Meri Dulhan by Umme Umair NovelR50648 Meri Dulhan (Episode 01)
Rate this Novel
Meri Dulhan (Episode 01)
Meri Dulhan by Umme Umair
عمر نہایت مؤدب دین دار اپنے والدین کی اکلوتی اولاد،والدین کی آنکھوں کا تارا،تمام دوست احباب اسکے اعلی اخلاق کے گرویدہ،اللہ نے اس کو بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔۔۔۔۔۔
عمر پڑھائی کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم عمر نہایت ذہین اور ہونہار اپنے ساتھیوں اور اساتذہ کا پسندیدہ طالب علم جسکو دن رات مفید علم پا لینے کی جستجو رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا اور امی جان کی ہر فون کال پہ ایک ہی رٹ ہوتی،بیٹا اپنا گھر بسا لے نکاح کر لے !!!تیرا دین مکمل ہو جائے گا انشاءاللہ!!!!ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں نا جانے کب زندگی کی بازی ہار جائیں،ہم چاہتے ہیں تیرے لئےاپنے ہاتھوں سے دین دار نیک لڑکی بیاہ کر لائیں جو تیری دین و دنیا کا کل سرمایہ ہو گی ۔ تیری آنے والی نسل کو پروان چڑھاے گی انشاءاللہ ۔۔۔
عمر جو نہایت ادب سے والدین کی نصیحتوں کو سن رہا تھا آخر کار اس کو ہتھیار ڈالنے پڑ گئے ۔۔
لمبی سانس لے کر بولا ٹھیک ہے بابا جان! جیسے آپ کی خواہش ہے میں خوش ہوں لیکن میں صرف 2 ہفتے کی چھٹی کے لیے آ سکتا ہوں مجھے واپس آ کر اپنے امتحانات کی تیاری کرنی ہے انشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر بیٹا ایک بہت اچھا رشتہ ہے میرے بہت قریبی دوست کی بھانجی ہے تمھاری ماں مل چکی ہے اس سے بہت ہی عمدہ اخلاق اور اعلی صفات کی مالک ہے ۔ تیرے لیے بہترین جیون ساتھی ہو گی اور میں اپنی تحقیق کروا چکا ہوں الحمدللہ ۔۔۔۔۔۔عمر کا دل تھوڑی دیر کے لیے خیالی تصورات میں چلا گیا ۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد ٹھیک ہے بابا جان جو آپ کو مناسب لگتا ہے کر گزریں،مجھے پورا یقین ہے آپکا یہ فیصلہ خیر سے خالی نہیں ہو گا ۔ آپ نے ہمیشہ میری بہترین رہنمائی کی ہے اور مجھے آپ کی پسند پہ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا تو نے میرا مان رکھ لیا ہے مجھے تم سے یہی امید تھی؛بابا بھرائی ہوئی آواز میں بولے ۔ فرحت جذبات سے لبریز بابا بولے بیٹا!اللہ تجھے دین اور دنیا میں کامیاب کرے میرے بچے آمین ۔
بابا کی آنکھیں شدت جذبات سے امڈ آئیں ۔
یہ لے میرے بچے ماں سے بات کر، ماں کی مامتا جوکہ پہلے ہی نچھاور تھی اپنے فرمانبردار بیٹےپہ، سلام اور دعا کے طویل سلسلے کے بعد امی بولیں میرے چاند تو جمعرات کو آ رہا ہے تو کیا ہم نکاح جمعہ کی نماز کے بعد طے کر لیں؟؟؟؟
میرے لعل تو ادھر زیادہ دنوں کے لیے نہیں ہوگا تو ہم چاہتے ہیں تو اپنی دلہن کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارے ۔ ۔۔۔۔۔۔
پر میرے بچے تو نے ابھی تک زلیخا کو تو دیکھا ہی نہیں ہے؟! جی امی نہیں دیکھا ہے میں نے زلیخا کو ؛آپ نے دیکھا میں نے دیکھا ایک ہی بات ہے۔۔۔ مجھے آپ دونوں پر مکمل بھروسہ ہے میری طرف سے آپ دونوں کو مکمل اختیار ہے!
آپ اپنے فیصلے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں انشاءاللہ ۔۔۔۔
ایک دم عمر کے دل کے نرم گوشے نے انگڑائی لی ۔زلیخا اس کی ہونے والی جیون ساتھی جسکو نہ کبھی اس نے دیکھا نہ سنا لیکن پھر بھی دل اس کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔
☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_☆_
جوں جوں وقت گزر رہا تھا عمر کی دعاؤں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا تھا ۔ سوچا جانے سے پہلے عمرے کی ادائیگی کی جائے ۔اللہ کے گھر عمر نے اپنے ہونے والی جیون ساتھی کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے،تقوی اور خیر و برکت کی دعائیں مانگی،چونکہ یہ اسکی زندگی کا ایک بہت اہم فیصلہ تھا ۔۔۔۔۔۔
دل میں سنت کی تڑپ اور لگاؤ نے اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔۔۔۔۔۔
مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت،6 فٹ کا قد ،کشادہ سینہ ۔۔۔
سرخ و سپید عمر چہرے پہ سنت رسول سجائے کسی بھی لحاظ سے کم نہ تھا ماشاءاللہ ۔۔۔۔
موتیوں جیسےدانت جو کثرت مسواک سے اور دمکتے تھے ،خوبصورت روشن آنکھیں اور کشادہ پیشانی کسی بھی دین دار دوشیزہ کے لیےایک عظیم نعمت سے کم نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان آمد پر والدین کی خوشی دیدنی تھی،ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا ۔نکاح کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں ۔
بابا جان نے صبح کے انتظامات سے آگاہ کیا
راولپنڈی سے جھلم دو سے اڑھائی گھنٹے کا سفر ہے اور ہم سیدھا مسجد جائیں گے،نماز جمعہ کی ادائیگی اور پھر نکاح انشاءاللہ ۔
عمر کے دل میں زلیخا کے دیدار نے ایک بار شدت سے انگڑائی لی ۔ ان دیکھی انجان زلیخا اس کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ وقت بھی آن پہنچا دعائیہ کلمات اور مبارکباد کی پر جوش آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔
چھوارے اور مٹھائی کا دور دورہ چل رہا تھا،فضا میں مسرت بھرے قہقہے بلند ہو رہے تھے ۔ طے پایا رخصتی نماز عصر کے بعد انشاءاللہ ۔
چند قریبی لوگوں کی بارات رخصتی کے لیے پر تول رہی تھی کہ سر سے پاؤں تک ڈھکی زلیخا کو امی نے اپنے پہلو میں بٹھایا ۔ بابا جان نے ڈرائیونگ سیٹ کو سنبھالا اور پھر عمر اگلی سیٹ پر بابا جانی کے ساتھ براجمان ہو گیا ۔
کچھ دیر بعد گاڑی جی ٹی روڈ پر فراٹے لے رہی تھی،بابا جانی اور عمر ملکی حالات پر مہو گفتگو تھے ۔ عمر کی بھاری مردانہ آواز زلیخا کو بہت بھا گئی جبکہ امی جان زلیخا کو ساتھ لگا کر بار بار دعائیہ کلمات دہرا رہی تھیں ۔
مسافت کو مد نظر رکھتے ہوئے بابا جان نے کہا کیوں نہ کسی جگہ پہ رکا جائے لیکن امی بضد تھیں کہ مغرب سے پہلے گھر پہنچا جائے ۔
دھیرے دھیرے سورج اپنی تپش کھو رہا تھا ۔
زلیخا کا دل دھک دھک کر رہا تھا لیکن دل ہی دل میں دعائیہ کلمات دہرا رہی تھی ۔ اجنبی منزل کا عجیب مزا، تڑپ،شوق اور تجسس کے ملے جلے جذبات کا امتزاج!!
ٹھیک آدھا گھنٹہ مغرب سے قبل وہ اپنے گھر کے دروازے پہ تھے امی سے چابی لے کر عمر نے مین گیٹ کھولا چنانچہ موقع غنیمت جان کر زلیخا نے دلہا جی کو دیکھنے کی ٹھانی لیکن گیٹ کھولتے ہی دلہا میاں اندر تشریف لے جا چکے تھے
بابا جانی نے کھلے گیٹ سے گاڑی گھر کے بڑے صحن میں پارک کی ۔۔
جبکہ دلہا میاں گھر کے تالے اور گھر کی بتیاں جلانے کی تگ و دو میں دکھائی دیئے ۔۔۔۔
زلیخا کا دل مچلا اور جی چاہا وقت ادھر ہی رک جائے اور وہ اپنے دلہا جی کو دیکھتی رہے ۔
