Mera Yaar Mila De by Kanwal Kanwal NovelR50650

Mera Yaar Mila De by Kanwal Kanwal NovelR50650 Last updated: 28 April 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Yaar Mila De by Kanwal Kanwal

روشانے اور آبگینے قاسم شاہ کی بیٹیاں ہیں ان کی ماں شازیہ بیگم آبگینے کی پیدائش کے وقت کچھ پچیدگیوں کی وجہ سے جانبر نا ہو سکی اور اپنی معصوم بچیوں کو اپنی جیٹھانی مریم بیگم کے حوالے کر گئی قاسم شاہ بیگم کی موت کے بعد ٹوٹ سے گئے اور غم بھلانے کے لئے خود کو بری طرح کام میں مصروف کر لیا
اپنی بچیوں سے پیار تو وہ کرتے ہیں لیکن مریم اور سکندر نے ان بچیوں کو اپنے سینے سے لگا کے رکھا اور کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی.....
مریم اور سکندر کا اپنا بیٹا فارس سکندر تعلیم کی غرض سے بیرون ملک رہتا ہے جس کا رشتہ آبی (آبگینے) کے ساتھ طے ہیں فارس اس رشتے سے انجان جب کہ آبی دل و جان سے اس رشتے پرخوش ہیں....
قاسم اور سکندر شاہ ایک ہی حویلی میں رہائش پزیر ہیں جو کہ جدید طرز پر بنی ہوئی ہے جو بھی دیکھے دیکھتا ہی رہ جائے جدید فرنیچر ڈیکوریشن پیس فرنٹ اور بیک سائیڈ پر لان بیک سائیڈ پر سوئمنگ پول """"""""گائوں کے لوگوں کے لئے بھی ہر سہولت موجود میٹرک تک گرلز بوائز سکول چھوٹا سا ہوسپٹل پکی سڑکیں یہاں پر سب لوگ خوش باش کسی کو کوئی احساس کمتری نہیں .......
اجکل حویلی میں خوب رونق لگی رہتی ہیں روشانے کی شادی نزدیک ہیں روشانے کا رشتہ دور کے رشتے داروں میں طے ہیں اور اس نے بیاہ کر لندن چلے جانا ہے جس کی وجہ سے روشانے اداس رہتی ہے...
ارے بجو آپ اداس کیوں ہو رہی ہے جب دل کر ہم سے ملنے آجانا آبی بہن کا دل بہلا رہی ہے...
ارے ساتھ والے گھر نہیں دوسرے ملک بیاہ کر جا رہی ہو تمہاری تو موج ہے اسی گھر میں رہوں گی شادی کے بعد بھی....
ارے میری پیاری بجو اجکل سوشل میڈیا کا دور ہے ہر روز سکائپ پر بات کرے گے """"پلیز اب سیڈ نا ہو اماں جان بھی آپ کو دیکھ کر اداس ہو جاتی ہیں ...
اچھا میری ماں میں اداس نہیں ہو اب خوش """"روشانے بہن کو گلے لگاتی ہیں اچھا چلو باغ میں چلتے ہیں ...
یس بجو میرا بھی بہت دل کر رہا ہیں تازہ ہواکھانے کو...
توبہ ہے میری گڑیا اب بھی تم تازہ ہوا میں ہی بیٹھی ہو ...
ہاہاہاہاہاہا""""اچھا بجو اب چلے نا""آبی روشانے کو کھینچ کر لے جاتی ہے...
مانو موسم خراب ہو رہا ہیں جلدی سے کپڑے چھت سے لے آئو.....
ماہ نور اور اس کی ماں نادیہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کی ساتھی ہیں مانو کا باپ اس کے بچپن میں ہی کسی حادثے میں گزر گیا ہے...
اوہو اماں میں اداس ہو اور اس ٹائم میرا دل ذرا بھی ہلنے کو نہیں کر رہا آپ میری بات مان لیتی ہم اپنا حصہ لیتے اور کوئی نوکر رکھ لیتے اپنے بھی عیش ہوتے پر نہیں میری تو کوئی بات آپ نے ماننی ہی نہیں سو اس ٹائم تو اپنا دل سیڈ سونگ سننے کو کر رہا ہے ...
بکواس جتنی مرضی کروا لو اس لڑکی سے اب تک تو کپڑے آ بھی جانے تھے ...
اماں آپ میری حصے والی بات کو اتنا اگنور کیوں کرتی ہیں میں آپ کی بیٹی ماہ نور ولد حسن آپ کے ساتھ ہے تو پھر ڈر کاہے کا...
اب اٹھ کر کپڑے اتارے گی یا میں جوتا اتارو """"نادیہ بیگم نے اس کی بات اگنور کرتے ہوئے اپنی بات دہرائی ...
اوہ ہو اماں پتہ نہیں کب آپ بہادر ہو گی میری طرح""""""اچھا نا جا رہی ہو اس نے ماں کا ہاتھ جب جوتے کی طرف جاتا دیکھا تو اوپر کو بھاگ گئی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *