Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima NovelR50516 Meri Jaan Hai Tu (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Jaan Hai Tu (Episode - 7)
Meri Jaan Hai Tu By Umme Emman Fatima
بھاٸی یار کدھر ہو۔سنی پرجوش انداز میں اذان شاہ کوپکارتا ہے
کیا ہوا سنی سب ٹھیک تو ہے اذان اسکے پاس آکر پوچھتا۔اوراتنے پرجوش کیوں دکھ رہے ہو۔
بھاٸی یار ہمارا ٹرپ جا رہا ہے مری اور کاغان اور اس بار پورے ١٠ دن کیلیۓ وہ اپنے خوش ہونے کی وجہ بتاتا۔اذان شاہ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔
تم نہی جاٶ گے وہ سخت لہجے میؒں سنی کو کہتاہے۔
لیکن کیوں بھیا ہر بار آپ وہاں جانے سے منع کیوں کرتے ہیں وہ جھنجھلا کر بولتا ہے۔کیا میری کوٸی مرضی نہی ہے۔
نہی کوٸی مرضی نہی تمھاری اور ہاں اس گھر میں صرف میری مرضی چلے گی۔وہ غصے میں کہ کر چلا جاتا۔اور سنی پریشان سا کھڑا رہ جاتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے میں اذان شاہ آ کر ناشتہ کرنے لگتا تو سنی کی کرسی خالی دیکھ کر نازو کو آواز دیتا کہ سنی کو بلا کر لاٸۓ۔
اذان بابا“سنی بابا صبح ہی نکل گے تھے کپڑوں کا بیگ لیکر اور کہ رہے تھے بتا دینا آپ کو کہ وہ ٹرپ پر جا رہے ہیں۔نازو اذان کو بتاتی ہے۔
واٹ“اذان شاہ کے ہاتھ سے کانٹا نیچے گر جاتا وہ
وہ شاک سا جہان تہان بیٹھا رہ جاتا۔
کیا ہو گیا اذان بیٹے وہ کیا آپ کو بتا کر نہی گیا بی بی جی پریشان کن لہجے میں پوچھتی۔
بتایا تھااس نے میں نے منع کر دیا تھا وہ پھر بھی چلا گیا۔اذان شاہ لب کاٹ کر جواب دیتا۔
کیوں منع کیا تھا بیٹے۔بی بی جی حیرت سے استفسار کرتی۔
کیونکہ بی بی جی وہ مری جا رہا ٹرپ کے ساتھ۔
کیا؟؟بی بی کے ہاتھ سے پلیٹ چھوٹ جاتی۔
انکا جسم کانپنے لگ جاتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچے کو لے آٶ اذان بیٹے۔بی بی جی کا رو رو کے برا حال ھو جاتا۔
بی بی جی آپ فکر مت کرو میں لےکرآٶ گا واپس صحیح سلامت۔اذان انکا ہاتھ تھام کر کہتا ہے۔
آپ سب کیوں پریشان ہو رہے وہ اکیلاتھوڑی ہے مشال کہتی ہے۔
تم کچھ نہی جانتی تو بولو مت ۔اذان شاہ تلخ لہجے میں بولتا ہے۔وہ حیران پریشان ان کے رویوں کے متعلق سوچ کر الجھ جاتی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال کھڑکی کے پاس الجھی سوچتی صبح کے واقعہ کے بارے میں۔
اذان شاہ بھی صبح ١٠ بجے کا نکلا تھا اور ابھی تک کوٸی اطلاع نہی دی تھی۔وہ پریشان بار بار موباٸل کیطرف دیکھتی۔۔۔
۔۔۔۔
اذان شاہ نے کالج کے پرنسپل سے ان کا ٹرپ جدھر رکا تھا ادھر کا اڈریس لے لیا تھا وہ سیدھا اس ھوٹل میں پہنچتا ھے تو سنی اسکو دیکھ کر شاکڈ ھو جاتا۔
ھاٸے۔گاٸز کیسے آپ۔اذان شاہ وہاں موجوداسکے کلاس فیلوز سے پوچھتا۔سب سے علیک سلیک کے بعد وہ سنی کو ساٸیڈ پہ لے جاتا ہے۔
ھم صبح پہلے ٹاٸم نکل رہے واپسی کیلٸے اذان شاہ سرد انداز میں کہتا ہے۔
میں نہی جاٶں گا وہ ہٹ دھرمی سے جواب دیتا ہے۔
میں نے تم سے پوچھا نہی بتایا ہے تم کو۔
ورنہ تمھاری وجہ سے سب کا ٹرپ خراب ہوگا اور تم مجھےجانتے ہو میرے لٸے یہ مشکل نہی۔وہ اور بھی سرد انداز میں کہتا۔
جانتا ھوں آپ کو مگر آپ مجھے نہی جانتے میں کیا کروں گا۔اگر آپ زبردستی کرے گے تو میری لاش آپ کے ساتھ جاۓ گی۔سنی دھمکی بھرے انداز میں کہتا۔اسکا یہ سرد لہجا اس کو کسی کی یاد دلا دیتا۔
وہ ساکت کھڑا رہ جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی ایسی کیا وجہ ہے جو آپ اتنے پریشان ھو گے۔مشال بی بی جی سے سوال کرتی ہیں۔
بی بی جی ایک فوٹو فریم اس کی طرف بڑھاتی ہیں۔وہ دیکھتی اس میں دو مردوں کی تصویر ہیں
یہ کون ہیں بی بی جی وہ پوچھتی ہیں۔
یہ میرے بیٹے ہیں ایک اذان کے بابا اور دوسرے سنی کے بابا ہیں بی بی جی آنکھیں صاف کرتے ھوۓ کہتی۔
تو انکا مری سے کیا تعلق۔وہ ایک اور سوال کرتی ہیں۔تو بی بی جی اسکو سب بتانے لگتی ہیں۔
میرے بڑے بیٹے ارسلان یعنی اذان کے بابا نے ایک عورت سے شادی کی تھی وہ عورت بہت شاطر تھی
اسکو صرف پیسے سے محبت تھی مگر ارسلان کی تنخواہ میں گزارہ نہی ھوتا تھا اسکا وہ ھر وقت بات بے بات لڑتی تھی۔پھر اسکا باھر آنا جانا بہت ھو گیاوہ زیادہ تر باہر رہتی تھی۔مختلف مردوں کے ساتھ اسکے تعلق تھے ۔
اذان ١٠ سال کا تھا جب اس کے چاچا فیضان کی بیرون ملک سے واپسی ہوٸی اس کے ابروڈ میں دو ریسٹورنٹ تھے۔اور یہاں آ جاتا سمیٹ کر اور یہی آ کر وہ اپنی ھوٹل کی چین بناتا مختلف شہروں میں۔
اور اسکی ارسلان کی بیوی کے ساتھ بہت دوستی ہو گٸی تھی۔اور ھم سب انجان اسکے ارادوں سے اس بات پر خوش تھے کہ چلو اب گھر میں تو ٹکتی ہے۔اور فیضان اس سے بہت متاثر تھا۔
ایک دن باہر کوٸی آدمی آ کر اپنے اور اذان کی ماں کے افٸیر کا بتاتا ارسلان کا دماغ گھوم جاتا۔وہ اسکو
بالوں سے پکڑ کر اس کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے۔
فیضان آ کر اسکو پیچھے ہٹاتا ہے وہ فیضان کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگ جاتی ارسلان اسکو غصے سے اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور بولتا ہے اب میرے بھاٸی کے ساتھ عشق لڑانے کا ارادہ ہیں۔
بھاٸی دماغ خراب آپ کا۔اس قدر چھوٹی سوچ آپ کی فیضان چلا کر بولتا ہے۔
ارے گری ہوٸی اور چھوٹی سوچ کی یہ ہیں اب میں اسکے ساتھ نہی رہ سکتا طلاق دیتا ہوں اسے۔۔طلاق دیتا ہوں۔طلاق دیتا ہوں ۔
فیضان ساکت کھڑا رہ جاتا۔پھر ایک نظر شہرین کو دیکھتااور اسکو کندھے سے اٹھا کر کھڑا کرتا اور کہتا جس گھر میں میرے بھاٸی نے اپنی ھی بیوی کا مجھے عاشق بنا دیا اس گھر میں نہی رہ سکتا۔
اور شہرین کی عدت کے بعد میں شادی کروں گا ان سے وہ یہ کہ کے چلا جاتا۔
بتاتے بتاتے بی بی جی رونے لگ جاتی۔مشال انکو لیٹنے کا کہتی اور انکی ٹانگیں دبانے لگ جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے ہوں اذان شاہ ۔۔۔۔
اذان شاہ سنی کو لیکر باہر نکلنے لگتا تو پیچھے سے آٸی آواز پر وہ ساکت ہو جاتا۔
سنی گاڑی میں بیٹھو۔اذان سنی کو کہتا۔اور خود پیچھے مڑ کر آتا اس عورت کے پاس۔
کیا تکلیف آپ کو مسز سلیم۔وہ تلخ لہجے میں کہتا ہے۔ارے کمال کرتے ہو بیٹا ماں ہوں تمھاری۔
اور سنی کی بھی۔
کاش کے میرے اندر میری بی بی جی کی دٸیے ہوۓ مینرز نہ ہوتے تو آپ کے منہ پر تھوکتا۔وہ نفرت بھرے انداز میں کہتا۔پتا ہے آپ کے ساتھ میرا کوٸی نام جوڑے میں اس سے بہت نفرت کرتا ہوں تو آپ سے کتنی کرتا ہوں گا اسکا اندازہ بھی نہی آپ کو۔
اور تم شاید بھول گے تمھارے باپ اور سنی کے باپ کا کیا حال کیا تھا۔اور تمہیں تو کچھ نہی کر سکتی کیونکہ تم میرے بیٹے ہو مگر سنی کو ابھی جان سے مارنے کا صرف اشارہ کروں گی۔شہرین طنزیہ انداز میں کہتی ہیں۔
میرے سنی کو کھروچ بھی آٸی تو جینا حرام کر دوں گا۔وہ ناگواری سے کہتا۔
بھیا اب چلے سنی اس کے پاس آ کر کہتا۔
شہرین اسکو مسکرا کر دیکھتی ہے اور اچانک ہاتھ سے اشارہ کرتی ہے۔اور اذان شاہ ایک جھٹکے سے اسکو دھکا دیتا ہے۔اور اسکے ساتھ اذان شاہ کی چیخ نکلتی ہے سنی اچانک مڑ کر دیکھتا تو اذان شاہ کی قمیض خون سے سرخ ہوٸی ہوتی
بھاٸی۔سنی چلا کر پکارتا ھوا سکی طرف لپکتا۔
اذان خود کو سنبھالتا ھوا سنی کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کیطرف بھاگتا۔اور اسکو اندر دکھیل کر گاڑی چلانے کا کہتا۔
سنی روتے ہوٸے زن سے گاڑی دوڑاتا وہاں سے دور نکل آتا۔۔اور شہرین دانت پیس کر کہتی تم نے پہلے بھی اسکو بچایا اور آج پھر۔بالکل ٹھیک نہی کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنی وہاں ہاسپیٹل آتا جلدی سےگاڑی سے نکال کر سہارا دے کر اندر لاتا اور اسٹیچر پر لٹادیتا۔
اذان شاہ کی آنکھیں بند ہوجاتی اسکو لگتا کہ یہ بس آخری پل ہے۔اسکے ساتھ ھی اسکے سب احساسات سو جاتے۔
بھاٸی آنکھیں کھولیں سنی چلا کر بولتا۔۔۔
