Mera Yaar Mila De by Kanwal Kanwal NovelR50650 Mera Yaar Mila De (Episode 04)
Rate this Novel
Mera Yaar Mila De (Episode 04)
Mera Yaar Mila De by Kanwal Kanwal
جب سے وہ حویلی سے آئی تھی گہری سوچ میں گم تھی کیا میں یہ ٹھیک کر رہی ہو فارس کو کتنی تکلیف ہو رہی تھی وہ
اچھا ہے پر میں کیا کرو مجھے کوئی پیار محبت نہیں اس سے یہ کہہ کر وہ اپنے دل کو جھوٹی تسلی دے رہی تھی
ورنہ وہ اچھے سے جانتی تھی میرا دل میرا نہیں رہا وہ فارس کا ہو چکا ہے کب کا یہ اسے خود نہیں پتہ تھا…
ارے مانو کدھر گم ہے یہ رجو بلا رہی ہے تمہیں
ارے اماں اسے اندر ہی بھیج دو مانو نے اندر سے ہی کہا..
وہ ہمارے گھر نہیں دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے چل باہر آ پتہ نہیں تم دونوں کی کون سی باتیں ہے جو بچپن سے لے کر اب تک ختم ہی نہیں ہو رہی…
اوہ ہو اماں آپ کو تو موقع چاہے باتیں سنانے کا باہر آتے ہی وہ اماں پر تپی غصہ کہی کا تھا اور نکال کہی رہی تھی.
ماہ نور میں دیکھ رہی ہو تو کچھ زیادہ ہی بدتمیز ہوتی جا رہی ہے تیرا میں کچھ کرتی ہو ..
ہاں بول رجو اور پتہ اماں اب کیا کرنے کی دھمکی دے رہی ہے..
میں کیا بولو تو بول تیرے اور فارس کے بیچ کیا چل رہا ہے .
ارے میرے اور اس کے بیچ کیا ہونا ہے کچھ بھی تو نہیں مانو نے گھبراتے ہوئے کہا..
اچھا اب تو مجھ سے چھپائے گی جلدی سے بتا تو نے اسے کیا جواب دیا تھا..
وہ میں !!!!!میں نے اسے ہاں بول دی ہے
کیا مانو تو نے ہاں بول دی اور مجھے بتایا بھی نہیں حد ہو گئی میری کوئی اہمیت ہی نہیں.
ارے یار اس میں بتانے والا کیا تھا.
ویسے تو ان لوگوں کو پسند نہیں کرتی اور فارس کے ساتھ تو شادی کے بعد تجھے ان لوگوں کے ساتھ ہی رہنا ہے ویسے اگر تو نے ان لوگوں کے خلاف دل سے بغض نکال دیا ہے تو بہت اچھی بات ہے تو فضول میں ہی ناراض تھی ان لوگوں سے
ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہے مجھے حویلی والوں سے کیا لینا دینا جب فارس میرے ساتھ ہو گا اسنے عجیب سے لہجے میں کہا…
اچھا پھر میں تھوڑا اماں کو کام کروا لو پہلے ہی غصہ ہو رہی ہے مجھ پر.









ہاں فارس بتائو پھر کب نکاح کی ڈیٹ فائنل کرے مریم اور سکندر شاہ نے آج پھر اسے کمرے میں بلایا تھا بات فائنل کرنے کے لئے انہیں نہیں پتہ تھا کہ دارس کون سا بم پھوڑنے والا ہے….
اوہو میں نے سوچنے کے لئے ٹائم مانگا تھا بات فائنل کرنے کے لئے ٹائم نہیں مانگا تھا فارس نے ذرا ہچکچاتے ہوئے کہا اسے پتہ تھا اس کی بات سے اس کے ماں باپ کو دھچکا لگنے والا ہے..
ہاں تو سوچ کر بھی جواب ہاں میں ہی ہو گا ہم جانتے ہے اپنے بیٹے کو ..
انہوں نے اتنے مان سے کہا کہ فارس کو لگا وہ اپنے دل کی بات نہیں کہہ سکے گا..
بولو بیٹا اب کیا سوچ رہے ہو انہوں نے فارس کو گہری سوچ میں گم ہوتے دیکھ کر کہا..
اماں جان بابا جان مجھے آپ دونوں سے کچھ کہنا ہے پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرے.
بولو بیٹا تم تو ہمیں ڈرا رہے ہو مریم بیگم نے گھبراتے ہوئے کہا…
وہ میں آبگینے سے شادی نہیں کر سکتا میں کسی اور کو پسند کرتا ہو….
کیا یہ تم کیا کہہ رہے ہو فارس ان دونوں کو فارس کی بات سے سخت دھچکا لگا تھا اور اس سے زیادہ دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑی آبی کو یوں لگا وہ پتھر کی ہو گئی ہو اس نے ہمیشہ فارس کے بارے میں سوچا تھا وہ فارس کے خیال رکھنے کے انداز کو اس کا پیار سمجھتی تھی پر وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے یہ نہی ہو سکتا وہ وہی دروازے کے ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئی..
اماں بابا میں ٹھیک کہہ رہا ہو میں آبی سے شادی کسی صورت نہیں کرو گا وہ اپنی کہہ کر باہر نکلا اور دروازے کے ساتھ بلکتی آبی کو دیکھ کر اسے کچھ ہوا پر وہ ماہ نور کے علاوہ شادی کسی سے نہی کر سکتا سوری آبی اتنا کہہ کر وہ نکل گیا اور آبی اپنے روم میں..










آپی فارس نے انکار کر دیا مجھ سے شادی سے آبی دور دیس بیٹھی بہن سے دل کا حال کہہ رہی تھی..
ارے میری چندا ایسے کیسے کر سکتا ہے وہ انکار مزاق کر رہا ہو گا روشانے آبی سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی…
میں سچ کہہ رہی ہو وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے اس نے ماں بابا سے کہہ دیا ہے…
اچھا تم رو تو مت مجھے تکلیف ہو رہی ہے میں ماں سے بات کرو گی فارس ایسے نہیں کر سکتا اس کی دلہن صرف آبگینے بنے گی اور کوئی نہی روشانے نے ایک عزم سے کہا….
آپ سچ کہہ رہی ہے کیا ایسے ہی ہو گا میں فارس کو کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی مر جائوں گی میں .
خبردار جو مرنے والی باتیں کی تو فارس صرف تمہارا ہی ہے میں ابو سے بات کرو گی وہ بابا جان سے بات کرے گے میں بھی کرو گی بات تم بس فکر نہی کرو گڑیا روشانے کو بہن کی حالت پر تکلیف ہو رہی تھی وہ اتنی دور بیٹھی تھی …









فارس کچھ عقل آئی تمہیں یا نہی مریم بیگم نے غصے سے کہا کیوں کے ان کو رات روشانے کی بھی کال آئی تھی وہ بہت پریشان ہو رہی تھی مریم بیگم کی چاہے وہ سگی بیٹیاں نا ہو پر پالا تو انہوں نے ہی تھا اس لئے انہیں بھی دونوں کے آنسوئوں سے تکلیف ہو رہی تھی .
اماں جان اس میں عقل کیا آنی ہے میں نے آپ کو اپنا فیصلہ بتا دیا ہے میں آبی سے شادی نہیں کرو گا کسی قیمت پر نہی فارس نے دو ٹوک لہجے میں کہا …
اور مریم بیگم اپنی جگہ سے ہل گئی تھی فارس کا یہ لہجہ سن کر اچھا تو پھر کس سے کرنی ہے کون ہے وہ جس کے لئے تم اپنے ماں باپ کے ساتھ یہ سب کر رہے ہو یقینن کوئی انگریزنی ہو گی مریم بیگم کو تو لگا تھا جہاں وہ پرھتا تھا ادھر ہی کوئی لڑکی ہو گی یہ تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہی تھا کہ گائوں کی کوئی لڑکی ہو گی…
نہیں اماں جان وہ گائوں کی ہے..
کیا گائوں کی اپنے گائوں کی گائوں میں ایسی کون ہے جو آبی سے بڑھ کر ہو مریم بیگم حیران ہو گئی تھی…
اماں وہ نادیہ خالہ کی بیٹی ماہ نور ہے فارس نے جلدی سے اپنی بات کی..
___________
کیا!!!!تمہارا دماغ توٹھیک ہے نا تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو
میری بات کان کھول کہ سن لو تمہاری شادی صرف آبی سے ہو گی ورنہ تم میرا مرا منہ دیکھو گے مریم بیگم اسے سنا کر کمرے میں چلی گئ..
اف اللہ میں کیا کرو ان لوگوں کو میری بات سمجھ کیوں نہی آ رہی میں ماہ نور سے پیار کرتا ہو اور شادی بھی اسی سے کرو گا چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے میں بھی آپ کا ہی بیٹا ہو فارس نے ضدی انداز میں کہا…
آپی آپ کو پتہ ہے وہ لڑکی کون ہے جس سے فارس شادی کرنا چاہتا ہے آبی نے روتے ہوئے بہن سے کہا…
ارے چندا میں اتنی دور دیس میں بیٹھی مجھے کیا پتہ کہ کون لڑکی ہے..
وہ ماہ نور ہے نادیہ خالہ کی بیٹی آبی نے غصے سے کہا اسے ماہ نور پسند تو پہلے بھی نہیں تھی اب تو نفرت ہو رہی تھی دل کر رہا تھا اس کا خون کر دے..
ارے یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو حویلی آتی جاتی نہیں فارس ابھی باہر تعلیم مکمل کر کے لوٹا ہے کدھر مل گئی وہ روشانے نے حیرت سے کہا…
مجھے نہیں پتہ کدھر دیکھا یہ سب کیسے ہوا فارس پاگل ہو رہا ہے اس کے لئے اس کی وجہ سے فارس نے مجھے ڈانٹا وہ دو ٹکے کی لڑکی کو مجھ پر فوقیت دے رہا ہے میں ماہ نور کو چھوڑو گی نہیں یا پھر میں خود کے ساتھ کچھ کر بیٹھوں گی آبی کو بہت تکلیف ہو رہی تھی اسے تو لگتا تھا فارس اس کا ہے اور وہ ماہ نور کا نکلا.
خبر دار جو تم نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو ایک تو میں اتنی دور بیٹھی ہو تم فکر مت کرو فارس تمہارا ہی ہے کوئی نہی چھین سکتا اسے میں ماں سے بات کرو گی وہ خود فارس کو سمجھا لے گی…
پکا بات کرے گی نا وہ مان جائے گا نا آبی ڈر رہی تھی پاگل تھی بھلا کبھی زبردستی بھی دل کے سودے ہوئے ہیں …
ہاں چندا میں کرو گی بات اور مان جائے گا وہ تم سے اچھی لڑکی اسے کہاں ملے گی ..
اسے ماہ نور مجھ سے اچھی لگی ہے آپی تب ہی تو وہ ڈٹ گیا ہے سب کے سامنے اس کے لئے ..
ارے یہ سب وقتی باتیں ہے تم دیکھنا وہ مان جائے گا روشانے نے بہن کو بہلایا اچھا ارحم آ گئے ہیں میں پھر بات کرو گی تم سے اپنا خیال رکھنا…
سوری آپی میں نے آپ کو پریشان کر دیا اسے اب افسوس ہو رہا تھا آپی اتنی دور اس کی وجہ سے پریشان رہے گی…
ارے میری گڑیا میں تمہاری بڑی بہن ہو مجھ سے دل کی بات نہی کہو گی تو پھر کسے کہو گی روشانے کو اس پر پیار آیا اور دل میں عزم کیا کہ آبی کا مقدمہ اچھے سے لڑے گی اور جیتے گی….








ارے آبگینے بیٹی تم ہمارے یہاں خیریت تو ہے نا نادیہ بیگم آبگینے کو اپنے گھر دیکھ کر حیران ہوئی وہ کبھی آئی نہیں تھی اس لئے.
ارے ہاں خالہ میں ماہ نور سے ملنے آئی ہو کدھر ہے وہ ماہ نور کا نام لیتے ہوئے اسے غصہ تو بہت آیا تھا کنڑرول کرنا ضروری تھا..
ہاں ہاں آئو بیٹا بیٹھو وہ اپنے کمرے میں ہے میں بلاتی ہو…
نہی خالہ مجھے کمرہ بتا دے میں چلی جاتی ہو آپ اپنا کام کر لو اس نے ان کے ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا…
وہ ادھر ہے انہوں نے سامنے اشارہ کیا اور آبی ادھر کو چلی گئی..
تو تم نے ٹھان لی ہے ماہ نور صاحبہ کہ میری راہ میں روڑے اٹکائو گی وہ اس کے سر پر جا کر چیخی..
ارے تم آبگینے تم نے تو مجھے ڈرا دیا ماہ نور کوئی کتاب پڑھنے میں مگن تھی آبی کے اس طرح بولنے پر ڈر گئی…
ارے تم ڈرتی بھی ہو بڑی بات ہے ویسے تو لوگوں کو تم سے ڈرنا چاہے…
پلیز سیدھی بات کرو ہمارے گھر کس لئے آئی ہو ماہ نور کو وہ واقع پھر سے یاد آ گیا تھا جب اس نے اسے دو ٹکے کی لڑکی کہا تھا اور اس کے دل میں حویلی والوں کے لئے اور غصہ بھر گیا تھا…
سیدھی بات یہ ہے ماہ نور صاحبہ فارس کے راستے سے ہٹ جائو کیوں کہ اس کی منزل میں ہو تم نہی آبی نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا جیسے ماہ نور کو چبا رہی ہو…
اوہ تو یہ بات ہے منزل تم ہو فارس کی تو میرے پاس کیا ینے آئی ہو ماہ نور نے طنزیہ کہا ..
میں تمہیں سمجھانے آئی ہو کہ تم جیسی دو ٹکے کی لڑکیاں ٹائم پاس کے لئے ہوتی ہے شادی خاندانی لڑکیوں سے کی جاتی ہے اس لئے کسی خوش فہمی میں مت رہنا…
اچھا اگر میں ٹائم پاس ہو تو تم فکر کیوں کر رہی ہو اور ایک بات کان اور دماغ کی کھڑکیاں کھول کر سن لو اگر تم مجھ سے بھیک مانگتی فارس کی تو میں تمہیں دے دیتی اب تم نے جو مجھے دو ٹکے کی کہا ہے تو اس حویلی کی بہو یہ دو ٹکے کی لڑکی ہی بنے گی یاد رکھنا یہ بات …
تمہیں تو میں دیکھ لو گی ماہ نور بی بی یہ لڑکوں کو پھنسانا تم جیسے غریب لوگوں کی عادت ہوتی ہے پر یہ عادت جلدی چھوٹ بھی جاتی ہے تمہیں ایسا بدنام کروائو گی پورے گائوں میں سب تجھ پر تھو تھو کرے گے جو حسن تجھ سے سنبھالا نہیں جا رہا اسے آگ لگوا دو گی بڑی آئی بہو بننے کے جواب دیکھنے والی..
ارے تم میرا کیا بگاڑو گی جس کا اپنا باپ اسے پوچھتا نہی ماہ نور نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور نکلو میرے گھر سے بڑی آئی باتیں کرنے والی تم جیسے دکھاوے کے بڑے لوگ ہمیشہ دل کے چھوٹے ہی ہوتے ہیں..
تم دیکھو اب میں کیا کرتی ہو وہ آگ برساتی نکل گئی…








یہ آبگینے کیا کہہ رہی تھی ماہ نور نادیہ بیگم نے ٹھنڈے لہجے میں ماہ نور سے پوچھا کیوں کہ وہ سب سن چکی تھی..
اماں وہ بکواس کر رہی تھی ایسا کچھ بی نہی ماہ نور نے ہکلاتے ہوئے کہا..
میں نے جو پوچھا ہے وہ بتائو اور مجھے صرف سچ سننا ہے یہ یاد رکھنا ماہ نور ماں کے لہجے سے ڈر گئی تھی.
اماں میرا اس میں کوئی قصور نہی یہ سب فارس کی وجیہ سے ہو رہا ہے اس نے ساری ماں کو بتا دی بس یہ نا بتایا کہ وہ اپنا حق لینے کے لئے یہ سب کر رہی ہے…
ٹھیک ہے اسے انکار کر دے اور کہہ دے کہ آبگینے سے شادی کرے اور تم اس سے کوئی تعلق نہی رکھوں گی ۔
اماں یہ آپ کیا کہہ رہی ہے وہ اماں کی بات سے گھبرا گئی…
تو نے ابھی کہا ہے کہ فارس تجھے چاہتا ہے تیرا ایسا کوئی تعلق نہی تو اسے انکار کر یہ میرا حکم ہی سمجھ میں جوانی میں بیوہ ہو گئی اور بیوگی پر کوئی داغ نہی لگنے دیا اب تیری بیوقوفی کی وجہ سے میں اپنی بے عزتی نہی ہونے دو گی یہ یاد رکھنا ماہ نور میں نے تیری ہر الٹی سیدھی بات برداشت کی ہے یہ نہی کرو گی مر جائوں گی نادیہ بیگم اتنا کہہ کر کمرے سے نکل گئ..
ماہ نور وہی نیچے بیٹھتی چلی گئی یہ اماں کیا کہہ گئی میں فارس کو انکار کر دو یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ زبان سے نہی مانتی تھی پر اس کے دل میں فارس کے ساتھ کی خواہش تو تھی وہ اسے اپنا دل تو دے بیٹھی تھی بس مانتی نہی تھی
اب کیا کرو فارس کا دل ٹوٹ جائے گا جب میں انکار کرو گی
نہیں مجھے اس کے دل کے ٹوٹنے کی کوئی پرواہ نہی میں بس اپنا حق چاہتی ہو اور کچھ نہی اس نے دل کی آواز کو پھر دبا لیا تھا پاگل لڑکی دل پر بھی کبھی پہرے بٹھائے گئے ہیں…









ہیلو فارس میں ماہ نور بول رہی ہو اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا..
ارے ماہ نور تمہیں بتانے کی ضرورت نہی میں پہچان گیا بولو کیا بات ہے “””””ویسے میں تمہیں بتا دو میں نے اماں سے بات کر لی ہے تمہارے بارے میں تم نے کی خالہ سے بات۔
میں کیا بات کرو کوئی بات کرنے والی رہ ہی نہی گئی ماہ نور نے تلخی سے کہا……
تم ایسے کیوں بات کر رہی ہو کچھ ہوا ہے کیا…
