔مشال اور منال کی آنکھوں میں آنسوں آ جاتے ہیں۔دروازے کے پاس کھڑے سنی کو یہ سن کر لگتا ہے اسکا دل پھٹ جانا ہے۔
وہ دوڑ کر آ کر بی بی جی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتا ہے۔بی بی جی بہت برا ہوں میں۔
میں نے بھاٸی کے ساتھ بہت بدتمیزی کی ان کا دل دکھایا ان پر چلایا۔وہ آج تک مجھے ہر مصیبت سے بچاتے آٸیں اور میں احسان فراموش ہوں۔وہ روۓ جاتا۔اور باقی سب بھی اس کے ساتھ رو پڑتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال بی بی جی کے روم میں جاتی ہے اذان کو دیکھنے۔وہ جاگ رہا ہوتا ہے۔
آپ کچھ کھاۓ گے۔مشال نرمی سے پوچھتی ہے۔
نہی۔اور تم یہ اچھی بیوی ہونے کے ڈرامے مت کرو میرے ساتھ۔وہ چڑ کر بولتا ہے۔
بیوی تو میں ہوں اور آپ کی خدمت میرا فرض ہے۔
وہ مسکرا کر جواب دیتی ہے۔”شٹ اپ“یہ ڈرامے میرے ساتھ مت کرو تم عورتوں کو صرف پیسوں سے مطلب ہوتا ہے۔اور تمہیں بھی تو پیسہ چاہٸے وہ تلخ انداز میں بولتا ہے۔مشال کے اندر جیسے چھن سے کچھ ٹوٹ جاتا اسکی اتنی نفرت دیکھ کر۔
مگر وہ دل سے اٹھتی ٹیسوں کو دبا کر کہتی۔چلے جو آپ نے پیسے دینے اس کے عوض مجھے آپ کی خدمت کرنے دیں تا کہ میرے دل میں ملال نہ رہے کہ فری میں پیسہ لیا۔
اوووووہ“ٹھیک ہے۔بیٹھ کر ٹانگیں دباٶ۔اور جب تک بس کو نہ کہوں تب تک دباتی رہنا۔وہ اطمینان سے کہتا۔
مشال بیٹھ کر ٹانگیں دبانے لگ جاتی ہے۔وہ مزے سے بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے۔بی بی جی دوسرے کمرے میں سو جاتی ہے۔
وہ ٹانگیں دبا رہی ھوتی ہے تو اذان شاہ کو سکون سا ہوتا ہے اور اسکی آنکھ لگ جاتی ہے۔
رات کو اسکی آنکھ کھلتی تو دیکھتا وہ اسکی ٹانگیں دبا رہی تھی اور آنکھیں نیند سے بھری تھے۔
تم ابھی تک سوٸی نہی وہ تیز لہجے میں کہتا ہے۔
وہ آپ نے ہی تو کہا تھا ٹانگیں دباتی رہنا۔وہ معصومیت سے جواب دیتی ہے۔
واٹ؟تم چار گھنٹوں سے ٹانگییں دبا رہی ہو۔پاگل ہو کیا۔اور کیا ثابت کرنا چاہتی ہوں۔وہ چلا کر بولتا ہے
کچھ نہی چاہتی۔وہ نفی میں سر ہلاتی ہے۔
تم بہت اچھی بیوی ھو ۔اور جاٶ جا کر سو جاٶ۔وہ ھاتھ جوڑ کر کہتا ہے۔سچ میں۔۔۔وہ مسکرا کر کہہ کر اسکے ساتھ بیڈ پر سو جاتی ہے۔اور اذان ”ارے ارے“
کہتا رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے پاگل حسینہ اٹھ جاۓ۔میرا میڈیسن کا ٹاٸم ھو گیا ہے۔اذان اسکو کندھے سے ہلا کر کہتا ہے۔
کیا ٹاٸم ھوا ہے وہ غنودگی میں پوچھتی ہے۔
٩بج گے۔ اذان جواب دیتا ہے۔۔۔۔کیا؟؟؟وہ ھڑبڑا کر اٹھتی۔مجھے اٹھا نہی سکتے تھے میری نماز رہ گٸ۔
وہ جھنجھلا کر کہتی ہے۔تمھارا نوکر ہوں کیا؟وہ چڑ کر جواب دیتا ہے۔ ۔۔۔ارے غصہ کیوں کر رہے۔صبح صبح انگارے چباۓ کیا۔وہ آنکھیں پٹپٹا کر پوچھتی ہے۔۔۔۔۔مجھے بھوک لگی اور اگر پانچ منٹ میں تم نہ اٹھی تو تمہیں چبا جاٶں گا۔وہ تپ کر کہتا ہے۔
اچھا لاتی ہوں۔وہ مسکرا کر کہہ کر باہر نکل جاتی ہے۔یہ پاگل تو نہی ھو گٸ۔میری باتوں کا غصہ نہی کرتی۔بلکہ مسکراتی ہے۔وہ اسکے رویے کے بارے میں سوچ کر الجھ جاتا۔۔۔۔
