Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR50516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 4)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
بى بى جى کا فون آیا تھا ،دن رکهنے آنا آج۔منال مشال کو بتاتى هے۔
اتنى جلدى،، مشال پریشان هو کر کهتى هے
ارے کوئى جلدى نهى میرى زندگى پتا نهى کب ختم هو جائے اچها هے ایک کے فرض سے سبکدوش هو جاؤ گى۔آمنه خاتون کهتى هے۔
اللہ نه کرے امى جان آپ کو کچھ هو،مشال رونے لگ جاتى۔اسکا دل پہلے هى بهرا تها تو وه آمنه خاتون کے گلے لگ کر پهوٹ پهوٹ کر رو دیتى۔۔۔
ارے ارے رو مت آئنده نهى بولو گى ایسا آمنه خاتون مشال کا ماتها چوم کر کهتى۔
ویسے آپو یار اگر ایسے رو گے بات بات په ،،بچارے اذان بهائى تو ٹشو پیپرز کى فیکٹرى لگوائے گے پھر۔منال شرارت بهرے انداز ميں کهتى هے۔
شٹ اپ منو،۔۔۔مشال ڈانٹ کر کهتى هے۔۔
اوکے اوکے،،اب جلدى سے بتاؤ شام کو ڈریس کون سا پہننا ۔منال مشال سے پوچهتى هے ۔
کوئى بهى پہن لوں گى۔مشال آگے سے جواب دیتى۔۔
لو ایسے کیسے کوئى بهى پہن لو گى۔۔منال تڑخ کر کهتى اور سسرال والو کے سامنے ناک کٹوانا کیا ۔
اچها جو تم کہو گى پہن لوں گى۔۔مشال هاتھ جوڑ کر کهتى۔
…………
جى تو پھر آج سے 15 دن بعد هم بارات لیکر آئے گے اور اپنی بیٹى کو لیکر جائے گے اور سادگى سے نکاح هو گا اور مهندى کا فنکشن همارى طرف هو گا ولیمه دهوم دهام سے هو گا اور نکاح کا سوٹ ھمارى طرف سے آئے گا۔۔بى بى جان تفصیل سے بتاتى۔
نهى بى بى جى بارات پر جتنے مرضى لیکر آئے هم اپنى طرف سے بهت اچها انتظام کریں گے۔۔آمنه خاتون آگے سے کهتى هے۔
نهى آمنه بات کهانے کى نهى هے۔بس آپ کى طبیعت کے مدنظر کہا ۔اور آئنده پرایا مت سمجھنا ۔اپنے هى اپنوں کے کام آتے۔بى بى جى محبت بهرے لهجے میں کهتى۔
بڑى خوش نصیب هے میرى بچى اللہ نظر بد سے
بچائے۔آمنه خاتون آنسو پونچھتے هوئے گویا هوتى۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تو دن رکھ آئے۔اذان شاه کاؤچ پر بىٹهتے هوئے بولتا۔
جى رکھ آئے بهت مبارک هو بیٹا جى۔بى بى جى پیار دیتے هوئے کهتى۔
هممممممممم۔اذان شاه موبائل پر میسج ٹائپ کرنے لگ جاتا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال کے موبائل پرمیسج کى ٹون بجتى وه دیکهتى اذان شاه کا میسج هے وه جلدى سے کهولتى هے، لکها تها۔اگر کبهى میرے دل کو تمهارى قربت کى تمنا هوئى تو ایکسٹرا چارج تو نهى لگے گے۔۔
شٹ اپ بهت گهٹیا اور گرے هوئے انسان هے۔آپ کى ماں هوتى تو آپ جیسے کو پیدا کرنے پر پچهتاتى۔
یور شٹ اپ،،، تمهارى همت کیسے هوئى۔
تم بهت پچهتاؤ گى۔تمهارا حشر ایسا کروں گا تم آئنده سے بولنا بهول جاؤ گى۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وه پورے کمرے کا حشر نشر کر کے رکھ دیتا۔۔
کیا هوا بهائى آپکو؟سنى گهبرا کر کهتا۔
جاؤ میرے کمرے سے دفعه هو جاؤ۔۔اذان شاه چلا کر بولتا هے،،،،
اووووووفففففف۔۔اس نے میرے زخموں په لگے کهرنڈ کو چهیلا هے میں اسکو ایسے زخم دوں گا جو همیشه تازے رهے گے۔وه غضبناک انداز میں سوچتا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئى مهندى کى یه رات
لائى سپنوں کى بارات
سونگ پورے هال میں گونج رها تها۔
اور منال اپنے تا یا اور پهوپهو کى بچوں کے ساتھ مهندى کا تهال اٹهائے اندر هال میں داخل هوتى هے
وه شاکنگ پنک اور اورنج کلر کے لهنگے میں ملٹى کلر کے ڈوپٹے میں بهت خوبصورت لگ رهى هوتى۔
وه آکر بى بى جى کے گلے لگتى۔اور سٹیج پر جا کر کاؤچ پر بیٹھ جاتى۔
هائے منو جى۔وه ناک سکوڑ کر رخ موڑ لیتى سنى کے هائے بولنے پر۔وه آههههه بڑھ کر ره جاتا۔
وه کسى بات پر کهلکهلا کر هستى تو سنى اسکى تصویر کلک کر لیتا۔
وه غصے میں دیکھتى سنى کو۔
وه مسکرا کر کان پکڑ کر سورى بولتا ۔
اور پورے فنکشن میں اسکى پکچرز کلک کرتا۔
منال بس غصے کے گهونٹ پى کر ره جاتى۔
آپ غصے میں غضب لگتى هو۔سنى اسکے کان میں آ کر بولتا ۔وه تلملا کر ره جاتى۔
فنکشن ختم هونے کے بعد سنى انکو گهر چهوڑنے آتا وه فرنٹ سیٹ پر بیٹھى باهر دیکھ رهى هوتى۔
سنى اس پر گاهے بگاهے نظر ڈالتا۔
گهر کے پاس آ کر وه سب گاڑى سے اترتے تو جب منال اترنے لگتى سنى هاتھ تهام لیتا۔
اور محبت بهرے انداز ميں کهتا آج تم بهت خوبصورت لگ رهى تهى۔وه جهٹکے سے هاتھ چهڑوا کر بولتى۔آئنده مجھ سے ایسى بکواس کى تو سب کو آپ کى بےهودگى بتا دوں گى۔
سنى گم صم سا هو کر اسکو جاتے دیکھتا هے۔۔
۔۔۔۔۔۔
بارات کا فنکشن ۔
منو جلدى کرو،پارلر لے جاؤ مشال کو اور اسکا لہنگا بهى لے جانا۔آمنه خاتون منال سے بولتى۔
نهى امى مجهے نهى جانا پارلر۔مشال بیزار ى سے کهتى هے۔
بس کرو مشى رو رو کے دیکھ کیسى شکل نکل آئى۔آمنه خاتون مشال کو ڈانٹ کر کهتى۔۔
منال مشال کو لیکر پارلر جاتى۔
بارات کے آنے سے پهلے وه لیکر گهر آتى اور بارات آ جاتى۔مشال سرخ اور گولڈن لہنگے ميں کسى حور سے کم نهى لگ رهى تهى ۔
اور منال گرین فروک میں غضب ڈها رهى تهى۔
اور نکاح مولوى صاحب پڑھا کر فارغ هوتے تو منال بمشکل اپنے آنسو روک کر وهاں سے نکل آتى۔
سنى اسکو ایک نظر دیکھ کر سر جهکا لیتا۔
پهر رخصتى کا کهتے تو منال مشال کے اوپر چادر دیتے هوئے اپنى آنکهوں کو جھپک کر آنسو کنٹرول کرتى۔مشال لڑکهڑا کر گرنے لگتى تو اذان شاه اس کا هاتھ تهام لیتا۔اور هاتھ تهام کر گاڑى ميں بیٹهاتا۔
اور ایک سائىڈ پر بى بى جى بیٹھ جاتى اور دوسرى طرف اذان شاه۔اور درمیان میں مشال۔
شاه ولا میں جاکر گاڑى روکتى تو بى بى جى اذان شاه کو کهتى مشال کو اندر لیکر جاؤ
وه باهر نکلتى تو اذان شاه اپنا هاتھ آگے کرتا وه اس سے پہلے هاتھ تهامتى اسکا سر گهوم جاتا اور وه اذان شاه کے بازوؤں ميں جهول جاتى ۔
اور اسکى چادر اتر جاتى اور چاند کى روشنى میں اسکا چہره جگمگا رها تها اذان شاه مبہوت سا اسکو دیکھتا ره جاتا۔۔
